آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شمالی غزہ میں فلسطینیوں کے قافلے پر فضائی حملے میں بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک
جنوبی غزہ کی جانب جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر فضائی حملے کی ویڈیوز کی تصدیق ہوئی ہے جس میں کئی لاشیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ حملہ صلاح الدین سٹریٹ پر ہوا جس کے بارے میں فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر 70 افراد ہلاک ہوئے۔
لائیو کوریج
اسرائیل اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال!
حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کو اب ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اس حملے میں 1300 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 100 سے 150 کے درمیان افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی جانے والے فضائی حملوں میں اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
- ان حملوں میں تازہ ترین حملہ ایک قافلے پر کیا گیا تھا جو شمالی غزہ سے جنوب کی جانب جا رہا تھا۔ اس حملے میں خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے تھے۔
- اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے آج اگلے مورچوں کا دورہ کیا ہے۔
- اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے زمینی آپریشن میں ’بڑے پیمانے پر توسیع کرے گی‘
- یورپی یونین نے غزہ کے لیے اپنی امداد کو تین گنا بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
- اسرائیل کی جانب سے غزہ کے رہائشیوں کو شمال سے جنوب میں منتقل ہونے کی ڈیڈلائن ختم ہو گئی، تاہم اب بھی سینکڑوں افراد سڑکوں پر موجود ہیں۔
یورپی یونین کا غزہ کے لیے امداد تین گنا بڑھانے کا فیصلہ, صوفیا بیٹزا، بی بی سی نیوز
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے لیے امداد فوری طور پر تین گنا بڑھا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب مزید پانچ کروڑ یورو کی امداد غزہ بھیجی جائے گی۔
باقی ممالک اور تنظیموں کے مقابلے میں یورپی یونین پہلے ہی فلسطینی علاقوں میں سب سے زیادہ امداد دیتا ہے۔
یورپین کمیشن کی صدر ارسلا وان در لیئن کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ یہ امداد غزہ کی پٹی تک پہنچے۔
اسرائیلی فوج اپنے زمینی آپریشن میں ’بڑے پیمانے پر توسیع کرے گی‘
اسرائیل فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ زمینی آپریشن میں بڑے پیمانے پر توسیع کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس میں ہزاروں ریزرو فوجی بھی شامل ہوں گے۔
اس حوالے سے کوئی وقت نہیں دیا گیا ہے۔ زمینی حملے کے لیے اسرائیل نے غزہ کے رہائشیوں سے شمالی حصے کو خالی کرنے کا کہا تھا۔
بیان کے مطابق ان کی جانب سے ’فضا، سمندر اور زمین‘ کے ذریعے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کون ہیں؟
غزہ اور اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی 150 لوگوں کو حماس نے یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ ان کے اہل خانہ اُمید اور خوف کے سائے میں زندگی گُزار رہے ہیں۔
فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کا کہنا ہے کہ انھوں نے یرغمالیوں کو غزہ کے اندر ’محفوظ مقامات اور سرنگوں‘ میں چھپا رکھا ہے لیکن حماس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے بغیر کسی انتباہ کے شہریوں کے گھروں پر بمباری کی گئی تو وہ انھیں ہلاک کر دیں گے۔
ان میں ہرزلیا سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ مایا ریگیو اور ان کے 18 سالہ بھائی ایٹے بھی شامل ہیں۔
انھوں نے جنوبی اسرائیل میں سپرنووا میوزک فیسٹیول میں شرکت کی تھی۔ حملے کی صبح، مایا کے والد کو ان کی بیٹی کا فون آیا جس نے چیخ کر کہا ’بابا وہ مجھ پر گولی چلا رہے ہیں!۔‘
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ’بعد ازاں حماس کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے ایٹے کو ایک گاڑی کے پیچھے ہتھکڑیاں پہنے دیکھا۔‘
دو بیٹیوں راز اور ابیب کی ماں ڈورن اشر کو غزہ کی سرحد کے قریب رشتہ داروں کے ساتھ رہتے ہوئے یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ ان کے شوہر یونی نے ایک ویڈیو دیکھی جس میں ان کی پانچ اور تین سال کی بیٹیاں اور بیوی کو دوسرے یرغمالیوں کے ساتھ ایک ٹرک پر سوار کیا جا رہا تھا۔
حماس نے اسرائیل سے جن لوگوں کو یرغمال بنایا ان میں 13 بچے اور 60 سال سے زیادہ عمر کے کم از کم 8 افراد شامل ہیں۔
’اپنے اہل خانہ کے ساتھ غزہ شہر سے خان یونس تک کا سفر نہایت تکلیف دہ تھا‘
