آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ: ’وبا کا عروج گزر چکا‘، ملک میں کل اموات 26700 سے زیادہ
دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 32 لاکھ جبکہ اموات کی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’وبا کے عروج سے گزر چکا ہے‘۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔
کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں
کورونا وائرس: علاج سے متعلق افواہوں کی حقیقت
کورونا اور سماجی دوری: 2م کتنا ہوتا ہے؟
تین آسٹریلوی کوالا ہوں یا ایک مائیکل جورڈن یا پھر نصف واکس ویگن بیٹل، یہ وہ فاصلہ ہے جتنا آپ کو کسی بھی فرد سے کورونا کی وبا کے دوران سماجی دوری اختیار کرتے ہوئے رکھنا چاہیے اور اگر بات سمجھ نہیں آئی تو یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ لیں۔
بریکنگ, برطانیہ میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد کی تصحیح
برطانیہ کہ محمکہ صحت کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اموات کی تعداد 26771 ہے نہ کہ 26711 جو وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی بریفنگ میں بتائی تھی۔
لیکن بورس جانس کی جانب سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں اموات کی بتائی گئی تعداد 674 درست ہے۔
دبئی کے حاکم کی جانب سے برطانیہ کے لیے حفاطتی کٹس کا عطیہ
دبئی کے حکمران نے برطانیہ کہ محکمہ صحت کو 60 ٹن حفاظتی کٹس کا سامان خرید کر عطیہ کیا ہے۔
چین سے سامان لے کر پہلا جہاز آج ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر پہنچا ہے۔
دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’شیخ مکتوم کے برطانیہ کے ساتھ گہرے اور طویل رابطوں کی وجہ سے برطانیہ کے طبی کارکنوں کی حفاظت کے لیے وہ اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پر عزم ہیں۔‘
پہلی پرواز میں چہرے کے ماسک اور دیگر سامان کے 660 باکسز آئے ہیں۔
بریکنگ, برطانیہ میں کورونا متاثرین 171253 ہو گئے، ہلاکتیں 26711
برطانیہ میں 30 اپریل کی شام کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک کوورنا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 171253 ہو گئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 6032 کیسز کا اضافہ ہوا۔
کل شام سے اب تک مزید 674 ہلاکتوں کے بعد وبا کے باعث برطانیہ میں اب تک 26711 افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔
برطانیہ: دوسرے عروج سے’ دور رس اقتصادی نقصان ہو گا‘
بی بی سی کی لورا کوینزبرگ نے سوال پوچھا کہ جب آخری مرتبہ وزیرِ اعظم اس میز پر بات کرنے کے لیے آئے تھے تو اس وقت سے لے کر اب تک صحت اور دولت کا بڑا نقصان ہو چکا ہے۔
انھوں نے پوچھا کہ کیا لاک ڈاؤن کو جاری رکھنے سے ان کے خیال میں معیشت رکی رہے گی۔
بورس جانسن نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔ ’ہمیں ہر جان جانے پر افسوس ہے اور ہم اقتصادی نقصان پر بھی افسوس کرتے ہیں۔۔۔ اور لوگوں کے ان خوابوں پر جو ان کے کاروبار کے ساتھ تباہ ہو رہے ہیں۔‘
وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے ورکرز کا خیال رکھنے کے لیے بہت کوشش کی ہے، فرلو سکیم اور قرضوں کے ساتھ اور جو کچھ وہ کر سکتی ہے کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے اگر ہم نے اس طرح واپس آنا ہے جس طرح ہم آ سکتے ہیں کہ دوسرا حملہ نہ ہو، دوسرا برا حملہ دور رس اقتصادی تباہی لائے گا۔ ’اسی لیے ہمیں اپنے اقدامات کا بہت احتیاط کے ساتھ تعین کرنا ہے، نہ صرف اس بات کو یقینی بنائیں کہ معیشت کو آہستہ آہستہ کھولا جائے، بلکہ بیماری کو کم کرنے کے طریقے بھی ڈھونڈتے رہنا جاری رکھنا چاہیئے۔‘
بریکنگ, روس کے وزیر اعظم کا کورونا ٹیسٹ مثبت
روس کے وزیر اعظم میخائل میشوتن کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا گیا ہے۔
ذہنی صحت ایک بڑا مسئلہ ہے: بورسن جانسن
ذہنی صحت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر برطانوی وزیر اعظم کا بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ کہ ’یہ ایک بڑا مسئل ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے کیسز کو کم کرنے کے لیے این ایچ نے دیگر صحت کے مسائل کے
ان کا کہنا تھا کہ ان سب کا صحت پر اثر پڑ رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ لاک ڈان کو ضروت سے زیادہ طوالت دی جائے۔
اس موقعے پر چیف میڈیکل مشیر کرس وٹی کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اگر مدد چاہیے تو وہ کسی کو فون کر لیں بہت سے لوگ آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بورس جانسن: معیشت کی محفوظ بحالی کے لیے جامع منصوبہ جلد
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے تصدیق کی ہے کہ وبا کے عروج کے بعد اب اس میں کمی آ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اس وبا کو ویکسین بنا کر شکست دے گا۔
انھوں نے وعدہ کیا کہ ’اگلے ہفتے حکومت ایک جامع منصوبہ پیش کرے گی کہ جس کی مدد سے معیشت کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔
’ ہم اپنے بچوں کو سکول بھیج سکیں اور کام پر کیسے جا سکیں گے اور جس کی مدد سے کام کی جگہ محفوظ ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسا منصوبہ بنایا جائے گا جس میں ہم بیماری کو کم کر کے اپنی معیشت کو بحال کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے سائنس سے رہنمائی لی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ سیاسی اتفاق رائے حاصل کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اندھیری سرنگ سے نکل آئے ہیں اور ہمارے سامنے روشنی ہے۔
’یہ لازمی ہے کہ ہم ضبط کھونے نہ دیں اور اگلی بلنذ پہاڑی پر چڑھ دوڑیں۔‘
بریکنگ, بورس جانسن: ’برطانیہ میں وبا کا عروج گزر چکا‘
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ ’وبا کے عروج سے گزر چکا ہے‘۔
کورونا وائرس برطانیہ میں ہلاکتیں 26711 ہوگئیں
برطانیہ میں کورونا وائرس کے حوالے سے ہونے والی یومیہ بریفنگ کے موقعے پر وزیر اعظم بورس جانس نے کہا کہ ’میں کافی دنوں تک یہاں شامل نہ ہونے پر معذرت خواہ ہوں۔‘
انھوں نے اپنی غیر موجودگی میں فرائض ادا کرنے والوں کی تعریف کی۔
برطانوی وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 26711 ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہم اپنے لوگوں کے ساتھ سوگوار ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہم اس وائرس کو شکست دینے کے لیے مضبوط بھی ہو رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں وبا کا عروج گذر چکا ہے۔
انھوں نے عوام سے کہا کہ ان کی قربانیاں کام کر رہی ہیں۔ ’
ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں نئے مریضوں کی آمد کم ہوئی ہے اور انتہائی نگہداشت میں لے جائے جانے والے مریض بھی کم ہوئے ہیں۔
بورس جانسن: بیماری کے بعد پہلی کابینہ میٹنگ کے مناظر
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بیماری سے لوٹنے کے بعد آج کابینہ کے پہلے اجلاس کی صدارت کی اور وہ اب سے کچھ دیر میں روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والی بریفنگ میں بھی حصہ لیں گے۔
وہ پیر کو کام پر لوٹے تھے اور بدھ کو ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔
لاس اینجلس میں تمام مکینوں کے ٹیسٹ کرنے کی پیشکش
لاس اینجلس امریکہ کا پہلا بڑا شہر ہے جس نے اپنے تمام مکینوں کو کووڈ 19 کے ٹیسٹ کرنے کی پیشکش کی ہے۔
اس سے پہلے ملک میں 34 ٹیسٹ مراکز میں صرف ایسے افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے تھے جن میں علامات ظاہر ہوئیں یا فرنٹ لائن عملے کے ٹیسٹ کیے گئے۔
شہر کے میئر ایرک گیرسٹی کا کہنا تھا جن لوگوں میں وائرس کی علامات ہیں انہیں ترجیح دی جائے گی لیکن اگر ایسے افراد بھی ٹیسٹ کروانا چاہیں جن میں علامات نہیں تو حکام کے پاس اس کی گنجائش موجود ہے۔
شہر کے مکین ٹیسٹ کے لیے آن لائن اپائنٹمنٹ لے سکتے ہیں۔
امریکہ میں سماجی دوری کی وفاقی گائیڈ لائنز کی معیاد آج رات ختم ہو جائے گی
امریکہ میں سماجی دوری کی وفاقی گائیڈ لائنز کی معیاد آج رات ختم ہو جائے گی جس سے کاروبار یا دفاتر کو کھولنے کا کام مقامی قانون دانوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔
امریکہ میں کئی ریاستوں نے سماجی اور اقتصادی پابندیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔
امریکہ کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ٹیکساس میں آج ’سٹے ایٹ ہوم آرڈر‘ یا گھر پر رہنے کے احکامات کی معیاد پوری ہو جائے گی۔
جمعے سے سٹورز، تھیئٹرز، اور ریستورانوں کو اپنے کاروبار کھولنے کی اجازت ہو گی، تاہم یہ محدود گنجائش کے لیے ہوگی۔
جیورجیا کے آرڈرز کی مدت بھی آج پوری ہو رہی ہے اور گورنر نے اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ اس میں توسیع کی جائے یا نہیں۔ صد ٹرمپ سمیت کئی دیگر افراد نے ریاست کے پرسنل کیئر کے کاروبار میں پابندیاں نرم کرنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔
الاباما، ٹینیسی، ویسٹ ورجینیا، اوہایو اور آئیڈہو جمعے سے مرحلہ وار کاروبار کھولیں گے، گو کچھ پابندیاں پھر بھی رہیں گی، جیسا کہ لوگوں کے جمع ہونے پر حد یا کچھ مخصوص کاروبار۔
فلوریڈا نے ’سٹے ایٹ ہوم آرڈر‘ کو 4 مئی تک کے لیے بڑھا دیا ہے، جبکہ اس کے گورنر کے مطابق ریاست زیادہ تر مقامات کھلنا شروع ہو جائیں گے۔
برطانیہ: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 9000 شہریوں کو جرمانے
انگلینڈ اور ویلز میں اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 9000 افراد پر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
نیشنل پولیس چیف کونسل کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 26 مارچ سے 27 اپریل کے دوران ایک ماہ کے عرصے میں پولیس نے 8877 فِکسڈ پنلٹی نوٹسز جاری کیے جبکہ ویلز میں 299 نوٹسز جاری کیے گئے۔
400 کے قریب افراد نے جرم دہرائے جن میں سے ایک شخص کو چھ بار جرمانہ کیا گیا۔
پولیس نے فی کس 60 پاؤنڈ کا جرمانہ کیا تاہم اگر یہ دو ہفتوں کے اندر جمع کروایا جاتا ہے تو اسے 30 پاؤنڈ کر دیا جاتا ہے۔ جرم دہرانے پر جرمانہ 120 پاؤنڈ کیا گیا ہے۔
پولیس کو لاک ڈاؤن کے نفاذ کے لیے قواعد و ضوابط بھی فراہم کیے گئے ہیں جن میں گھر سے نکلنے کی معقول وجوہات واضح کی گئی ہیں۔
سعودی عرب میں لاک ڈاؤن کے اوقات میں کمی
سعودی عرب میں لاک ڈاؤن کے اوقات میں کمی کرتے ہوئے تجارتی مراکز کھول دیے گئے ہیں مگر ان پابندیوں میں نرمی کے ساتھ کچھ شرائط بھی رکھی گئی ہیں جن کے بارے میں سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں مقیم ایک پاکستانی جہانگیر خان نے بی بی سی اردو کو بتایا۔