| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں لیبیا کا سفارتخانہ بند
شیعہ رہنما امام موسٰی صدر پچیس سال قبل تریپولی کے دورے پر گئے تھے جہاں سے وہ لاپتہ ہو گئے۔اب کرنل قذافی پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہیں علم ہے کہ ان شیعہ رہنما کا کیا انجام ہوا۔ لبنانی پارلیمان کے سپیکر نبیہ بری اور عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے کرنل قذافی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ امام موسٰی صدر کا کیا انجام ہوا۔ امام موسٰی شیعوں کی اعلٰی کونسل کے سربراہ تھے جوکہ لبنانی کمیونٹی کا سب سے اہم ادارہ ہے۔ تریپولی کے حکام نے کبھی بھی امام موسٰی کے لاپتہ ہونے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ امام موسٰی اور ان کے ساتھیوں نے لیبیا میں اپنے قیام کے بعد اٹلی کا رخ کیا تھا۔ لیبیا کا موقف ہے کہ لبنان سے سفارتی تعلقات ختم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ پارلیمان کے ایک اجلاس میں کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |