یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ دنیا بھر سے تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے کلک کیجیے۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ دو لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے خطاب میں تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ میں نیو کووِڈ الرٹ سسٹم کا استعمال ہو گا جس کی مدد سے وائرس کی نشاندہی کی جائے گی۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔ دنیا بھر سے تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے بعد تفریحی مقامات آہستہ آہستہ کھلتے جارہے ہیں۔اسی سلسلے میں چین کے سب سے بڑے شہر شنگھائی میں ڈزنی لینڈ کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے مقامی میڈیا کے مطابق، تقریباً 700 انڈین شہری بحری جہاز کے ذریعے مالدیپ سے وطن واپس پہنچے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ جنوبی ریاست کیرالہ پہنچنے والے دو مسافروں کو علامات ظاہر کرنے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا۔
بیرونِ ملک سے انڈین شہریوں کو وطن واپس لانے کی یہ پہلی کوشش تھی۔ آنے والے دنوں میں بیرون ملک پھنسے ہوئے ہزاروں انڈین شہریوں کو 60 سے زیادہ پروازوں کے ذریعے واپس لایا جائے گا۔
انڈین حکومت بیرونِ ملک پھنسے تقریباً 200000 شہریوں کو وطن واپس لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیر کو جرمنی میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد میں 357 متاثرین کا اضافہ ہوا جس کے بعد کل تعداد 169575 ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 22 مزید ہلاکتوں کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 7417 ہوگئی ہے۔
تازہ ترین تعداد حالیہ رجحانات میں بڑے پیمانے پر اضافے کے برعکس ہے ، جس کی وجہ سے لوگوں کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ جرمنی کے لاک ڈاؤن اقدامات میں آسانی پیدا کرنے کے بعد انفیکشن بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔
تو پیر کو رپورٹ ہونے والے نئے کیسز میں اچانک کمی کا کیا مطلب ہے؟ شاید اس کی وجہ صرف تاخیر سے رپورٹنگ ہے۔
جرمنی کے سرکاری اعداد و شمار میں پہلے بھی اکثر ہفتے کے آخر میں رپورٹنگ کرنے میں معمولی وقفہ دیکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی ایک دوائی کو امریکہ نے نئے کورونا وائرس، کووِڈ 19، کے علاج کے لیے منظور کر لیا ہے۔
کلوروکوئن ملیریا کے علاج کی سب سے قدیم، مشہور اور مؤثر دوا ہے۔
اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آیا صدر ٹرمپ درست کہہ رہے ہیں اور آیا یہ دوائی کورونا کے علاج کے لیے کتنی مؤثر ہے؟ مزید پڑھیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے شہر سوہلان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد شہر کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اس شہر میں گذشتہ روز وائرس کے 11 نئے کیسز سامنے آئے جن سب کا باعث ایک متاثرہ لانڈری کرنے والی خاتون بنی ہیں۔
45 سالہ مریضہ جنھوں نے اپنے شوہر، بہنوں اور کنبہ کے کچھ دوسرے افراد کو متاثر کیا ہے، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے حالیہ دنوں میں کہیں سفر نہیں کیا۔
شہر بھر میں تمام عوامی مقامات کو بند کردیا گیا ہے اور تمام رہائشیوں کو گھر پر رہنے کو کہا گیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو معطل کردیا گیا ہے اور شہر کو خطرے کے سب سے اعلیٰ درجے پر رکھا گیا ہے۔
اس نئے انفیکشن نے چینی سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے ، بہت سے لوگ اندازہ لگا رہے ہیں کہ اس خاتون کو کیسے انفکشن ہوا ہو گا۔ سوہلان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کا کہنا ہے کہ انھیں محسوس ہوا کہ ’ہر دن وائرس کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘
سوہلان صوبہ جیلین میں ہے، جو شمالی کوریا کی سرحد کے ساتھ ہے۔ شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ وہاں وائرس کا کوئی کیس نہیں ہے۔
بہت سارے مبصرین شمالی کوریا پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ وبا پر پردہ ڈال رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منگل کے روز تقریباً 50 دن بعد انڈیا کی مختلف ریاستوں سے مسافر ٹرینوں میں سوار ہوسکیں گے۔
حکومت نے اس مہینے کے شروع میں کئی ریاستوں میس پھنسے ہوئے مزدوروں کے لیے خصوصی ٹرینوں کا اہتمام کیا تھا۔ لیکن تازہ اعلان ہر شہری پر لاگو ہو گا۔
یہ ٹرینیں دارالحکومت دہلی سے روانہ ہوں گی اور بنگلور، ممبئی، چنئی اور احمد آباد سمیت 15 شہروں میں جائیں گی۔ ٹکٹ آن لائن خریدا جاسکتا ہے۔
انڈیا میں تیسرے لاک ڈاؤن کا نصف وقت گذر چکا ہے۔ پہلے مرحلے میں ریاستوں نے پابندیوں میں نرمی کی تھی۔ انفیکشن میں اضافے کے باوجود جزوی طور پر ریلوے سروس کا دوبارہ آغاز ابھی تک کی سب سے بڑی نرمی ہے۔
انڈیا میں تقریباً 63000 کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے جن میں 20000 سے زائد صحتیاب ہوئے ہیں اور 2 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب جولائی سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو 5 سے 15 فیصد تک بڑھا رہا ہے۔
سعودی عرب میں اس ٹیکس کا آغاز 2018 کے اوائل میں کیا گیا تھا۔
حکومت جون کے بعد سے ریاست کے ملازمین کو ملنے والے رہائشی الاؤنس کو بھی معطل کردے گی۔
سعودی عرب کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں کورونا وائرس کے 39048 تصدیق شدہ کیسز موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چین میں کورونا وائرس کے 17 نئے کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے پانچ کا تعلق ووہان سے ہے۔
چین کے شہر ووہان میں سامنے آنے والے مریضوں کی یہ تعداد گیارہ مارچ کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
نئے کیسز میں سے پانج بیرون ملک سے منتقلی کے کیس ہیں جبکہ پانچ کا تعلق روس اور جنوبی کوریا کی سرحدوں پر موجود صوبوں جلین، ہیلانگ یانگ اور لیاننگ سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں لاک ڈاؤن میں عائد سفری پابندیوں میں اپنے گھروں کو پہنچنے کی کوشش میں مزید پانچ مزدور ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ مزدور آم کے کریٹ لے جانے والے ایک ٹرک میں چھپے ہوئے تھے جب ہفتے کی رات یہ ٹرک ہائی وے پر الٹ گیا۔
یہ اموات مہاراشٹر میں ایک مال بردار ٹرین سے 16 مزدوروں کی ہلاکت کے صرف دو دن بعد ہوئی ہیں۔
ان اموات نے انڈیا میں سخت سفری پابندیوں کو نمایاں کیا ہے، جس سے ملک کے غریب ترین شہری شدید متاثر ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر ریلونے نے کہا ہے کہ 12 مئی سے ملک میں مسفر ٹرینیں جزوی طور پر بحال کر دی جایئیں گی۔
اگلے ہفتے سے خصوصی ٹرینیں دلی سے متعدد شہروں تک چلائی جایئں گی اور اس کے بعد ان میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
مارچ کے آخر میں انڈین حکومت نے چار گھنٹے کے نوٹس پر ہوائی، ٹرین اور بس سروس بند کر دی تھی جس سے ملک بھر میں لاکھوں افراد دوسرے شہروں میں پھنس گئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کے لیے ماسک پہننا اور روانگی کے ٹرمینلز پر سکریننگ لازمی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی میں کووڈ 19 کے انفیکشن کی تعداد میں دوبارہ تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق 10 افراد اوسطاً 11 افراد کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جرمنی کچھ شعبوں جیسے ریستوران، ہوٹلوں اور فٹبال میں پابندیوں کو کم کر رہا ہے۔
تو اگر یہ وائرس تیزی سے پھیلا تو کچھ پابندیاں دوبارہ نافذ کی جا سکتی ہیں۔
رابرٹ کوچ انسٹیٹوٹ کے مطابق جرمنی میں اب تک کورونا وائرس سے 7369 اموات ہو چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اب اس پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ جو بھی گھر سے کام نہیں کر سکتا مثلاً تعمیرات اور مینیوفیکچرنگ کے شعبے سے منسلک افراد تو ان کی کام پر جانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کام کی جگہ لوگوں کے لیے محفوظ ہو۔
انھوں نے عوام سے کہا کہ اگر مکمن ہو تو وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال سے اجتناب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سماجی دوری کو برقرار رکھنا ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گھر سے کام کریں اگر کر سکتے ہیں اور آپ کو کام پر جانا چاہیے اگر آپ گھر سے کام نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کام کرنے والوں کے تحفظ کے لیے کام کی جگہ کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز بنا رہی ہے۔
وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی تقریر میں لوگوں سے کہا کہ وہ بدھ سے باہر نکل سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ مقامی پارک میں سورج تلے بیٹھ سکتے ہیں، آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ ڈرائیو کر کے جا سکتے ہیں، آپ کھیل سکتے ہیں لیکن آپ کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہی کھیلنا ہو گا۔
تاہم انھوں نے ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ لوگوں کو سماجی دوری کے اصولوں پر ضرور کاربند رہنا ہو گا اور ان پر عملدرآمد کے لیے پولیس جرمانے کو بھی بڑھائے گی۔
بورس جانسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہم بحیثیت قوم ان شرائط پر پورے اترے جو میں نے مرتب کی ہیں تو شائد اگلے چند ہفتوں اور مہینوں میں ہم مزید آگے بڑھ سکیں۔

،تصویر کا ذریعہPA MEDIA
وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ حکومت کا اگلے دو ماہ تک کا منصوبہ سائنسی ڈیٹا اور محکمہ صحت کی تجاویز سے مرتب ہو گا نہ کہ امید یا پھر معیشت کی ضروریات سے۔
انھوں نے زور دیا کہ یہ تمام تبدیلیاں جو کی جا رہی ہیں ان کا انحصار ایک نتائج پر ہوگا۔ اس کے علاوہ پورے ملک کو ضرورت ہے کہ وہ آر لیول ڈاؤن رکھنے کی تجویز پر عمل کریں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جلد ہی ملک سے باہر سے فضائی سفر کر کے داخل ہونے والوں پر قرنطینہ کی پابندی لگے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ابھی انفیکشن ریٹ کم ہے اس لیے یہ اقدام موثر ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مہمان نوازی کی کچھ صنعتیں جولائی سے دوبارہ کھل سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جلد سے جلد بھی جولائی تک ہو سکے گا اور اس کا انحصار مزید سائنسی تجاویز پر ہو گا۔ یعنی اگر تو اس وقت تک کے اعدادوشمار معاون ہوئے تو امید ہے کہ ہم کچھ صنعتیں اور عوامی مقامات سماجی دوری کے اصول لاگو کر کے کھول دیں گے۔
مہمان نوازی کی صنعت میں تفریح اور سیاحت کے مقامات اور ذرائع شامل ہیں۔
بورس جانس کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں پانچ الرٹ لیول ہوں گے ۔ پہلے لیول کا مطلب ہے کہ برطانیہ میں کورونا کا مرض موجود نہیں اور پانچویں لیول کا مطلب ہے کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہو گی جب این ایچ ایس مکمل طور پر مصروف ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہم لیول فور پر رہے لیکن شکریہ تمام قربانیوں کا کہ اب ہم لیول تھری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اس لیول کو ڈاؤن رکھنے کے لیے کہ وہ چوکس رہیں اوراصولوں پر عمل کریں۔