پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے خطے میں کورونا کے بڑھتے کیسز کی بنا پر پیر کی رات سے دو ہفتے تک مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن میں دی جانے والی نرمی کے باعث متعدد افراد نے پاکستان کے دیگر صوبوں سے اس خطے کی جانب رخ کیا اور تمام اضلاع میں کھولے جانے والی دکانیں یا کاروباری مراکز کی وجہ سے صرف بیس دنوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ گزشتہ ماہ سے کہیں زیادہ رہا۔
ان کے مطابق اب تک اس خطے میں 112 افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جن میں اکثریت نے بیرون ریاست سے اس خطے کی جانب سفر کیا ہے۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق انھوں نے بتایا لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے کورونا وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ ہے جس بنا پر حکومت نے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت فیصلہ کیا ہے جس کے تحت لاک ڈاون میں دی جانے والی نرمی کو ختم کرتے ہوئے دو ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاون کیا جائے گا۔
ان کے مطابق اس لاک ڈاؤن میں میڈیکل اسٹورز کے علاوہ اشیا خورد و نوش کی دکانیں مقررہ وقت تک کھلی رہیں گی جبکہ دیگر تمام دکانیں یا کاروباری مراکز بند رہیں گے۔
راجہ فاروق حیدر کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ عیدالفطر تک بند رہے گی جس کے بعد اس کے کھولنے یا نہ کھولنے کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان یا دیگر صوبوں سے اس خطے کے درمیان یا اندرون ریاست ٹرانسپورٹ معطل رہے گی جبکہ تمام داخلی و خارجی راستوں پر متعلقہ حکام کو مزید سختی کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کے مطابق اندرون ریاست پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل پر بھی سختی ہوگی بلاوجہ کسی کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
راجہ فاروق حیدر خان نے بتایا اگر پاکستان کی حکومت نے اپنے تمام صوبوں میں لاک ڈاون پر پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا تو ریاست کی حکومت اس وقت حالات کے مطابق جاری اس لاک ڈاؤن پر دوبارہ مشاورت کرے گی۔