’اسرائیل مصر کے راستے امداد کی غزہ آمد میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا‘: ہسپتال میں دھماکے کا ذمہ دار اسرائیل نہیں،‘ امریکہ

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات میں کہا ہے کہ جو کچھ انھوں نے دیکھا ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ غزہ کے الاہلی ہسپتال پر حملہ اسرائیل کا نہیں بلکہ دوسرے فریق کا کام ہے تاہم ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھیں اس بات کا یقین نہیں۔

لائیو کوریج

  1. حزب اللہ کیا ہے اور وہ عسکری لحاظ سے کتنی طاقتور ہے؟

  2. اسرائیلی وزیر دفاع کا سرحد پر موجود دستوں کو ’تیار رہنے‘ کا حکم، امریکہ کی دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو سفری تنبیہ جاری

  3. فلسطینی حامی مظاہروں پر مکمل پابندی کی درخواست مسترد، پابندی کا فیصلہ ’کیس ٹو کیس‘ ہو گا: فرانسیسی عدالت

    فلسطینی حامی مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کی ایک اعلیٰ عدالت نے فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں پر مکمل پابندی کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ علاقائی حالات کے پیش نظر ’کیس ٹو کیس‘ دیکھا جائے کہ آیا انھیں روکا جانا چاہیے کہ نہیں۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے اظہار رائے کی آزادی کو خطرہ نہیں ہے لیکن یہ صرف حکومتی حکم پر مبنی نہیں ہو سکتا بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا کوئی مظاہرے فلسطینی آبادی کی حمایت ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔

    وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینین نے یہ پابندی ’امن عامہ میں خلل ‘ اور اسرائیل کے ساتھ فرانس میں داخل ہونے والی حماس کی جنگ سے تناؤ کو روکنے کے لیے لگائی تھی۔

    پابندی کے باوجود فرانس میں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  4. امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ’ویٹو‘ کر دیا

    امریکہ کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کوویٹو (مسترد) کر دیا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کے اس مسودہ کو ’ویٹو‘ (مسترد) کر دیا ہے جس میں غزہ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    برازیل کی طرف سے پیش کردہ متن میں ’حماس کے گھناؤنے دہشت گرد حملوں‘ کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کیا جائے اور تمام فریقین بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کریں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن کے آج اسرائیل کے دورے کے بعد بات کرتے ہوئے امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ امریکیوں کا خیال ہے کہ اس مقصد کے لیے ’سفارت کاری کو بروئے کار لانا ہوگا‘۔

    یاد رہے کہ امریکہ اسرائیل فلسطین تنازع میں درجنوں بار اپنے ’ویٹو‘ کا استعمال کر چکا ہے۔ امریکی سفیر نے یہ بھی کہا کہ ملک کو مایوسی ہوئی ہے کہ قرارداد میں اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

  5. کیا حزب اللہ لبنان کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ایک نیا محاذ کھول سکتی ہے؟, تجزیہ: نامہ نگار سکیورٹی فرینک گارڈنر

    غزہ اسرائیل جنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ، اسرائیل اور دیگر بہت سے مغربی ممالک کے سامنے اس وقت سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ موجودہ بحران ایک ایسی علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے جو اسرائیل کی سرحدوں سے باہر نکل کر خطے کے دیگر علاقوں تک نہ پھیل جائے۔

    ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر غزہ میں فلسطینیوں کو مارنے کا سلسلہ نہ رُکا تو وہ چپ نہیں بیٹھے گا۔ اب عرب میڈیا میں یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہ عراق اور شام کے راستے سے ہوتے ہوئے جنوبی لبنان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

    ان جنگجوؤں میں سے کچھ نے باغیوں کے خلاف شامی فوج کی حمایت میں حالیہ جنگی تجربہ بھی کیا ہے۔ خطے میں موجود ایران کی حمایت یافتہ مختلف گروہوں میں سب سے زیادہ طاقتور لبنان میں موجود حزب اللہ ہے۔

    حزب اللہ نے سنہ 2006 میں اسرائیل کے ساتھ ایک جنگ لڑی تھی۔ اس کے بعد سے اس نے راکٹوں اور میزائلوں کی اپنی سپلائی بحال کی ہے اور اس کے پاس موجود راکٹوں اور میزائلوں کی تعداد اب تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

    ان میں کچھ میزائل اتنا طویل مار کرنے والے اور ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے والے ہیں کہ وہ بیت المقدس اور تل ابیب میں چھوٹی آبادیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں بشرطیکہ یہ میزائل اسرائیل کے ایئر ڈیفنس سسٹم (آئرن ڈوم) کو چکما دینے میں کامیاب ہو پائیں تو۔

    حزب اللہ اور ایران کو اسرائیل کے خلاف حماس کی جنگ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے امریکہ نے دو طیارہ بردارجنگی بحری بیڑوں کو مشرقی بحیرہ روم میں ساحل پر تعینات کر دیا ہے۔

    غزہ میں منگل کے روز ہونے والے ہسپتال کے شدید دھماکے سے پہلے ہی خطے میں کشیدگی عروج پر تھی۔

    اس تناظر میں اگر اسرائیلی افواج غزہ میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتی ہیں تو خدشہ ہے کہ یہ حزب اللہ کے لیے لبنان سے ایک نیا محاذ کھولنے کا محرک بن سکتا ہے اور پھر جنگ کے ان شعلوں کو بجھانا آسان نہیں ہو گا۔

  6. صدر بائیڈن کی اسرائیل کو ’جنگی قوانین‘ کو مدنظر رکھنے کی ہدایت, ٹام بیٹ مین، بی بی سی نیوز، یروشلم

    امریکی صدر اسرائیلی صدر کے ساتھ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریر عام اسرائیلیوں کی طرف سے محسوس کیے جانے والے غم اور صدمے سے ذاتی طور پر جڑنے کے لیے تھی۔ جس میں اظہار یکجہتی تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس تقریر میں کچھ حقیقت پر مبنی اعلانات بھی تھے۔

    صدر بائیڈن نے اسرائیلی صدرنیتن یاہو سے مصر سے غزہ تک امداد کی اجازت دینے کی ہدایت کی۔

    ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے کچھ محدود قسم کی سپلائی حاصل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ایک طرح کی پیش رفت محسوس ہوتی دکھائئ دے رہی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس بار واقعی رفح کراسنگ کھلتی ہے کہ نہیں۔

    دونوں صدور کی ملاقاتیں طے شدہ وقت سے کہیں زیادہ دیر تک جاری رہیں۔

    ہم دوپہر کا بیشتر حصہ تل ابیب کے ہوٹل کے تہہ خانے میں انتظار کر رہے تھے جہاں ان رہنماؤں نے بات چیت کی تھی۔

    اسی دوران اسرائیل کا ہنگامی جنگی کابینہ کا اجلاس بھی ہوا۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کے معاملے سے نمٹنے کے لیے کوئی مخصوص ترجیح نہیں تاہم تمام تفصیلات عوامی طور پر بات نہیں بتائی جا سکتیں۔

    ان رہنماوں کی ملاقات کے حوالے سے نامہ نگاروں کو امریکی حکام سے بات چیت کے نکات کے کچھ اشارے ملے۔

    ملاقات میں صدر بائیڈن نے اسرائیلی صدر کو خبردار کیا کہ ’غصے میں نہ آئیں بلکہ جنگ کے قوانین پر سختی سےعمل کریں۔‘

    صدر بائیڈن نے کہا کہ جمہوریت دہشت گرد گروہوں سے مختلف ہوتی ہیں۔

    ’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کون ہیں۔ ہم وہ انسان ہیں جو مقصد وقار اور انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔‘

    اس سے قبل امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ صدر بائیڈن اسرائیلی رہنما سے کچھ ’سخت سوالات‘ کریں گے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ فوجی کارروائی کے ٹھوس اہداف اور مقاصد کی چھان بین کر رہے ہیں۔

  7. اقوام متحدہ نے غزہ میں ’صحت کی تباہی‘ کے خطرے سے خبردار کر دیا

    اقوام متحدہ نے غزہ میں آنے والے ’صحت کی تباہی‘ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

    فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی (UNRWA) کی ترجمان جولیٹ توما نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے اہسپتال میں ہونے والا دھماکہ انتہائی خوفناک تھا۔

    ترجمان کے مطابق ’شہریوں کو محفوظ ہونے کا احساس ہونا چاہیے لیکن غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں۔‘

    جولیٹ توما نے کہا ہے کہ جانوں کے غیر ضروری نقصان کو روکنا اور جنگ بندی سب سے اہم ہے۔ ش

    ان کے مطابق ’غزہ کی پٹی پر محاصرہ ابھی بھی جاری ہے ہم جلد ہی غزہ میں صحت کی تباہی کا شکار ہونے والے ہیں، اگر ہم غزہ میں متاثرین کو امداد سے محروم رکھیں گے جن کو اس وقت اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

  8. کیا ’حماس‘ اور ’حزب اللہ‘ اسرائیل کا عسکری لحاظ سے مقابلہ کر سکتے ہیں؟

  9. فلسطین کی حمایت میں مختلف ممالک میں مظاہرے

    غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بعد فلسطین کی حمایت میں مختلف ممالک میں مظاہرے کیے گئے۔

    یہ مظاہرے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے سمیت اردن، ایران، تیونس، لبنان اور ترکی میں فلسطین کی حمایت میں کیے گئے۔

    حماس نے ہسپتال پر حملے کا الزام اسرائیلی فضائیہ پر پرعائد کیا ہے لیکن اسرائیل نے ایسے شواہد پیش کیے ہیں جن کے مطابق یہ دھماکہ غزہ میں ایک فلسطینی عسکریت پسند گروپ کی طرف سے داغے گئے میزائل کی وجہ سے ہوا تھا۔

    ان مظاہروں کی چند تصاویر یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔

    فلسطین کے حق میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے کی سڑکوں پر فلسطین کی حمایت میں ہجوم جمع ہے۔
    فلسطین کے حق میں مظاہرے
    ،تصویر کا کیپشنبیروت میں امریکی سفارت خانے کے باہر بھی مظاہرین جمع ہوئےجہاں لبنانی سکیورٹی فورسز نے ان پرآنسو گیس کی شیلنگ کی
    مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعمان اور اردن میں مظاہرین اسرائیلی سفارتخانے کے قریب جا پہنچے جہاں ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں
  10. فلسطینی عوام بھی تکلیف میں ہیں، غزہ کے لوگوں کو خوراک، پانی، دوائی اور رہائش کی ضرورت ہے: امریکی صدر بائیڈن

    امریکی صدر نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام بھی بہت زیادہ مصائب کا شکار اور تکالیف میں ہیں۔‘

    ان کا اشارہ ان فلسطینیوں کی جانب تھا جو گزشتہ روز حملے کے دوران مارے گئے۔

    ’گزشتہ رات غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں بے شمار جانی نقصان پر غصے اور افسوس میں تھا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت شواہد غزہ میں ایک ’دہشت گرد‘ گروپ کی طرف سے فائر کیے گئے ایک غلط راکٹ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک، پانی ، دوائی اور رہائش کی ضرورت ہے۔ ’میں نے اسرائیلی کابینہ سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں شہریوں کو جان بچانے والی انسانی امداد کی فراہمی پر اتفاق کرے اور یہ کہ امداد عام شہریوں کو جائے نہ کہ حماس کو۔‘

    صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ ’اسرائیل نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انسانی امداد مصر سے غزہ منتقل کرنا شروع ہو سکتی ہے۔‘

    ’تاہم اگر حماس امداد کو منتقل یا چوری کرتی ہے، تو اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ انھیں فلسطینی عوام کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں ہے۔‘

    صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ وہ خطے میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں،تاکہ جلد سے جلد ٹرکوں کو سرحد کے اس پار منتقل کیا جا سکے۔" ‘

    انھوں نے غزہ اور مغربی کنارے دونوں کے لیے انسانی امداد کی مد میں 100 ملین امریکی ڈالر کی نئی امریکی فنڈنگ کا بھی اعلان کیا۔

  11. بریکنگ, مصر سے غزہ کے لیے بھیجی جانے والی ’انسانی امداد‘ کی رسائی نہیں روکی جائے گی: اسرائیل

    اسرائیل کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مصر سے انسانی امداد کی فراہمی کا راستہ نہیں روکے گا۔

    بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ’راستہ اس وقت تک نہیں روکا جائے گا جب تک کہ جنوبی غزہ کی پٹی کی شہری آبادی کے لیے صرف خوراک، پانی اور ادویات کی فراہمی کی جائے گی۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جب تک ہمارے یرغمالیوں کو واپس نہیں کیا جاتا، جب تک اپنی سرزمین سے غزہ کی پٹی تک کسی بھی انسانی امداد کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

  12. ’حماس کا حملہ ’نائن الیون‘ جیسا ہے اور اس صدمے کو ہم سمجھ سکتے ہیں‘

    امریکی صدر جو بائیڈن نےتل ایبب کے دورے کے دوران پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ’حماس کا حملہ اسرائیل کے لیے نائین الیون تھا۔‘

    صدر بائیڈن نے کہا کہ ’اس حملے سے اسرائیلیوں کو جتنا صدمہ، درد، غصے کا احساس ہوا ہو گا اسے میں اور میرے جیسے بہت سے امریکی سمجھ سکتے ہیں۔ ‘

    صدر بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انصاف ہونا چاہیے، تاہم ساتھ ہی اسرائیلیوں کو خبردار کیا کہ وہ غصے کو حاوی نہ آنے دیں۔

  13. ویڈیوز، تصاویر اور دیگر شواہد غزہ میں ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں کیا ظاہر کرتے ہیں؟

  14. اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لانے سے بڑھ کر کوئی دوسری ترجیح نہیں:امریکی صدر بائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر جو بائیڈن بائیڈن نے تل ابیب میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ حماس نے جن اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایاا ہے ان کی رہائی اور محفوظ واپسی سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں ہے۔

    امریکی صدرنے کہا کہ دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے اسرائیل محفوظ جگہ تھی ۔اگر یہ ملک آج موجود نہ ہوتا تو ہمیں اسے بنانا پڑتا۔

    ’امریکی کانگریس کے سامنے اسرائیل کے لیے بڑے دفاعی پیکج کا مطالبہ رکھیں گے‘

    صدر بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل کو یہودیوں کے لیے ’ایک بار پھر‘ محفوظ جگہ بننا چاہیے اور امریکہ ایسا کرنے کے لیے جو کچھ بن سکا وہ کرے گا۔

    صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ اس ہفتے کے آخر میں وہ امریکی کانگریس کے سامنے اسرائیل کے لیے بڑے دفاعی پیکج کا مطالبہ کریں گے۔

  15. ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ ہسپتال میں ہونے والے دھماکےمیں اسرائیل ملوث نہیں: امریکی صدر

    امریکی صدرجو بائیڈن سے تل ابیب کے دورے کے دوران صحافیوں نے سوال کیا کہ ’کیا چیز آپ کو یقین دلاتی ہے کہ غزہ میں دھماکے کے پیچھے اسرائیل ملوث نہیں۔‘

    صدر بائیڈن نے جواب دیا کہ ’وہ ڈیٹا جو مجھے میرے محکمہ دفاع نے مجھے پیش کیا ہے ۔‘

  16. ’ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش نہیں رہیں گے، نہ آج، نہ کل اور نہ آئندہ کبھی‘

    صدر بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر جو بائیڈن نے تل ابیب میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملوں نے داعش کی بدترین تباہی کی یاد تازہ کر دی ہے۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ تشدد کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور دنیا میں کہیں بھی ہونے والی ظلم و بربریت کا خاتمہ ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہودی کمیونٹی کے لیے ہولوکاسٹ کے بعد سات اکتوبر مہلک ترین دن بن گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش نہیں کھڑے رہیں گے نہ آج، نہ کل اور نہ آئندہ کبھی۔‘

    امریکی صدر بائیڈن تل ابیب میں خطاب میں حماس کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،

    ’وہ لوگ جو اپنے پیاروں کی قسمت جاننے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں آپ جان لیں کہ آپ اکیلے نہیں۔‘

    ’ہم حماس کے زیر حراست افراد کو واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘

  17. صدر بائیڈن کی حماس کے حملوں سے متاثرہ اسرائیلی شہریوں کے لواحقین سے ملاقات

    صدر بائیڈن کی ملاقاتیں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر جو بائیڈن نے سات اکتوبر کو حماس کے حملوں سے متاثر ہونے والے اسرائیلی شہریوں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان سے اظہار ہمدردی کیا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے تل ابیب کے دورہ میں ہنگامی خدمات کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔

    جو بائیڈن کی ملاقاتیں

    ،تصویر کا ذریعہUS Pool

    صدر بائیڈن نے حماس حملے کے متاثرین کے لواحقین سے ملاقات میں ان سے حملے سے متعلق تجربات بھی سنے اور انھیں گلے لگا کر تسلی بھی دی۔

    جو بائیڈن کی ملاقاتیں

    ،تصویر کا ذریعہUS Pool

    صدر بائیڈن کی ملاقاتیں

    ،تصویر کا ذریعہUS Pool

    حماس کے اسرائیل پر کئے جانے والے حملوں میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، 4200 زخمی اور 199 افراد کو غزہ میں یرغمال بنا لیا گیا ہے جن میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔

  18. ’ہم نے انھیں زندہ دیکھا لیکن ہم ان کو بچا نہیں سکے‘:غزہ ہسپتال میں دھماکے میں بچ جانے والوں کا آنکھوں دیکھا حال

    غزہ کے ہسپتال میں دھماکے میں زندہ بچ جانے والے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منگل کو غزہ کے ہسپتال میں ہونے والے دھماکے میں زندہ بچ جانے والے بعض افراد نے دھماکے کے بعد کے لمحات سے آگاہ کیا۔

    ہسپتال کے آرتھوپیڈک سرجری کے سربراہ فدیل نعیم نےخبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہانھوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی اور پھر ہسپتال کو بکھری لاشوں اور زخمیوں سے بھرا ہوا پایا۔

    فدیل نعیم نے بتایا ’لوگ چیختے ہوئے سرجری کے شعبے میں بھاگے آئے اور کہا کہ ہماری مدد کریں، ہماری مدد کریں۔ ہسپتال میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور زخمی بکھرے ہوئے تھے۔

    ان کے مطابق ’جس جس کو بھی بچایا جا سکتا تھا اسے بچانے کی کوشش کی گئی لیکن ہسپتال کی ٹیم کے لیے یہ تعداد بہت زیادہ تھی ۔ ’ہم نے انھیں زندہ دیکھا لیکن ہم ان کو بچا نہیں سکے۔‘

    دھماکے کے وقت ہسپتال میں موجود فاطمہ سعید نے بتایا کہ انھوں نے ہر طرف آگ ہی آگ دیکھی۔

    غزہ کے رہائشی عدنان النقا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’پورا چوک آگ سے جل رہا تھا، ہر طرف لاشیں تھیں، بچے، عورتیں اور بوڑھے افراد کی لاشیں۔‘

  19. پاکستان کے فلاحی اداروں کی فلسطین میں جنگ سے متاثرہ افراد کی ترکی کی تنظیموں کے اشتراک سے مدد کی کوششیں, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے فلاحی ادارے فلسطین میں جنگ سے متاثرہ افراد کی ترکی کی تنظیموں کے اشتراک سے مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک مصر نے ویزہ جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح کراسنگ اس وقت واحد گذرگاہ ہے جہاں سے امدادی سامان غزہ تک جا سکتا ہے۔ رفح کراسنگ غزہ کی پٹی کو مصر کے صحرائے سینا سے ملاتی ہے۔

    جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن کے چیف آپریٹنگ افسر نوید علی بیگ کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی سے قبل ہی ان کے 10 کے قریب رضاکار غزہ میں موجود تھے جو اقوام متحدہ کے زیر انتظام ترکی کی فلاحی تنظیم کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

    ’ہم لوگوں سے اشیا جمع نہیں کر رہے ہیں بلکہ رقومات کی اپیل کر رہے ہیں کیونکہ سامان کی ترسیل میں لاگت زیادہ آئے گی۔ ہم جو عطیات جمع کر رہے ہیں ان سے وہاں موجود ترکی کی تنظیموں کے اشتراک سے مقامی طور پرسامان کی خریداری کرکے تقسیم ہوگی۔

    نوید بیگ کے مطابق اس وقت وہاں ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کی ضرورت ہے، رفح کراسنگ بند ہے وہاں سامان رکا ہوا ہے جبکہ مصر کی جانب سے ویزے جاری نہیں کیے جارہے ہیں۔

    ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ وہ مصر تک رسائی کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ جیسے ہی رفح کراسنگ کو امدادی سامان کے لیے کھولا جائے تو وہ بھی مدد کے لیے جائیں۔

    ان کے مطابق وہ امدادی سامان کی خریداری وہاں سے ہی کریں گے پاکستان سے سامان لے کر جانا ممکن نہیں۔ سیلانی ویلفیئر کے ترجمان نے کہا کہ انھوں نے عطیات کے لیے اپیل نہیں کی ہے وہ بطور ادارہ کام کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہاں تک رسائی نہیں ہے۔ اب وہ ترکی کی ایک مقامی تنظیم سے رابطے میں ہیں جس کے اشتراک سے متاثرین کی مدد کی جائے گی۔