یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری لڑائی سے متعلق 20 اکتوبر کی اپ ڈیٹس کے لیے یہاں کلا کریں
اسرائیلی وزیر دفاع کا سرحد پر موجود دستوں کو ’تیار رہنے‘ کا حکم، امریکہ کی دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو سفری تنبیہ جاری
اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ میں کیے گئے تازہ حملوں میں حماس کے سینکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب مصر نے غزہ میں امداد کے 20 ٹرکوں کو داخل کرنے کے لیے رفح کراسنگ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ امداد حکام امریکہ کی نگرانی میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ تعاون سے فراہم کریں گے۔
لائیو کوریج
حماس نے دو امریکی یرغمالی رہا کر دیے: اسرائیلی حکام کی تصدیق
بریکنگ, غزہ میں شہریوں کے لیے امداد پہنچائی جائے: امریکی محکمہ خارجہ
محکمہ خارجہ کے ترجمان، میتھیو ملر کے مطابق امریکہ ’مسلسل انسانی امداد‘ کو غزہ میں جاتا دیکھنا چاہتا ہے اور اس معاملے کو ’غور سے دیکھ رہا ہے‘ کہ امداد حماس کو فائدہ نہ پہنچائے۔
جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے کل کہا تھا کہ اسرائیل اور مصر نے امداد کے 20 ٹرکوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کب ہوگا۔
ملر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے انسانی ہمدردی کے امور کے لیے نو مقرر کردہ امریکی ایلچی ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے آج اسرائیلی اور مصری حکام سے ملاقات کی تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ’صحیح طریقہ کار پر بات چیت‘ کی جا سکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی تفصیلات ’آنے والے دنوں میں‘ جاری کی جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ’معصوم شہریوں کو امداد دینا‘ ہے۔ لیکن انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو اس بات پر تشویش ہے کہ حماس امداد کو اپنے استعمال میں لے آئے گی اور امریکہ کو بھی یہ خدشات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم بغور اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسے پہنچائی جاتی ہے۔‘
بریکنگ, سعودی عرب خطے میں استحکام کے لیے اپنا کردار اد کرے، برطانوی وزیر اعظم

،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیل اور غزہ میں معصوم جانوں کا نقصان ہولناک ہے۔‘
برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، رشی سونک نے سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ میں ’استحکام‘ کےکے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کا کہا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم سونک اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ’مزید کشیدگی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا‘ اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وزیراعظم اور ولی عہد نے غزہ میں پانی، خوراک اور ادویات کی فراہمی کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی کی اہم ضرورت پر اتفاق کیا۔‘
اسرائیلی وزیر دفاع کا فوجیوں سے خطاب: ’کوئی معافی نہیں۔۔۔ صرف حماس کا مکمل خاتمہ‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیر دفاع کے غزہ کی سرحد پر موجود فوجی دستوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس چیز (حماس کا اسرائیل پر حملہ) کے لیے کوئی معافی نہیں ہے۔ حماس تنظیم کا مکمل خاتمہ، دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے، ہر وہ چیز جس کا دہشت گردوں سے تعلق ہے اور جس نے بھی انھیں بھیجا (سب کا مکمل خاتمہ)۔‘
’اس میں ایک ہفتہ لگتا ہے، ایک مہینہ، یا دو مہینے۔۔۔ جب تک ہم انھیں ختم نہیں کر دیتے۔ آپ اس جنگ میں اکیلے نہیں ہیں۔‘
ان کا فوجی دستوں کو مزید کہنا تھا کہ ’ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وقت آنے تک اپنی ٹریننگ جاری رکھیں۔‘
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے غزہ کی سرحد پر موجود فوجیوں کو تیار رہنے کی ہدایت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے جمعرات کے روز غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے فورسز پر زور دیا کہ وہ ’منظم رہیں اور تیار رہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جنھوں نے غزہ کو اب تک دور سے دیکھا ہے وہ اب اسے اندر سے بھی دیکھ لیں گے، یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔‘
یاد رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی دوسری جانب ٹینک، توپ خانہ اور ہزاروں مسلح فوجی اکھٹے کر رکھے ہیں جبکہ غزہ میں بڑی زمینی کارروائی کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔
’امداد کے صرف 20 ٹرک تو سمندر میں ایک قطرے کی مانند ہیں‘: عالمی ادارہِ صحت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے کہ جس کے تحت مصر سے 20 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوسکیں گے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہمارے ٹرک امدادی سامان سے لدے ہوئے ہیں اور غزہ میں جانے کے لیے تیار ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ یہ سامان ’کل‘ (جمعے) کو غزہ پہنچا دیا جائے گا۔‘
ڈبلیو ایچ او ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ ’غزہ میں روزانہ امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں کو جانے کی اجازت ہونی چاہیے، کیونکہ امدادی سامان سے لدے صرف 20 ٹرک تو ’سمندر میں ایک قطرہ پانی‘ مانند ہے۔
بریکنگ, امریکہ کی اپنے شہریوں کے لیے دنیا بھر میں سفر کے حوالے سے تنبیہ جاری
امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے جمعرات کو بیرونی ممالک میں مقیم اپنے تمام شہریوں کے لیے ’عالمی سطح پر سکیورٹی الرٹ‘ جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دنیا بھر میں مختلف مقامات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکی شہریوں اور مفادات کے خلاف دہشت گرد حملوں کے خطرے، مظاہروں یا پُرتشدد کارروائیوں کے امکانات کی وجہ سے محکمہ خارجہ نے بیرون ملک مقیم امریکی شہریوں کو زیادہ احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔‘
غزہ میں حماس کی سکیورٹی فورسز کے سربراہ کی اہلخانہ سمیت ہلاک ہونے کی اطلاعات
حماس سے منسلک ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کی سکیورٹی فورسز کے سربراہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
حماس کی سکیورٹی فورسز کے سربراہ جہاد میحسن کے ساتھ غزہ میں اُن کے اہلخانہ کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان سے قبل جمعرات کی ہی صبح حماس کی سیاسی قیادت کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون جمیلہ الشنطی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئیں تھی۔
حماس کے شریک بانی عبدالعزیز الرنتیسی کی بیوہ جمیلہ الشنطی نے حماس میں خواتین کی تحریک کی بنیاد رکھی تھی اور سنہ 2021 میں وہ حماس کے پولیٹیکل بیورو کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون بن گئیں۔
رواں ہفتے کے اوائل میں اسرائیلی دفاعی افواج نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایمن نوفل، جنھیں حماس کا ایک سینیئر عہدیدار کہا جاتا ہے، کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے۔
لبنان کی جانب سے اسرائیل پر مزید راکٹ داغے جانے کی اطلاعات

،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل اور جنوبی لبنان کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے شمالی اسرائیل کے مغربی علاقے گلیل پر 20 راکٹ داغے گئے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج نے گولہ باری سے بھرپور جواب دیا ہے۔
لبنان میں حماس کے عسکریت پسندوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے 30 میزائل داغے ہیں۔
یہ اسرائیل اور لبنان میں عسکریت پسندوں کے درمیان سرحد پار فائرنگ کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ اس سے قبل لبنان کی جانب سے سرحد پار دو گائیڈڈ میزائل داغے گئے تھے۔
مغربی کنارے میں طیاروں کا ’دہشت گرد سکواڈ‘ پر حملہ، اسرائیلی فوج
اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں نور شمس پناہ گزین کیمپ میں ایک آپریشن جاری ہے۔
آئی ڈی ایف کے مطابق بدھ کی رات ایک طیارے نے ’نور شمس کیمپ میں ایک مسلح سکواڈ کو نشانہ بنایا‘ جس میں ’متعدد عسکریت پسندوں‘ کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے اب تک 10 ’مطلوب مشتبہ افراد‘ کو گرفتار کیا ہے اور ’متعدد دھماکہ خیز آلات کو ناکارہ بنا دیا ہے جو استعمال کے لیے تیار تھے۔‘
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر دھماکہ خیز مواد پھینکا گیا۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں چھ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل غزہ کشیدگی، اب تک کی تازہ صورت حال
اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی: آج کے اہم واقعات
- امداد: خوراک، پانی اور ادویات سے بھرے ٹرک مصر اور غزہ کی داخلی گزرگاہ پر قطاروں میں کھڑے ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سرحد کب کھولی جائے گی۔ امدادی سامان کی غزہ تک رسائی کے معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے امریکہ کا کہنا ہے کہ 20 ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ 20 ٹرک ناکافی ہیں۔
- غزہ کے اندر: اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں اور معاملات کشیدہ اور مُشکل ہوے جا رہے ہیں، وہاں کے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس پانی یا بجلی نہیں ہے اور وہ ڈبوں میں بند کھانے پر گزارہ کر رہے ہیں۔
- مصر اور اردن کے رہنماؤں نے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت کی ہے۔
- برطانوی وزیر اعظم رشی سونک اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد تل ابیب سے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
- اسرائیل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس نے 203 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
- فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے نور شمس میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے ’دہشت گرد اسکواڈ‘ کو نشانہ بنانے کے لیے ایک طیاروں کا استعمال کیا ہے۔
امریکہ، ایران یا انٹیلیجنس کا فقدان: غزہ پر ممکنہ اسرائیلی زمینی حملے کو کیا چیز روکے ہوئے ہے؟
اردن اور مصر کی جانب سے غزہ کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ نے قاہرہ میں جنگ پر تبادلہ خیال کے لیے ہونے والے اجلاس کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کو ’اجتماعی سزا‘ دینے کی مذمت کی ہے۔
اردن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی پورے خطے کو تباہی کی جانب دھکیلنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کے حملوں کی بعد سے غزہ پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل نے حماس کے حملوں کے بعد غزہ کی پٹی کو خوراک، پانی، ایندھن اور بجلی کی فراہمی بھی بند کر رکھی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک محاصرہ ختم نہیں کرے گا جب تک حماس کی جانب سے یرغمالیوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔
سیسی اور شاہ عبد اللہ نے رواں ہفتے اردن میں امریکی صدر جو بائیڈن اور فلسطینی صدر محمود عباس سے بات چیت کرنی تھی لیکن اردن نے منگل کے روز غزہ کے الاہلی عرب اسپتال میں ہونے والے حملے کے بعد ملاقات منسوخ کردی۔
مصر اور اردن اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے پہلے عرب ممالک تھے اور انھوں نے گزشتہ تنازعات میں اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فورسز اس سے قبل تلکارم شہر میں نور شمس پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوئیں جہاں فلسطینی مسلح افراد اور اسرائیلی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ انھوں نے مغربی کنارے میں رات گئے چھاپوں کے دوران 80 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں حماس کے 63 عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے نور شمس میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز ’پر تشدد سرگرمیوں کو ناکام بنانے کے لئے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے غزہ کی پٹی سے الگ ہے۔ اس کے کچھ حصے فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں جبکہ غزہ حماس کے زیر انتظام ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں کم از کم 61 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ 1200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں بھی شدت آئی ہے کیونکہ غزہ میں جنگ کے خلاف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے تشدد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
لبنان کی سرحد پر اسرائیل کے 'وار کنٹرول روم' کے اندر کی کہانی, اینا فوسٹر، بی بی سی نیوز، شمالی اسرائیل

،تصویر کا ذریعہIDF
لبنان کی سرحد پر واقع ایک ایسی بیرک یا کمپاؤنڈ جس میں ایک حصہ یا کمرے کو عبرانی زبان میں تو ’ہمال‘ کہا جاتا ہے مگر اسی انگریزی میں ’وار کنٹرول روم‘ کہا جاتا ہے۔
اس بیرک میں کوئی کھڑکی نہیں ہے، یہاں صرف سکیورٹی کے معاملات پر بات ہوتی ہے اور انھیں کے بارے میں خبر رکھی جاتی ہے۔ اس عمارت میں داخل ہوں تو آپ سے آپ کا موبائل فون حتیٰ کے آپ سے آپ کے ہاتھ پر بندھی گھڑی بھی اُتروا لی جاتی ہے، اور اس سب کا مقصد یہ ہے کہ اس مقام کی اندر کی صورتحال اور سکیورٹی معاملات کو اس کمپاؤنڈ کی چار دیواری تک ہی محدود رکھا جائے۔
سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے بڑی سکرینز اس بیرک میں نصب ہیں۔ سپاہیوں کا ایک گروہ ان سکرینز پر نظریں جمائے حالات کا بغور جائزہ لیتا رہتا ہے۔
جب سے فلسطینی عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا ہے سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
تقریبا ہر روز لبنانی حزب اللہ کے عسکریت پسند اسرائیل میں میزائل داغتے ہیں، ٹینکوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اسرائیلی افواج کی جانب سے ان پر جوابی کراوائی میں گولے برسائے جاتے ہیں اور فضائی حملے کیے جاتے ہیں۔
کیپٹن ’ایس‘ (شناخت کو چھپانے کے لیے نام ظاہر نہیں کیا گیا) کیمروں کی نگرانی کرنے والی خواتین کی ٹیم کی انچارج یا کمانڈر ہیں۔ نگرانی کا یہ کام صرف خواتین ہی کرتی ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کی نامہ نگار اینا فوسٹر کو بتایا کہ ’ہم اپنی فوج کی آنکھیں ہیں اور سرحد کی نگرانی کرتی ہیں۔ کمانڈر ایس کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اس بڑے کمرے کی ایک جانب دیوار پر اس کمرے میں موجود ہر فوجی کی بچپن کی تصویر لگی ہوئی ہے جس کے نیچے اُن کی تاریخِ پیدائش سیاہ رنگ کے قلم سے درج ہے۔ یہ سب کے سب نوجوان ہیں اور ان میں سے اکثر تو اب بھی حاضر سروس ہیں یعنی اسرائیلی دفاعی افواج میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کمانڈر ’ایس‘ نے بی بی سی کی اینا فوسٹر کو مزید بتایا کہ ’ہم مضبوط اعصاب والی خواتین ہیں، ایسی خواتین جنھیں اپنی محکمانہ ذمہ داریوں کا احساس ہے اور وہ جانتی ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ ہاں ہم اس جنگ میں اہم کرداد ادا کر رہی ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا مقصد حفاظت کرنا ہے، اور تمام لڑکیاں یہ جانتی ہیں. ہر فوجی اپنے کام پر آتا ہے اور اپنا کردار ادا کرتا ہے۔‘
بین الاقوامی دُنیا میں اس بارے میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں کہ غلط اندازوں اور حکمتِ عملی کی وجہ سے شمال کی جانب (لبنان کی حزب اللہ) ایک نئی جنگ نا چھڑ جائے۔ کوئی بڑا واقعہ، جیسے غزہ میں ایک ہسپتال میں دھماکہ، یا اسرائیلی زمینی حملے کا آغاز، حزب اللہ کو اسرائیل پر حملے کے لیے اشتعال دلا سکتا ہے۔

کچھ معاملات میں، ایسا لگتا تھا جیسے کہ یہ سب بہت قریب ہے یعنی ایک نئی جنگ۔ سارجنٹ ’آئی‘ (شناخت کو چھپانے کے لیے نام ظاہر نہیں کیا گیا) کام پر تھے اور اپنی ’سکرین‘ کو گھور رہے تھے، جب سکرین پر تصاویر اچانک سے تبدیل ہو گئیں۔
چند لوگ سرحدی دیوار کے قریب آئے تو وہ جانتے تھے کہ کنٹرول روم میں بیٹھ کر ایسے میں کیا کرنا ہے۔ انھوں نے فوری طور پر ہیلپ لائن کے ذریعے سرحد کے قریب فضائی حملے کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے دہشت گردوں کے ایک گروہ کو دیکھا اور میں جانتا تھا کہ کچھ غلط ہونے والا ہے۔ یہ میرا کام ہے کہ شمالی سرحد کی حفاظت کروں تاکہ کوئی اسے پار نہ کرے، خاص طور پر وہ لوگ جو یہاں سرحد پر رہتے ہیں۔‘
سارجنٹ آئی نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ’یہ کام خوفناک اور ذہنی دباؤ کا شکار کر دینے والا ہے، لیکن اس سب کے باوجود میں اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سرحد پر کھڑے ہونا خوفناک ہے۔ ہمارے ملک کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ یہ سب کیا ہوا۔‘
سارجنٹ ’آئی‘ کے لیے یہ خاص طور پر مشکل ہے۔ ایسے میں کہ جب جنوب میں انھیں کی طرح اس خاص بیرک یا ’وار کنٹرول روم‘ میں کام کرنے والوں کو حماس کی جانب سے نشانہ بنایا گیا جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں ان تمام فوجیوں اور کیمرہ آپریٹرز کے بارے میں سوچتا ہوں جن پر حملہ کیا گیا۔ میرا دل ان کے لیے غمگین ہے۔ میں اُن میں سے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جن کو یا تو یرغمال بنا لیا گیا یا انھیں جان سے مار دیا گیا۔‘
غزہ میں جمعرات کی صبح ہونے والی بمباری کے بعد کے حالات
اسرائیلی فوج کی جانب سے آج صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں متعدد مقامات پر ’حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
آئی ڈی ایف نے اس کاروائی سے متعلق بتایا ہے کہ ’ان کی جانب سے غزہ کی پٹی میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
جمعرات کی یہ تصاویر کچھ فضائی حملوں کے بعد کے واقعات کو ظاہر کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
بریکنگ, لبنان سے میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کی جوابی کارروائی

،تصویر کا ذریعہIDF
7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد سے اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان لبنانی سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
جمعرات کے روز (آج) اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ ’انھوں نے لبنان کی جانب سے شمالی کبوتز منارہ میں دو ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل داغے جانے کے بعد بھاری توپ خانے کی مدد سے جواب دیا۔
اسرائیلی ڈیفینس فورس کا کہنا ہے کہ تازہ ترین میزائل حملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور کہا گیا ہے کہ توپ خانے کی مدد سے لبنان میں حزب اللہ کی میزائل لانچ سائٹ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل اور غزہ کی اب تک کی صورتحال
- برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک جمعرات کی صبح اسرائیل پہنچے جہاں انھوں نے تل ابیب میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ وہ اس ہفتے کے اوائل میں امریکہ کے جو بائیڈن اور جرمنی کے اولاف شولز کے بعد خطے کا دورہ کرنے والے سیاستدان ہیں۔
- حمایت کا وعدہ: سونک نے تل ابیب میں نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس جنگ میں کامیاب ہوں‘، انھوں نے وعدہ کیا کہ برطانیہ اسرائیل کے حقِ دفاع کے حق کی ’مکمل حمایت‘ کرتا ہے، جبکہ یہ بھی کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی اجازت دینے کے معاہدے پر راضی ہو گیا ہے۔‘
- غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ پرخوراک، پانی اور ادویات لے جانے والے متعدد ٹرک اس اُمید میں جمع ہیں کہ سرحد کھل جائے گی اور انھیں غزہ میں جانے دیا جائے گا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ’سڑکوں کی مرمت کے بعد 20 ٹرکوں کا پہلا گروپ کل مصر سے غزہ میں داخل ہو سکتا ہے۔ لیکن امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف سمندر میں ایک قطرہ ہوگا۔‘
- غزہ حملے: اسرائیل کی جانب سے رات بھر غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رہا۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ ’گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں ’سینکڑوں‘ مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
- آنے والا ہے: سنک آج سہ پہر سعودی عرب جائیں گے، اور ہم آپ کو غزہ میں انسانی امداد حاصل کرنے کے بارے میں تازہ ترین معلومات لائیں گے۔
- غزہ سے وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ میں کم از کم 3،785 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
- اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے حماس کے حملے کے بعد سے اب تک 306 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چُکے ہیں۔
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 3700 سے تجاوز کر گئی
غزہ سے وزارت صحت کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ میں کم از کم 3،785 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں 1524 بچے، 1000 خواتین اور 120 بزرگ شہری شامل ہیں۔
تاہم فلسطینی وزراتِ صحت کے مطابق مجموعی طور پر 12،493 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
