BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 September, 2003, 16:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غربت اور نسلی تفریق
غربت اور نسلی تفریق
غربت اور نسلی تفریق

تحریر: شاہ زیب جیلانی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

دنیا کے طاقتور ترین ملک کا دارالحکومت، واشنگٹن ڈی سی، عالمی سطح پر ملے جلے جذبات ابھارتا ہے۔ بعض اسے دنیا بھر میں انکل سیم کی شرارتوں اور سازشوں کا گڑھ کہتے ہیں تو دوسرے اس شہر کو آزاد جمہوری معاشروں اور ترقی کا سیاسی قبلہ تصور کرتے ہیں۔

لیکن دنیا کے اس اھم شہر کا ایک اور رخ بھی ہے جسے اکثر باہر سے آنے والے یا تو کبھی دیکھ نہیں پاتے، یا شاید دیکھتے ہیں تو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ایک امیرملک کی تصویر کا یہ دوسرا رخ اس شہر میں غربت اور نسلی تفریق سے متعلق ہے۔

سیاہ فام امریکی
نسلی تفریق کا شکار سیاہ فام

سیاہ فام آبادی واشنگٹن ڈی سی کی مقامی چھ لاکھ آبادی کا امریکہ کے سیاہ فام ستر فیصد حصہ ہے۔ لیکن شہر میں یہ لوگ آپ کو سڑکوں پر بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔اور ان کی اکثریت شہر کی مرکزی عمارتوں سے دور شمال مشرقی واشنگٹن کے غریب ترین علاقوں میں رہتی ہے ۔

وہاں جائیں تو آپ کوعمارتیں خستہ حال اور ہرجگہ گندگی نظر آتی ہے۔فٹ پاتھوں پر نشے کے عادی اور شرابی افراد پڑے ملتے ہیں۔ زور سے ریپ موسیقی بجاتے آوارہ لڑکوں کے ٹولے آپکو مشکوک نظروں سے گھورتے ہیں۔

میرا جب وہاں سے گذر ہوا تو میں نے ایک جگہ ایک وین کھڑی دیکھی جس کے آس پاس غریب سیاہ فام افراد کا مجمع سا لگ ہوا تھا۔ قریب جانے پر معلوم ہوا کہ وہاں ایک مقامی چرچ کی جانب سے خیرات بانٹی جا رہی تھی جبکہ غربت اور بھوک کے ستائے مرد اور خواتین فٹ پاتھ پر بیٹھے جلدی جلدی کھانا کھائے جا رہے تھے۔

ابراہم لنکن
ابراہم لنکن

یہ بات شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں کہ دارالحکومت واشنگٹن کی تعمیر میں اصل کام سیاہ فام غلاموں سے لیا گیا۔ آج سیاہ فام آبادی کے لئے غالباً اس شہر کی سب سے اھم یادگار ملک کے سولہویں صدر ابراہم لنکن کے نام سے منسوب `لنکن میموریل‘ ہے۔ انہوں نے ہی ایک سو چالیس برس پہلے امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کی غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا۔

ایک سو سال بعد، اگست انیس سو تریسٹھ میں، لنکن میموریل میں سابق صدر کےپروقار مجسمہ کے سائے میں، ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ نے ایک تاریخی جلسے سے خطاب کیا۔

مارٹِن لوتھر کِنگ

ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کے واشنگٹن مارچ کو اس ہفتے پورے چالیس برس ہونے کو آئے ہیں، لیکن امریکہ میں نسلی تعصب کی بحث آج بھی تنازعات کا شکار ہے اور امریکی معاشرہ رنگ و نسل کے معاملے پر تقسیم نظر آتا ہے۔

ایک طرف وہ ہیں جو سیاہ فام باشندوں کو تاریخ میں استحصال کے ازالے کے طور پر، تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں ترجیحات دینے کے حق میں ہیں۔ اور دوسری جانب وہ جو کوٹہ کے نظام کو اہل امیدواروں کی حق تلفی قرار دیتے ہیں اور اسکا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔

بِل پرکِنس

’امریکہ میں نسلی تعصب آپکو ماضی کے دنوں کی طرح اب نظر نہیں آئے گا۔ اب نسلی تفریق، ڈھکے چھپے طریقے سے نظام کی حصہ ہے۔ اوپر سے آپ کو سب اچھا نظر آئے گا، لیکن غور سے اندر دیکھیں گے تو حکومتی پالیسیوں سے لے کر نجی اداروں میں نسلی تعصب محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘

لیکن امریکہ میں ایک طبقہ کہتا ہے کہ ملک کے سیاہ فام باشندوں کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ سیاہ فام باشندوں کو کھلے دل سے اب بھی نہیں قبول کیا جاتا۔ اس مکتبِ فکر کے لوگوں کی رائے میں جن سیاہ فام افراد میں قابلیت ہوتی ہے اور جو محنت کرتے ہیں انہیں ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔

ان کے مطابق، کھیل کا میدان ہو، شوبز کی دنیا ،یا بڑی بڑی کمپنیوں کے اہم عہدے، اس عرصے میں سیاہ فام باشندوں نے اپنا لوہا خود منوایا ہے۔اس نقطہ نظر کا حامل طبقہ، بش انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز دو سیاہ فام شخصیات، وزیرِ خارجہ کولن پاول اور قومی سلامتی کی مشیر کونڈلیزا رائس کو امریکہ میں نسلی رواداری کی واضع مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

لیکن ناقدین ان دلائل کو رد کرتے ہیں۔ انکا موقف ہے کہ ترقی کرنے والی سیاہ فام شخصیات مٹھی بھر ہیں اور انہیں نسلی رواداری کی مثال بنا کر پیش کرنا ملک کی تیرہ فیصد سیاہ فام آبادی اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مُترادف ہے۔

ہارلم کے علاقے کے ہی ایک سرگرم کارکن، سام سلیم کہتے ہیں کہ سفید فام باشندوں کی ایک تعداد، آج بھی سیاہ فام باشندوں کو غلاموں کی اولاد اور کم ترسمجھتی ہے۔

’یہ درست ہے کہ امریکہ ایک امیر اور بااثر ملک ہے۔ لیکن امریکہ کی ایک حقیقت اور بھی ہے جس کے بارے میں میں اور میرے آبا و اجداد جانتے ہیں۔ اس کا بھی دنیا کو بتایا جانا ضروری ہے کہ ہمارے ساتھ یہاں کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد