BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 March, 2004, 02:32 GMT 07:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آزاد‘ غلامی کا سال

News image
امریکی فوج کئی عراقیوں کو گرفتار کر چکی ہے
جب امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا تھا تو واشنگٹن اور لندن میں توقع کی جا رہی تھی کہ ایک سال بعد جب عراقی اپنی ’آزادی‘ کی پہلی سالگرہ منائیں گے تو کیک کا پہلا نوالہ ان کے جرنیلوں کو پیش کیا جائے گا۔ آج وہ سالگرہ منائی جا رہی ہے لیکن اتحادی فوجیوں کو تحفے میں ملے چھ سو ستتر تابوت، ساڑھے تین ہزار سے زیادہ زخمی، اور عراقیوں سمیت دنیا بھر کی جانب سے تنقید اس کے سوا۔

اس ایک سال میں قابض فوجوں نے عراق کے ساتھ کیا کیا اور عراق نے قابضین کو کیا لوٹایا، اس بارے میں اتنی ہی متضاد آراء پائی جاتی ہیں جتنی اس یکطرفہ جنگ کی حمایت اور مخالفت میں سامنے آئی تھیں۔

مثبت پہلو دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اگر اس جنگ سے اور کچھ بھی حاصل نہ ہو تو صرف صدام حسین کے دور جبر کا اختتام ہی عراقیوں اور ہمسایہ ممالک کے لئے باعث اطمینان ہونا چاہئے۔ پھر یہ بھی ہے کہ مشکل سے ہی سہی لیکن امریکی سربراہی میں بنی عبوری حکومت نے تمام بڑی جماعتوں سے ملک کا نیا آئین بھی منظور کروا لیا ہے اور منتخب نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی بھی ابتدائی اندازوں سے کم وقت میں مکمل کی جا رہی ہے۔

ذمہ داری کس کی؟
 چھاپہ ماروں کے حملوں میں اور علاج کی ناکافی سہولتوں کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی، قابض فریق کے لئے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں وضع کیے گئے اصولوں کے مطابق، امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

شیعہ اور کرد آبادی کو سیاسی پذیرائی اور اظہار خیال کی آزادی ملی ہے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لئے کئے جانے والے ایک ملک گیر سروے کے مطابق عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ پچھلے ایک سال میں ان کی زندگی بہتر ہوئی ہے، گو امریکی حملے اور قبضے کی حمایت اب بھی بہت قلیل ہے۔

بنیادی سہولیات کی فراہمی پوری طرح بحال تو نہیں ہو پائی لیکن اس جانب پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ عبوری حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجلی کی موجودہ پیداوار ملکی تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

یہ سب درست ہو سکتا ہے لیکن عراقیوں نے اسے پانے کے لئے بہت بڑی قیمت چکائی ہے، اور ایسا لگتا ہے غیر معینہ مدت تک چکاتے رہیں گے۔

جنگ کے دوران اور اس کے فوراً بعد کتنے عراقی فوجی مارے گئے یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا لیکن سویلین اموات کی تعداد بھی کچھ کم ہولناک نہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگن نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ پالیسی بیان دہرایا ہے کہ وہ عراق میں سویلین اموات کا حساب نہیں رکھنا چاہتا۔ ایسے میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے اعداد و شمار پر ہی تکیہ کرنا پڑتا ہے جس کے مطابق اتحادی کارروائی کے نتیجے میں اب تک دس ہزار سے زیادہ عراقی مارے جا چکے ہیں۔ ان میں سے سات ہزار تین سو پچاس کی ہلاکت یکم مئی کو جنگ ختم ہونے کے اعلان سے پہلے، یعنی براہ راست اتحادی بمباری سے ہوئی۔

اس کے بعد کی اموات یا تو اتحادی فوجوں کے آپریشن میں ہوئیں، جیسے اس جنوری میں ایک منی بس پر پانچ سو پاؤنڈ وزنی لیزر گائیڈڈ بم پھینکا گیا جس سے اس گاڑی میں سفر کرنے والی پانچ عورتیں ہلاک ہو گئیں جو امریکی فوجیوں کے کپڑے دھونے پر مامور تھیں، یا جیسے دسمبر میں ایک ستر سالہ شخص خوف کے باعث مر گیا جب امریکی فوجیوں نے اسے گرفتار کر کے اس کے سر پر تھیلا چڑھایا۔

یا پھر یہ اموات نامعلوم چھاپہ ماروں کے حملوں میں اور علاج کی ناکافی سہولتوں کے باعث ہوئیں۔ قابض فریق کے لئے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں وضع کیے گئے اصولوں کے مطابق ان ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

عراق، ویتنام نہیں
تاریخ بتاتی ہے کہ امریکی فوج جہاں بھی گئی اس نے وہاں سے مکمل انخلا صرف تبھی کیا جب اسے ویتنام جیسی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

مرنے والوں میں ایسے بھی تھے جو اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ اب ان کے لواحقین بغداد کے اس دفتر کے باہر قطار لگائے نظر آتے ہیں جہاں ہلاک اور شدید زخمی ہونے والوں کا زر تاوان بانٹا جاتا ہے۔

