آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ٹی 20 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کا فاتحانہ آغاز

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سپر 12 راؤنڈ میں 23 اکتوبر کو دو میچ کھیلے گئے جن میں پہلے آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو پانچ وکٹوں سے جبکہ اس کے بعد انگلینڈ نے دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو باآسانی چھ وکٹوں سے شکست دے دی۔

لائیو کوریج

  1. 24 اکتوبر کو برصغیر کی ٹیموں کا آمنا سامنا, شارجہ میں سری لنکا اور بنگلہ دیش مدمقابل، دبئی میں روایتی حریف انڈیا اور پاکستان کا ٹاکرا

    کوالی فائنگ راؤنڈ میں ہونے والے اپ سیٹ کے نتیجے میں اب 24 اکتوبر کے روز ورلڈ کپ کے ہونے والے دونوں مقابلوں میں جنوبی ایشیائی ٹیمیں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔

    دن کے پہلے میچ میں شارجہ کے تاریخی میدان میں سری لنکا کا سامنا بنگلہ دیش سے ہوگا اور یہ میچ پاکستان وقت کے مطابق دوپہر تین بجے کھیلا جائے گا۔

    اس میچ کے بعد انڈیا اور پاکستان کی ٹیمیں دبئی کے کرکٹ گراؤنڈ میں اتریں گی اور یہ 2019 کے عالمی ورلڈ کپ کے بعد پہلا موقع ہوگا جب یہ روایتی حریف مد مقابل ہوں گے۔

    یہ بات تو سب کو ہی معلوم ہے کہ ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستان کبھی بھی انڈیا کو ہرا نہیں سکا ہے اور مجموعی طور پر ٹی ٹوئنٹی میں بھی پاکستان کا انڈیا کے خلاف ریکارڈ انتہائی برا ہے اور وہ صرف ایک بار کامیابی حاصل کر سکا ہے جبکہ انڈیا نے چھ میچ جیتے ہیں۔

  2. معین علی میچ کے بہترین کھلاڑی قرار!

    انگلینڈ کے سپنر معین علی کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا۔ انھوں نے اپنے چار اوورز میں ایک میڈن پھینکا اور 17 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔

    یہ انھی کی بولنگ تھی جس کے باعث ویسٹ انڈین بلے باز اپنے زور دکھانے سے قاصر رہے۔

  3. ویسٹ انڈیز کے 55 رنز: مردوں کے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں تیسرا سب سے کم سکور

    آج تک کھیلے گئے تمام مردوں کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں میں سب سے کم سکور کا ریکارڈ نیدرلینڈز کے پاس ہے جب انھوں نے 2014 میں سری لنکا کے خلاف 39 رنز بنائے۔

    سات برس بعد 22 اکتوبر کو انھیں ایک بار پھر ویسی ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب سری لنکا نے انھیں صرف 44 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

    لیکن یہ شاید کسی کے تصور میں بھی نہ ہوگا کہ عالمی چیمپیئن اور تباہ کن بلے بازوں سے بھری ہوئی ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی سب سے کم ترین سکور کی فہرست میں اپنی جگہ ایسے بنا پائے گی۔

    ویسٹ انڈیز کے 55 رنز کسی بھی اننگز میں سب سے کم رنز بنانے کی فہرست میں اب تیسرے نمبر پر ہے اور ان کا یہ اپنا سب سے کم رنز پر آؤٹ ہو جانے کا نیا ریکارڈ ہے۔

  4. بریکنگ, ڈگمگانے کے باوجود انگلینڈ کی چھ وکٹوں سے آسان جیت, ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور صرف 55 رنز بنا سکی

    انگلینڈ کی ٹیم اس ورلڈ کپ کی فیورٹس میں شامل ہے اور اپنے پہلے میچ میں انھوں نے دفاعی چیمپیئن ویسٹ انڈیز کو باآسانی چھ وکٹوں سے ہرا دیا۔

    اس جیت کا سہرا ان کی بولنگ لائن اپ اور بالخصوص عادل راشد کے سر رہا جنھوں نے اپنے کرئیر کی بہترین بولنگ کی اور صرف 14 گیندوں میں دو رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔

    لیکن میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز معین علی کے نام ہوا جن کے اوپننگ سپیل کی بدولت ویسٹ انڈیز کی خطرناک بیٹنگ چل نہ سکی۔

  5. عقیل حسین کا ناقابل یقین کیچ! انگلینڈ کے چار آؤٹ, انگلینڈ کا سکور 43/4، سات اوورز مکمل

    ویسٹ انڈیز کے بائیں ہاتھ کے سپنر عقیل حسین نے اپنے آخری اوور میں لیام لیونگ سٹون کا انتہائی ناقابل یقین کیچ لے کر انگلینڈ کی ٹیم کو سکتے سے دوچار کر دیا ہے۔

    ہدف کم ہو جانے کے باعث یہ شاید ممکن نہ ہو کہ ویسٹ انڈیز کوئی معجزہ کر جائے لیکن اس وقت ان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

  6. بریکنگ, انگلینڈ کی تیسری وکٹ بھی گر گئی!, انگلینڈ کا سکور 34/3، چھ اوورز مکمل

    ویسٹ انڈیز کی جانب سے 55 رنز کا ہدف دینے کے باوجود انگلینڈ کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی اور 34 رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہیں۔

    تیسرے آؤٹ ہونے والے معین علی تھے جو ایک غیر ضروری رن لینے کے چکر میں رن آؤٹ ہو گئے۔

    عبید میک کوائے کے پہلے اوور کی دوسری گیند پر بٹلر نے وکٹوں کے پیچھے شاٹ کھیلا جس پر معین علی رن لینے کے لیے دوڑے لیکن بٹلر نے ان کی سنی ان سنی کر دی اور معین علی جب تک کریز میں واپس آتے ، وہ رن آؤٹ ہو چکے تھے۔

  7. بریکنگ, بیئرسٹو بھی پویلین واپس!, انگلینڈ کا سکور 34/2، پانچ اوورز مکمل

    اپنا تیسرا اوور کرانے والے اکیل حسین نے اپنی پہلی گیند پر جونی بئیرسٹو کو اندر آتی ہوئی گیند کرائی جسے وہ ٹھیک سے نہ کھیل سکے اور بولر کو واپس کیچ دے بیٹھے۔

    لیکن اتنے کم ہدف کا مطلب یہ تھا کہ انگلینڈ کے کھلاڑی بغیر کسی دباؤ کے بیٹنگ کر رہے تھے اور اگلی پانچ گیندوں پر نئے بلے باز معین علی اور جوز بٹلر نے کوئی خطرے مول لیے بغیر چار رنز حاصل کیے۔

  8. بریکنگ, ویسٹ انڈیز کی پہلی کامیابی، رائے آؤٹ, انگلینڈ کا سکور 30/1، چار اوورز مکمل

    ادھر روی رام پال نے اپنے دوسرے اوور کی پہلی گیند ہلکی کر کر رائے کو چکمہ دیا جو شاٹ پر قابو نہ رکھ سکے اور مڈ آن پر کھڑے کرس گیل کو کیچ دے بیٹھے۔

    لیکن اس کے بعد کریز پر آنے والے جونی بئیرسٹو نے رام پال کی بولنگ کو خاطر میں کائے بغیر لگاتار دو گیندوں پر دو بہترین چوکے لگائے جن میں سے ایک بولر کے پیچھے کی باؤنڈری پر اور ایک کوور باؤنڈری پر گیا۔

  9. جیسن رائے کا چھکا!, انگلینڈ کا سکور 21/0، تین اوورز مکمل

    جیسن رائے نے اکیل حسین کے دوسرے اوور کی پہلی ہی گیند پر قدموں کا استعمال کیا اور شاندار طریقے سے بائیں ہاتھ کے سپنر کو کوورز کے اوپر سے باہر شاٹ کھیل کر چھ رنز حاصل کیے۔

  10. انگلینڈ کی ٹیم کا پراعتماد آغاز, انگلینڈ کا سکور 10/0، دو اوورز مکمل

    ویسٹ انڈیز کی جانب سے اکیل حسین نے پہلا اوور کرایا جس میں انگلینڈ نے باآسانی پانچ رنز ایک چوکے کی مدد سے حاصل کیے۔

    یہ شاید کوشش تھی کہ معین علی کی طرح سپنر سے آغاز کیا جائے اور جیسن رائے کی سپنرز کے خلاف قدرے کمزور بیٹنگ کا فائدہ اٹھایا جائے۔

    دوسرے اوور میں روی رام پال نے بولنگ کی اور وہ بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے اور انھوں نے ایک چوکے کے ساتھ اوور میں پانچ رنز دیے۔

    اس موقع پر جوز بٹلر آٹھ رنز اور رائے دو رنز پر کھیل رہے ہیں۔

  11. انگلینڈ کا بولنگ کارڈ

    معین علی: چار اوورز میں 17 رنز دے کر دو وکٹیں

    کرس ووکس: دو اوورز میں 12 رنز دے کر ایک وکٹ

    ٹائمل ملز: چار اوورز میں 17 رنز دے کر دو وکٹیں

    کرس جورڈن: دو اوورز میں سات رنز دے کر ایک وکٹ

    عادل راشد: 2.2 اوورز میں دو رنز دے کر چار وکٹیں

  12. بریکنگ, انگلینڈ کے بولرز کے سامنے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ ریت کی دیوار!

    انگلینڈ نے اننگز میں پانچ بولرز کا استعمال کیا اور پانچوں نے وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو جیت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

    لیکن یہ شاید کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ دفاعی چیمپئین اور جارحانہ بلے بازوں سے بھری ہوئی ویسٹ انڈیز کی ٹیم ایسی ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔

    آئن مورگن کی جانب سے معین علی کو پہلا اوور دینا کا فیصلہ درست ثابت ہوا اور انھوں نے ایک ساتھ چار اوورز کا سپیل کرایا جس کے خاتمے تک ویسٹ انڈیز کے چار کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے اور صرف 33 رنز بنے تھے۔

    ویسٹ انڈیز کی جانب سے کرس گیل نے دو چوکے لگائے اور 13 رنز بنائے لیک وہ بھی ملز کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

    وہ واحد کھلاڑی تھے جنھوں نے دس سے زیادہ رنز بنائے۔

    انگلینڈ کی جانب سے عادل راشد نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ معین علی اور ٹائمل ملز نے دو دو جبکہ کرس ووکس اور کرس جارڈن نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    میچ کا تفصیلی سکور کارڈ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  13. ’اس سے دو سپنرز کی قدر کا اندازہ ہوتا ہے‘

    ٹوئٹر پر اسماعیل ملا کہتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز نے کافی خراب کارکردگی دکھائی ہے۔

    ’انگلینڈ نے بہت اچھی بولنگ کی۔ اس سے دو سپنرز کی قدر کا اندازہ ہوتا ہے۔‘

  14. بریکنگ, عادل راشد کی تباہ کن بولنگ، ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 55 رنز پر ڈھیر, ویسٹ انڈیز 55 آل آؤٹ، 14.2 اوورز

    انگلینڈ کے لیگ سپنر عادل راشد نے محض 14 گیندوں پر دو رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے نہ صرف اپنے کرئیر کی بہترین بولنگ کی بلکہ دفاعی چیمپئین ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کو صرف 55 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

  15. بریکنگ, پولارڈ، میک کوائے، دو گیندوں پر لگاتار دو آؤٹ، عادل راشد ہیٹ ٹرک پر!

    اننگز کا 13واں اوور کرانے کے لیے عادل راشد آئے اور انھوں نے اپنی پہلی دو گیندوں پر ویسٹ انڈیز کے کپتان پولارڈ اور اگلی گیند پر نئے بلے باز عبید میک کوائے کو کیچ چکمہ دیتے ہوئے کیچ آؤٹ کر وا دیا۔

    اس موقع پر ویسٹ انڈیز کا سکور 49 رنز تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ پوری اننگز 50 سے کم پر سمٹ جائے گی۔

    لیکن آخری بلے باز روی رام پال نے کم از کم ایسا ہونے نہیں دیا اور اوور کی پانچویں گیند پر ایک رن حاصل کر کے اس ہزیمت سے اپنی ٹیم کو بچا لیا۔

  16. ویسٹ انڈیز کی امیدوں کا سارا دار و مدار کپتان پولارڈ پر, ویسٹ انڈیزکا سکور 49/7، 12 اوورز مکمل

    دفاعی چیمپئین کی حیثیت سے ٹورنامنٹ میں آنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم ان کے جارحانہ بلے بازوں کی وجہ سے معروف ہے اور اس بار بھی یہی توقع تھی۔

    لیکن انگلینڈ نے اب تک کی کارکردگی سے دکھایا کہ وہ اب تک میچ پر پوری طرح حاوی ہیں۔

    ٹائمل ملز نے اننگز کا 12واں اوور کرایا اور اس میں انھوں نے صرف چار رنز مزید دیے اور اب بڑے سکور کے لیے ویسٹ انڈیز کا سارا دار و مدار ان کے کپتان پولارڈ پر ہے جو ماضی میں ایسی کئی اننگز کھیل چکے ہیں۔

  17. بریکنگ, عادل راشد کی پہلے ہی اوور میں کامیابی، آندرے رسل بھی آؤٹ, ویسٹ انڈیزکا سکور 45/7، 11 اوورز مکمل

    لیگ سپنر عادل راشد کو 11ویں اوور کے لیے لایا گیا اور انھوں نے اپنے اوور کی پہلی گیند پر آندرے رسل کو بولڈ کر دیا جو ڈرفٹ کرتی ہوئی گیند کو سمجھ نے سکے اور بال بلے اور بیڈ کے درمیانی راستے سے بغیر کسی رکاوٹ سٹمپس کو جا لگی۔

    بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اکیل حسین کریز پر آئے جنھوں نے محتاط انداز میں بیٹنگ کی اور اوور میں مزید ایک ہی رن حاصل کر سکے۔

  18. میچ کے پہلے دس اوورز کے بعد ویسٹ انڈیز کی جیت کی امیدیں مدہم, ویسٹ انڈیزکا سکور 44/6، دس اوورز مکمل

    کرس جارڈن نے اپنے دوسرے اوور میں صرف دو رن دیے اور ویسٹ انڈیز کے کپتان کئیرون پولارڈ اور ان کے ساتھ آل راؤنڈر آندرے رسل صرف اس وقت وکٹ پر موجود رہنے کو ہی غنیمت سمجھ رہے ہیں۔

    دس اوورز میں چھ وکٹیں کھو جانے کے بعد میچ جیتنے کی زیادہ امیدیں نہیں ہوتی اور انگلینڈ کی ٹیم بھی اسی اعتماد کے ساتھ پوری طرح کھیل پر اس وقت حاوی نظر آ رہی ہے۔

  19. بریکنگ, نکولس پورن بھی واپس چل دیے!, ویسٹ انڈیزکا سکور 42/6، نو اوورز مکمل

    ویسٹ انڈیز کی اننگز کے بکھرنے کا سلسلہ روکنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور اس بار ٹائمل ملز نے اپنے دوسرے اوور میں ویسٹ انڈیز کے قابل بھروسہ نکولس پورن کو بھی چلتا کر دیا جو صرف ایک ربن بنا سکے۔

    اپنی گیندوں میں ورائٹی لاتے ہوئے ملز نے مسلسل پورن کو دباؤ میں رکھا اور ایک وائیڈ کرانے کے باوجود ان کی لائن ٹھیک رہی۔

    اوور کی پانچویں گیند پر انھوں نے تیز بال کرائی جسے پورن کھیلنے گئے اور وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔

  20. ’پاور پلے میں تیز کھیلنے کی کوشش وکٹیں گِرنے کا باعث بن سکتی ہے‘

    جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی پاور پلے میں خراب بیٹنگ دیکھنے کے بعد ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’اگر کوئی ٹیم پاور پلے میں تیز کھیلنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ جلد وکٹیں گنوا بیٹھے گی۔‘

    ’پاکستان کے پاس ایسے اوپنرز ہیں جو خطرہ مول لیے بغیر اچھی شاٹس کھیل کر رنز بنا سکتے ہیں۔۔۔‘

    ویسٹ انڈیز نے پاور پلے میں صرف 31 رنز بنائے مگر ان کی چار وکٹیں گِر گئیں۔