سینیٹ میں ’کسی موزوں تاریخ تک‘ عام انتخابات ملتوی کرنے کے لیے تیسری قرارداد جمع

پاکستان میں آٹھ فروری کے عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں مگر اس دوران سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی غرض سے تیسری قراردار جمع کروائی گئی ہے جس میں خراب موسم اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’پاکستان اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے‘، پاکستانی وزیرِ خارجہ کا ایرانی ہم منصب کو پیغام

  2. بلا نہیں رہا، اب تیر اور شیر کا مقابلہ ہوگا: بلاول بھٹو

    BB

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ بلوچستان کے شہر نصیر آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بلا نہیں رہا، اب تیر اور شیر کا مقابلہ ہوگا، یہ کیسا شیر ہے جو گھر میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو آئندہ پانچ برسوں کے دوران بلوچستان میں کوئی ترقی نہیں ہوگی اور عوام لاوارث رہیں گے۔

    بلاول بھٹو نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ الیکشن کے بعد اُن کی قیادت میں بننے والی حکومت پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات کرے گی۔

    میڈیا سیل بلاول ہاوَس کی جانب سے جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق پی پی پی چیئرمین نے بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں عام انتخابات کے حوالے سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ چاروں صوبوں کے عوام اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کے کردار سے خوش نہیں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جس کو آپ نے تین بار وزیراعظم بنایا تھا اور جس کو چوتھی بار مسلط کرنے کی کوششیں کر رہے ہو، عوام اس فیصلے کو نہیں مانتے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہر طرف سازشیں پک رہی ہیں۔ افغانستان ہو، ایران ہو، یا انڈیا ہو۔ ہمارے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ اس کا نقصان میرے بلوچستان کے عوام، پختونخوا کے عوام اور سندھ کے عوام اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر اب ایسی جماعت کی حکومت آنا چاہیے جو تین نسلوں سے عوام کی خدمت کرتی آئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر دوسری جماعتیں اقتدار میں آئیں تو وہ امیروں کو ریلیف دیں گی، جبکہ غریبوں کو صرف تکالیف پہنچائیں گی۔ جب پی پی پی کی حکومت بنتی ہے تو ہم عوام کو ریلیف پہنچاتے ہیں۔

  3. پنجاب کے ریٹرنگ آفیسر کو ’حراساں‘ کرنے پر الیکشن کمیشن کا نوٹس, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    الیکشن کمیشن نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ میڈیا سے ایک واقعہ رپورٹ ہوا ہے جس کے مطابق این اے 171 میں ایک امیدوار نے ڈی آر او کے آفس میں آر او اور ڈی آر او کو حراساں کیا اور الیکشن کے پراسیس میں انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے موقع پر مداخلت کی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے اس معاملے کی سنگینی کے پیش نظر فوری نوٹس لیا اور چیف الیکشن کمشنر نے ذاتی طور پر چیف سیکرٹری پنجاب، ڈی آر او / ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رحیم یار خان سے بات کر کے واقعہ کی ابتدائی معلومات حاصل کیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق مزید یہ کہ صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو ذاتی حیثیت میں مکمل معلومات کے ساتھ بروز منگل کو انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کے ہمراہ الیکشن کمیشن آفس اسلام آباد میں باقائدہ سماعت کے لیے طلب کر لیا ہے تاکہ آئین اور قانون کے تحت مزید کاروائی جا سکے۔

  4. الیکشن سے قبل بلے کا نشان چھن جانے سے تحریک انصاف کے لیے کیا مشکلات پیدا ہوں گی؟

  5. بلا بلا ڈالا ڈالا حال ہمارا جانے ہے: وسعت اللہ خان کا کالم

  6. سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرنے کے لیے تیسری قرارداد جمع: ’کسی موزوں تاریخ تک الیکشن ملتوی کیا جائے‘

    سینیٹ

    پاکستان میں آٹھ فروری کے عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں مگر اس دوران سینیٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کی غرض سے تیسری قراردار جمع کروائی گئی ہے۔

    اتوار کو سینیٹر ہلال الرحمان نے اپنی قرارداد میں لکھا کہ شدید سردی اور برف باری میں صوبہ خبر پختونخوا کے شہریوں کو چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ صوبے میں ’بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملوں کا شدید خطرہ لاحق ہے۔‘

    اس میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ ’عوام اور امیدواروں میں اس حوالے سے احساس محرومی اور خاص طور پر سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے امیدوار سکیورٹی مسائل سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘

    سینیٹر ہلال نے مطالبہ کیا کہ آٹھ فروری کی بجائے ’کسی ایسی موزوں تاریخ تک‘ عام انتخابات کو ملتوی کیا جائے جو ’تمام شراکت داروں کے لیے قابل قبول ہو اور آزادانہ منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں راستے میں حائل رکاوٹوں میں مددگار ثابت ہو۔‘

    اس سے قبل 5 جنوری کو ایوان بالا کے چند سینیٹرز نے خراب موسم اور سکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے عام انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد منظور کی تھی۔ اس پر قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر بہر مند تنگی کو پارٹی پالیسی سے انحراف پر پیپلز پارٹی نے شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔

    اس کے بعد جمعے کو آزاد سینیٹر ہدایت اللہ نے بھی ایک قرارداد جمع کروا کر انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس قرارداد میں شمالی وزیرستان، باجوڑ اور تربت سمیت ملک بھر میں پُرتشدد واقعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس میں الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ تین ماہ کے وقفے کے بعد پُرامن الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔

  7. انتخابی مہم کے دوران جے یو آئی کے کارکنان کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت

    رہنما جے یو آئی مولانا حافظ وقاص احمد کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پولیس خیبر پختونخوا کو انتخابی مہم کے دنوں میں امن و امان برقرار رکھنے اور جماعت کے کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

  8. پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ’تیر‘ کے بجائے ’کیٹل‘ کا نشان الاٹ کرنے پر تنازع

    انچارج سنٹرل الیکشن سیل پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے ایک خط میں صوبائی حلقے پی پی 163 (پنجاب) سے جماعت کے امیدوار محمد فیاض بھٹی کے نشان کی الاٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سینیٹر تاج حیدر نے خط میں لکھا کہ ’محمد فیض بھٹی نے 12 جنوری 2024 کو پی پی پی پی کا ٹکٹ متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو جمع کروایا۔ انھیں ایک آزاد امیدوار کے طور پر درج کیا گیا اور پی پی پی پی کے مطلوبہ نشان ’تیر‘ کی بجائے نشان ’کیٹل‘ الاٹ کیا۔‘

    ’یہ غیر متوقع تبدیلی انتخابی عمل کی نیک نامی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ پی پی پی کے امیدوار کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہو سکتی ہے اور آئندہ انتخابات کی شفافیت پر سمجھوتہ کر سکتی ہے۔‘

    تاج حیدر کا مطالبہ ہے کہ ’پی پی 163 کے لیے محمد فیاض بھٹی کو ’تیر‘ کے نشان کی درست الاٹمنٹ کو یقینی بنا کر اس بے ضابطگی کو دور کیا جائے۔‘

    ’اس بات کی چھان بین کرنی چاہیے کہ ایسی خرابی کیسے پیش آئی۔‘

  9. سیاسی جماعتوں کے لیے خواتین امیدواروں کی پانچ فیصد نمائندگی یقینی بنانا لازم: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ جنرل نشستوں پر پانچ فیصد خواتین امیدواروں کی نمائندگی یقینی بنانا لازم ہے۔

    ایک بیان میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ’سیاسی جماعتوں، جنھیں عام انتخابات 2024 کے لیے انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے ہیں، کے لیے الیکشنز ایکٹ 2017 کی سیکشن 206 کے تحت، جنرل نشستوں پر خواتین امیدواروں کی پانچ فیصد نمائندگی کو یقینی بنانا لازمی ہے۔

    ’اس لیے تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس پریس ریلیز کے اجرا کے پانچ دنوں کے اندر جنرل نشستوں پر مرد/خواتین امیدواروں (جنھیں پارٹی ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں) کی فہرست الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرا دیں۔‘

  10. بریکنگ, پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر کے گھر چھاپے پر اسلام آباد پولیس کے ایس ایچ او سمیت پانچ اہلکار معطل

    GOHAR ALI KHAN

    ،تصویر کا ذریعہGOHAR ALI KHAN

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کے گھر چھاپے کے معاملے میں اسلام آباد پولیس کے پانچ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔

    اتوار کو اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرسٹر گوہر کے گھر مقامی پولیس کے چھاپے کی تحقیقات جاری ہیں، ایس ایچ او مارگلہ سمیت پانچ افسران کو تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے جاری بیان کے مطابق مخبر کی اطلاع پر گذشتہ روز (13 جنوری کو) مقامی پولیس اشتہاری ملزم کی تلاش میں سیکٹر ایف سیون ٹو پہنچی تھی اور اس موقع پر جب پولیس کو علم ہوا کہ یہ مذکورہ گھر بیرسٹر گوہر علی خان کا ہے تو پولیس ٹیم فوراً واپس آگئی۔

    بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں اپنے گھر پولیس جانے کی شکایت کی تھی۔ جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کو طلب کیا اور معاملے کی تحقیق کا حکم جاری کیا تھا۔

    عدالت نے آئی سی سی پی او کو ذاتی طور پر پی ٹی آئی رہنما کے گھر کے وقوعہ کے متعلق شکایت کو سننے کی ہدایت کی تھیں۔ آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے بیرسٹر گوہر کو معاملے کی تحقیق کرنے اور کسی بھی پولیس افسر کے قصوروار ہونے پر محکمانہ کارروائی کی یقین دہانی کروائی تھیں۔

    ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے ڈی پی او سٹی کو انکوائری افسر مقرر کر کے تفصیلی رپورٹ تین دن میں جمع کروانے کے احکامات جاری کیے۔ پانچ افسران بشمول ایس ایچ او مارگلہ کو تا حکم ثانی معطل کردیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ انکوائری عمل میں لائی جا رہی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز بیرسٹر گوہر علی خان نے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اپنے گھر پولیس جانے کی شکایت کی تھی، جس پر چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کو طلب کرکے معاملے کی تحقیق کا حکم جاری کیا تھا۔

  11. بلوچستان: کیچ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز پر ایک حملے میں کم ازکم پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

    بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ضلع میں بلیدہ کے علاقے گلیسر میں پیش آیا۔

    اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے گلیسر کے علاقے میں دھماکہ خیز مواد رکھا تھا جو کہ اس وقت پھٹ گیا جب سیکورٹی فورسز کی ایک گاڑی وہاں سے گزررہی تھی۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ دھماکے کے باعث گاڑی میں سوار پانچ اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

    اہلکارنے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم ہے۔ جبکہ فوج کی تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں تین حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

    اس حملے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں اس ضلع میں ایسے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

    درایں اثناء نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی اور نگراں وزیر داخلہ میرزبیرخان جمالی نے سیکورٹی فورسز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سیکورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں‘۔

    اپنے اپنے الگ الگ بیانات میں انھوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ کیچ بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے جس کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

    بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کیچ کا شمار ان علاقوں میں شامل ہے جو کہ شورش سے زیادہ متائثر ہیں۔

    اس ضلع میں طویل عرصے سے بدامنی کے واقعات کے پیش آنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے باعث ماضی کے مقابلے میں ان واقعات میں کمی آئی ہے۔

  12. پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت 20 سال کی کم ترین سطح تک کیوں پہنچی اور 2024 میں بہتری کے کتنے امکانات ہیں؟

  13. آج ثابت ہو گیا کہ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات ایک ڈرامہ تھے: خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سب کو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    نجی ٹی وی چینل جیو پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ آج ثابت ہوا کہ تحریک انصاف کے انٹر پارٹی انتخابات ایک ڈرامہ تھے اور اس کے بعد وہ ایک کیس دو عدالتوں میں لے کر گئے اور قانون کی پیروی نہیں کی۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کے انٹرپارٹی انتخابات آئین اور قانون کے عین مطابق تھے۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے مطابق ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اپنی پارٹیوں میں جمہوریت اور جمہوری عمل کو مضبوط کریں۔

  14. آج کے فیصلے سے سپریم کورٹ کے متنازع اور غیرمقبول فیصلوں کی فہرست میں ایک اضافہ ہوا ہے: بیرسٹر گوہر علی خان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/Geo

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اپیل کو منظور کرنے اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کریں گے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لیے جانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے ارکان آٹھ فروی کو ہونے والے انتخابات میں آزاد حثیت سے حصہ لیں گے اور وہ اپنے امیدواروں کی الیکشن مہم چلائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے انتہائی مایوسی ہوئی ہے۔ ’آج کے فیصلے سے سپریم کورٹ کے متنازع اور غیرمقبول فیصلوں کی فہرست میں ایک اضافہ ہوا ہے۔ تیکنیکی بنیادوں پر تحریک انصاف کا انتخابی نشان واپس لیا گیا اور 14 درخواستیں کروڑوں عوام کی امنگوں پر بھاری قرار دی گئی ہیں۔‘

    بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ کروڑوں ووٹرز کے حق کو سلب کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلے رہے نہ رہے، لوگ 8 فروری کو عمران خان کی آواز پر ووٹ دیں اور تحریک انصاف کامیاب ٹھہرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد ان کی جماعت ملک بھر میں 226 خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے نامزدگی کرنے سے محروم ہو گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ انتخابات 2024 کے نتیجے میں بننے والی حکومت ہارس ٹریڈنگ نہ کرے۔

    اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان چھین لیا گیا ہے اور یقینی طور پر تاریخ اس تاریخی فیصلہ پر اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔

    انھوں نے کہا کہ چونکہ اب تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گے اس کے لیے ہم نے پہلے سے حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے کیونکہ ہمیں اندازہ ہو چکا تھا کہ سپریم کورٹ سے فیصلہ کیا آئے گا۔

  15. بریکنگ, سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریکِ انصاف کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا وہ فیصلہ برقرار رکھا ہے جس میں الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات پارٹی آئین اور قانون کے مطابق نہ کروانے پر تحریک انصاف سے اُس کا انتخابی نشان ’بلا‘ واپس لے لیا تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ متفقہ فیصلہ سنایا ہے۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔ پانچ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے۔

    اس سے قبل فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد تین رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ آج رات ہی سنایا جائے گا کیونکہ انتخابی شیڈول کے مطابق آج امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کرنے کی آخری تاریخ تھی۔

    چیف جسٹس نے اس کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سنہ 2021 میں تحریک انصاف کو انٹراپارٹی انتخابات کروانے کا کہا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب تحریک انصاف کی وفاق اور صوبوں میں حکومت تھی چنانچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تحریک انصاف سے امتیازی سلوک کیا گیا۔

    مختصر فیصلے میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 13 سیاسی جماعتوں کے خلاف اسی تناظر میں کارروائی کی کیونکہ یہ جماعتیں بروقت انٹرپارٹی انتخابات نہیں کروا سکیں۔ فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے 14 ارکان نے انٹرپارٹی انتخابات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں درخواستیں بھی جمع کروائی تھیں۔

    اس فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں پی ٹی آئی نے جو انٹرا پارٹی انتخابات کروائے اس کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ یہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہوں گے اور پھر انھیں پشاور کے قریبی علاقے چمکنی میں منتقل کر دیا گیا اور اس میں بھی حصہ لینے والوں کو کاغذات نامزدگی دینے سے انکار کیا گیا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان جمہوریت کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے اور جب جمہوری طور طریقے ختم ہوتے ہیں تو آمریت پنپتی ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک آنصاف نے الیکشن کمیشن کے انتخابی نشان واپس لینے کے فیصلے کو پہلے لاہور ہائیکورٹ اور پھر پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایک ہی معاملے کو دو ہائی کورٹس میں کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ جبکہ پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں جو درخواستیں دائر کی تھیں ان کو ابھی تک واپس نہیں لیا گیا اور پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے جو درخواست دائر کی گئی اس میں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ایسا کوئی معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

    اس کیس پر تین رکنی بینچ نے سنیچر کی صبح دس بجے سماعت کا آغاز کیا تھا جو متعدد مختصر وقفوں کے ساتھ شام سوا سات بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد عدالتی عملے کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا کہ مختصر فیصلہ ساڑھے نو بجے تک سنا دیا جائے گا تاہم اس میں کچھ تاخیر ہوئی۔ اسی تاخیر کے باعث الیکشن کمیشن کو پانچ مرتبہ انتخابی نشان الاٹ کرنے کے لیے مقررہ وقت میں اضافہ کرنا پڑا۔

    تاہم بلآخر رات سوا گیارہ بجے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلہ سنانا شروع کیا اور عدالت میں موجود افراد سے تاخیر پر معذرت کی اور آگاہ کیا کہ فیصلے کو سپریم کورٹ کی ویب سائیٹ پر جلد ہی اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔

  16. پی ٹی آئی امیدواروں نے ہمارے جعلی ٹکٹ جمع کرائے: چیئرمین تحریک انصاف نظریاتی

    Press Conference

    ،تصویر کا ذریعہscreenshot

    پی ٹی آئی نظریاتی کے چیئرمین اختر اقبال ڈار کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی امیدواروں نے ہمارے جعلی ٹکٹ جمع کرائے۔ ان کے مطابق انھوں نے خود جن امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیے ہیں ان کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

    اختر اقبال کے مطابق سنہ 2007 میں یہ میں نے محسوس کیا کہ دھونس دھاندلی اور الیکٹ ایبلز کی سیاست کے خلاف اور شفافیت کے لیے مجھے بھی تحریک انصاف کا حصہ ہونا چاہیے۔

    ان کے مطابق جب میں نے شفافیت نہیں دیکھی تو پھر میں نے تحریک انصاف نظریاتی کی بنیاد رکھی۔ ان کے مطابق ’میرے ٹکٹس پر واضح طور پر بلے باز کا نشان ہے۔

    انھوں نے تمام آر اوز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2018 میں جو ٹکٹ ہم نے ایشو کیے تھے وہی ٹکٹ ہم آج ایشو کر رہے ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ اختر اقبال ڈار کے ساتھ ان کا انتخابی نشان سے متعلق ایک تحریری یہ معاہدہ تھا، جس پر ان کے دستخط بھی ثبت ہیں۔

  17. انتخابی نشان الاٹ کرنے کے لیے مقررہ وقت رات 11 بجے تک بڑھا دیا گیا: الیکشن کمیشن

    ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی نشانات الاٹ کرنے کے لیے مقررہ وقت رات گیارہ بجے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کمیشن نے شام سات بجے تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کو بلے کے انتخابی نشان سے متعلق کیس کا فیصلہ آنے میں تاخیر کے باعث اس ڈیڈ لائن میں چار مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق سماعت اب سے کچھ دیر قبل مکمل ہوئی ہے۔ اس سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھی ججز سے مشاورت کے بعد فیصلہ کچھ دیر تک سنائیں گے۔

  18. بریکنگ, تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق سماعت مکمل، فیصلہ کچھ دیر میں سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے انتخابی نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت مکمل ہو گئی ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھی ججز سے مشاورت کے بعد اس مقدمے کا فیصلہ کچھ دیر میں سنائیں گے۔

  19. بریکنگ, سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کرنے کے لیے مقررہ وقت شام سات بجے ختم ہو جائے گا: الیکشن کمیشن

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے الیکشن کمیشن نے اپنے ایک اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ ’انتخابی نشانات الاٹ کرنے کے لیے مقررہ وقت شام سات بجے ختم ہو جائے گا اور اس میں کوئی مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس وقت تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے نشان سے متعلق الیکشن کمیشن کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