’ہم شرمندہ ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کیا تم نےامریکی لوگوں کو عراقی قیدیوں پر تشدد کی تصاویر پر گلیوں میں رقص کرتے اور جشن مناتے دیکھا ہے؟ جیسا کہ عرب دنیا میں امریکی فوجیوں کے قتل پر کیا جاتا ہے؟ اب سے کئی سال بعد جب ہم امریکی مڑ کر عرب دنیا کو دیکھیں گے تو خود ہنسیں گے کہ ہم نے سب سے زیادہ احمقانہ اور غلیظ کام کیا تھا۔‘ عراقی قیدیوں پر امریکی فوجیوں کے ہاتھوں تشدد کی تصاویر پر یہ باتیں ان بہت سے امریکیوں میں سے ایک کی تھیں جن کے خیالات جاننے کے لیے میں کل شام سان ڈیاگوشہر میں پیدل ہی نکل پڑا۔ سان دیاگو سولہویں صدی میں اسپین سے لائے گئے کھجوروں کے درختوں والا ایک خوابیدہ سا شہر ہے۔ یہاں کے ایک ایک گیس سٹیشن پر کام کرنے والے دو عرب نژاد افراد گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں شامل تھے اور یہاں سے کچھ دور کیمپ پینڈلٹن کے ہی میرین دستے آج کے سب سے زیادہ شورش اور مصیبت زدہ فلوجہ میں ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ یہاں سے قریب ہی بحری اڈے پر صدر بش نےگذشتہ برس عراق میں امریکی اتحادی لڑائی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ شہر کے لائبریرین ڈیوڈ اسٹونیسن سے جب میں نے عراقی قیدیوں پر تشدد کی تصاویر پر ان کی رائے پوچھی تو انہوں نے کہا ’نہایت ہی بہیمانہ حرکات ہیں یہ۔ ہم امریکی اس پر بہت ہی شرمسار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ عراق میں سلاخوں کے پیچھے ایسا بے ہودہ تشدد سہنے والے عراقیوں سے ضرور انصاف ہوگا۔‘ لیکن اسی لائبریری میں اخبار ’سان ڈیاگو ٹربیون‘ کے اقتصادی صفحات میں غرقِ مطالعہ ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’عراقی قیدیوں پر تشدد میں سپاہیوں اور افسروں سے زیادہ بہت ہی اوپری سطح پر بیٹھے ہوئے ملوث ہیں اور ان لوگوں میں رمسفیلڈ اور بش جیسے لوگ بھی آ جاتے ہیں۔‘ اس شخص کا اصرار تھا کہ اس کا نام نہ دیا جائے اور یہ بھی کہ اس کے خیالات عراقی قیدیوں کے مسئلے پر بہت سے امریکیوں کے خیالات سے مماثلث رکھتے ہیں۔ آئندہ اتوار کو منائے جانے والے ’مدر ڈے‘ کی خریداری کے لیے اپنی بیٹی کے ہمراہ سپر اسٹور کے باہر کھڑی ہیر ڈریسر خاتون نکول کا کہنا ہے کہ ’میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتی لیکن ان تصاویر پر میری رائے ہے اور وہ رائے یہ ہے کہ یہ تصاویر بہت ہی غصہ اور غم دلانے والی ہیں۔‘ نکول کے ساتھی مرد ہیر ڈریسر آرٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ انسانیت کے منہ پر صدر بش کا مارا ہوا طمانچہ ہے۔‘ ایک راہ چلتے امریکی کا کہنا تھا کہ ’یہ بدبودار عمل تھا یہ آخری بات تھی جس سے ہم امریکیوں کو اجتناب برتنا چاہیے تھا۔ اب ہمارا شمار انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی قوموں میں ہوگا۔‘ مگر شراب کی دکان چلانے والے، عراق سے آئے ایک پناہ گزین نک کا کہنا تھا ’میرے خیالات بہت سے امریکیوں سے مختلف ہیں۔ مجھے ان تصاویروں کے جاری ہونے پر دکھ نہیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس کے مستحق تھے۔ بہت سے امریکیوں کو نہیں معلوم کہ وہ کون لوگ ہیں۔ بہت سے عراقی بھلے مانس اب بھی امریکی فوج کے ساتھ وہاں کام کرتے ہیں پر عراق میں جانے والے اپنے فوجی دوست کی تصاویر اپنی دکان پر رکھنے والے ایک امریکی نے کہا ’مجھے ان تصاویر پر افسوس ہے۔ یہ اب شائع ہوئی ہیں لیکن تشدد توکئی ماہ سے جاری تھا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||