بی بی سی کے غزہ سے نامہ نگار رشدی ابو الوف نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اسرائیل کی جانب سے جاری ہونے والی انتباہ کے بعد اپنے اس نقل مکانی کے غزہ شہر سے خان یونس تک کے سفر کا احوال بیان کیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم لوگوں کے ساتھ کاروں، ٹرکوں کا استعمال کرتے ہوئے پانچ سے چھ کلومیٹر پیدل چل کر مرکزی سڑک تک پہنچے۔ وہاں سینکڑوں کاریں، موٹر سائیکلیں، اونٹ اور بھیڑیں تھیں۔ ہر جانب افراتفری کا عالم تھا۔ 10 کلومیٹر (6 میل) لمبا ایک قافلہ تھا۔ مجھے اپنی گاڑی پر 10 کلومیٹر کا سفر تہ کرنے میں تقریبا تین گھنٹے لگے۔ عام طور پر یہ سفر 15 منٹ کا ہے۔‘
رشدی کہتے ہیں کہ ’خان یونس کے جو مناظر میں نے دیکھے وہ واقعی افسوسناک ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں، لاکھوں لوگ سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور لاکھوں لوگ پناہ لینے کے لیے سپتالوں میں پہنچ گئے ہیں۔‘
خان یونس اگرچہ غزہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر کی آبادی چار لاکھ ہے، مگر مقل مکانی کی وجہ سے اب اس شہر میں 10 لاکھ سے زائد لوگوں نے یہاں پناہ لے رکھی ہے۔
غزہ کے دیگر شہروں کی طرح خان یونس کو بھی اسرائیل کی جانب سے پانی، بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا ہے اور اب اس شہر پر پناہ گزینوں کا بوجھ بھی آن پڑا ہے۔
رشدی نے شہر کی صورتحال کے بارے میں مزید بتایا کہ ’یہاں (خان یونس) کے ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ دوائیں ختم ہو رہی ہیں، وہ بہت کم ایندھن اور بہت کم مقدار میں زندگی بچانے والی کٹس کے ساتھ زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ صرف نئے آنے والوں کے لئے نہیں ہے. میں (رشدی) نے آج ہسپتال میں ایک شخص سے بات کی۔ سنہ 2014 میں اسرائیلی حملوں میں ان کا گھر تباہ ہو گیا تھا اور وہ اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اب اسے دوبارہ نقصان پہنچا ہے اور وہ اسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔‘
شمالی غزہ سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کے قافلے پر اسرائیلی فضائی حملے کے مناظر
بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے اس فلسطینی قافلے پر حملے میں 12 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں۔
نیتن یاہو کا اگلے مورچوں کا دورہ
اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو نے ایکس (سابق ٹوئیٹر) پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کرتے اور ان سے بات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
پوسٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ ’غزہ کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود فوجیوں کے ساتھ۔ ہم سب تیار ہیں۔‘
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی کے باہر اسرائیلی فوجیوں سے کہا کہ 'کیا آپ اگلے مرحلے کے لیے تیار ہیں؟ اگلا مرحلہ آنے والا ہے۔‘
اسرائیل غزہ تصادم کے آغاز سے ابتک طبی عملے کے 28 اہلکار ہلاک ہو چُکے ہیں: فلسطینی وزارت صحت
فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ ہفتے سے غزہ میں تنازع کے آغاز سے اب تک 28 طبی عملے کے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
فلسطینی وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے دو ہسپتال (بیت حنون اور بچوں کے لیے الدورہ ہسپتال) یہاں آنے والوں کو طبی سہولیات فراہم نہیں کر پا رہے ان کے علاوہ 15 دیگر طبی مراکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والے ان اعداد و شمار کی تصدیق ادارہ نہیں کر سکا ہے۔
اسرائیل اور غزہ کی صورتحال پر چند تصاویر
امریکہ انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے: بائیڈن
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل، مصر، اردن اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
بائیڈن نے ایکس (سابق ٹوئیٹر) پر اپنے ایک پیغام میں مزید کہا کہ ’امریکہ ’امداد کی فراہمی کو دوبارہ شروع کرنے اور جنگی قوانین کی پاسداری سے متعلق اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔‘
اب تک کی تازہ صورتحال
آج کے دن میں اسرائیل اور غزہ میں اب تک کی صورت حال پر ایک نظر
- جنوبی غزہ کی طرف جانے والی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ اس واقع کی تحقیقات کر رہی ہے۔
- فلسطینیوں کے لیے شمالی غزہ خالی کرنے کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے۔ اسرائیلی حکام نے ڈیڈ لائن میں ترمیم کرتے ہوئے اس مہلت میں دس گھنٹے کا اضافہ کیا ہے۔ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے خلاف اسرائیل کے ممکنہ زمینی حملے سے قبل دس لاکھ سے زائد افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ دو محفوظ راستوں کا استعمال کرتے ہوئے وہاں سے نکل جائیں۔
- حماس کی جانب سے سات روز قبل اسرائیل پر حملے کے نتیجے میں 1300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
- غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2200 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اسرائیل غزہ کشیدگی: امریکہ اور چین کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بیجنگ سے مدد طلب کی ہے کہ وہ اسرائیل اور حماس تنازع کو مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک تک پھیلنے سے روکنے کے لیے حرکت میں آئے۔
اس کے جواب میں وانگ یی نے کہا کہ ’واشنگٹن کو تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔‘
وانگ یی نے کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر کشیدہ معاملات سے نمٹتے ہوئے، بڑے اور اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کو سنجیدگی اور شفافیت پر عمل کرنا چاہیے، نا صرف یہ بلکہ امن اور تحمل کو برقرار رکھنا چاہئے، ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔‘
چینی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’بیجنگ نے اس معاملے پر فل فور ’بین الاقوامی اجلاس‘ بلائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔‘
تنازع پر چین کے سرکاری بیانات میں تشدد کی مذمت میں حماس کا خاص طور پر نام نہیں لیا گیا، تاہم فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا ہے، ’طاقت کے اندھا دھند استعمال‘ کی مذمت کی گئی ہے ، اور ’غزہ میں لوگوں کو دی جانے والی سزا‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
’اسرائیلی شہری اور فوجی سب ہمارے دشمن ہیں‘: سابق حماس لیڈر
حماس کے ایک سابق رہنما نے کہا ہے کہ ’عسکریت پسندوں نے گزشتہ ہفتے جو کچھ کیا وہ ’اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے کی کوشش‘ تھی اور انھیں ان پر ’فخر‘ ہے۔
حماس کے خارجہ امور کے سربراہ خالد مشعل نے ترکی کے ہیبرترک ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تنازع گزشتہ ہفتے شروع نہیں ہوا بلکہ 1948 میں شروع ہوا تھا۔‘
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’اسرائیل کہتا رہا ہے کہ ان کی فوج سب سے مضبوط اور ناقابل شکست ہے۔ جب ہم نے دیکھا کہ انھیں چند گھنٹوں میں شکست ہوئی تو ہم بھی حیران رہ گئے۔‘
حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے شہریوں، بچوں اور بزرگوں پر حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر خالد نے کہا کہ ’ہم ان سے کہتے رہے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ لیکن جنگ کے دنوں میں، ایسے واقعات ہو سکتے ہیں. کیا اسرائیل ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر شہریوں کو ہلاک نہیں کیا؟‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حماس نے بھی وہی کیا ہے جس کا وہ اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہیں، خلاد نے کہا کہ ’بہت بڑا فرق ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’'ہم اس زمین کے مالک ہیں۔ جب دشمن باہر سے آتا ہے، یا تو فوجی یا عام شہری، وہ سب دشمن ہیں. جو کوئی میری سرزمین پر قبضہ کرنے کے لیے آئے گا وہ دشمن اور مجرم ہے۔‘
ویڈیو میں 30 سے زائد افراد کے ساتھ شہری قافلے کو حملے کے قریب دکھایا گیا
بی بی سی نے شمالی غزہ سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینی قافلے کی ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے، جسے ایک ایسے مقام کے قریب فلمایا گیا ہے جہاں ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔
ایک اندازہ کے مطابق ویڈیو میں دیکھے جانے والے ایک ٹرک پر 30 سے زیادہ افراد سوار ہیں۔ یہ ویڈیو قافلے پر ہونے والے فضائی حملے سے پہلے کی ہے، تاہم یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا یہ ٹرک حملے کا نشانہ بننے والا ٹرک ہی ہے یا نہیں۔
اس ویڈیو کو صلاح الدین اسٹریٹ پر ریکارڈ کیا گیا تھا، جو شمال کو جنوبی غزہ سے جوڑنے والی ایک اہم سڑک ہے۔
سڑک کی چوڑائی اور بناوٹ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دو شہروں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ ہے، کیونکہ کسی چھوٹی سڑک پر ایک بڑے ٹرک کا جانا آسان نہیں۔
بی بی سی نے سیٹلائٹ تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے، قریبی عمارتوں اور درختوں کے مقام کا پتہ چلاتے ہوئے ٹرک کے صحیح مقام کی تصدیق کی ساتھ ہی رہائشی عمارتوں کے سائے نے بھی اس عمل میں مدد کی۔
بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہے کہ حملہ اس مقام کے جنوب میں ہوا تھا۔ یہ ویڈیو حملے کے شمال مشرق میں فلمائی گئی تھی، جس کا امکان ہے کہ قافلہ نشانہ بننے سے چند گھنٹے پہلے وہاں تھا۔
غزہ کے ہسپتالوں سے انخلا کے لیے دی جانے والی مہلت میں دس گھنٹے کا اضافہ
شمالی غزہ سے فلسطینیوں کا انخلا تو جاری ہے ساتھ ہی اب فلسطین میں امدادی کاروائیوں میں مصروف ہلال احمر (پی آر سی ایس) کو غزہ شہر میں اپنے القدس اسپتال سے مریضوں اور عملے کو منتقل کرنے کے دی جانے والی مہلت میں اسرائیل کی جانب سے دس گھنٹے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ایکس (سابق ٹویٹر) پر اپنی ایک پوسٹ میں پی آر سی ایس کا کہنا ہے کہ ’مہلت میں دس گھنٹے کا اضافہ تو کیا گیا ہے مگر وہ اسپتال کو خالی نہیں کر سکتے کیونکہ انسانی ہمدردی کا تقاضہ ہے کہ یہاں بیمار اور زخمیوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔‘
وسطی لندن میں فلسطینیوں کے حق میں ریلی
وسطی لندن میں بی بی سی کے براڈکاسٹنگ ہاؤس کے باہر فلسطینیوں کے حق نکالی جانے والی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔
بتایا جا رہا ہے کہ مظاہریں وائٹ ہال تک جائیں گے۔ اس ریلی میں ہر عمر کے افراد اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسی ریلی میں ایسے لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ بھی شامل ہے جھوں نے روایتی مذہبی ٹوپیاں (کِپا) پہن رکھی ہیں۔
ریلی میں شامل لوگوں نے جہاں فلسطین کا جھنڈا اُٹھا رکھا ہے وہیں وہ ’آزاد فلسطین‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے، تاہم کچھ افراد بینرز اٹھائے بھی دیکھائی دیے جن پر لکھا تھا کہ ’اسرائیل کو مسلح کرنا بند کرو۔‘
قطر اور سعودی عرب نے غزہ کے شہریوں کے انخلا کی ’سخت مخالفت‘ کی ہے
قطر اور سعودی عرب دونوں نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے اندر فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں، دونوں مُمالک کی جانب سے یہ بیان غزہ کے شہریوں کے لیے غلاقہ خالی کر دینے کی اسرائیل انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے اور فلسطینی شہریوں کو بین الاقوامی اور انسانی قوانین کے مطابق مکمل تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
بیان میں غزہ کے رہائشیوں کو ریلیف اور طبی سامان کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
شمالی غزہ میں فلسطینی قافلے پر فضائی حملے میں بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک
جمعے کی شام پہلی مرتبہ جنوبی غزہ کی جانب جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد جائے وقوعہ پر قتل عام کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں۔
بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ صلاح الدین اسٹریٹ پر ہوا۔ یہ شمالی غزہ سے جنوب کی طرف انخلا کے دیے جانے والے انھیں دو راستوں میں سے ایک ہے۔
یہ سڑک کل سارا دن ٹریفک سے بھری رہی کیونکہ اسرائیلی کی جانب سے علاقے سے نکل جانے کی انتباہ کے بعد شمال میں مقیم غزہ کے باشندے اسی روٹ کا استعمال کرتے رہے۔
فوٹیج میں کم از کم 12 لاشیں دکھائی دے رہی ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں جن میں سے کچھ کی عمریں دو سے پانچ سال کے قریب دیکھائی دے رہی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر 70 افراد ہلاک ہوئے، فلسطین کی جانب سے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا ہے۔
اسرائیل کی دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات کر رہی ہے لیکن ان کے دشمن (حماس) شہریوں کو شمال سے باہر جانے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حماس کے ہلاک ہونے والے کمانڈر 2011 میں قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہوئے تھے
حماس کے کمانڈر علی قدی کی ہلاکت کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات میں کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے ایک ہفتہ قبل جنوبی اسرائیل پر عسکریت پسند گروپ حماس کے حملے کی قیادت کی تھی۔
اسرائیلی ڈیفنس فورس کے مطابق 37 سالہ علی قدی 2011 میں حماس کے ہاتھوں پکڑے گئے اسرائیلی فوجی گلاد شالٹ کے بدلے رہا کیے گئے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں میں شامل تھے۔
2005 ء میں قدی کو ایک اسرائیلی شخص کے اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ شین بیٹ کے لئے کام کرتے تھے۔