’پاکستان اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے‘، پاکستانی وزیرِ خارجہ کا ایرانی ہم منصب کو پیغام
پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر ایرانی حملہ ’خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور پاکستان ’اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔‘ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا تھا کہ ’ایران کی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘
لائیو کوریج
پاکستانی سرزمین پر حملہ، ایران کو ’برادر‘ ملک کے خلاف ایسی کارروائی کی ضرورت کیوں پڑی؟
’پنجاب پر کبھی کوئی شوباز مسلط کیا گیا تو کبھی وسیم اکرم پلس، ہم پاکستان کو ان نالائقوں کے حوالے نہیں کر سکتے‘: بلاول بھٹو
پاکستان ایران کی اشتعال انگیز کارروائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے: جلیل عباس جیلانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر ایرانی حملہ ’خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور پاکستان ’اس اشتعال انگیزی کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔‘
دفتر خارجہ کے مطابق یوگینڈا کے دورے پر موجود جلیل عباس جیلانی کو ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا ٹیلی فون موصول ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا کہ ’16 جنوری 2024 کو پاکستانی سرزمین پر ایرانی حملہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کے بھی خلاف تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس سے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘
’پاکستان یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ وہ اس اشتعال انگیز کارروائی کا جواب دے۔‘
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ’یکطرفہ اقدامات سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ کوئی ملک خطے کو اس راہ پر نہ دھکیلے۔‘
پاکستان کے الیکشن کی ساکھ پر سوالیہ نشان
بلوچستان حکومت کا ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والی بچیوں کے ورثا کے لیے معاوضے کے اعلان
بلوچستان حکومت نے پنجگور میں ایرانی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی بچیوں کے ورثا اور زخمیوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کو وزیر اعلٰی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے ’پنجگور میں ایرانی دراندازی کے نتیجے میں‘ ہلاک ہونے والی دو بچیوں کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس کے ساتھ زخمی ہونے والی خواتین اور بچیوں کو بھی معاوضے کی ادائیگی ہوگی۔
اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر پنجگور کو ہلاک ہونے والی بچیوں کے ورثا اور زخمی بچیوں کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے کارروائی فوری طور پر مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
ہم نے پاکستانی سرزمین پر صرف ایرانی دہشتگردوں کو نشانہ بنایا: ایرانی وزیر خارجہ

،تصویر کا ذریعہEPA
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستان میں حملے کے دوران ایک ’ایرانی دہشتگرد گروہ‘ کو نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیووس میں گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’برادر ملک پاکستان کا کوئی بھی شہری ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف نہیں بنا۔ نام نہاد جیش العدل گروہ، جو کہ ایرانی دہشتگردی گروہ ہے، اس کا ہدف بنا۔ اس گروہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کچھ حصوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ہم نے اس معاملے پر کئی بار پاکستان کے سکیورٹی حکام سے بات کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے تاہم ایران ’کی قومی سلامتی پر سمجھوتہ یا اس سے کھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا۔‘ انھوں نے پاکستانی سرزمین پر جیش العدل کے خلاف کارروائی کو اس تنظیم کی جانب سے ایران میں قاتلانہ حملوں کا جواب بتایا۔
10 جنوری کو راسک شہر کے ایک تھانے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت ہوئی۔ ایک ماہ قبل علاقے میں اسی نوعیت کے ایک حملے میں 11 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی تھی۔
امیر عبد اللہیان نے کہا کہ ’ہم نے صرف پاکستانی سرزمین پر ایرانی دہشتگردوں پر حملہ کیا۔
’میں نے پاکستانی وزیر خارجہ کو یقینی دلایا کہ ہم آپ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں تاہم ہم اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ عراق اور پاکستان کی سکیورٹی ایران کی سکیورٹی ہے۔‘
تقسیم ہوتا پاکستان ’دوسری قسط‘: پاکستان میں سیاست کی وجہ سے بگڑتے رشتے اور دوستیاں
تقسیم ہوتا پاکستان ’پہلی قسط‘: بڑی سیاسی جماعتیں ایک ساتھ کیوں نہیں بیٹھنا چاہتی ہیں؟
پاکستان اور ایران تناؤ بڑھانے سے گریز کریں: چین

