استعفیٰ دینے والے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کون ہیں؟

سپریم کورٹ کے تین سب سے سینیئر ججز میں سے ایک جسٹس اعجاز الاحسن اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور انھوں نے اپنا استعفی صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ انھوں نے جمعرات کو سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایات کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا تھا۔

لائیو کوریج

  1. آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ستر کروڑ ڈالر جاری کرنے کی منظوری دے دی, تنویر ملک، صحافی

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) پروگرام کے پہلے جائرے کو مکمل کرتے ہوئے ستر کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظور ی دے دی ہے۔

    پاکستان کی وزارت خزانہ کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے آج ہونے والے اجلاس میں ایس بی اے پروگرام کا پہلا ریویو کیا گیا جس کے بعد آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے ستر کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی۔

    نئی قسط کے جاری کرنے کی منظوری کے بعد اس پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی رقم 1.90 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ واضح رہے کہ جولائی 2023 میں پاکستان کو 1.20 ارب ڈالر کی پہلی قسط جاری ہوئی تھی جب تیس جون کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایس بی اے معاہدہ ہوا تھا۔

  2. سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن مستعفی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اعجاز الاحسن

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    سپریم کورٹ کے تین سب سے سینیئر ججز میں سے ایک جسٹس اعجاز الاحسن اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنا استعفی صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے دوسرے جج ہیں جنھوں نے گذشتہ دو دنوں کے دوران اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ اس سے قبل جسٹس مظاہر اکبر نقوی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے استعفے میں اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی، بلکہ لکھا ہے کہ ’میں سپریم کورٹ میں مزید بطور جج اپنا کام جاری نہیں کرنا چاہتا۔‘

    انھوں نے لکھا ہے کہ ’میں نے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فرائض انجام دیے۔ میں مزید کام جاری نہیں رکھنا چاہتا۔ میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے مستعفی ہو رہا ہوں۔‘

    خیال رہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف شکایات سپریم جوڈیشل کونسل میں چل رہی تھیں اور جسٹس اعجاز الاحسن سپریم جوڈیشل کونسل کے بھی رکن ہیں۔ تاہم انھوں نے جمعرات کے روز سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا کیونکہ انھوں نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف ہونی والی کونسل کی کارروائی کے طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن

    ،تصویر کا ذریعہSources

    اسی وجہ سے سینیارٹی میں ان کے بعد آنے والے جج جسٹس منصور علی شاہ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شامل کیا گیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ان سے سینیئر تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اس سال اکتوبر میں ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن نے پاکستان کا چیف جسٹس بننا تھا لیکن ان کے مستعفی ہونے کے بعد جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔

    جسٹس سردار طارق مسعود جو کہ سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں، اس سال مارچ میں اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو جائیں گے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن کون ہیں؟

    سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن 1960 کے دوران مری میں پیدا ہوئے اور انھوں نے لاہور کے فارمن کرسچن کالج سے ’1979 میں میرٹ سکالرشپ پر گریجویشن کیا۔‘

    انھوں نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج میں شمولیت اختیار کی جہاں انھیں ’گولڈ میڈل سمیت متعدد ایوارڈز سے نوازا دیا۔‘ ایل ایل بی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے لا پریکٹس کیا جبکہ امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ کی تعلیم حاصل کی۔

    انھوں نے ایک نامور قانونی فرم کے ساتھ لا پریکٹس جوائن کی جس کے وہ بعد میں پارٹنر بنے۔ 2009 میں انھیں لاہور ہائیکورٹ میں جج تعینات کیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن سنہ 2015 میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور سنہ 2016 میں انھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا تھا۔

    جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی اس دو رکنی بینچ میں شامل تھے جنھوں نے لاہور کے سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کے کیس میں پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں منتخب حکومتیں ختم ہونے کے بعد مقررہ 90 دنوں میں انتخابات کروانے کے لیے اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو از خود نوٹس لینے کے بارے میں خط لکھا تھا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی اس پانچ رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی ان اقلیتی پانچ ججز میں شامل تھے جنھوں نے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے 15 رکنی فُل کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حق میں دس پانچ سے فیصلہ دیا تھا۔

    انھیں پاناما کیس میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں چلنے والے مقدمات کے حوالے سے مانٹرنگ جج تعینات کیا گیا تھا۔

    دونوں جج صاحبان کو سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ سابق چیف جسٹس نے جتنے بھی بینچ تشکیل دیے، ان میں اکثر جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہوتے تھے۔

    سپریم کورٹ میں اہم تبدیلیاں

    جسٹس اعجاز الاحسن کے مستعفی ہونے کے بعد اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رواں سال اکتوبر میں ریٹائرمنٹ پر جسٹس منصور علی شاہ نئے چیف جسٹس بنیں گے۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کا نام سب سے اوپرتھا اور انھوں نے اکتوبر 2024 میں چیف جسٹس آف پاکستان بننا تھا۔ تاہم جسٹس اعجاز الاحسن کے مستعفی ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ 2027 تک، یعنی ساڑھے 3 سال چیف جسٹس رہیں گے۔

    مزید یہ کہ جسٹس منصور علی شاہ سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بن گئے ہیں جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن کے ممبر بن گئے ہیں۔

  3. جمیعت علمائے اسلام نظریاتی کے امیدوار پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمیعت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنما اور بلوچستان اسمبلی کی نشست کے لیے امیدوار قاری مہراللہ پر حملے کے خلاف جمعرات کی شام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

    کوئٹہ پریس کلب کے جے یو آئی نظریاتی کے زیر اہتمام مظاہرے کے شرکا نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ قاری مہراللہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 45 سے امیدوار ہیں۔

    مظاہرے کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قاری مہراللہ نے بتایا کہ وہ صبح کی نماز کے لیے مسجد سے نکل رہے تھے کہ ان پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ فائرنگ کے ساتھ ہی واپس گھر میں داخل ہوئے جس کے باعث وہ محفوظ رہے۔ انھوں نے بتایا کہ گولیاں گھر کے گیٹ اور دیواروں پر لگیں۔

    مظاہرے سے قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یوآئی نظریاتی کے امیرمولانا عبدالقادر لونی نے کہا کہ ’ہم نے اپنے سکیورٹی کے حوالے سے خدشات سے آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو آگاہ کیا تھا۔

    لیکن انھوں نے ’ہمیں سکیورٹی فراہم نہیں کی۔ انھوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے 15 جنوری کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا تو پارٹی اس کے خلاف احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔

  4. دسمبر میں پاکستان میں کاروں کی فروخت میں 66 فیصد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں کاروں

    پاکستان میں دسمبر 2023 میں کاروں کی فروخت میں 66 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ملک میں صرف 5816 کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی۔

    دسمبر میں نومبر 2023 کے مقابلے میں بھی کاروں کی فروخت میں دس فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے چھ مہینوں (جولائی سے دسمبر) میں کاروں کی فروخت میں 53 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جب 39454 کاریں فروخت ہوئیں۔

    پاکستان میں کاریں تیار کرنے والی تمام کمپنیوں کی فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی، سوائے پاک سوزوکی کے جس نے دسمبر کے مہینے میں نومبر کے مقابلے کاروں کی فروخت میں سات فیصد کی گروتھ ریکارڈ کی گئی۔ تاہم گذشتہ مالی سال کے دسمبر کے مقابلے میں اس کی کاروں کی فروخت بھی گر گئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں کاروں کی فروخت میں کمی کی بڑی وجہ ان کی قیمتوں میں ہونے والا بے تحاشا اضافہ تھا جو ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

    اس کے ساتھ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے بینکوں سے قرض پر کار لینے کے رجحان میں بھی کمی واقع ہوئی جس نے کاروں کی فروخت کی مجموعی صورتحال کو منفی طور پر متاثر کیا۔

  5. یہ نہیں ہو سکتا کوئی جج پورے ادارے کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے اور ہم کارروائی نہ کریں، چیف جسٹس پاکستان

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی جج پورے ادارے کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے اور ہم کوئی کارروائی نہ کریں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں مستعفی ہونے والے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مظاہر نقوی کا استعفیٰ پڑھ کر سنایا۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے جون 2023 میں فیصلہ دیا تھا کہ اگر کوئی جج استعفیٰ دے جائے تو اس کے خلاف مزید کارروائی نہیں ہوسکتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ جج کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی تو ختم ہو گئی اور استعفیٰ دینا کسی جج کا ذاتی فیصلہ ہے۔

    چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے یہ بھی کہا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کوئی جج پورے ادارے کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے اور ہم کوئی کارروائی نہ کریں۔ پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے اور ہمیں کوئی تو فائنڈنگ دینا ہوں گی۔

    سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر نقوی اور خواجہ حارث کو ایک اور نوٹس جاری کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا ہے۔

  6. بریکنگ, الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان واپس کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل کو ڈائری نمبر الاٹ کر دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔

    الیکشن کمیشن کی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ پی ٹی آئی کی قیادت نے انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں کروائے تھے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لیا تھا۔

    اس سے قبل الیکشن کمیشن کے حکام کا اجلاس چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہوا جس میں پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

  7. لاہور، اسلام آباد، پشاور سمیت مُلک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے، ریکٹر سکیل پر شدت 6 ریکارڈ کی گئی

    محکمہ موسمیات کے مطابق مُلک کے بیشتر علاقوں میں دن 2 بج کر 20 منٹ پر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ محکمے کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت چھ ریکارڈ کی گئی۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زلزلے کا مرکز کو ہندوکُش افغانستان میں تھا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ملک بھر سے تاحال کسی بھی قسم کے جانے یا مالی نقصان کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، لاہور، پشاور، اسلام آباد کے علاوہ مُلاًک کے متعدد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

  8. پاکستان میں عام انتخابات سے قبل مولانا فضل الرحمان کے دورہ افغانستان سے کیا امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

  9. سائفر مقدمے کے عدالتی ٹرائل کا معاملہ: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل سے متعلق حکم امتناع ختم کر دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کے عدالتی ٹرائل سے متعلق جاری کیا گیا حکم امتناع ختم کر دیا ہے۔

    عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی 14 دسمبر سے شروع کی جائے اورخصوصی عدالت نے اس مقدمے کی عدالتی کارروائیان کیمرہ ڈکلیر کردی تھی۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم اس مقدمے کو14 دسمبرپر ہی لے کر جائیں گے۔

    بعدازاں وکیل سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 14 دسمبر کے بعد جو کچھ ہوا ہے وہ دوبارہ ہو گا۔ ہم جج کے خلاف بھی درخواست دیں گے جو بار بار یہ غلطی کر رہا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جو سرکار چاہتی ہے یا پراسکیوشن چاہتی ہے جج صاحب اس پر حکم جلدی سے دے دیتے ہیں۔ اس وجہ سے ہائیکورٹ کو بار بار کارروائی کالعدم قرار دینی پڑتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب اس مقدمے کی سماعت کھلی عدالت میں ہو گی مگر جیل میں ہی ہو گی اور ہم اس کے لیے بھی درخواست دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درخواست دیں گے کہ ٹرائل میں سب کو آنے کی اجازت ہو اور جج بھی تبدیل ہو۔

  10. بریکنگ, صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ منظور کر لیا

    Justice Naqvi

    ،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مس کنڈکٹ’ کی شکایات کا سامنے کرنے والے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفی منظور کرلیا۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس مظاہر نقوی کا استعفیٰ وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 179کے تحت منظور کیا۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس مظاہر اکبر علی نقوی نے صدر عارف علوی کو اپنا استعفیٰ بھجوایا تھا۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے استعفے میں خود پر عائد کردہ الزامات کو مسترد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اب سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی زیر سماعت ہے جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات عائد ہیں۔

    انھوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کراتے ہوئے خود پر عائد الزامات کی تردید کی تھی۔

  11. لاہور ہائی کورٹ شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کرے گی, ترہب اصغر بی بی سی اردو، لاہور

    لاہور ہائیکورٹ آج تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ‏شاہ محمود قریشی کی تین حلقوں سے کاغذات مسترد کرنے کے خلاف درخواست پر آج سماعت کرے گی۔

    ‏جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سابق وزیرخارجہ کی درخواست پر سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ ‏شاہ محمود قریشی کے این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے کاغذات مسترد ہوئے ہیں۔ اپنی درخواست میں شاہ محمود قریشی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ‏ٹریبیونل اور ریٹرننگ افسران نے قانون کے منافی کاغذات مسترد کیے۔

  12. سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی کے استعفے پر سپریم جوڈیشل کونسل آج غور کرے گی

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں آج ہوگا، جس میں مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف کونسل میں دائر ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایت کنندہ کو آج طلب کر رکھا ہے۔

    میاں داؤد جو کہ شکایت کنندہ میں سے ایک ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کونسل کے ارکان کے سامنے یہ استدعا رکھیں گے کہ مذکورہ جج کے مستعفی ہونے کے باوجود بھی اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا۔

    انھوں نے کہا کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں، جن کی تحقیقات ہونا ضروری ہے تا کہ مستقبل کے لیے ایک مثال قائم ہو۔

    انھوں نے کہا کہ مذکورہ جج کے مستعفی ہونے کے باوجود ان پر لگائے گئے الزامات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر اس معاملے کی تحقیقات نہ کی گئیں تو مستقبل میں اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج پر الزام لگے گا اور اس میں کچھ الزامات درست بھی ہوں تو وہ تحقیقات سے بچنے کے لیے مستعفی ہو جائے گا تا کہ اسے ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن اور دیگر مراعات ملتی رہیں۔

    سپریم کورٹ کا جج جس روز ریٹائر یا مستعفی ہوتا ہے اور اس وقت جو ماہانہ ’گراس سیلری‘ لے رہا ہوتا ہے وہی اس کی پینشن ہوتی ہے اور اس وقت سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ پندرہ لاکھ روپے سے زیادہ ہے اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں، جس میں دوہزار تک بجلی کے فری یونٹ ٹیلی فون کا بل اور سیکورٹی سٹاف بھی شامل ہے۔

  13. عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت آج ہوگی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کریں گے۔

    گذشتہ سماعت میں عدالت نے آج تک کے لیے سائفر کیس میں حکم امتناع جاری کیا تھا۔ عدالت نے ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست پر عبوری حکم جاری کیا تھا۔

    درخواست گزار عمران خان نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ جیل ٹرائل کے لیے قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو خصوصی عدالت اس مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کر چکی ہے۔

    دوسری جانب صحافیوں کی جانب سے بھی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے نمائندوں کو مقدمے کی عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے جیل کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اس درخواست پر بھی سماعت کریں گے۔

  14. پاکستان سے متعلق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا جائزہ اجلاس آج ہو گا, تنویر ملک، صحافی

    IMF

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کا پاکستان کے حوالے سے اجلاس جمعرات کو پیرس میں ہو گا۔

    آئی ایم ایف کا ایگزیکٹیو بورڈ پاکستان کے لیے موجودہ قرض پروگرام کے 70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی ادائیگی کی حتمی منظوری پرغور کرے گا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گذشتہ سال جون میں معاشی استحکام کے پروگرام کی حمایت کے لیے تین ارب ڈالر کا ’سٹینڈ بائی ارینجمینٹ‘ کا معاہدہ طے پایا تھا۔

    اس معاہدے کے تحت فوری طور پر پاکستان کو ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔

  15. بلوچستان: الیکشن ٹریبونلز نے ریٹرننگ افسروں کے اکثر فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر متعدد شخصیات کو انتخاب لڑنے کا اہل قرار دے دیا

    پاکستان میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے بلوچستان میں الیکشن ٹریبونلز نے ریٹرننگ افسروں کے اکثر فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر متعدد شخصیات کو انتخاب لڑنے کے لیے اہل قرار دیا جن میں تحریک انصاف کے امیدواروں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

    بلوچستان سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ریٹرننگ افسروں نے مجموعی طورپر 478 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کیا تھا۔

    ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونلز میں 405 اپیلیں دائر کی گئی تھیں اور بلوچستان ہائیکورٹ کے دو ججز جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس عامر نواز رانا پر مشتمل ٹریبونلز نے 10 جنوری تک تمام اپیلوں کو نمٹا دیا۔

    الیکشن ٹریبونلز نے ریٹرننگ افسروں میں سے زیادہ تر کے فیصلوں کو مسترد کر کے 369 امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی۔

    جن اہم شخصیات کے کاغذات نامزدگی کو ریٹرننگ افسروں نے مسترد کیا تھا ان میں سردار اخترمینگل بھی شامل تھے جو قومی اسمبلی کی تین اور بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست سے امیدوارتھے۔

    تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے کاغذات نامزدگی کو بھی ریٹرننگ افسر نے قومی اسمبلی کی نشست سے مسترد کیا تھا لیکن انھوں نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف الیکشن ٹریبونلز سے رجوع نہیں کیا تاہم تحریک انصاف بلوچستان کے رہنما عالم خان کاکڑ نے بتایا کہ الیکشن ٹریبونلز نے ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر تحریک انصاف کے متعدد امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔

    بلوچستان سے جن امیدواروں کو الیکشن ٹریبونلز سے ریلیف نہیں ملی، ان میں پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار میر جمال خان رئیسانی بھی شامل تھے۔

    جمال خان رئیسانی بلوچستان کی نگراں کابینہ میں وزیر برائے کھیل و امور تھے تاہم انھوں نے آئندہ انتخابات کے لیے شیڈول کے اعلان سے چند گھنٹے قبل وزارت سے استعفیٰ دیا تھا۔

  16. مسلم لیگ نون کا 15 جنوری سے انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان

    پاکستان مسلم لیگ نون نے 15 جنوری سے انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ نوازشریف کی قیادت میں انتخابی مہم کا آغاز 15 جنوری سے ہوگا۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’نون لیگ میں ٹکٹوں کی تقسیم پر کوئی اختلاف نہیں بلکہ صرف چند حلقوں میں مشاورت جاری ہے اور آئندہ ایک یا دو دن تک امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی جائے گی۔‘

    رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت الیکشن میں التوا کے حق میں نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارا شروع دن سے موقف ہے کہ شفاف الیکشن کا انعقاد بروقت ہونا چاہیے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. کیچ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ن لیگ کے امیدوار محمد اسلم بلیدی شدید زخمی

    محمد اسلم بلیدی

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی کے امیدوار میر محمد اسلم بلیدی زخمی ہوگئے ہیں۔ اسلم بلیدی کیچ اور پنجگور پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست این اے 258 سے امیدوار ہیں۔

    انھیں نامعلوم افراد نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پارک میں واک کر رہے تھے۔ ڈپٹی کمشنر کیچ حسین بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اسلم بلیدی شام کو تربت شہر کے اندر تربت پارک میں واک کر رہے تھے کہ وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے اسلم بلیدی شدید زخمی ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ اسلم بلیدی کو فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا-

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اسلم بلیدی کو چار گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت مستحکم نہیں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اسلم بلیدی کو علاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    تاحال ان پر حملے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے۔

    اسلم بلیدی کون ہیں؟

    میر اسلم بلیدی کا شمار ضلع کیچ کی معروف سیاسی اور قبائلی شخصیات میں ہوتا ہے۔ ماضی میں ان کا تعلق قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے رہا۔

    وہ کیچ سے ماضی میں بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے علاوہ بلوچستان کے وزیر صحت بھی رہے۔ وہ حال ہی میں نواز لیگ میں شامل ہوگئے تھے اور نواز لیگ نے انھیں کیچ اور پنجگور کے اضلاع پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست 258 سے ٹکٹ جاری کیا تھا۔

    تربت بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ تربت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 800 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    تربت اور کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ مسلح شورش سے متاثر رہے ہیں۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کیچ میں بد امنی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

    تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ماضی کے مقابلے میں کیچ میں حالات میں بہتری آئی ہے۔

  18. ’احتجاجی دھرنے کے دوران بلوچستان سے ہمارے 40 افراد کو اٹھا لیا گیا‘ ماہ رنگ بلوچ کا دعویٰ, سحر بلوچ، نامہ نگار بی بی سی اردو

    Mah Rang

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کنوینر ماہ رنگ بلوچ نے دعوی کیا ہے کہ ’اس احتجاجی دھرنے کے دوران بلوچستان سے 40 افراد کو اٹھا لیا گیا۔‘

    بدھ کے روز اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بنے کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ریاست کی سنجیدگی کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 48 دن سے یہاں بیٹھنے کے باوجود ہم سے کسی ریاستی نمائندے یا ترجمان نے آ کر بات نہیں کی۔‘

    ماہ رنگ بلوچ نے مزید بتایا کہ ایک روز پہلے دو افراد کو تمپ کے سرحدی علاقے دزین سے اٹھایا گیا۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ جبکہ بدھ کی صبح 8 بجے دو سیاسی کارکنان کو تونسہ شریف سے اٹھایا گیا۔ ہم لوگ ان کے لیے بہت پریشان ہیں کیونکہ یہ اپنے علاقے میں احتجاجی کیمپ سے یکجہتی کے لیے مارچ آرگنائز کروا رہے تھے جس کا انعقاد آج تونسہ شریف میں ہوا۔‘

    camp

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کیمپ سے چند قدم کے فاصلے پر ’شہدا فورم‘ کے نام سے بھی ایک احتجاجی کیمپ لگا ہوا ہے۔ یہ کیمپ پانچ دن قبل لگا تھا اور اس کے شرکا کی سربراہی نوابزادہ جمال رئیسانی کر رہے ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کو کس سے انصاف چاہیے تو جمال نے بتایا کہ ’ہمیں ہمارے ان شہدا کے لیے انصاف چاہیے جنھیں کالعدم تنظیموں نے مارا۔‘

  19. عمران خان میانوالی سے بھی الیکشن لڑنے کے لیے نا اہل قرار

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو این اے 89 میانوالی سے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی۔

    گزشتہ ہفتے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    الیکشن ٹربیونل نے آج فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی این اے 89 میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے۔