جنگ بندی کا انحصار اسرائیل کا محفوظ محسوس کرنے پر ہے: امریکی اہلکار

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ جنگ بندی تب ہی ہو سکتی ہے جب اسرائیل محفوظ اور پراعتماد ہو گا کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔

لائیو کوریج

  1. حسن نصر اللہ کی تدفین میں ہزاروں حامیوں کی شرکت: وہ شیعہ عالم جنھوں نے حزب اللہ کو لبنان کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور بنایا

  2. اسرائیل غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں کیوں تقسیم کرنا چاہتا ہے؟

  3. اُردن، عراق اور پھر ترکی: تین دن سے مسلم ممالک میں گھومنے والے امریکی وزیر خارجہ کی بات کیوں نہیں سُنی جا رہی

  4. جب انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار بھیس بدل کر مشرقی پاکستان میں داخل ہوئے

  5. غزہ کے وہ رہائشی جن کے خاندان اسرائیلی حملوں میں ختم ہو گئے: ’15 بچوں سمیت خاندان کے 21 لوگ مر گئے‘

  6. اسرائیل غزہ جنگ: مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں امریکی سفارت کاری کتنی کامیاب ہو سکتی ہے؟

  7. وسعت اللہ خان کا کالم ’بات سے بات‘: غزہ کا پیاسا کتا اور آخری گھونٹ

  8. اسحاق رابین: مشرق وسطی میں امن کی امید دلانے والے وزیر اعظم جن کے قتل پر اسرائیل میں جشن منایا گیا

  9. ہسپتال کے نیچے حماس کا کنٹرول سینٹر ہے: سینیئر اسرائیلی مشیر

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مشیر مارک ریگیف نے برطانیہ کے ’چینل فور نیوز‘ کو بتایا کہ اسرائیل کا یہ ماننا ہے کہ الشفا ہسپتال کے نیچےحماس نے اپنا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ سینٹر بنایا ہوا ہے۔

    مارک ریگیف کا کہنا ہے کہ اگر ایک جنگجو سویلین انفراسٹرکچر کے تلے ایسے تعمیرات کرتا ہے تو وہ ایک ’جائز ہدف‘ بن جاتا ہے۔

    اسرائیل نے پہلے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے اپنے عسکری نظام کے کچھ حصے سویلین انفراسٹرکچر کے نیچے رکھ کر غزہ کی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

  10. الشفا ہسپتال سے ’مصر کی جانب جانے والے‘ ایمبولینسوں کے قافلے پر اسرائیل کا حملہ

    اسرائیل کا ایمبولینس کے قافلے پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ جمعہ کو غزہ شہر میں الشفا ہسپتال کے داخلی دروازے پر ایمبولینس کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے اور اس حملے میں 60 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے الشفا ہسپتال سے رفح کراسنگ جانے والی ’ایمبولینس کے قافلے‘ کو نشانہ بنایا۔

    اسرائیل نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ ایک ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملہ کس علاقے میں کیا گیا ہے

    اس سے قبل اس حملے میں 13 افراد کے ہلاک اور 26 کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔

    وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے دعویٰ کیا کہ ’اسرائیل نے جان بوجھ کر الشفا میڈیکل کمپلیکس کے سامنے ایمبولینسوں پر بمباری کی تاکہ زخمیوں کو علاج کے لیے مصر لے جانے سے روکا جا سکے۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ نشانہ بننے والی ایمبولینس متعدد زخمیوں کو مصر میں علاج کے لیے لے کر جا رہی تھی۔

  11. جنگ بندی کا انحصار اسرائیل کا محفوظ محسوس کرنے پر ہے: امریکی اہلکار

    وائٹ ہاؤس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ جنگ بندی تب ہی ہو سکتی ہے جب اسرائیل محفوظ اور پراعتماد ہو گا کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔

    اہلکار نے بتایا کہ 200 یرغمالیوں کو رہا کرنے کی پرزور کوششیں ہو رہی ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ان کی رہائی کے لیے کوئی ڈیل ہو سکے گی اور انھیں نکالنے کے لیے کسی بھی کوشش کے لیے لڑائی میں وقفہ درکار ہوگا۔

    اہلکار نے بتایا ’ہم بہت پرامید ہیں اور یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے ہر چیز کر رہے ہیں۔ لیکن کوئی گارنٹی نہیں کہ ایسا ہو گا یا یہ کب ہو گا۔‘

    غزہ میں پھنسے امریکی شہریوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ انھیں لانے میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ حماس کی کوشش ہے کہ وہ علاقے سے اپنے جنگجوؤں کو بھی نکالے۔

    اہلکار نے بتایا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ اس کے جنگی فیصلوں اور کیا ان کے اہداف حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں اس متعلق براہ راست بات چیت کر رہے ہیں۔

  12. اسرائیل نے انٹونی بلنکن کی جانب سے غزہ میں ’انسانی بنیادوں پر جنگ بندی‘ کی استدعا مسترد کر دی

    اسرائیل نے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے غزہ میں ’انسانی بنیادوں پر جنگ بندی‘ کی استدعا کو مسترد کر دیا ہے۔

    بلنکن کی جانب سے میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم اور دیگر حکام سے اس بارے میں بات کی ہے۔ تاہم ان کے اس بیان کے کچھ دیر بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ٹی وی پر دیے گئے بیان میں کہا کہ اسرائیل ایسی ’عارضی جنگ بندی نہیں چاہتا جس میں یرغمالیوں کو آزاد کرنے کی بات نہ ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ ’پوری قوت کے ساتھ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  13. اسرائیل اور حماس کے تنازع سے جنم لینے والے پانچ ’تشویش ناک‘ حقائق

  14. حزب اللہ کا عرب ممالک سے غزہ میں جنگ بندی اور امداد کے داخلے کے علاوہ اسرائیل کے سیاسی اور اقتصادی بائیکاٹ کا مطالبہ

    Hezbollah chief

    ،تصویر کا ذریعہYoutube

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے عرب ممالک اس صورتحال کے دوران غزہ میں جنگ بندی، اسرائیل کا سیاسی اور اقتصادی بائیکاٹ اور غزہ میں امداد کا داخلہ یقین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ چاہتے ہیں کہ جنگ نہ پھیلے تو غزہ میں جنگ روکنا ہی واحد راستہ ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملہ کرتا ہے تو یہ ایک حماقت ہو گی۔

  15. امریکہ کی اسرائیل کی مالی اور فوجی مدد میں تیزی اسرائیل کی کمزوری کی علامت ہے: حسن نصراللہ

    غزہ جنگ کے بارے میں اپنی پہلی تقریر میں حسن نصر اللہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران مزاحمتی قوت کی حمایت کرتا ہے لیکن ان کے بقول مزاحمتی رہنماؤں کی رہنمائی نہیں کرتا۔

    انھوں نے کہا کہ ’طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اسرائیل میں سکیورٹی، فوجی، سیاسی، نفسیاتی اور روحانی بھونچال برپا کر دیا۔

    حسن نصراللہ نے کہا کہ فلسطینی اور یمنی کارروائیوں کا ایران سے کوئی تعلق نہیں اور وہ آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔

    حزب اللہ کے رہنما نے ’طوفان الاقصی‘ کو فلسطینیوں پر مسلط کیے گئے ’دباؤ کے عوامل‘ کا نتیجہ قرار دیا۔

    انھوں نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی گرفتاری اور انھیں قید میں رکھنے، یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی غیر یقینی حیثیت، غزہ کا محاصرہ اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعداد میں اضافے کو اس آپریشن کی وجہ بتایا۔

    حسن نصر اللہ نے اسرائیل کے خلاف جنگ کو ’جائز‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی مالی اور فوجی مدد میں تیزی اسرائیل کی کمزوری کی علامت ہے۔

  16. جنوبی اسرائیل میں آپریشن الاقصیٰ مکمل طور پر حماس اور فلسطینیوں نے کیا: حسن نصراللہ

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اسرائیل پر حماس کے حملے اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بحران کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل کے جنوب میں حماس کی کارروائی مکمل طور پر حماس نے کی۔

    انھوں نے کہا کہ اس آپریشن کو خفیہ رکھنا ہی اس کی کامیابی کی وجہ بنی۔

  17. حسن نصر اللہ کی تقریر کیوں اہم ہے؟

    hizbollah

    ،تصویر کا ذریعہYoutube

    لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر کا آغاز کر دیا ہے۔ جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے اور غزہ پر اسرائیل کے جوابی حملوں کے بعد یہ ان کی پہلی تقریر ہے۔

    وہ جس جگہ سے بول رہے ہیں وہ خفیہ ہے لیکن ان کی تقریر دیکھنے کے لیے اس گروپ کے حامیوں سمیت ہزاروں لوگ بیروت میں جمع ہیں۔

    حزب اللہ برطانوی اور امریکی حکومتوں کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ تنظیم لبنان کی عبوری حکومت میں شریک ہے اور اس ملک کی پارلیمان اور سیاسی ماحول میں سرگرم جماعتوں میں سے ایک ہے۔

  18. بریکنگ, لبنان کے ساتھ سرحد پر اسرائیلی فوج ’انتہائی ہائی الرٹ‘

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج ملک کی شمالی سرحد کے ساتھ ’ہائی الرٹ‘ پر ہے۔

    خیال رہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج اور دیگر دھڑوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں لبنان کی سرحد پر پُرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    اب حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ ہفتوں کی خاموشی کو توڑتے ہوئے تقریر کر رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’گذشتہ روز ہم نے بڑا حملہ کیا اور حزب اللہ کی طرف سے شدید گولہ باری کے جواب میں حزب اللہ کے متعدد دہشت گرد سیلز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عام شہری زخمی ہوئے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم اسرائیلی شہریوں پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیتے رہیں گے۔ ہم شمالی سرحد پر چوکس ہیں اور آج اور آنے والے دنوں میں کسی بھی واقعے کا جواب دینے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔‘

  19. امریکہ پرامید ہے کہ وزیر خارجہ کے اسرائیل کے دورے سے غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کا مسئلہ حل ہو جائے گا, انتھونی زرچر

    امریکہ کے وزیر خارجہ تل ابیب پہنچ چکے ہیں اور اب وہ اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دوسرے دوروں کے برعکس یہ ایک بہت سفارتی نوعیت کا دورہ ہے، جسے جلدی میں پلان کیا گیا ہے۔

    امریکی وزیرخارجہ کی پہلی ملاقات اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو سے ہو گی۔ آخری دورے میں انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے سات گھنٹے تک ملاقات کی تھی۔

    آج یہ ملاقات بہت محدود وقت کے لیے ہی ممکن ہو سکے گی۔ امریکی وزیر خارجہ ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد اسرائیل کی جنگی فیصلے کرنے والی کابینہ کا دورہ کریں گے اور سابق صدر آئزک ہیرزوگ سے ملاقات کریں گے۔

    اس کے بعد وہ میڈیا سے گفتگو کریں گے اور اس میں ممکنہ طور پر وہ اپنے دورے کی کامیابیوں سے متعلق بتائیں گے۔

    امریکیوں کو یہ امید ہے کہ وزیرخارجہ کے دورے کے نتیجے میں غزہ کو انسانی امداد بھیجنے کا رستہ کھل جائے گا۔

    امریکہ کے عرب اتحادی اب اسرائیل کے حملوں کی کھلم کھلا مذمت کر رہے ہیں۔

    اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ اردن جائیں گے جہاں وہ اپنے عرب اتحادیوں کے تحفظات براہ راست سنیں گے۔

    اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ کس جانب کا رخ کریں گے یہ چند گھنٹوں میں واضح ہو جائے گا۔ اس سے امریکی سوچ کا بھی پتا چل سکے گا کہ وہ اس معاملے میں کس اتحادی کو اس حوالے سے اہم سمجھتا ہے۔

    امریکہ کے اس دورے کے مقاصد بڑے واضح ہیں۔۔۔ امریکہ اسرائیل کی مدد جاری رکھنا اور غزہ میں انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانا ہے۔

    اور اس اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو پورے خطے میں پھیلنے سے روکنا بھی امریکی اہداف میں شامل ہے۔

  20. بریکنگ, امریکی وزیر خارجہ اسرائیل پہنچ گئے، اسرائیل سے عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کا مطالبہ

    امریکی وزیر خارجہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ اپنے دورہ اسرائیل کے دوران وہ غزہ کی صورتحال پر اسرائیلی حکام سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے۔

    حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اور اسرائیلی فضائی بمباری کے دوران یہ امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔

    ان کے دورے کا مقصد غزہ میں عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات کو کم سے کم کرنا یقینی بنانا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن پہلے ہی اسرائیل پر زور دے چکے ہیں کہ وہ جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفہ لے۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ اپنا دورہ مکمل ہونے سے قبل وہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ اسرائیل عام فلسطینیوں کو نقصان پہنچانا کم سے کم کر دے۔

    انٹونی بلنکن اردن میں بھی حکام سے ملاقات کریں گے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے اور اس وقت اس کے فوجی حماس سے براہ راست لڑ رہے ہیں۔