BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 December, 2005, 12:18 GMT 17:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالا باغ: جرنیلوں کی دو دھاری تلوار

کالاباغ کے خلاف پیپلز پارٹی کا مظاہرہ
کالاباغ ڈیم کے خلاف پیپلز پارٹی کا مظاہرہ
اردو محاورے میں تین طرح کی ہٹ بہت مشہور ہیں: راج ہٹ، بالک ہٹ اور تریاہٹ۔

ضدی بچے اور حسین دوشیزہ کی ہٹ کے برعکس راج ہٹ یوں منفرد ہے کہ اس کا نقصان پوری قوم کا نقصان بن جاتا ہے اور اس کا خمیازہ ہٹ پہ اڑ جانے والے حکمران سے زیادہ معصوم لوگ ادا کرتے ہیں۔

تین صوبوں میں شدید مخالفت کے باوجود کالاباغ ڈیم پر پاکستان کے صدر جنرل مشرف کا اصرار بھی کچھ ایسی ہی راج ہٹ محسوس ہوتا ہے۔

جنرل مشرف کے پیشرو فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے بھی سیاسی مخالفتوں کے طوفان پر بند باندھنے کےلیے کالاباغ کا استعمال کامیابی سے کیا لیکن اس پالیسی کا ایک نقصان یہ ہوا تھا کہ فوج کے ادارے کو اس پالیسی کے نتیجے میں آئندہ ایک سے زیادہ بار اپنی مرضی کے خلاف اقدامات پر راضی ہونا پڑا۔

یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ جنرل ضیاء کی ہلاکت کے بعد سن انیس سو اٹھاسی اور اس کے بعد فوج کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے لوگوں کو اقتدار میں شریک کرنا پڑا جو کسی نہ کسی حد تک عوام کی خواہشات کا احترام کرنے پر مجبور تھے۔

اس چیز میں دیگر عوامل کے برعکس ایک محرک یہ بھی تھا کہ جنرل ضیاء کے گیارہ برسوں پر محیط نوے روزہ اقتدار نے عوامی محرومی اور ردعمل اتنا بڑھا دیا تھا کہ چھوٹے صوبوں کو مزید ناراض رکھ کر فوج اپنے مفادات کی آبیاری نہیں کرسکتی تھی۔

کراچی میں مظاہرے پرتشدد صورت بھی اختیار کر گئے

آج کے پاکستان میں ایک بار پھر صورتحال کچھ ایسی ہی ہوتی جارہی ہے کہ کالاباغ ڈیم پر اصرار کا علم اٹھائے فوج اور بڑے صوبے پنجاب کا ایک مخصوص حلقہ ، جو ہر فوجی آمر کی خدمت اپنا دینی فریضہ سمجھ کرکرتا ہے، اس ڈیم کے مخالف ملک کے باقی تین صوبوں اور خود پنجاب میں رائے عامہ کے ایک بڑے حصے کے مقابل کھڑا ہے۔

کئی تجزیہ نگاروں کے خیال میں جنرل مشرف نے کالاباغ کا تنازعہ اتنی شدت سے چھیڑنے کا فیصلہ اس اندازے پر کیا کہ اس کے نتیجے میں کئی چیزوں کا توڑ کیا جاسکتا ہے۔

ان میں سرفہرست فوج کے ادارے کے خلاف عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا تدارک تھا۔ یہ بے چینی آٹھ اکتوبرکے زلزلے بعدان حالات میں خاص طور پر جنرل مشرف کے لیے قابل تشویش تھی کہ ایک طرف تو امدادی کاروائیوں میں فوج کی ناقص کارکردگی واضح ہوئی تو ساتھ ہی ملک کی سول سوسائٹی نے ہنگامی حالات سے تنہا نمٹنے کی قطعی غیرمتوقع صلاحیت دکھائی۔

ساتھ ہی ساتھ مبصرین کے مطابق جنرل مشرف کی توقع کے قطعی برعکس ملک میں حزب اختلاف کی ہی مانند ترقی یافتہ ملکوں اورامداد دینے والوں نے زلزلہ زدگان کو دی گئی امداد کے شفاف حسابات کا مطالبہ کر کےگویا حکومت کی دیانت پر شک کو الفاظ کا روپ دے دیا۔

ایسے حالات میں موضوع بدلنے سے جنرل مشرف کی توقع شاید یہ رہی ہوگی کہ متحد ہوتی ہوئی حزب اختلاف بری طرح منتشر ہوجائے گی اور زلزلے سے یکجہتی کی طاقت کا راز پانے والے عوام بھی تقسیم ہوجائیں گے۔

صدر مشرف کی کالا باغ رابطہ مہم

یہ توقعات ایک فوجی آمرکے نقطۂ نظر سے کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھیں۔

عملاً سیاسی لحاظ سے واقعات کا رخ بھی کچھ اسی جانب بڑھا تھا اور پنجاب میں کالاباغ ڈیم کی اچانک حمایت باقی تین صوبوں کے عوام کے مقابل محسوس ہو رہی تھی اور دوسری جانب یہی دھول اڑا کر بلوچستان میں شروع کیے گئے بھرپور فوجی آپریشن پر بھی کسی سنگین عوامی احتجاج کے آثار نہیں تھے لیکن اب یہ توقعات کچھ زیادہ بر آتی محسوس نہیں ہو رہیں۔

کم از کم اب تک حزب اختلاف نے بڑی حد تک بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے اور نہ تو کالاباغ ڈیم کی ہڈی پر آپس میں جوتم پیزار شروع ہوئی اور نہ ہی بلوچستان کے معاملے پر سیاسی جماعتوں نے خاموشی اختیار کی ہے۔

