| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائین کی بوتل میں کالم
شاید میری روز مرہ کی زندگی میں سب سے مشکل کام ہفتے کے ہفتے کالم لکھنا ہوتا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ ایک ریستوران میں ویٹرس سے پوچھا: ’تمھارے لئے روز مرہ کے کاموں میں مشکل کام کونسا ہے؟‘ ’وائین کی بوتل کھولنا میرے لئے بچے کو جنم دینے کے مترادف ہے‘ ویٹرس نے کہا۔ اسے کہتے ہیں تخلیق کا درد ۔ میں کوئی تخلیق کار تو نہیں لیکن اگر آپ صحافی کی آنکھ، شاعر کا دل اور عورت کے جذبات رکھتے ہیں تو پھر لکھنا آپ کے لئے اس ویٹرس کے وائین کی بوتل کھولنے جیسا کام بن جاتا ہے۔ اب ہم کہ جن کے ملکوں میں شراب پینا کوئی واردات کرنے کے مترادف ہو (اور وہ بھی شرابی لیکن بہت ہی کم ظرف حکمرانوں کی مہربانی سے جیسا حبیب جالب نے کہا تھا: ’بہت کم ظرف تھا جو محفلوں کو کر گیا ویراں، نہ پوچھو حالِ یاراں شام کو جب سائے ڈھلتے ہیں۔‘ تو آپ کے لئے ’وائین‘ سمیت ہر کڑوی لیکن مسرت انگیز مشروب یا کسی بھی ’انگور کی بیٹی‘ کو شراب لکھنے کی غلطی کی ایک گنجائش موجود ہے۔ چاہے وہ مری بریوری کی ’واہٹ ون ہسکی‘ ہو یا اسکاٹ لینڈ کی ’جانی واکر‘ یا کیلیفورنیا کے انگوروں کے باغوں سے اٹی وادیوں والی مئہ لالہ فام ہو۔ زندگی ویسے بھی اس ہفتے بوب ہوپ اور جانی واکر کی ہنسائی دنیا کی آنکھ سے ٹپکتے ہوئے کچھ آنسو جیسی رہی۔ کیا لکھ کر کیا لکھا جائے۔ ساتوں دن کشور کمار کے گانے کی طرح گزر جاتے ہیں: ’آدمی ٹھیک سے دیکھ پاتا نہیں اور پردے کا منظر بدل جاتا ہے۔‘ آپ یقین سے نہیں لکھ سکتے کہ اب کے بار اس ساون میں زیریں سندھ نامہربان آسمان سے برسنے والی بارش کے ساتھ اس سے متاثر ہونے والے لوگوں کے اشکوں کے کتنے سندھو بہہ نکلے ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ ان لوگوں کی امداد کے نام پر جاری ہونے والی رقم کا بہت بڑا حصہ سیاستدانوں اور افسر شاہی کے عزیزوں کے نام پر یہاں جعلی بنک اکاؤنٹوں کے مزید ’حاملہ‘ ہونے کا موجب بنے گا۔ ان رقوم سے حسب معمول امریکہ میں گیس اسٹیشن، سنگاپور اور تھائی لینڈ میں ہوٹل، روم اور لندن میں ولاز خریدے جائیں گے۔ پھر میں نے سوچا کہ اس قدیم ’ٹوپلے‘ کی کتھا لکھوں جو میں نے یہاں سان ڈیاگو میں اپنے واقف کار ہیرالڈ بٹلر کے سرپردیکھا۔ مگرمچھ کے دو دانت اور ایک اب نایافت پرندے کے لگے پر والے اس ٹوپے کے بارے میں ہیرالڈ نے بتایا کہ اس نے یہ ڈیڑھ صدی پرانا ٹوپلہ ایریزونا میں ایک نیٹو امریکن سے اسے ایک جانور کے سینگ سے بنے ہوئے ساز کے عوض خریدا تھا۔ نیٹو امریکن لوگوں کے لئے جانور کے سینگ سے بنا ہوا یہ ساز شاید ایک مقدس اہمیت رکھتا ہے۔ میں نے ایسا ساز قلندر کے فقیروں کو سیہون شریف میں بجاتے دیکھا تھا جسے میں ’صور اسرافیل‘ کہتا ہوں۔ لیکن وقت کا یہ ’صور اسرافیل‘ سیہون کی گلیوں سے لے کر ایریزونا کے صحراؤں تک نہ قلندر کے فقیروں کی ہاتھ میں رہا ہے اور نہ نیٹو امریکیوں کے ہاتھ کہ جن سے ہیرالڈ بٹلر جیسے لمبے تڑنگے چٹے گورے لوگ اور ان جیسی حکومتیں اپنا ترکہ اور تمدن کوڑیوں یا گولیوں کے بھاؤ لے کر اپنے سروں پر قدیم ٹوپلے کی طرح سجاتی رہی ہیں۔ آپ اس قدیم ٹوپلے کی کتھا کو جدید جامہ پہنانے کے لئے ’گلوبلائزیشن‘ یا اور کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ میں نے اردو کی ’آن لائین‘ لغت میں ’ٹوپلہ‘ (hat) کے لئے لفظ ’کلاہ‘ دیکھا۔ آپ اسے ’اچا شملہ جٹ دا‘ کہہ سکتے ہیں۔ ایسے ہی جٹ کے لئے فیض نے کہا تھا: ’جسکی پگ زور والوں کے پاؤں تلے دھجیاں ہوگئیں۔‘ آج اگر فیض میرے دیس میں کسانوں اور فوج کے تنازعات دیکھتے تو لکھتے: ’جسکی پگ فوج والوں کے بوٹوں تلے دھجیاں ہوگئیں۔‘! |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||