آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مخصوص نشستوں کے حصول‘ کے لیے پی ٹی آئی کا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اتحاد کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اتحاد کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نو منتخب آزاد اراکین سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے کامیاب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے تینوں امیدواروں کے نوٹیفیکیشن معطل کر دیے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 82 ارکان سنی اتحاد کونسل میں شامل: تحریک انصاف پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں حاصل کر لے گی؟

  2. پیپلز پارٹی اور مُسلم لیگ ن کے درمیان معاملات طے، شہباز شریف وزیر اعظم اور آصف علی زرداری صدر ہوں گے

  3. بلوچستان اسمبلی کے دو نومنتخب آزاد اراکین کا پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان اسمبلی کے دو نومنتخب آزاد اراکین کی شمولیت اور ایک آزاد رکن کی حمایت کے بعد پیپلز پارٹی کو بلوچستان اسمبلی میں دوبارہ اکثریت حاصل ہوگئی۔

    پیپلز پارٹی میں جن آزاد اراکین نے شمولیت اختیار کی ان میں اسفندیار کاکڑ اور لیاقت لہڑی شامل ہیں۔ دونوں اراکین نے ایک اور آزاد رکن کے ساتھ گزشتہ روز اسلام آباد میں سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنمائوں سے ملاقات کی تھی۔

    نومنتخب رکن اسمبلی اسفندیار کاکڑ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور لیاقت لہڑی پیپلز پارٹی میں باقاعدہ شامل ہوگئے ہیں جبکہ مولوی نوراللہ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گے۔

    رابطہ کرنے پر مولوی نوراللہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ وہ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گے تاہم انھوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔

    دو آزاد اراکین کی شمولیت اور ایک آزاد رکن کی حمایت سے حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو بلوچستان میں 13 اراکین کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔

    واصح رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں نواز لیگ کے اراکین کی تعداد 11 ہے۔

    10 اراکین اسمبلی کے ساتھ جمیعت العلماء اسلام بلوچستان میں تیسری جماعت ہے۔

  4. ’ہمارا کابینہ میں شامل ہونا کبھی بھی ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا‘ قمر زمان کائرہ

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے جیو نیوز کے پروگرام شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم تو پہلے ہی پاکستان مُسلم لیگ ن کو یہ کہہ چُکے ہیں آپ وفاق میں حکومت بنائیں، اب چار مُلاقاتیں ہو چُکی ہیں اور ان میں یہی بات تہہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔‘

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کابینہ میں شامل ہونا کسی دن بھی ایجنڈے پر نہیں تھا کیونکہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے چیلنجز ایسے ہیں کہ یا تو کوئی مشترکہ حکومت ہوتی یا کسی ایک جماعت کو مکمل آزادی دی جائے اور انھیں معاونت فراہم کی جائے کہ وہ کُھل کر اپنا کام کریں اور پاکستان کو اس بحران سے نکالیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’معاملات کافی حد تک تہہ پا چُکے ہیں مگر یہ سمجھ نہیں آرہی کہ جلدی کس بات کی ہے ابھی تو کافی دن ہیں کہ جس میں قومی اسمبلی کا اجلاس بُلایا جانا ہے اور اُس میں بھی پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر کا انتخاب ہونا ہے جس کے بعد وزیرِ اعظم کی بات ہوگی۔‘

    کابینہ میں شمولیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان مُسلم لیگ ن کی جانب سے کبھی بھی یہ بات ایجینڈے میں شامل نہیں تھی کہ پی پی پی کابینہ کا حصہ بنے جو لوگ اس بارے میں (ن لیگ کے رہنما) بات کر رہے ہیں یہ اُن کی ذاتی خواہش تو ہو سکتی ہے مگر اُن کی پارٹی یا جماعت کی جانب سے ایسا کبھی نہیں کہا گیا۔‘

    پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے سامنے آنے والے موقف کہ وہ فواق اور پنجاب میں حکومت بنائیں گے پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے پاس حکومت بنانے کے لیے مناسب اکثریت نہیں ہے اُن کی جانب سے حکومت بنانے کی بات ایک سیاسی نعرہ تو ہو سکتا ہے مگر یہ حقیقت نہیں ہو سکتی۔‘

  5. ’بند کمروں میں فیصلے نہیں ہونے دیں گے، جموریت چلے گی تو آئین اور قانون کے مطابق چلے گی‘ اسد قیصر

    اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف اور شیرانی گروپ کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں شیرانی گروپ کے مولانا گُل نصیب، پاکستان تحریک انصاف کے گوہر علی خان، اسد قیصر اور عُمر ایوب نے شرکت کی۔

    شیرانی گروپ کے مولانا گُل نصیب نے پریس کانفرنس کے آغام پر بات کرتے ہوئے کہا ’ہم تحریکِ انصاف کے ساتھ مل کر چلنے کا فیصلہ کیا ہے، اس وقت مُلک کو سب سے زیادہ سیاسی استحکام کی ضرورت ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ اس نظام سے متعلق اعتماد کی فضا کو قائم کی جائے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مقتدر شخصیات اور سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ اتفاق پیدا کریں اور مل کر مُلک کو مُشکلات سے نکالنے کے لیے اپنا کرداد ادا کریں۔‘

    اس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ’ہمارا اور شیرانی گروپ کا یہ اتحاد قائم رہے گا، شیرانی گروپ نے پی ٹی آئی کا مُشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان ہمارا ہے اور جمہوریت چلتی رہی چاہیے اس نظام کے چلتے رہنے کے لیے مُلک میں معاشی حالت کی بہتری اور استحکام کے لیے ہم سب کا ایک مل کر چلنا ضروری ہے۔‘

    گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں جس طرح سے دھاندلی ہوئی ہے اس نظام اور سلسلے کو اب ختم ہونا چاہیے ہمیں ہمارا مینڈیٹ ملنا چاہیے، اور آج ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ہم اس بارے میں بھی مل کر کوشش کریں گیے کہ آنے والے وقت میں بھی کبھی انتخابات میں دھاندلی نا ہو۔‘

    اسی پریس کانفرنس میں موجود پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ’ہم اُن تمام سیاسی جماعتوں سے بات کر رہے ہیں کہ جن کو ان انتخابات پر کسی بھی قسم کے تحفظات ہیں، یہ میرے خیال میں پہلی مرتبہ ہے کہ انتخابات سے متعلق اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے دھاندلی پر آواز اُٹھائی ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ فارم 45 کے مطابق جس بھی اُمیدوار کا مینڈیٹ بنتا ہے اُسے دیا جائے، ہم چیف جسٹس سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کمشنر راولپنڈی نے انکشافات کیے ہیں اُن کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمشن بنایا جائے۔‘

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی کو بھی یہ حق نہیں دیں گے کہ وہ بند کمروں میں فیصلہ کریں، فیصلہ اگر ہگا تو آئین اور قانون کے مطابق ہوگا، عوام نے جس کے حق میں فیصلہ کیا ہے مینڈیٹ اُسی کا ہے۔‘

  6. بلوچستان میں ن لیگ کا وزیر اعلیٰ لانا چاہتے ہیں: صدر مسلم لیگ ن بلوچستان, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی اردو کوئٹہ

    مسلم لیگ بلوچستان کے صدر شیخ جعفر خان مندوخیل اور نومنتخب اراکین صوبائی اسمبلی نے کہا ہے کہ نوازلیگ کی مرکزی قیادت نے تاحال بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ پیپلزپارٹی کو دینے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

    پیر کو کوئٹہ میں نواز لیگ کے نومنتخب اراکین بلوچستان اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران، میر شعیب نوشیروانی اور سردار مسعود لونی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ’بلوچستان میں نواز لیگ اکثریت میں ہے اور ہم بلوچستان میں نواز لیگ کا وزیر اعلیٰ لانا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور دیگر جماعتیں نواز لیگ کے ساتھ مخلوط حکومت میں زیادہ مطمئن رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو اراکین آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں ان سے ہم رابطے میں ہیں۔‘

    شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ’نواز لیگ کی مرکزی قیادت نے بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے جو بھی فیصلہ کیا وہ ہمارے لیے قبول ہوگا لیکن نواز لیگ کی مرکزی قیادت نے تاحال بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ پیپلز پارٹی کو دینے کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے۔

  7. پی ٹی آئی کو ’سوشل میڈیا کی پارٹی‘ کا طعنہ دینے والی جماعتیں کیسے سوشل میڈیا پر ہی اس سے شکست کھا گئیں

  8. قومی اور پنجاب اسمبلی کے مزید ایک ایک آزاد امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 12 کوہستان سے آزاد حیثیت سے منتخب رکن محمد ادریس جبکہ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 242 بہاولنگر سے منتخب رکن کاشف نوید پنسوتہ نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

    دونوں نو منتخب اراکینِ نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان مسلم لیگ ن کے صدر اور نامزد وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات میں کیا۔

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے مسائل کے حل کی اجتماعی سوچ درکار ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ تعاون اور برداشت کے قومی جذبے سے ہی مسائل کا مقابلہ کیاجاسکتا ہے۔

    مسلم لیگ ن نے دعوٰی کیا ہے کہ عام انتخابات کے بعد سے اب تک قومی اسمبلی کی سات نشستوں پر آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے نمائندوں نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جبکہ ان کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنے وال آزاد امیدواروں کی تعداد 20 ہے۔

  9. بریکنگ, پی ٹی آئی کا سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اتحاد کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نو منتخب آزاد اراکین سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے ہیں۔

    سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 70 جبکہ پورے ملک میں 227 مخصوص نشستیں ہیں جو صرف سیاسی جماعتوں کو ملتی ہیں۔ ان مخصوص نشستوں کو محفوظ کرنے کے لیے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ ہمارا ایک رسمی معائدہ ہوا ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو باضابطہ درخواست دے کر ہم مطالبہ کریں گے کہ ہماری مخصوص نشستیں قانون کے مطابق دی جائیں۔‘

    اس موقع پر پی ٹی آئی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد عمر ایوب نے کہا کہ ’مجلس وحدت المسلیمن نے پی ٹی آئی کی جتنی مدد کی، میرے پاس ان کے شکریہ کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔‘

  10. بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے کامیاب ہونے والے ن لیگ کے تین امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے کامیاب ہونے والے مسلم لیگ نون کے تینوں امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔

    نون لیگ کے جن تین امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کیا گیا ہے، ان میں این اے 46 سے انجم عقیل خان، این اے 47 سے طارق فضل چوہدری اور آزاد حیثیت میں کامیاب ہو کر نون لیگ میں شامل ہونے والے راجہ خرم نواز شامل ہیں۔

  11. پاکستانی حکام ایکس (ٹوئٹر) سے اتنے خائف کیوں ہیں؟

  12. پارٹی قیادت سے ملنے کے لیے عمران خان نے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    عمران خان کی جانب سے وکیل شیر افضل مروت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ان کا موقف ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود وکلا اور پارٹی رہنماؤں کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

    درخواست میں درج ہے کہ وکلا کو دستاویزات تو دور کی بات، ایک صفحہ تک اڈیالہ جیل کے اندر نہیں لے کر جانے دیا جاتا اور ملاقات کے دوران پرائیویسی بھی فراہم نہیں کی جاتی۔

    عمران خان نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل کی انتظامیہ کی جانب سے وکلا کے دستاویزات کو قبضے میں لے لیا جاتا ہے اور 24 گھنٹے بعد واپس کیا جاتا ہے۔

    یہ استدعا کی گئی ہے کہ انھیں شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار خان، اسد قیصر اور فیض الرحمن سے سیاسی مشاورت کی اجازت دینے کے لیے احکامات جاری کیے جائیں۔

    اس درخواست میں سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔

  13. تحریک انصاف خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے کس جماعت کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتی ہے؟, اعظم خان، بی بی سی اردو

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ جماعت کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ راجہ ناصر عباس اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا آج سہہ پہر سوا تین بجے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔

    ان کے ساتھ وزارت عظمیٰ کے لیے پی ٹی آئی کے نامزد کردہ امیدوار عمر ایوب بھی موجود ہوں گے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ دنوں کے دوران وفاق اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نومنتخب آزاد امیدواروں کی ان جماعتوں میں شمولیت کا عندیہ دیا گیا تھا۔

    تحریک انصاف کو کون سے سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے؟

    پاکستان تحریک انصاف اس وقت حکومت سازی کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔ کبھی ایک جماعت تو کبھی دوسری سے اس کے رہنماؤں کے مذاکرات بھی ہو رہے ہیں مگر ابھی تک کسی ایک جماعت پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

    تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے لیے اکثریت تو حاصل ہے مگر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اگر الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات میں کامیابی کے حتمی نوٹیفکیشن کے بعد تین دن کے اندر کسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرتے تو پھر اسے مخصوص نشستوں سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔

    سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی استدعا کر رکھی ہے اور یہ کہا ہے کہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ہی یہ نشستیں دی جائیں۔

    اس درخواست پر سماعت آج ہونی ہے۔

    دوسری طرف پی ٹی آئی کی طرف سے خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اتوار کو پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیر کو عمران خان سے ملاقات میں یہ منظوری لی جائے گی کہ ان کی جماعت کو کس طرف جانا چاہیے۔

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ان کی جماعت کو متعدد سیاسی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    ان کے مطابق جس جماعت سے بھی ہمارے مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو سب سے پہلے پارٹی کے اندر سے ہی اختلافی آواز اٹھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن سمیت ادارے بھی تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر تحریک انصاف پارلینٹیرینز میں شمولیت اختیار کی تو پھر مخصوص نشستیں وہی ملیں گی جن کی فہرست پہلے سے جمع ہے۔ اسی طرح وفاق میں مجلس وحدت المسلمین کی مخصوص نشستوں کے لیے فہرست بھی ایک مکمل نہیں ہے۔

    ان کے مطابق اس کے علاوہ تحریک انصاف کی صفوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ پارٹی کو کسی ایک فرقے کی نمائندہ جماعت میں شمولیت نہیں اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق جب سنی اتحاد کونسل سے مذاکرات شروع ہوئے تو پھر پارٹی کے اندر سے یہ اعتراض اٹھا کہ ایسے شدت پسند گروپ تحریک انصاف کے ارکان اور کارکنان کے لیے قابل قبول نہیں۔

    بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ بھی مذاکرات اچھے رہے مگر پارٹی نے کہا کہ وہ مذہبی تشخص والی جماعت ہے۔ تاہم ان کے مطابق ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کو کس طرف جانا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آزاد حیثیت میں بھی تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ان کے مطابق اس وقت تحریک انصاف کو غیرمشروط حمایت کی ضرورت ہے مگر ساتھ ساتھ ایسی جماعت کی بھی تلاش ہے جس سے سیاسی اور قانونی چیلنجز سے بھی نمٹا جا سکے اور اپنے کارکن کو بھی مطمن رکھا جا سکے۔ بیرسٹر سیف کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان کے پاس منگل تک کا وقت ہے مگر الیکشن کمیشن نے قسطوں میں حتمی نتیجہ دینا شروع کر رکھا ہے، جس سے مزید مشکل پیش آ رہی ہے۔

    پارلیمنٹ کے ایک اعلی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن ہر حتمی نتیجے کے ہر نوٹیفکیشن کے نیچے یہ لکھ رہا ہے کہ اب تین دن کا وقت شروع ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق تین دن کے بعد بھی کوئی رکن کسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے مگر پھر اسے مخصوص نشستوں کے کوٹے کے لیے نہیں گنا جا سکتا۔ ان کی رائے میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان اگر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے انتخابی نشان کے حصول تک مخصوص نشستیں حاصل نہیں کر سکتے۔

    پشاور میں آج نیوز کی بیورو چیف فرزانہ علی نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور صوبائی اسمبلی کے جیتنے والے امیدواران سے ملاقات کر کے انھیں آج انھیں اعتماد میں لیں گے کہ ان کی جماعت کس پارٹی کی چھتری استعمال کر سکتی ہے۔

    فرزانہ علی کے مطابق تحریک انصاف کے پرویز خٹک والی پی ٹی آئی (پی) سے مذاکرات کامیاب ہو چکے ہیں مگر تحریک انصاف کی ترجیح مخصوص نشستوں کا حصول ہے، اگر اس میں کوئی رکاوٹ ہوئی تو پھر وہ اس آپشن کو چھوڑ دے گی۔

    فرزانہ علی کے مطابق تحریک انصاف اب صرف اس صورت میں ہی اپنی مرضی کی مخصوص نشستیں حاصل کر سکے گی جب کسی جماعت کی طرف سے جمع کرائی گئی فہرست میں موجود امیدوار اپنا نام واپس نہ لے لیں۔ ان کی رائے میں ایسی صورت میں پھر الیکشن کمیشن اس جماعت کو نئی فہرست جمع کرانے کا کہے گا۔

    قومی اسمبلی کے اہلکار کے مطابق امیدواران کی فہرست کاغذات نامزدگی کے وقت اس وجہ سے ہی مانگی جاتی ہے تا کہ انھیں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے معیار پر پرکھا جا سکے کہ وہ صادق اور امین ہے یا نہیں۔

  14. جبری گمشدگیوں کا کیس: ’یونیفارم والے خود کو ٹھیک نہیں کریں گے تو جواب دینا ہوگا‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس اور ڈی جی انٹیلیجنس بیورو کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے آبزرویشن دی کہ چونکہ انھی اداروں پر جبری طور پر گمشدگی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، لہذا جو بھی حکومت ہو، اِن تین اداروں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی جبری گمشدگی کے معاملے پر جوابدہ ہوگی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبہ سے متعلق درخواست کی سماعت میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’ہم چوروں ڈاکوؤں سے لوگوں کو کیا بچائیں گے، ہم تو ابھی اپنے لوگوں کو ان اداروں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی ذمہ داری لوگوں کا تحفظ کرنا ہے۔‘

    عدالت نے کہا کہ ’اگر یونیفارم والے اپنے آپ کو ٹھیک نہیں کریں گے تو انھیں اس کا جواب دینا ہوگا۔‘

    اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں مزید مہلت دی جائے تاکہ نئی منتخب حکومت آ کر اس معاملے کو دیکھے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ’کیا انھیں یقین ہے کہ آئندہ چند روز میں حکومت بن جائے گی؟‘

    اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ملکی آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے لے کر سولہ ماہ حکمراں اتحاد کی حکومت اور پھر نگراں حکومت کے دور میں جبری گمشدگی کے معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

    انھوں نے کہا کہ 2022 میں 59 بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں سے متعلق درخواست دائر ہوئی تھی۔ اب تک اس کی چوبیس سماعتیں ہو چکی ہیں اور ابھی بھی 12 بلوچ طلبہ لاپتہ ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ کسی حکومت نے بھی جبری طور پر لاپتہ کرنے کے اقدام کو قابل گرفت قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی قانون سازی کی گئی ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافے پر عالمی برادری بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور اگر اس مسئلے کا کوئی حل نہ نکالا گیا تو پاکستان پر اقتصادی پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔

    ’اسلام آباد میں جبری گمشدگی کے آئندہ مقدمے پولیس سربراہ، سیکریٹری داخلہ کے خلاف درج کیے جائیں‘

    پی ٹی آئی کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ یونیفارم میں ملبوس دو درجن سے زائد اہلکاروں نے رات گئے ان کے گھر پر ریڈ کیا اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا لیپ ٹاپ بھی لے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی۔

    شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ سب سے زیادہ جبری گمشدگی کے واقعات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں جس پر عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر اسلام آباد میں آئندہ کوئی جبری گمشدگی کا واقعہ پیش آیا تو اس کا مقدمہ سیکریٹری داخلہ اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے خلاف درج کیا جائے گا۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ جب نگراں وزیر اعظم کو یہ معلوم ہوگا کہ جس شہر میں وہ رہ رہے ہیں وہاں جبری گمشدگی کے واقعات سب سے زیادہ ہو رہے ہیں تو ان پر کیا گزرے گی۔

    عدالتی استفسار پر بتایا کہ آئی بی اور ایف آئی اے وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں، ملٹری انٹیلیجنس وزارت دفاع جبکہ آئی ایس آئی براہ راست وزیر اعظم کو جوابدہ ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ان تینوں اداروں کے سربراہان سرکاری ملازم ہیں اور وہ اس حوالے سے جوابدہ ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان اداروں کے سربراہان یا تو جبری طور پر لاپتہ افراد کو بازیاب کریں اور یا پھر ان کے خلاف کوئی کریمینل ریکارڈ ہے تو وہ عدالت میں پیش کریں۔

    انھوں نے کہا کہ اب تک اس درخواست پر جتنی بھی پیشیاں ہو چکی ہیں ان میں ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

    انھوں نے کہا اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ریاستی اداروں پر ان واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

    درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران مزید پانچ طلبہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے ایک حاضر سروس آفیسر قائد اعظم یونیورسٹی میں جا کر طلبہ کو ہراساں کرتے رہے۔

    عدالت نے نگران وزیر اعظم کو 28 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے جبکہ آئندہ سماعت پر وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

  15. آڈیو لیکس کیس: عدالت کا غیر حاضر افسران کو اگلے سماعت میں میڈیکل رپورٹس کے ساتھ پیش ہونے کا حکم

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب اور عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی مبینہ آڈیو لیک کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران عدالتی حکم کے باوجود سرکاری افسران ڈی جی آئی بی، چئیرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا اور ڈی جی ایف آئی اے پیش نہ ہوئے جس پر عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔

    اس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ’کیوں نہ ان افسران کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔ ان افسران نے خود سے کیسے طے کر لیا کہ وہ عدالت پیش نہیں ہوسکتے۔‘

    سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے بیمار ہیں اس لیے پیش نہیں ہوسکے جبکہ ڈی جی آئی بی کی جگہ ڈپٹی ڈی جی پیش ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے ڈائریکٹر وقار الدین سید پیش ہوئے۔

    جسٹس بابر ستار نے ہدایت دی کہ ’جو افسران بیمار ہیں وہ آئندہ سماعت پر اپنی میڈیکل رپورٹس پیش کریں۔‘

    عدالت نے کیس کی مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

  16. انتخابات کالعدم قرار دینے کی استدعا: درخواست گزار کی عدم پیشی پر سپریم کورٹ برہم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ میں انتخابات کالعدم قرار دینے کی استدعا کرنے والے درخواست گزار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد علی سپریم کورٹ میں پیش نہ ہوسکے۔

    عدالت نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو طلبی نوٹس کی تعمیل کرانے کا حکم دیا ہے۔

    سماعت کے دوران یہ بتایا گیا کہ اپنی پٹیشن میں درخواست گزار نے خود کو فوج کا سابق بریگیڈیئر ظاہر کیا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسے سپریم کورٹ کے ساتھ مذاق نہیں ہو سکتا۔ ’پہلے درخواست داٸر کرتے ہیں اور پھر اب غاٸب ہوجاتے ہیں۔ درخواستگزار کو کہیں سے بھی لا کر پیش کریں، یہ کیس ہم سنیں گے۔‘

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آٹھ فروری کے انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی۔

    چیف جسٹس نے درخواستگزار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد علی سے متعلق پوچھا تو جسٹس محمد علی مظہر نے بتایا کہ درخواستگزار نے 13 فروری کو پٹیشن واپس لینے کی استدعا کر رکھی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پہلے درخواست داٸر کرتے ہیں اور پھر اب غاٸب ہوجاتے ہیں۔ کیا یہ مذاق چل رہا ہے؟‘

    عدالتی عملے نے بتایا کہ درخواست گزار سے بذریعہ فون اور ایڈریس پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم یہ ممکن نہ ہوسکا۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ریمارکس دیے ’یہ کیا محض تشہیر کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی؟ درخواستگزار نے درخواست دائر کرتے ہی خود میڈیا پر جاری کر دی، کیا پتا درخواست گزار نے خود درخواست فائل کی بھی یا نہیں۔ کیا پتا بعد میں آ کر درخواست گزار کہہ دے کہ میں نے واپس نہیں لی۔ اس طرح سے سپریم کورٹ کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔‘

    انھوں نے حکم دیا کہ ’درخواستگزار کو کسی بھی طرح پیش کریں۔ یہ کیس چلائیں گے۔‘

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے درخواست ٹیلی ویژن کے لیے دائر ہوئی تھی۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے ایڈشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ’ایسے نہیں چلے گا۔ عام طور پر درخواست دائر ہوتے ہی میڈیا پر جاری نہیں ہوجاتی۔‘

    عدالت نے درخواست گزار علی خان کو وزارت دفاع کے ذریعے نوٹس بھیجنے کی ہدایت دی اور آئندہ سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی۔

  17. قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے: سعد رفیق

    سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایکس پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا اجرا اس اسمبلی کی اولین ذمہ داری ہے۔ ریاستی اداروں سے بھی بات کی جائے۔

    ’ایک دوسرے کو راستہ دیں تاکہ پاکستان کو راستہ ملے۔‘

  18. افسران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا گیا تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی جانب سے پنجاب کی نامزد وزیر اعلیٰ مریم نواز نے متنبہ کیا ہے کہ ان کی جماعت سرکاری افسران کی سکیورٹی یقینی بنائے گی جبکہ ’افسران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا گیا تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔‘

    ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’بیوروکریسی کو قانون شکنی پر اکسانے والوں کو قانون کے مطابق نمٹیں گے۔ بیوروکریسی کو دھمکیوں کا مطلب ریاستی نظام میں انتشار پیدا کرنا ہے جس کی کھلی چھوٹ تباہی کو دعوت دینا ہے۔

    ’افسران گھبرائیں نہ دھمکیوں سے مرعوب ہوں، قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں۔‘

  19. آڈیو لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    آڈیو لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار ان درخواستوں کی سماعت کریں گے۔

    یہ درخواستیں سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نے دائر کی ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی آئی بی، ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین پی ٹی اے کو 19 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ تمام ٹیلی کام آپریٹرز، پی بی اے، اے پی این ایس اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو بھی نوٹسز جاری کر دیے۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے پیش ہو کر بتائیں کہ فون کالز کی سرویلنس اور ریکارڈنگ کیسے ہو سکتی ہے۔ جبکہ ڈی جی انٹیلیجنس بیورو یعنی آئی بھی یہ بتائیں کہ پاکستان کے شہریوں کی سرویلنس کون کر سکتا ہے اور کیا ریاست پاکستان کے پاس غیر قانونی سرویلنس سے محفوظ رہنے کی صلاحیت ہے۔

    عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی اے بریف کریں کہ موبائل فون صارفین کی کالز اور ڈیٹا محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق چیف جسٹس پاکستان کے بیٹے نجم ثاقب کی پارلیمانی کمیٹی میں طلبی، آڈیو لیکس پر بشری بی بی کی ایف آئی اے میں طلبی جبکہ سینیئر وکیل لطیف کھوسہ اور ان کی کلائنٹ بشری بی بی کی گفتگو کی مبینہ آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں کو یکجا کر کے کی گئی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

    گذشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے کسی انٹیلی جنس ایجنسی کو ٹیلی فون کالز ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایف آئی اے آڈیو لیکس شیئر کرنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل کیساتھ رپورٹ پیش کرے اور ڈی جی ایف آئی اے پیش ہو کر بتائیں کہ فون کالز کی سرویلنس اور ریکارڈنگ کیسے ہو سکتی ہے۔

    عدالت نے کہا آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے ذریعے آڈیو لیکس پر اپنی رپورٹ جمع کرائی جس کے مطابق آئی ایس آئی کے پاس سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی معلومات کے سورس کا تعین کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں۔

    عدالت نے کہا انٹیلی جنس بیورو انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرے کہ غیر قانونی طور پر ریکارڈ کی گئی آڈیو لیکس کن اکاؤنٹس سے شیئر ہوئیں، پاکستان کے شہریوں کی سرویلنس کون کر سکتا ہے۔ ’یہ بھی بتائیں کہ کیا ریاست پاکستان کےپاس غیر قانونی سرویلنس سے محفوظ رہنے کی صلاحیت ہے؟‘

    ’عدالت ضروری سمجھتی ہے کہ تمام موبائل فون آپریٹرز کو بھی فریق بنا کر جواب طلب کیا جائے۔‘

    عدالت نے آڈیو لیکس کیس میں تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو بھی نوٹس جاری کر جواب طلب کر لیا۔ آرڈر میں لکھا کہ ٹیلی کام آپریٹرز لائسنس میں ٹیلی فون کالز کو سننے یا ریکارڈ کرنے کے لیے قانونی طور پر مداخلت پر رپورٹ پیش کریں اور انٹیلی جنس ایجنسی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اس متعلق خط و کتابت سے بھی آگاہ کریں۔ ’بتائیں کہ کسی بھی ریاستی اتھارٹی سے اپنے صارفین کا ڈیٹا شیئر کرنے کا کیا طریقہ کار ہے۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی بی اے اور اے پی این ایس کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے کہا بتائیں کیا پاکستان کا آئین اور قانون پرائیویٹ گفتگو کی غیر قانونی ریکارڈنگ نشر یا شائع کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ’اگر اس بات کی اجازت نہیں تو اس پابندی پر عمل درآمد کے لیے کیا فریم ورک ہے؟‘

    عدالت نے سینئر صحافی مظہر عباس اور جاوید جبار کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا پی ایف یو جے بھی ایک نمائندہ مقرر کرے جو اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرے۔

    ’عدالتی معاونین غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی وڈیوز یا آڈیوز نشر کرنے پر میڈیا کے کردار پر معاونت کریں اور بتائیں کہ آزادی صحافت، آزادی اظہار رائے اور کسی فرد کے حقوق میں بیلنس کیسے رکھا جا سکتا ہے؟‘