،تصویر کا کیپشنعبوری حکومت کے جنگجو بنی ولید اور سِرت میں پیشقدمی کررہے ہیں جو اب بھی کرنل قذافی کی حامی فوجوں کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکرنل قذافی کے خلاف جدوجہد کے ثبوت سڑکوں پر جابجا نظر آتے ہیں۔یہ سڑک بنی ولید کی جانب جارہی ہے جو طرابلس سے ایک سو اسیّ کلومیٹر دور ہے۔
،تصویر کا کیپشنجنگجوؤں کو لڑائی کے دوران نشانہ لگا کر ہلاک کیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔
،تصویر کا کیپشنبنی ولید سے کوئی ستّر کلومیٹر دور البکران فوجی اڈہ ہے جو کرنل قذافی کی حامی فوجوں کے استعمال میں تھا اور جس پر نیٹو نے بمباری کی تھی۔
،تصویر کا کیپشنساحلی شہر سِرت میں کرنل قذافی کی فوجوں کی جانب سے مزاحمت کے کئی گھنٹوں بعد جنگجوؤں کے ٹرک اور ٹینک دوبارہ پیشقدمی کررہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنگجو جب کرنل قذافی کی حامی فوجوں پر بمباری کررہے تھے تو وہ خود بھی راکٹوں کے حملوں کی زد میں آگئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنجب جنگجو سِرت کی جانب پیش قدمی کررہے تھے اس وقت کرنل قذافی کے ترجمان موسٰی ابراہیم نے شامی ٹی وی پر کہا تھا کہ ہزاروں رضا کار لیبیا کو آزاد کرانے کے لیے تیار ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسِرت پر حملے کے دوران عبوری حکومت کے کئی جنگجو زخمی ہوگئے جبکہ چند ہلاک بھی ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنعبوری حکومت کے جنگجو مصراتہ سے جمع ہوکر سِرت کی مغربی جانب کا رخ کررہے ہیں۔