،تصویر کا ذریعہForeign Ministry, China
چینی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران یہ پوچھا گیا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر ایرانی فضائی کی مذمت کی ہے تو چین کا اس پر کیا موقف ہے۔
ترجمان نے جواب دیا کہ چین کا ماننا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بنیادی بین الاقوامی اصولوں پر ہونے چاہییں جس میں تمام ممالک کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایران اور پاکستان پڑوسی اور اہم اسلامی ممالک ہیں۔ ہم دونوں فریقین سے تحمل کا مطالبہ کریں گے۔ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔‘
ایران کا پاکستان میں ’عسکریت پسندوں‘ پر حملہ: تنظیم جیش العدل، علاقہ سبز کوہ اور دیگر سوالوں کے جواب
پاکستان کو آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر کی قسط موصول, تنویر ملک، صحافی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ایم ایف کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہو گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے گزشتہ ہفتے معاشی جائزے کی منظوری کے بعد 70 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔
پاکستان کو جولائی 2023 میں ایک اعشاریہ 2 ارب ڈالر کی رقم موصول ہوئی تھی جس کے بعد سٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کے تحت پاکستان کو اب تک ایک اعشاریہ 9 ارب ڈالر کی رقم مل چکی ہے۔
آخری اقتصادی جائزے کے بعد پاکستان کو مزید ایک اعشاریہ 1 ارب ڈالر ملیں گے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے پاکستان کے مرکزی بینک میں جمع دو ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔
بدھ کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ایک ارب ڈالر کے دو ڈیپازٹ جمع تھے جن کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔
مرکزی بینک میں ڈیپازٹ کی گئی اس دو ارب ڈالر رقم کی واپسی موجودہ سال جنوری کے مہینے میں کرنی تھی جس میں اب مزید ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے۔
واضح رہے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین کی جانب سے پاکستان کے مرکزی بینک میں ڈیپازٹ کیے گئے تھے تاکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دیا جا سکے۔
سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت دسمبر 2023 میں ختم ہوئی تھی تاہم اس کی واپسی میں بھی ایک سال کی توسیع کر دی گئی تھی۔
پاکستان کی وزارت خزانہ نے گزشتہ دنوں ایک خط میں متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع کے لئے کہا تھا
’پہلی بار ہے کہ ایران اس کارروائی کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، جیسے اسے اس پر فخر ہو‘
بریکنگ, پاکستان کا ایران کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان
پاکستان نے سرحدی خلاف ورزی پر ایران کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایران سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ نے پریس کانفرس کے دوران اعلان کیا ہے کہ پاکستان ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا رہا ہے جبکہ ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے ایک سرحدی گاؤں ’سبزکوہ‘ میں رہائشی علاقے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے کی گئی اس ’غیرقانونی‘ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے نتیجے میں دو بچے ہلاک جبکہ تین لڑکیاں زخمی ہوئی ہیں۔
’کارروائی روکنے کی استدعا اس مرحلے پر قابل قبول نہیں‘ جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت کا حکمنامہ
جسٹس ریٹائرڈ مظاہر نقوی کی سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا اس مرحلے پر قابل قبول نہیں۔
حکم نامے کے مطابق ’عدالت نے صرف شکایت کنندگان کو فریق بنانے کے نکتے پر دلائل سنے۔ موقف سنے بغیر کسی کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔‘
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جسٹس نقوی کی آئینی درخواست میں شکایات کو سیاسی اور بدنیتی قراردینے کی استدعا کی گئی لیکن دوسرے فریق کو سنے بغیر شکایت کو بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
حکم نامہ میں کہا گیا کہ ’گزشتہ سماعت پر بینچ کی تشکیل پر اعتراض کیا گیا، جسے واپس لے لیا گیا۔ درخواست ضروری ترامیم کے بعد دوبارہ دائر ہونے پر سماعت کے لیے مقرر کی جائے۔‘
سبز کوہ: ایرانی فورسز نے بلوچستان میں کس علاقے کو نشانہ بنایا؟

پنجگور انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور میں ایرانی فورسز نے جس علاقے کو نشانہ بنایا ہے اس کا نام سبز کوہ ہے۔
اہلکار کے مطابق اس علاقے کو مقامی لوگ کوہِ سبز کہتے ہیں لیکن سرکاری ریکارڈ میں اس کا نام سبز کوہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ ایرانی سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان معروف گزرگاہ چیدگی سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ایک دشوار گزار علاقہ ہے اور یہ پہاڑی اور صحرائی دونوں علاقوں پر مشتمل ہے۔
پنجگور انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق اس علاقے میں بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں جو کہ زیادہ تر مال مویشی پالتے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ ضلع پنجگور کے ہیڈکوارٹر پنجگور سے کوہ سبز مغرب میں 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پنجگور کہاں واقع ہے؟
پنجگور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 550 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ضلع کی سرحد مغرب میں ایران سے لگتی ہے اور یہ بلوچستان کی ان پانچ اضلاع کے وسط میں واقع ہے جن کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں۔
چار دیگر اضلاع جن کی سرحدیں ایران سے لگتی ہیں ان میں چاغی، واشک، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔ ایران اور ان اضلاع کے درمیان سرحدی علاقے دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہیں۔
منشیات کے بین الاقوامی سمگلرز انہی راستوں کو افغانستان سے منشیات کے سمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان سے جو لوگ غیر قانونی طورپر بیرونی ممالک جاتے ہیں وہ بھی انہی اضلاع کے سرحدی علاقوں سے ایران میں داخل ہوتے ہیں۔
پنجگور سمیت ایران سے بلوچستان کے تمام اضلاع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔
ان اضلاع میں سے پنجگور، کیچ اور گوادر بلوچستان کے انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہیں۔ یہ تینوں اضلاع بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے شورش سے متاثر ہیں تاہم یہ کالعدم شرپسند بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کی وجہ سے متاثر ہیں۔
ایران کی جانب سے ماضی میں بھی پنجگور اور کیچ کے اضلاع میں مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جن میں ہلاکتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ ایران میں شدت پسندی میں ملوث کالعدم تنظیم جیش العدل اور بعض دیگر تنظیموں کے ٹھکانے ان اضلاع کے سرحدی علاقوں میں موجود ہیں تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
پنجگور میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں جو گھر نشانہ بنے ہیں وہ مال مویشی چرانے والوں کے ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے اور پہاڑوں کے دامن میں واقع گھر میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں۔
یہ میزائل حملہ پاک ایران دوستی اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کے خلاف ہے: شہباز شریف
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں ’ایران کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر حیران ہوں۔ یہ میزائل حملہ ہماری دوستی اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کے خلاف ہے، خاص طور پر یہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ‘دونوں ممالک کے درمیان مخلصانہ بات چیت اور بامعنی تعاون وقت کی ضرورت ہے۔‘
بریکنگ, منشیات اور کلاشنکوف نے ملک تباہ کر دیا، پاکستان سے کلاشنکوف کلچر ختم کرنا ہو گا: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ پاکستان سے کلاشنکوف کلچر ختم کرنا ہوگا۔
بدھ کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے چوری شدہ اسلحہ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چوری شدہ اسلحے کے لائسنس کے بارے میں انکوائری میں نہ پوچھنے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خیبرپختونخوا پولیس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بغیر لائسنس کا اسلحہ رکھنا جرم ہے اور پولیس نے انکوائری میں مالک سے پوچھا تک نہیں۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ جس کے گھر سے اسلحہ چوری ہوا پولیس نے اس سے لائسنس تک کا نہیں پوچھا، مالک خود اقرار جرم کررہا ہے کہ دو کلاشنکوف، دو کالا کوف اور ایک پسٹل سمیت دیگر قیمتی چیزیں چوری ہوئیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے مزید ریمارکس دیے کہ مجھے بھی آفر کی جاتی رہی کہ آپ کلاشنکوف کا لائسنس لیں، منشیات اور کلاشنکوف نے پاکستان کو تباہ کر دیا۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ کالے شیشوں والی گاڑی کے ساتھ لوگ کلاشنکوف لے کر جاتے ہیں، پولیس کی ان سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی، اس طرح کالے شیشے لگا کر بڑی بڑی گاڑیوں میں کلاشنکوف لے کر دنیا میں کہیں کوئی نہیں گھومتا۔
چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس کلاشنکوف کہاں سے آئی؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئی جی ایسے کلاشنکوف کے کاغذ دے رہے ہیں تو کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے؟ ہم سیکریٹری داخلہ کو لکھ دیتے ہیں کہ تمام کلاشنکوف اور ان کے لائسنس واپس کریں۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ممنوعہ اسلحے کے کتنے لائسنس جاری ہوئے سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، تمام صوبائی ہوم سیکرٹریز، انسپکٹرز جنرل پولیس کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل، صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے حکمنامہ کی کاپی بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سکول اور بازار جاؤ تو لوگ کلاشنکوف لے کر کھڑے نظر آتے ہیں، انھوں نے کہا کہ یہ لوگ ڈرتے ہیں تو گھروں میں رہیں، باہر اس لیے نکلتے ہیں کہ لوگوں کو ڈریا جائے اور اپنا اثر رسوخ دکھا سکیں۔‘
سپریم کورٹ نے چوری پر نامزد ملزم کاشف کی پچاس ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منطور کر لی۔
فضائی حدود کی خلاف ورزی سے نہ صرف دونوں ممالک کے اعتماد بلکہ سرحدی تجارت کو بھی ٹھیس پہنچے گی: جان اچکزئی

،تصویر کا ذریعہwww.gob.pk
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نگران وزیرِ اطلاعات جان محمد اچکزئی کا پاکستانی سرحد کے اندر ایرانی حملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کی ایسی کارروائیوں سے نہ صرف پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات اور اعتماد کو نقصان پہنچے گا بلکہ بلوچستان اور ایران کے درمیان تجارتی روابط کو بھی ٹھیس پہنچے گی۔
ایران کی جانب سے کی جانے والے کارروائی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی دفترِخارجہ اس بات کا پہلے ہی اظہار کر چکا ہے کہ دہشت گردی خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مربوط کارروائیوں کی ضرورت ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, نو مئی واقعات سے متعلق مقدمہ: پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 25 جنوری تک توسیع

،تصویر کا ذریعہTOLO NEWS
راولپنڈی کی مقامی عدالت نے سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کے خلاف نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے میں ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 25 جنوری تک توسیع کر دی ہے۔
بدھ کو انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج ملک اعجاز آصف نے شاہ محمود قریشی کے خلاف نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے کی سماعت۔
عدالت نے سماعت کے بعد پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کے خلاف درج مقدمات میں ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 25 جنوری تک توسیع کردی۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کی تھی، روبکار ملنے پر شاہ محمود قریشی کو اگلے روز اڈیالہ جیل سے رہا گیا کیا، تاہم اڈیالہ جیل سے باہر آنے پر پنجاب پولیس نے انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔
