یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کے الیکشن اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے مزید خبروں اور تجزیوں کے لیے آپ ہماری نئی لائیو کوریج کا رُخ کریں۔۔۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی ’بندش‘ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا گیا ہے اور اس کا الزام چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان پر عائد کیا گیا ہے جن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
پاکستان کے الیکشن اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے مزید خبروں اور تجزیوں کے لیے آپ ہماری نئی لائیو کوریج کا رُخ کریں۔۔۔
سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے بارے میں الیکشن کمیشن نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اگلے تین روز میں رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کرے گی۔
اس دوران روالپنڈی کے ڈی آر اوز اور متعلقہ آر اوز کے بیان قلمبند کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ سنیچر کو راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں میں سکون کی موت مروں میں اس طرح کی زندگی نہیں جینا چاہتا جو میرے ساتھ ہوا ہے اور اس ڈویژن کے 13 ایم این ایز جو 70، 70 ہزار کی لیڈ سے ہارے ہوئے تھے ان پر جعلی مہریں لگا کر اتنابڑا کھلواڑ ہوا۔‘
اس اعلان کے بعد ان کی جانب سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد سے ان کی جگہ ڈی جی آر ڈی اے کو کمشنر راولپنڈی کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔
پاکستان بھر میں صارفین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انٹرنیٹ پر بندشوں کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں اور افراتفری کے درمیان صارفین کو ایکس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘
اس حوالے سے ہم نے پی ٹی اے کی ترجمان سے مؤقف جاننے کی کوشش کی ہے تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
ایکس کی ’بندش‘ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب راولپنڈی کے کمشر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیا گیا ہے اور اس کا الزام چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان پر عائد کیا گیا ہے جن کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔
مسلم لیگ نواز کو ایک نشست ملنے کے بعد بلوچستان اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے اور اب پیپلز پارٹی کی بجائے پاکستان مُسلم لیگ ن بلوچستان میں زیادہ نشست حاصل کرنے والی جماعت بن گئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کی یہ تبدیلی کوہلو سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 9 پر آٹھ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کے باعث ہوئی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے پہلے کوہلو کی اس نشست پر پیپلز پارٹی کے نصیب اللہ مری کو کامیاب قرار دیا گیا تھا تاہم آٹھ پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ سے نواز لیک کے نواب جنگیز مری کو کامیاب قرار دیا گیا۔
ایک نشست کے اضافے کے بعد بلوچستان اسمبلی کی 51 عام نشستوں میں سے نواز لیگ کے اراکین کی تعداد 11ہوگئی جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 10 رہ گئی۔
بلوچستان اسمبلی میں جے یو آئی کے ارکان کی تعداد بھی 10 ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان کی تعداد 4 ہے۔ تاہم قلات منگیچر کی ایک نشست پر حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے جہاں سے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار میر ضیاء اللہ لانگو کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں نیشنل پارٹی کے ارکان کی تعداد 3اوراے این پی کے ارکان کی تعداد 2 ہے۔
بی این پی، بی این پی عوامی، جماعت اسلامی اور حق دو تحریک کے ارکان کی تعداد ایک ایک ہے جبکہ بلوچستان اسمبلیمیں 6 آزاد ارکان کامیاب ہوئے۔
کمشنر راولپنڈی کے عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق بیانات کے سانے آنے کے بعد مُلک کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کے میڈیا ونگ کی جانب سے ایکس (سابق ٹویٹر) پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے کسی قسم کے خدشات کے لیے دستیاب قانونی راستے اختیار کیا جائے۔‘
جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ملک میں حال ہی میں ہونے والے عام انتخابات جمہوریت کے فروغ کی طرف ایک قدم ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کی جانب سے نمایاں ٹرن آؤٹ کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔‘
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انتخابات کے بعد یہ ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو یہ احساس ہو کہ جیت اور ہار جمہوری عمل کے بنیادی پہلو ہیں اور انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے کسی قسم کے خدشات کا اظہار کرنے والی جماعتوں اور افراد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ دستیاب چینلز کے ذریعے قانونی راستے اختیار کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے قانون ساز، عدالتی اور انتظامی شعبے پر عزم ہیں اور سب کو غیر جانبدارانہ انصاف فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
نگران وزیر اعظم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’پرامن احتجاج اور اجتماع بنیادی حقوق ہیں لیکن کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں ہوگی اور قانون بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا راستہ اختیار کرے گا۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل آج دوپہر کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ نے عام انتخابات میں دھاندلی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ انھوں نے راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں میں سکون کی موت مروں میں اس طرح کی زندگی نہیں جینا چاہتا۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’جو میں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے۔ میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے اس کی بھرپور طریقے سے سزا دینی چاہیے۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ سابق وزیر عمران خان نے انہیں اقلیتوں اور خواتین کی نشستیں حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سنیچر کو سردار لطیف کھوسہ اور عامر ڈوگر کے ہمراہ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران عمران خان نے انھیں ’واضح ہدایات دی ہیں کہ کن کن جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ بات کریں اور جس سے بات ہوتی ہے اس جماعت میں عارضی طور پر شامل ہوکر اپنی سیٹیں بحال کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن جلد از جلد منعقد کیے جائیں۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ ’راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے اعتراف کیا ہے کہ 'تحریکِ انصاف کا مینڈیٹ کسی اور کو دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کا مینڈیٹ انھیں واپس کیا جائے۔
’اس ملک کو ہم نے پُرامن طریقے سے چلانا ہے۔ ہماری 93 نشستیں نہیں ہیں بلکہ ہماری 160 سے بھی زیادہ نشتیں بنتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سیاسی انتقام نہیں بلکہ سیاسی استحکام کی طرف ملک کو لے کر جائیں گے۔‘
خیال رہے راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ڈویژن میں ’70، 70 ہزار کی لیڈ‘ سے ہارنے والے امیدواروں کو مبینہ طور پر جعلی مہریں لگا کر جتوایا گیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ 'اس ساری غلط کاری کی ذمہ داری میں اپنے اوپر لے رہا ہوں اور ساتھ بتا رہا ہوں جو چیف الیکشن کمشنر ہیں، چیف جسٹس ہیں وہ اس کام میں پورے شریک ہیں۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میں اس ملک کو توڑنے کی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا۔'
ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ 'آپ کچھ بھی الزامات لگا سکتے ہیں، کل مجھ پر کوئی چوری کا الزام لگادیں، کوئی قتل کا الزام لگا دیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'الزام لگانا لوگوں کا حق ہے لیکن ساتھ ساتھ ثبوت بھی دے دیں۔'
پاکستان تحریکِ انصاف پارلیمنٹیرین کے چیئرمین پرویز خٹک نے پارٹی کے عہدے اور رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
انھوں نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ وہ صحت کے مسائل کی وجہ سے پارٹی کی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں اور ان کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ بحیثیت پارٹی چیئرمین خدمات سرانجام دینا ان کے لیے قابلِ فخر تھا لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام نہیں دے پا رہے۔
خیال رہے پرویز خٹک کی جماعت 8 فروری کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں صرف دو نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکی تھی اور ان کے حصے میں قومی اسمبلی کی کوئی نشست نہیں آئی تھی۔
الیکشن میں پرویز خٹک کو بھی صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانے والے راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے اور ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔
سنیچر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ انتخابات کا انعقاد کمشنر کی نہیں بلکہ ریٹرنگ افسران اور ڈپٹی ریٹرنگ افسران کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'کمشنر نہ تو ریٹرنگ افسر ہوتا ہے اور نہ ہی ڈپٹی ریٹرنگ افسرہوتا ہے۔'
مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ کسی امیدوار کو بھی 50 ہزار ووٹ کی لیڈ سے نہیں جتوایا گیا۔
ان کے مطابق کمشنر کے پاس ایسا کوئی اختیار موجود نہیں ہوتا جو انھیں الیکشن کے نتائج کی تیاری تک رسائی دے۔
ن لیگ کی رہنما نے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لیاقت علی چٹھہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے اور 'ان کے پورے ریکارڈ کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات کریں کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کی روز مرہ کی مصروفیات کیا تھیں۔'
خیال رہے راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ڈویژن میں ’70، 70 ہزار کی لیڈ‘ سے ہارنے والے امیدواروں کو مبینہ طور پر جعلی مہریں لگا کر جتوایا گیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’اس ساری غلط کاری کی ذمہ داری میں اپنے اوپر لے رہا ہوں اور ساتھ بتا رہا ہوں جو چیف الیکشن کمشنر ہیں، چیف جسٹس ہیں وہ اس کام میں پورے شریک ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس ملک کو توڑنے کی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا۔‘
ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’آپ کچھ بھی الزامات لگا سکتے ہیں، کل مجھ پر کوئی چوری کا الزام لگادیں، کوئی قتل کا الزام لگا دیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’الزام لگانا لوگوں کا حق ہے لیکن ساتھ ساتھ ثبوت بھی دے دیں۔‘
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے راولپنڈی ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق الزامات کی تردید کردی ہے۔
سنیچر کو سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا لیاقت علی چٹھہ کے الزامات پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آپ الزام لگا دیں بے بنیاد، نہ کچھ اس میں ذرا سی بھی صداقت ہو، نہ ذرا سی کوئی سچائی ہو، نہ آپ کوئی ثبوت پیش کریں۔‘
خیال رہے راولپنڈی ڈویژن کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ڈویژن میں ’70، 70 ہزار کی لیڈ‘ سے ہارنے والے امیدواروں کو مبینہ طور پر جعلی مہریں لگا کر جتوایا گیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’اس ساری غلط کاری کی ذمہ داری میں اپنے اوپر لے رہا ہوں اور ساتھ بتا رہا ہوں جو چیف الیکشن کمشنر ہیں، چیف جسٹس ہیں وہ اس کام میں پورے شریک ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں اس ملک کو توڑنے کی سازش کا حصہ نہیں بن سکتا۔‘
ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’آپ کچھ بھی الزامات لگا سکتے ہیں، کل مجھ پر کوئی چوری کا الزام لگادیں، کوئی قتل کا الزام لگا دیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’الزام لگانا لوگوں کا حق ہے لیکن ساتھ ساتھ ثبوت بھی دے دیں۔‘
خیال رہے اس وقت اس وقت کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر میں مشاورتی اجلاس جاری ہے۔
اس اجلاس میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ موجود ہے۔
اس اجلاس میں کمشنر راولپنڈی کے الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مشاورت کی جا رہی ہے کہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لینا چاہیے یا نہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ ’اب ہم کسی کو بھی پاکستان مُسلم لیگ ن کا مینڈیٹ چھیننے نہیں دیں گے، ن لیگ سے 2013 اور 2018 میں بھی مینڈیٹ چھینا گیا تھا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن میں نتائج سے متعلق دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔‘ انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے پی میں جیتے واہ واہ، آزاد اُمیدوار جیتے تو واہ واہ مگر جہاں آپ کے حق میں فیصلہ نہیں آیا وہا آپ کی جانب سے دھاندلی کا الزام لگا دیا گیا۔‘
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ ’کمشنر راولپنڈی نے رٹائرمنٹ سے پہلے ہیرو بننے کی کوشش کی ہے، انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت چیف الیکشن کمیشنر دونوں پر الزامات لگا دیے ہیں۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف نے راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کے انتخابات میں دھاندلی کروانے کے الزامات پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
سنیچر کو ایک بیان میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کمشنر راولپنڈی کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پاس عہدے پر رہنے کا کوئی آئینی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔
خیال رہے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'میں چاہتا ہوں میں سکون کی موت مروں، میں اس طرح کی زندگی نہیں جینا چاہتا جو میرے ساتھ ہوا ہے اور اس ڈویژن کے 13 ایم این ایز جو 70، 70 ہزار کی لیڈ سے ہارے ہوئے تھے ان پر جعلی مہریں لگا کر انتا بڑا کھلواڑ ہوا۔'
پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کے کمشنر کے بیان سے ان کی جماعت کے 'الیکشن چوری' کیے جانے کے مؤقف کی تائید و توثیق ہوئی ہے۔
واضح رہے پاکستان تحریکِ انصاف آج ملک بھر میں عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
لاہور میں پولیس نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 128 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حصہ لینے والے امیدوار سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
واضح رہے پاکستان تحریکِ انصاف آج ملک بھر میں عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق سلمان اکرم راجہ کو جیل روڈ پر واقع پارٹی کے سیکریٹیریٹ کے باہر سے احتجاجی مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا۔
گرفتاری کے وقت سلمان اکرم راجہ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'یہ مجھے غیرقانونی طور پر گرفتار کر رہے ہیں۔ میں عوام کے ساتھ ہوں اور ہم حق کی آواز بُلند کرتے رہیں گے۔'
خیال رہے سلمان اکرم راجہ نے اپنے مخالف امیدوار عون چوہدری پر الیکشن میں مبینہ دھاندلی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے استحکامِ پاکستان پارٹی کے امیدوار عون چوہدری کی کامیاب کا نوٹس واپس لے لیا ہے اور سلمان اکرم راجہ کی مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔
الیکشن کمیشن نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ کے عام انتخابات میں دھاندلی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف الزامات کی تردید کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کا جلد انکوائری کرائے گا۔
کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ نے عام انتخابات میں دھاندلی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں میں سکون کی موت مروں میں اس طرح کی زندگی نہیں جینا چاہتا جو میرے ساتھ ہوا ہے اور اس ڈویژن کے 13 ایم این ایز جو 70، 70 ہزار کی لیڈ سے ہارے ہوئے تھے ان پر جعلی مہریں لگا کر اتنابڑا کھلواڑ ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ (ہم) وہی 71(19) کی طرف جا رہے ہیں یہ ملک کہیں سے کہیں جا رہا ہے اور ہم یہاں بیٹھے کیسے کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ (سب) مجھے زیب نہیں دیتا تھا اس لیے میں نے اپنے عہدے سے اپنی سروس سے سب چیزوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔‘
کمشنر نے کہا کہ ’اور جو میں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے۔ میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے اس کی بھرپور طریقے سے سزا دینی چاہیے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’غلط کام کون کر رہا ہے کون کروا رہا ہے یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہوئی ہے۔‘
ان کے مطابق ’میرے اوپر سوشل میڈیا اور اوورسیز پاکستانیوں کا بہت دباؤ تھا۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمر ایوب خان کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اڈیالہ جیل میں ناقص کھانا دیے جانے کے باعث بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ اور سابق خاتونِ اول بشرٰی بی بی کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی ذمہ دار آدیالہ جیل انتظامیہ اور حکومت ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواستوں پر سماعت کے لیے ایک رکنی الیکشن ٹریبونل قائم کر دیا ہے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری الیکشن ٹریبونل کی سر براہی کریں گے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 139 کے تحت اسلام آباد کی نشستوں کے انتخابی چیلنج کر رکھے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف سنیچر کے روز اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کی کال دی ہوئی ہے۔
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ناکوں پر تلاشی سخت کردی گئی ہے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے سی ٹی ڈی کے خصوصی دستے گشت پر تعینات ہیں۔
شہریوں کو دوران سفر ضروری شناختی دستاویزات ساتھ رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس نے دوران چیکنگ تعاون کی درخواست کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس دوران ایف نائن پارک کے اطراف میں ٹریفک کا رش ہوسکتا ہے۔ آنھوں نے شہریوں سے اس طرف غیرضروری سفر سے اجتناب کرنے کی درخواست کی ہے۔