یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
غزہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں زمینی، فضائی و سمندری آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں جس دوران رفع کے واحد ہسپتال کو خالی کرانے کے لیے محض چند گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی۔ تاہم ہسپتال کی انتظامیہ نے مریضوں کو کہیں اور منتقل سے انکار کر دیا ہے۔
غزہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انھوں نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بات کی ہے۔
فلسطینی صدر کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت کرتے ہیں اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ حماس فلسطینی عوام کے وقار اور حق میں نہیں ہیں۔
بائیڈن نے امداد کی فراہمی کے بارے میں بھی بات کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے انھیں (فلسطینی صدر) کو یقین دلایا کہ ہم خطے میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں شہریوں تک انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور تنازع کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔‘
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن ان دنوں عرب ممالک کے دورے پر ہیں۔
قاہرہ کے ہوائی اڈے پر تقریر کے دوران اُن کا کہنا تھا کہ ’حالیہ دنوں میں انھوں نے اردن، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور مصر کا دورہ کیا ہے تاکہ ان کی بات سنی جا سکے کہ وہ اس بحران کو کس طرح دیکھ رہے ہیں۔‘
بلنکن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے لیکن وہ اس تنازع کو پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی شہریوں سمیت یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سفارت کاروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا حق حاصل ہے کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘
بلنکن نے عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل جس طرح یہ کام کرتا ہے وہ اہم ہے۔‘
بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ ’انھوں نے ترکی میں سابق امریکی سفیر ڈیوڈ سیٹرفیلڈ کو انسانی ہمدردی کی کوششوں کی قیادت کے لئے مقرر کیا ہے کیونکہ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بحیرہ روم کی طرف جانے والے طیارہ بردار بحری جہازوں کو اشتعال انگیزی کے بجائے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔‘
جسٹن ویلبی نے ایکس (سابق ٹوئیٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’میں اپیل کرتا ہوں کہ شمالی غزہ کے ہسپتالوں سے انخلا کا حکم واپس لیا جائے اور صحت کی سہولیات، طبی کارکنوں، مریضوں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔‘
ویلبی کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ رات اسرائیلی راکٹ حملے میں اہلی ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عملے کے چار اہلکار زخمی ہو گئے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دوسرے ہسپتال بھی متاثر ہوئے ہیں۔ حماس کی جانب سے اسرائیلیوں پر وحشیانہ دہشت اور دہشت گردانہ حملے توہین آمیز تھے۔‘
کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی نے مزید لکھا ’لیکن غزہ کے شہری حماس کے جرائم کے ذمہ دار نہیں ہیں۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حالیہ بیان میں حماس کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1400 سے زائد بتائی گئی ہے۔
قبل ازیں فلسطینی حکام نے کہا تھا کہ ’غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی بمباری میں اب تک 2300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
روم کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اینجلس کی روایتی دعا کے بعد پوپ فرانسس نے آج صبح غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر محفوظ راستہ فرام کرنے کا مطالبہ کیا۔
پوپ فرانسس نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’انسانیت کا احترام کیا جانا چاہئے، خاص طور پر غزہ میں، جہاں انسانی راہداریوں کی ضمانت دینا اور وہاں محصور لوگوں کی مدد کرنا فوری اور ضروری ہے۔‘
پوپ فرانسس نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’میں بچوں، بیماروں، بزرگوں، خواتین اور تمام شہریوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس تنازعے سے دور رہنے کی کوشش کریں۔‘
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود براک نے کہا ہے کہ ’اس مرحلے پر اسرائیل کے پاس غزہ میں بینیامن نیتن یاہو کی حکومت کے طرز عمل کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔‘
بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ’دی ورلڈ‘ سے بات کرتے ہوئے ایہود براک کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی حکمت عملی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حماس کی فوجی صلاحیتوں کو مٹا دیا جائے اور غزہ کی پٹی کا نظم و نسق فتح کی زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دیا جائے۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے مطابق مکمل طور پر کاربند ہے لیکن اسے اسرائیل کی سرحد کو حماس کے کنٹرول سے ’آزاد‘ کرنا ہوگا، جسے انھوں نے ’شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش)‘ سے کروایا تھا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی زمینی حملے سے مشرق وسطیٰ میں تنازعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی صورتحال پر قابو پانے اور تنازعات کے پھیلاؤ پر میں اضافے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔‘
امیر عبداللہیان نے کہا کہ ’جو کوئی بھی موجودہ بحران کو بڑھنے سے روکنے میں دلچسپی رکھتا ہے اسے ’غزہ میں شہریوں اور شہریوں کے خلاف اسرائیل کے موجودہ وحشیانہ حملوں’ کو روکنا ہوگا۔‘
ایرانی عہدیدار نے اسرائیل کی مکمل حمایت پر امریکہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایران کے اعلیٰ سفارت کار خطے کے دورے پر ہیں انھوں نے قطر کے بعد عراق، لبنان اور شام بھی جانا ہے۔
ہفتے کے روز قطر میں انھوں نے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ سے بھی ملاقات کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے سی این این کو بتایا کہ اسرائیلی حکام نے انھیں مطلع کیا ہے کہ جنوبی غزہ میں پانی کی فراہم بحال کر دی گئی ہے۔
سی این این کے پروگرام ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ میں بات کرتے ہوئے سلیون کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی حکام نے انھیں ایک گھنٹہ قبل اس بارے میں آگاہ کیا۔‘
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے چھ روز قبل غزہ کا مکمل محاصرہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور علاقے میں خوراک، پانی اور بجلی کی فراہمی بند کر دی تھی۔
اسرائیل نے سوشل میڈیا پر جارے ایک بیان میں جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع رفح کے واحد ہسپتال کو خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے کے شمال میں رہنے والے تمام رہائشیوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جنوب کی طرف جانے کا حکم دیا ہے لیکن اس نے فضائی حملوں کے ذریعے پٹی کے جنوب میں اہداف کو نشانہ بنانا بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
بی بی سی نے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر سے بات کی ہے جنھوں نے بتایا کہ انھیں اور ہسپتال کے دیگر عملے کو یہ مقام چھوڑنے کے لیے دو گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ ’یہ تقریبا دو گھنٹے پہلے کی بات ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ غزہ کے شمالی علاقے میں ہسپتالوں کو دی گئی اسی طرح کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد بڑھا دی گئی ہے۔‘
ہسپتال کے نگران ڈاکٹر جمال ہمس نے عوامی سہولت کے اس بڑے مرکز کو اُن کے مفاد کی خاطر چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے، جہاں متعدد بیمار اور شدید زخمی مریض اب بھی زیر علاج ہیں۔
جنوبی غزہ میں کویتی ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال ہمس کا کہنا ہے کہ ’رفح میں واقع ہسپتال کو اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ اسے دو گھنٹے کے اندر خالی کرنے دیں۔‘
ہمس کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ ہسپتال ’خالصتا عوامی ہے‘ اور یہ علاقے میں واحد طبی سہولت ہے جہاں اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کا علاج ہو رہا ہے۔‘
رفح مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہسپتال نے فیصلہ کیا ہے کہ 'نتیجہ جو بھی ہو' وہاں سے نہیں نکالا جائے گا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’غزہ کے لوگوں کے تو گھر بھی محفوظ نہیں ہیں، اس لیے ہم انھیں یہاں پناہ بھی دے رہے ہیں۔۔۔ ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی اور محفوظ جگہ نہیں ہے کیونکہ ہم محاصرے کی حالت میں ہیں۔‘
اسرائیل کے وزیر اعظم بینیامن نیتن یاہو نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سب مل کر کام پر رہے ہیں۔
تل ابیب میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل کا اتحاد قوم، دشمن اور پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیتا ہے۔
تل ابیب میں ہونے والے کابینا کے اس اجلاس میں گذشتہ ہفتے حماس کے حملے کے متاثرین کے لیے ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی گئی تھی۔
اسرائیلی رہنما نے کابینہ کو بتایا کہ فوج جانتی ہے کہ ’پورا ملک‘ ان کے پیچھے ہے اور سمجھتا ہے کہ ’یہ ایک مشکل گھڑی ہے۔‘
ایسے میں کہ جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری جاری ہے، اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر کی اہلیہ نے غزہ کے بچوں کے لیے یہ درخواست کی ہے کہ انھیں زندہ رہنے کا موقع ملنا چاہیے۔
نادیہ النکلہ کے والدین نے سکاٹ لینڈ کے ایک بڑے شہر ڈنڈی سے فلسطین کا روخ کیا کیونکہ وہ وہاں موجود اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے جانا چاہتے تھے، جیسے ہی وہ فلسطین پہنچے چند دن بعد ہی 7 اکتوبر کو فلسطین سے عسکریت پسند گروہ حماس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا جس کے بعد شروع ہونے والی مسلح جھڑپوں کی وجہ سے وہ وہاں اسرائیلی محاصرے میں پھنس گئے ہیں۔
نادیہ اور ان کے شوہر، ایس این پی رہنما اور فرسٹ منسٹر ہمزہ یوسف کو آدھی رات کو ایک جذباتی فون کال موصول ہوئی جس میں انھیں نادہ کے والدین نے بتایا کہ اب وہ اُس عمارت کو چھوڑ کر بار نکل آئے ہیں کیونکہ اُنھیں خدشہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والی بمباری میں اُس عمارت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے کہ جہاں وہ رہ رہے تھے۔
النکلہ نے کہا کہ ’اگر اقتدار میں رہنے والے چاہیں تو یہ سلسلہ رک سکتا ہے اور انھوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جاسوس طیاروں کی بجائے وہاں امدادی سامان بھیجے۔‘
قبل ازیں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یوسف نے کہا تھا کہ ’جنگ بندی ہونی چاہیے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداری کھولی جا سکے تاکہ بے گناہ لوگ وہاں سے نا صرف نکل سکیں بلکہ اُن کی مدد بھی کا جا سکے۔‘
ایس این پی کانفرنس میں متفقہ طور پر اسرائیل اور غزہ دونوں میں متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی سے آج صبح پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ اسرائیلی حکومت کو ’گرین سگنل‘ دے رہا ہے؟
اس سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’فلسطینی عوام کے مصائب کا ذمہ دار حماس ہے۔‘
لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’انھیں غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش ہے، خاص طور پر اسرائیل کے زمینی آپریشن سے قبل۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بمباری میں اب تک 2300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم کرے اور میں نے اس مسئلے پر اسرائیلی حکومت کے ساتھ ہونے والی ہر بات چیت میں یہ معاملہ اٹھایا ہے۔‘
ناروے کی پناہ گزین کونسل کے جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ کیا برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگی جرائم کے کسی ممکنہ الزامات کو اٹھایا ہے، جس کے بعد ناروے کی پناہ گزین کونسل کے جنرل سیکریٹری نے کہا تھا کہ شہریوں کو جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور کرنا بھی انھیں جرائم میں شمار ہوتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ’برطانوی حکومت بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔‘ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے جنگی جرائم پر آواز اُٹھاتی ہے۔‘
آخر میں، کلیورلی نے اعتراف کیا کہ ’برطانوی حکومت مصر اور اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے ذریعے رفح کراسنگ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے مگر اب تک اس میں ناکام رہی ہے۔‘
28 سالہ ڈاکٹر محمد غنیم غزہ پٹی کے سب سے بڑے اسپتال الشفا میڈیکل کمپلیکس میں شعبہ حادثات (ایمرجینسی) میں ڈاکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں موجود تقریبا تمام عملے کی طرح، وہ فلسطین پر بمباری شروع ہونے کے بعد سے اب تک گھر نہیں جا سکے اور مسلسل زخمیوں کی مدد میں مصروف ہیں۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام عملے کو اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے گھر جانے کی ضرورت ہے، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے کیوں کہ وہاں آنے والے زخمیوں کو اُن کی مدد کی ضرورت ہے۔ وہ ہر ایمبولینس کے قریب جا کر اس بات کی تسلی ضرور کرتے ہیں کہ کہیں اُن کے پڑوس کا کوئی فرد ان زخمیوں میں شامل تو نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہسپتال میں آنے والے ہلاک شُدگان میں تقریبا 60 فیصد خواتین، بچے اور بوڑھے شامل ہیں۔ ہسپتال میں طبی سامان ختم ہو رہا ہے اور جنریٹرز میں ایندھن آج ختم ہونے والا ہے۔
غنیم کہتے ہیں کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی سرجری نہیں ہو پائے گی، مریضوں کے لیے آکسیجن میسر نہیں ہوگی۔ ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، جیسے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘
اسکاٹ لینڈ کے شہر ایبرڈین میں طب کی تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر غونیم کا کہنا ہے کہ ’انھیں ملک چھوڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں غزہ چھوڑنے کے لیے کسی راستے کی ضرورت نہیں ہے ہاں اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو غزہ کو طبی سامان اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے انسانی ہمدردی کے طور پر صرف ایک راستے کی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں دنیا کی ہر حکومت سے اس جارحیت کو روکنے میں مدد کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔‘
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسرائیلی افواج نے آج صبح دعویٰ کیا کہ تازہ ترین حملوں میں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں فورسز کے نخبہ کمانڈر بلال الکیدرہ ہلاک ہوگئے ہیں۔
اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ ہفتے جنوبی اسرائیل کے علاقے کبوتز نیریم میں اسرائیلیوں کے قتلِ عام کے ذمہ دار تھے، جب حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا تھا۔
گزشتہ اتوار کی صبح، سیلین بین ڈیوڈ نگر کو زچگی کی چھٹی پر چھ ماہ کی خوشی کے بعد کام پر واپس آنے کے پہلے دن کے لئے تیار ہونا چاہئے تھا۔
مگر اس کے برعکس اب اُن کا خاندان ایک مشکل وقت سے گُزر رہا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سیلین کا اپنے پیاروں سے گزشتہ ایک ہفتے سے کوئی رابتہ نہیں ہو پایا ہے۔ یہ گمان ہے کہ اُنھیں حماس کے عسکریت پسند یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ لے گئے ہیں۔
32 سالہ سیلین ہفتے کی صبح اپنے دو دوستوں کے ساتھ جنوبی اسرائیل میں نووا میوزک فیسٹیول میں شرکت کے لیے نکلی تھیں کہ جب انھیں راکٹوں کی آواز سنائی دی تو انھوں نے وہ جگہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور قریب ہی ایک محفوظ مقام پر چھپنا چاہا جس میں وہ ابتدائی طور پر وہ کامیاب تو ہوئیں مگر حماس کے عسکریت پسندوں نے انھیں اور اسی مقام پر چھپے دیگر افراد کو بھی ڈھونڈ نکالا۔
’سپاہی آ رہے ہیں،‘ سیلین نے اپنے شوہر ایڈو کو یہ پیغام بھیجا۔ ’خدا، یہاں آنا ایک غلطی تھی۔‘ یہ وہ دو میسجز تھے جو سیلین کی جانب سے اپنے شوہر کو بھیجے گئے۔
سیلین اب لاپتہ ہیں اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ میں اغوا کیے گئے 150 یرغمالیوں میں سے ایک ہیں۔ سیلین کے شوہر نے جب اپنی بیوی کے بارے میں بات کرنا چاہی تو وہ آب دیدہ ہو گئے اور کچھ کہ نا سکے۔
مگر پھر انھوں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور بولے ’وہ ایک حیرت انگیز عورت اور ایک شاندار ماں ہے،‘ انھوں نے کہا. ’ہمارا چھ ماہ کا بچہ ہے۔ کام پر واپس آنے سے پہلے یہ ان کی آخری پارٹی سمجھی جاتی تھی۔ ہمارے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ میں اسے سننبھال لوں گا مگر وہ واپس نہیں لوٹیں۔‘