بھٹو کی پھانسی کا معاملہ سماعت کے لیے مقرر، پانچ سوالات پر مشتمل یہ صدارتی ریفرنس کیا ہے؟
سپریم کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے پر صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس ریفرنس میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے اُس بیان کو بنیاد بنایا گیا جس میں اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ پر سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کی حکومت کا دباؤ تھا۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
اس کے بعد کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
مسلم لیگ ن کو چھوٹی سیاسی جماعتوں کی مدد کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا سیاست اور پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان
بلوچستان سے ایک اور بڑے نام کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہPPP
بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سابق صدر میر عبدالقدوس بزنجو نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان انھوں نے لاہور میں سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے موقع پر کیا۔
اس موقع پر اُن کے ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی کے سابق رکن بلوچستان اسمبلی میر اسکندر خان عمرانی اور بعض دیگر شخصیات نے بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔
میر عبدالقدوس بزنجو 2018 کے عام انتخابات سے قبل بلوچستان میں بننے والی نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی اراکین میں سے ہیں۔
انھوں نے چند ماہ قبل اعلان کیا تھا کہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی میں رہیں گے لیکن اس کے برعکس انھوں نے پارٹی سے علحیدگی اختیار کر کے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
بلوچستان عوامی پارٹی 2018 میں الیکٹیبلز نے بنائی تھی جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پارٹی کی قیام سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن سے تھا۔
تاہم اس سے قبل ان میں سے زیادہ تر پاکستان مسلم لیگ ق اور دیگر سیاسی جماعتوں کا بھی حصہ رہے ہیں۔
اگرچہ بلوچستان عوامی پارٹی ابھی تک قائم ہے لیکن اس سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر الیکٹیبلز ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں شامل ہو چُکے ہیں۔
ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 28 کروڑ ڈالر کی کمی, تنویر ملک، صحافی
ملکی زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 28.57 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی جس کے بعد ملکی زرمبادلہ ذخائر 12 ارب 10 کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔
پاکستان کے مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق سٹیٹ بینک کے ذخائر 23.68 کروڑ ڈالر کم ہو کر 7.02 ارب ڈالر رہے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 4.89 کروڑ ڈالر کم ہو کر 5.08 ارب ڈالر رہے۔
سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا معاملہ سماعت کے لیے مقرر، پانچ سوالات پر مشتمل یہ صدارتی ریفرنس کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے پر صدارتی ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔
رجسٹرار سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا نو رکنی لارجر بینچ 12 دسمبر کو ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کی سماعت کرے گا۔
بینچ میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔
صدارتی ریفرنس میں کیا کہا گیا تھا؟
سابق صدر آصف علی زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔ اس ریفرنس میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے اُس بیان کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ میں سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کی حکومت کی طرف سے دباؤ تھا۔ اس ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ میں ہونے کی بجائے لاہور ہائی کورٹ میں کی گئی جو کہ آئین کی خلاف ورزی تھی۔
اس ریفرنس میں وکیل بابر اعوان کا مؤقف تھا کہ قتل میں اعانت پر کسی بھی شخص کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی اور یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا ریفرنس کسی بھی عدالتی فیصلے میں نہیں دیا جاتا۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کا رویہ تعصبانہ تھا۔
ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں چھ سماعتیں ہو چکی ہیں جن میں سے پہلی سماعت دو جنوری 2012 کو جبکہ آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی۔
پہلی پانچ سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کی تھیں۔ اس آخری ساعت کے آٹھ چیف جسٹس صاحبان اپنی ملازمت کی مدت پوری کر چکے ہیں اور کسی نے بھی اس صدارتی ریفرنس کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔
یہ صدارتی ریفرنس پانچ سوالات پر مبنی تھا:
1- ذوالفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟
2- کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائیکورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہو گا؟ اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟
3- کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذولفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟
4- کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟
5- کیا ذولفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟
’جیل ٹرائل کا ریکارڈ موجود نہیں‘
جون 2011 کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں پھانسی سے متعلق کیس کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے اسے دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیجنا ہوگا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ عدالت میں نئے شواہد پیش کیے جائیں۔
عدالت میں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پانچ شکایات درج تھیں جن میں سے تین کا ریکارڈ دستیاب ہے جبکہ جیل میں ہونے والے ٹرائل کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے شفیع الرحمن کی رپورٹ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا تھا اُس کا کیا ہوا، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کمیشن کی اصل کاپی دستیاب نہیں تاہم اس کی فوٹو کاپیاں موجود ہیں۔
جنوری 2012 کے دوران سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں بابر اعوان کا لائسنس عارضی طور پر معطل کیا تھا جس کے بعد قائم مقام صدر نئیر حسین بخاری نے بھٹو کی سزا سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس میں بابر اعوان کی جگہ بیرسٹر اعتزاز احسن کو وکیل مقرر کیا تھا۔
بہاولپور کے چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے میں موجود لاش کی شناخت مکمل، سکیورٹی لیپس کا اعتراف
بریکنگ, العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوراننواز شریف نے حسین نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات سے اظہار لاتعلقی کر دیا ہے۔
سماعت کے دوران نیب پراسکیوٹر نے عدالت میں دستاویزات پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں ان کی جانب سے یہ ