یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
تین ہفتوں سے زائد عرصے میں پہلی بار شہریوں کو غزہ کی پٹی چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ جس کے بعد غیر ملکی شہریوں اور زخمیوں سمیت کم از کم 400 افراد رفح کراسنگ کے ذریعے مصر میں داخل ہوئے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ برسوں کے دوران بولیویا اور اسرائیل کے درمیاں سفارتی تعلقات انتہائی پیچیدہ رہے ہیں۔ اور ان تعلقات میں نیا موڑ دو روز قبل اس وقت سامنے آیا جب بولیویا کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔
بولیویا کے وائس چانسلر فریڈی مامانی نے کہا کہ ’غزہ کی پٹی میں جارحانہ اور غیر متناسب اسرائیلی فوجی حملے کی تردید اور مذمت‘ میں یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
بولیویا کی حکومت نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کا احترام نہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے روکے جائیں جن میں اب تک حماس کی زیر کنٹرول وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 8500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل پر سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد تین ہفتوں سے اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔
بولیویا وہ پہلا لاطینی ملک بن گیا ہے جس نے غزہ کی موجودہ صورتحال کے باعث اسرائیل سے تعلقات ختم کر لیے ہیں۔ مگر بولیویا نہ ایسا پہلی دفعہ نہیں کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ کی پٹی پر محاصروں اور قبضوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔
سنہ 2008 کے اواخر اور 2009 کے اوائل میں اسرائیل نے ’آپریشن کاسٹ لیڈ‘ کرتے ہوئے غزہ پر بہت سخت حملہ کیا تھا۔ اس کا مقصد حماس کو روکنا تھا۔
یہ آپریشن 22 دن تک جاری رہا جس کے دوران 1400 فلسطینی جبکہ 13 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ پہلی دفعہ تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس عمل میں وینزویلا نے بولیویا کا ساتھ دیا تھا۔
اُس وقت ایو مورالس بولیویا کے صدر تھے جنھوں نے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے کچھ نہیں کیا تو وہ ’نسل کشی میں شریک ہوں گے۔‘
اس وقت بولیویا کے صدر نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جارحیت ’بین الاقوامی‘ امن کے لیے خطرہ ہے اور وہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (بین الاقوامی فوجداری عدالت) کو سینیئر اسرائیلی اہلکاروں کے خلاف نشل کشی کا مقدمہ چلانے کو کہیں گے۔
اس وقت بولیویا میں موجود اسرائیلی سفارتکار اس عمل سے حیران اور ’غمزدہ‘ ہو گئے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ دونوں ممالک نے 50 سال سے اچھے تعلقات قائم رکھے ہوئے تھے۔
اسرائیلی سیاحوں کے ویزے ختم
تعلقات ختم ہونے کے پانچ سال بعد بولیویا نے اپنے آپ کو اسرائیل سے مزید دور کر لیا۔
سنہ 2014 میں ایو موریلس نے اس 30 سالہ معاہدے کو ختم کر دیا جس کے تحت اسرائیلی شہری بغیر ویزے کے بولیویا کا دورہ کر سکتے تھے۔
یہ فیصلہ تب ہوا جب اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے آپریشن کیا جس میں 2300 فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔
اس تنازعے کا نام ’آپریشن ایگل آئی‘ تھا، یہ 7 جولائی 2014 کو شروع ہوا تھا اور اسی سال اگست 26 تک جاری رہا۔
بولیویا کے صدر نے اس وقت اسرائیل کو ’ایک دہشتگرد ریاست‘ کہا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے چارٹر یا یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس کا احترام نہیں کرتا۔
یوں اسرائیل بولیویا کے ویزے کے حصول کے لیے گروپ 1 سے گروپ 3 میں چلا گیا۔
ایو موریلس نے اس وقت کہا تھا ’لسٹ 3 میں منتقل ہونے کا مطلب ہے کہ ہم (اسرائیل کو) دہشتگرد ریاست قرار دے رہے ہیں۔‘
بولیویا کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن کے اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق، ان سالوں میں سالانہ 10,000 سے 12,000 اسرائیلی سیاح بولیویا میں داخل ہوتے تھے۔
تعلقات کی بحالی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لندن کی کوئنز میری یونیورسٹی میں محقق اور بولیویا اور لاطینی امریکہ کے سیاسی امور کے ماہر اینگس مکنیلی کہتے ہیں کہ یہ سمجھنے کے لیے کہ 2009 اور 2014 میں بولیویا اور اسرائیل کے درمیان کیا ہوا اس سے پہلے آپ کو بولیویا کی اندرونی سیاست میں کیا چل رہا تھا اس کا تجزیہ کرنا پڑے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بولیویا میں بائیں بازو اور مقامی لوگوں کے لیے اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکی قوت کو استحکام دیتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’بولیویا کا بائیں بازو سامراج مخالف بیانیے کے بدولت اقتدار میں آیا تو جب مورالس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات توڑے تو یہ صرف فلسطینی کے ساتھ یکجہتی میں نہیں کیا بلکہ اپنے حمایتیوں کو بھی مضبوط کیا۔‘
اینگس مکنیلی کے مطابق یہی وجہ سمجھ آتی ہے کیونکہ 2019 میں بولیویا نے اپنی سفارتی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے 10 سال کے بعد ایک بار پھر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے اور سیاحوں کے لیے ویزے کی شرط بھی دوبارہ ختم کر دی۔
یہ کارروائی جینائن اینز کی عبوری حکومت کی طرف سے کی گئی تھی جس نے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ایو مورالس کو فوج کی جانب سے استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔
جینائن اینز نے اقتدار سمبھالتے ہوئے یہ پیغام دیا تھا کہ وہ گذشتہ دائیں بازو کی حکومت کی طرف سے کیے گئے تمام ’بُرے فیصلوں‘ کو ٹھیک کریں گی۔
وزیر خارجہ کیرن لونگرک نے سنہ 2019 میں کہا کہ ’اس حکومت سے کم از کم جس کی توقع کی جا سکتی تھی وہ خارجہ پالیسی کو درست کرنے کی تھی، ایک ایسی خارجہ پالیسی جو گمراہ ہو چکی تھی اور جو ریاست کے اپنے مفادات کو پورا نہیں کرتی تھی اور انتہائی نظریاتی تھی۔‘
جینائن اینز نے کیوبا اور وینیزویلا سے دوری اختیار کی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات مظبوط کیے۔
اینگس مکنیلی کہتے ہیں ’جینائن اینز کی حکومت امریکہ کے ساتھ اتحادی تھی اور اس کی حمایت ظاہر کرنے کے لیے، اس نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سفارتی پالیسی میں نیا موڑ
2020 میں ایک بار پھر بولیویا کی سفارتی پالیسی میں تبدیلی آئی جب لوئس آرسے اقتدار میں آئے۔ انھیں ایو موریلس کا جانشین مانا جاتا ہے۔
ایک بار پھر اسرائیل اور بولیویا کے تعلقات میں مشکل آئی جب بولیویا کے صدر نے امریکی اور اسرائیلی شہریوں پر ویزے کی شرط کا اطلاق کر دیا۔
لوئس آرسے کی حکومت کے نزدیک جینائن اینز کی گذشتہ حکومت کی طرف سے اٹھایا گئے اقدام نے ’یکطرفہ طور پر اسرائیلی اور امریکی شہریوں کو فائدہ پہنچایا، ان ممالک نے اسی قسم کا فائدہ بولیویا کے شہریوں کو نہیں دیا۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والی جماعت حماس کو سپانسر کرنے والا اور اس کے اتحادی ایران کے ساتھ لوئس آرسے نے تعلقات دوبارہ بحال کیے۔
ایران کی سرکاری ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق اس سال جولائی میں دونوں ممالک کی حکومتوں نے سلامتی اور دفاع کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہBolivian Foreign Ministry
اینگس مکنیلی کہتے ہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات توڑنے کے بولیویا کے اس اقدام پر ہمیں زیادہ حیران نہیں ہونا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ واضح بات تھی کہ موجودہ حکومت یہ حکمت عملی اپنائے گی۔ ’وہ اپنے ساتھ کی گئی تاریخی ناانصافیوں کو فلسطینی تحریک میں دیکھتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ 17 سال سے بولیویا کی سیاست پر راج کرنے والی بائیں بازو کی جماعت ایم اے ایس (MAS) کے اندر تقسیم پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں ایو موریلس اور لوئس آرسے کے درمیاں رسہ کشی کے دوران لوئس وہی اقدام اٹھا رہے ہیں جو ایو موریلس کرتے، وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ’میں ایک غدار نہیں ہوں‘ اور اس سے وہ مقبول بھی ہو رہے ہیں۔
بولیویا لاطینی امریکہ کا واحد ملک نہیں ہے جس نے اسرائیل کے خلاف سفارتی اقدام اٹھائے ہیں۔
چلی کے صدر گیبریل بورک نے منگل کو کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کی ناقابل قبول خلاف ورزیوں کے پیش نظر تل ابیب میں اپنے ملک کے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا رہے ہیں۔
کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے بھی سوشل میڈیا پر ایسا ہی اعلان کیا۔ انھوں نے کہا، ’میں نے اسرائیل میں ہمارے سفیر کو مشاورت کے لیے بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام بند نہیں کرتا تو ہم وہاں نہیں رہ سکتے۔‘
اس کے علاوہ بدھ کو اردن نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور حماس کے درمیاں لڑائی میں وقفے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مغویوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
وہ امریکی ریاست مینیسوٹا میں ایک تقریب کے دوران خاتوں کو جواب دے رہے تھے جو اُن سے جنگ بندی کی اپیل کر رہی تھیں۔
انھوں نے کہا ’میرے خیال سے ہمیں وقفے کی ضرورت ہے۔ وقفے کا مطلب ہے قیدیوں کو نکالنے کے لیے وقت دیا جائے۔‘
بعد میں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ صدر انسانی امداد اور 240 اسرائیلی مغویوں کی بات کر رہے تھے۔
خاتون کو سکیورٹی عملے نے باہر نکالا جس کے دوران وہ ’فوری جنگ بندی‘ کی صدائیں لگا رہی تھیں۔ صدر بائیڈن نے آگے کہا کہ صورتحال اسرائیلیوں اور مسلم دنیا دونوں کے لیے ’بہت زیادہ پیچیدہ‘ ہے۔
انھوں نے مزید کہا ’میں دو ریاستی حل کے حق میں ہوں، میں شروع سے ہی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔‘
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران ان کا ایک اور فوجی ہلاک ہوا ہے۔
اس ہلاکت کے بعد غزہ میں زمینی کارروائی کی ابتدا سے اب تک ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مصر جانے والی رفح کراسنگ تین ہفتوں سے زائد عرصے میں پہلی بار عام شہریوں کے لیے کھلنے کے بعد 400 سے زائد افراد غزہ چھوڑ چکے ہیں۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 335 غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے اور 76 زخمی غزہ چھوڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ غزہ چھوڑنے والوں میں برطانوی اور امریکی شہری بھی شامل ہیں جو علاقے سے باہر نکلے ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بمباری شروع ہونے کے بعد سے اب تک 8700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہاں مصر میں داخل ہونے والی رفح سرحدی گزرگاہ پر تقریبا 350 افراد اپنی شناختی کارڈ چیک کروانے کے منتظر ہیں۔
اب تک 150 لوگوں کو بسوں میں سرحد پار پہنچایا جا چکا ہے۔ پاسپورٹ پر کوئی الیکٹرانک نظام یا سٹیمپنگ نہیں ہے، سب کچھ بند ہے۔
وہاں صرف ایک سویلین فلسطینی افسر پاسپورٹ چیک کر رہا ہے اور پھر ان لوگوں کی فہرست میں شامل افراد کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے رہا ہے جنہیں ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہاں سے انھیں سیدھے مصر کی طرف لے جایا جائے گا جہاں مناسب پاسپورٹ کنٹرول ہوگا۔
جہاں میں کھڑا ہوں وہاں سے تقریبا 20 میٹر کی دوری پر ایک اور گیٹ ہے جو گاڑیوں کے گزرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
م نے دیکھا ہے کہ تقریبا 20 یا 30 ایمبولینسیں اس کے ذریعے مصر گئیں، جو شدید زخمیوں کو لے رونہ ہوئیں تھیں۔
وہاں سے انھیں تقریبا 10 کلومیٹر (6 میل) دور ایک فیلڈ اسپتال لے جایا جائے گا اور پھر مزید علاج کے لیے لے جایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
غزہ کی مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کو انسانی بنیادوں پر کھول دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 88 فلسطینی زخمیوں کو مصر میں قائم گراؤنڈ ہسپتالوں میں علاج کی اجازت مل گئی ہے۔
رفح کراسنگ پر اس وقت سینکڑوں خاندان اپنے سامان کے ساتھ رفح کراسنگ کے سامنے اپنی باری کے انتظار میں زمین پر بیٹھے ہیں۔
بی بی سی کے نمائندگان کے مطابق ان فلسطینیوں کو مصر میں داخل ہونے کی اجازت ملنے کے امکانات موجود ہیں۔
علاج کی غرض سے جانے والوں کے لیے تھوڑا مختلف بندوبست کیے جا سکتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ابتدائی طور پر صرف 88 زخمی فلسطینیوں کو مصر میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ مصر سرحد سے دس کلو میٹر دوری پر ہسپتال کی تعیمر کر رہا ہے۔
ڈاکٹروں کی تنظیم ایم ایس ایف نے ایک ٹویٹ میں اپنی اس نرس کا ذکر کیا ہے جو ابھی غزہ کے الشفا ہسپتال میں مریضوں کا علاج کر رہی ہیں۔
ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد بہت سے لوگ اس ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
نرس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نے بتایا کہ جو بچے اس ہسپتال میں علاج کی غرض سے لائے گئے ہیں وہ شدید زخمی ہیں اور وہ بہت زیادہ جھلس گئے ہیں۔ نرس محمد حواجرح کے مطابق یہ بچے بغیر اپنے خاندان کے ہسپتال تک آئے ہیں۔
محمد کے مطابق ان بچوں کی اکثریت چیخ و پکار کر رہی تھی اور وہ بچے اپنے والدین کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔
میں اس وقت تک ان کے ساتھ رہا ہوں جب تک انھیں ہسپتال میں علاج کے لیے جگہ میسرنہ آ گئی کیونکہ یہ ہسپتال پہلے ہی زخمیوں سے بھرا پڑا ہے۔
ایم ایف ایف نے جبالیہ کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے فوری طورپر سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل نے غزہ میں منگل کے روز ہلاک ہونے والے اپنے 11 فوجیوں کے نام ظاہر کر دیے ہیں۔ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔ اسرائیل کے کل ہلاک فوجیوں کی تعداد 326 ہو گئی ہے۔
منگل کو غزہ میں اسرائیل کے ہلاک ہونے والے تمام 11 فوجیوں کی عمریں 19 سے 24 کے درمیان تھیں۔
غزہ کے سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی پالٹیل نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں اور رابطے کے تمام ذرائع بھی کٹ گئے ہیں۔
کمپنی نے کہا ہے کہ جو رابطہ نظام پہلے بحال کیا گیا تھا وہ دوبارہ منقطع ہو گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہBolivian Foreign Ministry
بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یوں بولیویا پہلا لاطینی امریکی ملک بن گیا ہے، جس نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں۔
اس فیصلے کا اعلان ایوان صدر کی وزیر ماریہ نیلا پراڈا اور خارجہ امور کے وائس چانسلر فریڈی ممانی نے منگل کے روز کیا۔
وائس چانسلر فریڈی ممانی نے کہا کہ بولیویا نے ’غزہ کی پٹی میں جارحانہ اور غیر متناسب اسرائیلی فوجی حملے کی مذمت ہوئے ریاست اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کا عزم کیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہم غزہ کی پٹی میں حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو اب تک ہزاروں شہریوں کی موت اور فلسطینیوں کی جبری بے گھری کا سبب بن چکے ہیں۔ بولیویا نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سےخوراک، پانی اور زندگی کی دیگر اہم ضروری اشیا تک عوام کی رسائی مشکل ہو گئی ہے۔
غزہ اور اسرائیل کے تنازع کے بارے میں گذشتہ روز کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