جمعہ کے دن کراچی میں سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پرجمع ہونا یقینا ًجنرل مشرف کے لیےکوئی نیک شگون نہیں دکھائی دیتا۔ اور تو اور پیپلز پارٹی اور نواز مسلم لیگ جیسی جماعتوں نے بھی کہ جن پر سندھ اور پنجاب میں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے الگ الگ موقف اپنانے کا الزام لگایا جاتا ہے، جنرل مشرف کی ضد کے مقابل اصولی موقف اپنایا ہے کہ اگر کوئی بھی ڈیم بنانا ہے تو اس کا فیصلہ بندوق بردار فرد واحد کے بجائے عوام کے منتخب نمائندے پارلیمان میں کریں۔

اندرون سندھ کے ذرائع ابلاغ کی طرف سے کالاباغ ڈیم کی اشتہاری مہم کا بائیکاٹ حتٰی کہ اس بائیکاٹ کی خلاف ورزی کرنے والے ایک اخبار کے چوکیدار سے لیکر ایڈیٹر تک تمام کارکنوں کا استعفٰی بھی ایک اہم علامت ہے۔

اور تو اور جنرل مشرف کے طفیل اقتدار کے مزے لوٹنے والے سندھی سیاستدان بھی کالا باغ ڈیم کے ہاتھوں کچھ ایسے زچ لگ رہے ہیں کہ ڈیم کی حمایت کی چھچھوندر نہ تو وہ نگل سکتے ہیں نہ ہی اگل کر اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سندھ کے گورنراور وزیراعلٰی ابھی تک کالاباغ ڈیم کی کھل کرحمایت میں سامنے نہیں آئے ہیں۔

کراچی میں کا لا باغ مخالف مظاہرہ

محسوس کچھ یوں ہورہا ہے کہ بحران کو بالآخر انتہا تک لا کر قابو کرلینے کے زعم میں جنرل مشرف نے جو پنڈورا بکس کھول دیا ہے، وہ کہیں خود ان کے ہاتھ سے بھی نکل نہ جائے۔

اگر جنرل مشرف اب محض اپنی انا کی تسکین کے لیے تمام تر مخالفت کے باوجود کالاباغ کی تعمیر کا فیصلہ شوکت عزیز حکومت کے سر پر مسلط کرتے ہیں تو موجودہ جمہوری پردے کے تار تار ہوجانے اور نظام کے ہی سرے سے ڈھیرہوجانے کا خطرہ بھی ہے۔

کیا جنرل مشرف اس حد تک جا سکیں گے؟

حزب اختلاف کے لیے جنرل مشرف یا کالاباغ ڈیم اور بلوچستان آپریشن کی حمایت، حتٰی کہ اس پر خاموشی بھی سیاسی موت کا پروانہ ہوگی۔ اس کے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ جنرل مشرف، کالاباغ ڈیم اور بلوچستان آپریشن کی مخالفت کی جائے، عوام میں بھی اور ممکن ہو تو سڑکوں پر بھی۔

سندھی سیاستدان بھی کالا باغ ڈیم کے ہاتھوں کچھ ایسے زچ لگ رہے ہیں کہ ڈیم کی حمایت کی چھچھوندر نہ تو وہ نگل سکتے ہیں نہ ہی اگل کر اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں۔

اگر جنرل مشرف کےخلاف یہ ہوا تیز چلی تو متوقع حالات کی پیش بندی میں ڈیم کی مخالفت پر حکومت چھوڑنے کی دھمکی دینے والی ایم کیو ایم اس پر عمل بھی کرسکتی ہے جس کا لازمی نتیجہ مرکز میں حکومتی اکثریت کا خاتمہ اور سندھ میں اسمبلی کی برطرفی ہوگا۔

کالاباغ کے خلاف قوم پرست جماعتوں کی ریلی

یہ صورتحال بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل کو حکومت سے علیحدگی پر مجبور کرے گی جبکہ صوبۂ سرحد کی حکومت پہلے ہی ڈیم کی علی الاعلان مخالفت کرچکی ہے، لہذا ان کی بھی برطرفی یقینی ٹھہرے گی۔

ایسے میں جب نصف سینٹ کے انتخابات صرف تین ماہ دور ہیں، کیا جنرل مشرف اتنا بڑا جوا کھیل سکیں گے کہ تین صوبوں میں اسمبلیاں معطل یا برطرف ہوں اور اسلام آباد کے باہر جنرل مشرف کی حمایت محض رسوائی کا سودا بن جائے۔

اور اس فوری منظر نامے سے آگے جنرل مشرف کے لیے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہوگی کہ اگر ملک میں نئے انتخابات کا وقت آجاتا ہے، چاہے اگلے سال یا سن دو ہزار سات میں ، تو کالاباغ ڈیم بڑے صوبے پنجاب میں یوں موضوع نہیں ہوگا کہ اس پر تو فیصلہ ہوچکا ہے لیکن یہی چیز سرحد اور سندھ میں ان تمام قوتوں کےلیے ناقابل برداشت گالی بنے گی جو جنرل مشرف کی ہمرکابی میں کسی بھی طرح اس ڈیم کی حامی قرار پائیں گی۔

اور اب اگر جنرل مشرف کسی بھی طرح کالاباغ ڈیم تعمیر کرنے کے عزم سے پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کی یہ پسپائی بلاشبہ ان کی مخالف تمام قوتوں کی تیزرفتار پیشقدمی پر ہی منتج ہوگی۔

کبھی کبھی دودھاری تلوار چلانا مشکل بھی ہوجاتا ہے۔

اسی بارے میں
اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا
18 December, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد