یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب حکومتیں لاک ڈاؤن میں نرمی کے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب حکومتیں لاک ڈاؤن میں نرمی کے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
آج صبح ، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسینڈا آرڈرن نے آسٹریلیا میں کورونا وائرس سے متعلقہ کابینہ اجلاس میں بذریعہ فون شرکت کی۔
جیسینڈا آرڈرن دونوں ممالک کے مابین سفر کے لیے راہدری کھولنے کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لیے شریک ہوئیں۔
دونوں پڑوسیوں کو وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیابی ملی ہے۔ نیوزی لینڈ میں دوسرے دن بھی کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے جبکہ آسٹریلیا میں متاثرین کی تعداد کم ہے۔
معاشی اور ثقافتی تعلقات کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک آمدورفت کے لیے ایک ’ٹرانس تسمن‘ راہدری کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم جیسینڈا آرڈرن نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے صحت کے متعلق اقدامات کیے جائیں۔
ویلنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا ’ہم نے متاثرین کی تعداد میں بہت کمی دیکھی ہے لیکن اچانک کہیں سے بھی اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پابندیوں پر قائم رہنا ضروری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ہم دونوں ممالک نہیں چاہتے کہ ایک ملک سے دوسرے میں کورونا کے متاثرین داخل ہوں۔‘
امریکہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 سے مزید 1015 اموات ہوئیں جو ایک مہینے میں یومیہ ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔ مجموعی طور پر اس وائرس سے اب تک 68920 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
امریکہ میں اب تک کووڈ 19 کے 1180332 تصدیق شدہ کیسز موجود ہیں۔ یہ تعداد سپین میں متاثرین کی تعداد سے پانچ گنا اور چین میں متاثرین کی تعداد سے 14 گنا زیادہ ہے۔
ابھی تک متاثرہ افراد میں سے 200000 سے کم افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ میں بیماریوں پر کنٹرول اور ان سے بچاؤ کے ادارے، سی ڈی ایس کے ایک اندرونی میمو سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں یکم جون تک روزانہ کی بنیاد پر متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
دستاویز میں حکام کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ مئی کے آخر تک روزانہ کی بنیاد پر دو لاکھ تک نئے کیسز کا خدشہ ہے جب اب تک تہ تعداد 25000 یومیہ ہے۔
دستاویز کے مطابق یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 1750 سے بڑھ کر 3000 کے قریب ہو سکتی ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ دوسری سہ ماہی میں پہلی مرتبہ 30 کھرب ڈالر کا قرض لے گا تاکہ کورونا وائرس سے متعلقہ منصوبوں کے بھاری اخراجات کو پورا کیا جاسکے۔
یہ بڑی رقم پچھلی مرتبہ لیے گئے قرض سے پانچ گنا زیادہ ہے جو 2008 کے مالی بحران کے عروج پر لیا گیا تھا۔
صحت سے متعلق مالی امداد اور براہ راست ادائیگیوں سمیت امریکہ نے وائرس سے متعلقہ امداد میں تقریباً 30 کھرب ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔
چینی میڈیا نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے وائرس کے کسی لیب میں وجود میں آنے سے متعلق تبصروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انھیں ’پاگل پن‘ اور ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔
پومپیو نے اتوار کے روز دعویٰ کیا تھا کہ ایسے ’بہت سارے شواہد‘ ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی ابتدا چینی شہر ووہان میں ایک لیبارٹری سے ہوئی ہے جہاں گذشتہ سال یہ وائرس پہلی بار سامنے آیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے مائیک پومپیو کے تبصرے کا جواب کچھ اس طرح دیا ’شیطان پومپیو زہر اگل رہا ہے اور جھوٹ پھیلا رہا ہے۔‘
سی سی ٹی وی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ نظریہ ایک ’مکمل اور سراسر جھوٹ‘ ہے اور ’امریکہ بیماری پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے اس لیے امریکی سیاستدان سارا الزام چین کے سر تھوپنا چاہتے ہیں۔‘
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسی ’قیاس آرائیوں‘ جن میں کہا گیا تھا کہ وائرس کا وجود چینی لیبارٹری میں ہوا، کی حمایت کے لیے امریکہ نے اب تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔
ترکی کے صدر طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ مئی کے وسط سے ترکی میں شاپنگ سینٹرز اور ہئیر سیلون اور چند دیگر دکانوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔
گذشتہ چند ہفتوں سے ترکی نے ملک کے 31 شہروں میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن اور کرفیو نافذ کیا ہوا تھا۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ اعلان کے مطابق 65 برس سے اوپر کے افراد اور بچوں کو دس مئی سے صرف اپنے گھروں کے قریب جانے کی اجازت دی جائے گی اور وہ بھی صرف چند گھنٹوں کے لیے۔
صدر اردوغان نے مزید کہا کہ ہیئر سیلون 11 مئی سے کام شروع کر سکتے ہیں اور تعلیمی ادارے 15 جون سے دوبارہ پڑھائی شروع کر سکتے ہیں۔
تاہم انھوں نے کہا کہ اگر عوام نے قوانین کی پاسداری نہیں کی تو ایک بار پھر سختی کی جا سکتی ہے۔
ملک کے وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اب تک ترکی میں تقریباً ساڑھے تین ہزار اموات ہو چکی ہیں۔
امریکہ میں ایوان بالا یعنی سینیٹ نے پیر کو دوبارہ کام شروع کر دیا ہے البتہ ایوان زیریں میں کووڈ 19 کی وجہ سے کام شروع نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ سینیٹ کا انتظام حکومتی جماعت ری پبلیکنز کے پاس ہے جبکہ ایوانِ نمائندگان کا انتظام حزب اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہے۔
پیر کو 100 رکنی سینیٹ میں کارروائی میں توقع ہے کہ سینیٹرز ماسکس پہن کر شرکت کریں اور سماجی فاصلوں کو برقرار رکھیں۔ سینیٹ میں اکثریت تعداد معمر افراد کی ہے۔
کووڈ 19 سے متعلق اعداد و شمار کو جمع کرنے والی امریکہ کی جان ہاپکنز یونی ورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ میں ہوئی ہیں جہاں اب تک قریباً 70 ہزار افراد کی موت ہوچکی ہے جبکہ اس کے بعد اٹلی کا نمبر آتا ہے جہاں اب تک 29 ہزار اموات ہوئی ہیں۔
سینٹ پیٹر برگ میں طبّی عملے کو کورونا میں مبتلا ہونے کی صورت میں معاوضہ دیے جانے کی پیشکش کی گئی ہے لیکن اس کے لیے یہ شرط ہو گی کہ پتہ چلایا جائے کہ ان میں کورونا کیسے منتقل ہوا؟
روسی میڈیا کے مطابق شہری حکام کی جانب سے ہیلتھ ورکرز اگر کسی مریض کا علاج کرتے ہوئے کورونا میں مبتلا ہو جائیں تو انھیں 3800 امریکی ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
گذشتہ ہفتے سینٹ پیٹر برگ کی صحت کی کمیٹی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو متاثرہ طبی عملے کی معاوضے کے حقدار ہونے کی جانچ کرے گی۔
ماسکو ٹائمز کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی دیکھے گی کہ طبی عملے کے کن اراکین کو وائرس کی منتقلی ہونے میں کس قدر ان کی اپنی کوتاہی تھی۔
روسی طبّی اہلکاروں اس کے بعد سے دباؤ کا شکار ہیں۔ گذشتہ ماہ صدر پوتن نے تسلیم کیا تھا کہ ملک میں حفاظتی سامان کی کمی ہے۔
پیر کو روس میں کورونا وائرس کے دس ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے اور یہ مسلسل دوسرے دن سامنے آنے والے کیسز کی اتنی بڑی تعداد تھی۔ اس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 145268 ہو گئی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بیماریوں پر کنٹرول اور ان سے بچاؤ کے ادارے، سی ڈی ایس کے ایک اندرونی میمو سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں یکم جون تک روزانہ کی بنیاد پر ہلاکتوں کی تعداد 1750 سے بڑھ کر 3000 کے قریب ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو متنازع قرار دیا ہے۔
سی ڈی سی کی دستاویز میں حکام کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ مئی کے آخر تک روزانہ کی بنیاد پر دو لاکھ تک نئے کیسز کا خدشہ ہے، جب اب تک 25000 یومیہ ہے۔
اس دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’بہت سی کاؤنٹیز ایسی ہیں جہاں وائرس کی وجہ سے دباؤ جاری رہے گا۔‘
کچھ ایسی ریاستیں ہیں جہاں جزوی طور پر معاشی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پریشان کن رحجان ہے اور امریکہ کو اس سے نکلنے میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔
اتوار کو صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ شاید ایک لاکھ امریکی جانوں کا ضیاع ہو۔ انھوں نے جانی نقصان کے حوالے سے لگائے گئے اپنے پہلے اندازے کی نسبت دگنی تعداد بتائی۔
لیکن جب ٹائمز کی جانب سے یہ رپورٹ پیر کو شائع ہوئی تو وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس کی درستگی پر اختلاف کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ وائٹ ہاؤس کی دستاویز نہیں، نہ ہی اسے کورونا وائرس کی ٹاسک فورس کے سامنے پیش کیا گیا یا پھر اس کی اس کے حکومتی اداروں کی جانب سے جانچ کی گئی ہو۔
بی بی سی کو ارسال کی جانے والی تحریر میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈیٹا ٹاسک فورس کی جانب سے پیش کیے جانے والے نمونے کی عکاسی نہیں کرتا اور نہ ہی ٹاسک فورس نے اس کا تجزیہ کیا ہے۔
عالمی ادارے صحت کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ’قیاس آرائیوں پر مبنی‘ ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا۔
جنیوا میں ایک بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کے کووڈ 19 رسپانس یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل رائن سے ان قیاس آرائیوں سے متعلق سوال پوچھے گئے جن کا پرچار اکثر امریکی صدر ٹرمپ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’ہمیں وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق امریکی حکومت کی جانب سے کوئی ڈیٹا موصول نہیں ہوا ہے۔ ہمارے مطابق یہ اب تک صرف قیاس آرائی ہے۔‘
ڈاکٹر رائن نے کہا کہ تمام شواہد اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ’وائرس کا وجود قدرتی طور پر عمل میں آیا‘۔ انہوں نے وائرس کے وجود سے متعلق سائنسی نہ کہ سیاسی تحقیقات پر زور دیا۔
امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ جب امریکی ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کو دیکھنے کے لیے گئے تھے تو انھیں ماسک پہننا چاہیے تھا۔
28 اپریل کو مینیسوٹا کے میو ہسپتال کلینک میں دورے کے بعد ان کی ویڈیو سامنے آنے پر ان پر تنقید کی گئی تھی۔ کیونکہ ڈاکٹروں کے ہمراہ مریضوں سے ملنے والے افراد میں وہ واحد شخص تھے جنھوں نے ماسک نہیں پہن رکھا تھا۔
فاکس نیوز سے اتوار کو گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ یہ ضروری تھا۔ لیکن مجھے میو کلینک میں ماسک پہننا چاہیے تھا۔ میں نے وہ پہنا تھا جب میں نے دو روز بعد انڈیانا کے وینٹیلیٹر پلانٹ کا دورہ کیا تھا۔‘
اس سے پہلے مائیک پینس نے ہسپتال میں داخلے کے لیے ماسک پہننا لازم ہے، یہ بتائے جانے کے باوجود اپنے ماسک نہ پہننے کے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔
ان کے دورے کے بعد متعلقہ کلینک کی جانب سے ٹویٹ کی گئی کہ انھوں نے ہر کسی کو ماسک پہننے کو کہا تھا لیکن بعد میں ٹویٹ حذف کر دی گئی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مختلف لوگوں کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک تہائی کے نتائج مثبت آنے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں بھی متاثرین کی تعداد سرکاری اعدادو شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
پیر کو افغانستان میں کیسز کی تعداد 2894 اور 90 اموات رپورٹ کی گئیں۔
اگرچہ سرکاری اعدادو شمار نسبتاً کم بتائے جاتے ہیں۔ افغانستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کی سہولت محدود ہے اور یہاں صحت کا نظام دہائیوں تک جنگ سے متاثر رہا ہے۔
ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افغان زائرین وائرس سے متاثرہ ایران سے مارچ کے دوران واپس لوٹے تھے۔ اسی طرح دسیوں ہزار پاکستان سے افغانستان لوٹے۔ اس وجہ سے یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ کورونا وائرس ملک میں پھیل چکا ہے۔
گذشتہ ماہ یہ خبر سامنے آئی تھی کہ صدارتی محل میں درجنوں ممبران اور عملے کے اراکین میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
کراس فِٹر ایلینا ڈیمو اور پرسنل ٹرینر جیمز لونگ لندن میں اپنے گھروں کے باپر ویٹ لفٹنگ کر رہے ہیں۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے گذشتہ 7 ہفتوں سے جِم بند ہیں اور لوگوں کو اپنی معمول کی ورزش کے لیے نئے نئے طریقے اپنانے پڑ رہے ہیں اور وہ گھر کے پاس خالی جگہوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
بریفنگ میں اقلیتوں کی مدد کے بارے میں بھی سوال پوچھا گیا۔ تحقیقات کے مطابق نسلی اقلیتیں کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔
مسٹر ہینکاک کا کہنا تھا کہ اس گروہ میں ہلاکتوں کی تعداد خاص طور پر این ایچ ایس ورکرز میں غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔
اس موقع پر پروفیسر جوناتھن وان ٹام نے کہا کہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ ہم اس کی تہہ تک جائیں گے۔
لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک پیچیدہ تصویر ہے۔ اس میں دیگر عوامل بھی شامل ہیں جیسا کہ اعدادوشمار میں عمر، محرومی اور نامساعد حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہو گی۔
برطانیہ کی سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ آن ایمرجینسیز (سیج) کی فہرست پر جن ماہرین کے نام ہیں وہ حیران کن نہیں۔ لیکن کئی افراد کا کہنا ہے کہ یہ فہرست محدود ہے یا پھر اس میں شامل کئی افراد حکومت کے پے رول پر ہیں جو انہیں وزرا کو سخت حقائق بتانے سے روک سکتا ہے۔
اس فہرست میں شامل افراد کا تعلق مختلف یونیورسٹیوں سے ہے اور وہ اپنے اپنے شعبے میں ماہر ہیں۔
یہ فہرست حکومت پر رازداری برتنے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید کی وجہ سے سامنے آئی ہے اور اس کی ایک وجہ وزیر اعظم بورس جانسن کے مشیر ڈامنک کمنگز کی سیج کی میٹنگز میں شرکت ہے جس سے اس شبہے میں اضافہ ہوا کہ کیا ’حکومتی پالیسی کی راہنما سائنس‘ ہے یا پھر اس کے الٹ۔
اس فہرست کی اشاعت سے پورے عمل میں شفافیت آئے گی اور سیج میں شامل کیے جانے کے عمل سے متعلق اعتماد بھی بحال ہوگا۔
یہ بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ سیج نے کووڈ 19 کو طویل عرصے تک ایک عام فلو سمجھ کر اقدامات کیے جبکہ یہ ایک انتہائی محلق بیماری ثابت ہوئی۔
سیج سے باہر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کو کئی ہفتوں کی تاخیر سے لگایا گیا اور کیئر ہومز میں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
اقوام تحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گئیٹریس نے مزید ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی ویکسین کے لیے تحقیق اور اس کی تقسیم کے لیے امداد دیں۔
پیر کو ہونے والے آن لائن اجلاس میں ابتدائی طور پر آٹھ عشاریہ دو ارب ڈالر اکٹھا ہونے کی امید ہے۔
سیکرٹری جنرل نے ایک ویڈیو پیغام میں اب تک جمع ہونے والی امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ویکسین، ادویات اور دیگر آلات کی منصفانہ تقسیم کے لیے ’‘پانچ گنا زیادہ‘ رقم درکار ہوگی۔
امداد دینے والے ممالک میں اب تک برطانیہ، ناروے، جاپان، کینیڈا اور سعودی عرب بھی شامل ہیں۔ امریکہ ان میں شامل نہیں ہے۔
برطانوی سیکریٹری ہیلتھ سے بریفنگ میں ایک سوال پوچھا گیا کہ کیا کہ ٹیسٹ اور پھر کھوج لگانے کا مقصد ان کیسز کو ختم کرنا ہے یا پھر ان کی تعداد اور تناسب نیچے لانا ہے۔ جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’ایپ کا استعمال ہمیں مدد کرے گا کہ انفیکشن کی تعداد کم ہو۔ لیکن ہمارا ہدف یہ ہے کہ نئے انفیکشنز کو کم کیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ہدف صرف یہ نہیں کہ کورونا متاثرین کی تعداد کم کی جائے۔ ہمارا ہدف یہ ہے کہ نئے انفیکشنز کی موجودگی کو نہایت کم کیا جائے۔‘