یہ صفحہ اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
اس صفحے کو اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی اردو کے تازہ ترین لائیو پیج پر جائیں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 9 لاکھ 40 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے 47 ہزار سے زیادہ ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مکہ اور مدینہ میں 24 گھنٹوں کے کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس صفحے کو اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی اردو کے تازہ ترین لائیو پیج پر جائیں۔
کورونا وائرس کی دو اہم علامات ہیں۔ یہ بخار سے شروع ہوتا ہے جس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔ مگر آپ کیسے جانچ سکتے ہیں کہ آپ کو کورونا وائرس کے سلسلے میں اپنے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے یا آپ جو محسوس کر رہے ہو سکتے ہیں وہ شاید عام نزلہ اور زکام ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین کی جانب سے سماجی دوری اور خود ساختہ دوری اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص سے کسی دوسرے صحتمند شخص کو وائرس بہت جلد لگ سکتا ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ تمام لوگ ایک دوسرے سے دوری اختیار کریں کیونکہ بسا اوقات متاثرہ شخص میں علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔
مگر یہ تنہائی کیسے اختیار کی جا سکتی ہے، اس ڈیجیٹل ویڈیو میں دیکھیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایک سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق علامات کے ظاہر ہونے کے بعد ان کا کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کیا گیا جو کہ مثبت آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘انھیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور انھیں مطلوبہ طبی سہولت دی جا رہی ہے۔’
علی لاریجانی سنہ 2008 سے پارلیمان کے سپیکر ہیں۔ انھوں نے 2020 کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔
اٹلی میں گذشتہ ایک روز میں 760 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد وہاں کُل اموات کی تعداد 14 ہزار کے قریب (13 ہزار 915) ہوچکی ہے۔
یومیہ اموات کی تعداد اب بھی انتہائی زیادہ ہے لیکن شرح میں کمی ہو رہی ہے جو کہ بدھ کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔ گذشتہ ہفتے سے اس کا موازنہ کریں تو روزانہ اموات 10 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی تھیں۔
اس کے علاوہ نئے متاثرین کی شرح میں بھی استحکام آ رہا ہے۔ آج نئے متاثرین کی تعداد صرف 3.1 فیصد بڑھی۔ یہ شرح پورا ہفتہ مستحکم رہی ہے جو کہ حوصلہ افزا ہے۔ انتہائی نگہداشت میں داخل ہونے والوں کی تعداد بھی مستحکم ہوئی ہے جو کہ گذشتہ روز کے مقابلے میں صرف 18 افراد زیادہ ہے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اٹلی وبا کے عروج تک پہنچ گیا ہے لیکن انھوں نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ یہ مرحلہ کافی عرصہ باقی رہ سکتا ہے۔ جمعرات کے اعداد و شمار اس کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔

انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سٹیفن پوویس نے کہا ہے کہ برطانیہ میں اموات کی یومیہ تعداد میں کمی آنے میں ’کئی ہفتے‘ لگ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جہاں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ہسپتالوں میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہو رہا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ایسے اشارے موجود ہیں‘ کہ ہم انھیں کم ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ عوام پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو کم سے کم رکھے ہوئے ہیں۔ مگر انھوں نے کہا کہ نجی گاڑیوں کے استعمال میں اتنی کمی نہیں ہوئی ہے
دنیا بھر میں کووڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے اسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے اور جہاں اب چین میں اس کے نئے متاثرین کی تعداد کم ہوئی ہے وہیں امریکہ اس کا نیا مرکز بن چکا ہے۔
اب تک یہ مرض دنیا کے 180 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے دس لاکھ کے قریب افراد متاثر اور 45 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس نقشے کی مدد سے جانیے کہ دنیا بھر میں کورونا کے متاثرین کی تعداد کیا ہے اور کون سے ملک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا صدارتی کنوینشن کو جس میں صدارتی امیدوار چنا جاتا ہے، جولائی میں منعقد کرنے کے بجائے اگست تک مؤخر کر رہی ہے۔
ایک ہفتہ طویل یہ ایونٹ اب ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی میں 17 اگست سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
اس پیش رفت سے پہلے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے سرِفہرست امیدوار جو بائیڈن نے کہا تھا کہ پارٹی کنوینشن کا وسط جولائی میں منعقد ہونا ناقابلِ تصور ہے۔
نومبر میں ہونے والے انتخابات کے لیے ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے صدر ٹرمپ ایک مرتبہ پھر امیدوار ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا میں یکم مارچ سے اب تک ہر دس میں سے ایک ریستوران مستقل طور پر بند ہوچکا ہے جبکہ فوڈ کے شعبے سے وابستہ آٹھ لاکھ ملازمتیں جا چکی ہیں۔
یہ بات ریسٹورنٹ کینیڈا نامی تنظیم کے ایک سروے میں سامنے آئی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے ریستورانوں کو وائرس اور اسے روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے اقتصادی اثرات کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ادارے کے اندازوں کے مطابق مارچ میں ملک بھی میں چار ارب کینیڈین ڈالر (2.8 ارب امریکی ڈالر) کی سیلز کا نقصان ہوا ہے۔
سروے کے مطابق چند ریستوران صرف کھانا گھر پر منگوانے یا خود لے جانے کے لیے کھلے ہیں، اور انھوں نے عملے میں بھی کمی کر دی ہے، جبکہ نصف سے زائد عارضی طور پر بند ہیں۔
تنظیم کی صدر شینا منرو نے کہا کہ ‘تنظیم کے 75 برسوں میں یہ بدترین اعداد و شمار ہیں۔’

برطانوی سیکریٹری صحت ہینکاک نے نینشل ہیلتھ سروس کے ہلاک ہونے والے عملے کی اموات پر افسوس کا اظاہر کرتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے اور ساتھ ہی اعلان کیا ہے کہ ادارے کا 13 عشاریہ چار ارب پاؤنڈ کا ’تاریخی قرضہ‘ معاف کر دیا جائے گا
ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے ادارہ طویل مدت میں کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں ہوگا۔
ہینکاک کا کہنا تھا کہ وہ اپریل کے آخر تک ’روزانہ ایک لاکھ ٹیسٹ کا حدف‘ مقرر کر رہے ہیں۔
امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے کہا ہے کہ پیشگوئی کے موجودہ ماڈلز کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں ریاست میں تقریباً 16 ہزار اموات ہو سکتی ہیں۔
اس وقت شمالی امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا کا مرکز ریاست نیویارک کا شہر نیویارک سٹی ہے۔
انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اب تک ریاست میں 2373 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ تعداد بدھ کو 1941 تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہانگ کانگ نے شراب خانوں اور کلبز کو دو ہفتے کے لیے بند کر دیا ہے۔ ساؤتھ چائنپہ مارننگ پوسٹ کے مطابق سیکریٹری فوڈ اینڈ ہیلتھ صوفیہ چین نے یہ اعلان اس انکشاف کے بعد کیا کہ 19 مارچ سے وائرس کی مقامی منتقلی کے 132 معاملات میں سے 69 کسی شراب خانے یا کلب میں جانے سے ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وسطی چین کے صوبے ہوبائی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں جن 14 طبی کارکنان نے اپنی جانیں گنوائیں، انھیں 'شہدا' کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
ان افراد میں ایک ڈاکٹر لی وین لیانگ بھی ہیں۔ انھیں دسمبر کے اواخر میں ووہان میں اپنے ساتھیوں کو کورونا وائرس سے خبردار کرنے کی کوششوں کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔ اس وقت یہ وبا اپنے ابتدائی مراحل میں ہی تھی۔
انھیں پولیس کی جانب سے ‘افواہیں پھیلانے’ پر ایک وارننگ بھی دی گئی اور وہ بعد میں خود اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔
چینی حکام کے ان کے ساتھ رویے پر عوام میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔
چین کی سوشل میڈیا ویب سائٹ سائنا ویبو پر کئی لوگوں نے اس فہرست کے بارے میں تبصرے کیے ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ انھیں سینسر کیا جا رہا ہے، کیونکہ پوسٹ کیے گئے سینکڑوں تبصروں میں سے صرف مٹھی بھر ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ 14 اپریل کو ختم ہونے والا لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم ہوگا۔ یہ فیصلہ بیماری کی ایک دوسری لہر کے پھیل جانے کے خدشات کے پیشِ نظر لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدید آلودہ دریائے گنگا میں پانی کے معیار میں بہتری آئی ہے مگر ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ عارضی ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ملک میں لاک ڈاؤن کے اقدامات میں 30 اپریل تک کے لیے توسیع کر دی ہے۔
ضروری خدمات سے منسلک تمام افراد اپنا کام جاری رکھیں گے جبکہ دیگر افراد کو اپنے گھروں پر رہنا ہوگا۔ اس دورانیے کے لیے تنخواہیں بھی ادا کی جاتی رہیں گی۔
صدر پوتن نے مزید کہا کہ روس میں مختلف علاقوں میں مختلف صورتحال ہے جبکہ وبا نے سب سے زیادہ دارالحکومت ماسکو کو متاثر کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’شہری انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود ہم اس رجحان کو نہیں بدل پائے ہیں۔‘ انھوں نے وفاقی، علاقائی اور شہری سطح پر ہم آہنگی پر زور دیا۔
روس سے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق وہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متاثرہ افراد کی تعداد میں 771 کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد وہاں کُل تعداد 3548 ہوگئی ہے۔ لیکن چند لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصر میں عوام کی بڑی تعداد اب ٹوئٹر پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے محلات کو قرنطینہ مراکز میں تبدیل کریں۔ مصری صدر پر اس سے قبل عالیشان عمارتوں کی تعمیر پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔
یہ تب شروع ہوا جب لندن سے ملک واپس آنے والے مصری تارکینِ وطن کو برطانیہ سے نکلنے کی شرط کے طور پر ایک دستاویز پر دستخط کرنے پڑے کہ وہ قاہرہ آمد پر قرنطینے میں رہنے کو تیار ہیں۔
جیسے ہی انھوں نے لینڈ کیا، انھیں ہوائی اڈے کے ساتھ ہی قائم ایک فائیو سٹار ہوٹل میں بند کر دیا گیا۔ کئی لوگ اس پر ناخوش نظر آئے کیونکہ انھیں اس مہنگی رہائش کے اخراجات بھی خود اٹھانے پڑے تھے۔
ایک شخص نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایسے آپشن دیے جانے چاہیے تھے جو ان کی استطاعت میں ہوتے۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تنقید کے بعد مصری صدر نے یہ فیصلہ واپس لیتے ہوئے کہا کہ ریاست ان کی رہائش کے اخراجات برداشت کرے گی۔
اس سے پہلے کویت سے آنے والے تارکینِ وطن کے ایک گروہ نے بھی قاہرہ کے ہوائی اڈے کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کیے جانے سے انکار کیا تھا۔
انھیں بعد میں گھر جا کر خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کے وعدے پر چھوڑ دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 800 انفیکشن سیاحوں یا تارکینِ وطن کے ذریعے آئے ہیں۔