پہلی خلیجی جنگ سے پیشتر عراق کا نظام صحت مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ فعال سمجھا جاتا تھا۔ گزشتہ سال کے آخر میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آبادی کے ایک بڑے حصے کو علاج معالجے کی سہولت سرے سے حاصل نہیں رہی۔ نتیجہ یہ کہ حمل اور پیدائش کے عمل میں مرنے والی عورتوں کی تعداد انیس سو نوے کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکی ہے اور چھوٹے بچوں کے لئے ناکافی خوراک کی شکایت ایک سال پہلے کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے سہولیات اور ادویات بھی ناکافی بتائی جاتی ہیں۔

پانی کی فراہمی بیشتر مقامات پر بحال ہو چکی ہے لیکن خود یو ایس ایڈ کے مطابق عراق میں پینے کے پانی کی موجودہ مقدار قبضہ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی ایک تہائی کم ہے۔

صدام دور کی فوج، پولیس اور انتظامیہ کو فارغ کرنے سے بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے جس سے جرائم کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

سیاسی طور پر بھی حالات کچھ ایسے امید افزا نہیں۔ شیعہ اکثریت، سنی اقلیت اور علیحدگی پسند کرد ایک ایسی تکون کی مانند ہیں جس کا ہر کونہ باقی دونوں کے زاویے چھوٹے کر کے خود بڑا ہونا چاہتا ہے۔ حال ہی میں آئین کی منظوری کے موقعے پر یہ اختلافات پھر کھل کر سامنے آئے تھے اور کیونکہ ان کا فوری حل ممکن نہیں تھا لہذا امریکی ڈنڈے کے استعمال سے ہی وقتی طور پر مفاہمت ممکن ہو سکی۔ لیکن یہ کب تک چلے گی اس بارے میں کوئی بھی پر امید نہیں۔

عراق پر قبضہ کرنے کا مقصد کچھ بھی رہا ہو، اس وقت تو یہ ایڈونچر امریکہ کے لئے مشکلات اور خفت کا باعث ہی ہے۔ عراق پر جنگ مسلط کرنے کا اولین جواز غلط ثابت ہو جانے کے بعد امریکہ، اور کافی حد تک برطانیہ کی ساکھ بھی خراب ہوئی ہے۔ ایک سرکردہ امریکی سروے کنندہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بیرونی دنیا میں امریکہ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے اور اکثریت کی نظر میں عراق پر قبضے سے دہشت گردی میں کمی نہیں آئی بلکہ اسے فروغ ملا ہے۔

سپین میں عوامی رائے کے برخلاف امریکہ کی حمایت کرنے والے وزیراعظم کی غیر متوقع انتخابی شکست سے باقی یورپی اتحادیوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولینڈ کے صدر نے بھی یہ کہہ کر اپنی فوج عراق سے واپس بلانے کا عندیہ دے دیا ہے کہ انہیں غلط معلومات دے کر جنگ میں شامل کیا گیا تھا۔ اور سب سے قریبی اتحادی ملک برطانیہ میں ٹونی بلیئر کو اگلے انتخابات میں کڑے امتحان کا سامنا ہے۔ ان کے ناقدین پیشن گوئی کر رہے ہیں کہ صرف بلیئر کی ہی نہیں لیبر پارٹی کی بھی چھٹی ہو سکتی ہے۔

واشنگٹن میں بھی ان دنوں انتخابی بازار گرم ہے اور صدر بش کے قریبی رفقا یورپ کا ساتھ چھوٹنے پر خود کو تنہا محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگرچہ امریکی عوام عراق پر حملے کی اب تک حمایت کرتے آئے ہیں لیکن اپنے فوجیوں کی مسلسل ہلاکتیں یہ صورتحال بدل بھی سکتی ہیں۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ امریکہ کی کل فوجی صلاحیت کا ایک تہائی حصہ بیرون ملک مصروف ہے اور ان کو مناسب چھٹی اور تربیت بھی نہیں مل پا رہی۔ ایسے میں فوج کا حوصلہ کتنی دیر تک قائم رہ سکتا ہے؟

ان حالات میں امریکہ کو کیا کرنا چاہئے؟ اس کا ایک آسان جواب تو یہ ہے کہ جون میں اقتدار عراقیوں کے حوالے کر کے اور نئی حکومت کو کچھ عرصے کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں دے کر تمام غیر ملکی فوجی وہاں سے نکل جائیں۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ امریکی فوج جہاں بھی گئی اس نے وہاں سے مکمل انخلا صرف تبھی کیا جب اسے ویتنام جیسی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور کیونکہ ابھی تک عراق میں ویسی صورت نہیں لہذا امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنی کچھ نہ کچھ فوج وہاں رکھنا چاہے گا۔

یہ مشکل بھی اپنی جگہ ہے کہ اگر ایک لاکھ دس ہزار نفوس کی فوج کے ساتھ امریکہ چھاپہ ماروں کو قابو نہیں کر سکا تو چھوٹی سی فوج رکھ کر ان کی حفاظت کیسے کرے گا؟ یعنی نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔

یہ صورتحال امریکہ کے لئے جتنی مایوس کن نظر آتی ہے شاید اتنی ہے بھی۔ ہو سکتا ہے اسی لئے صدر بش کی ساری توجہ اب اسامہ بن لادن کو پکڑنے کی طرف ہے تاکہ ووٹروں کو دکھانے کے لئے ان کے پاس کچھ تو ہو۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد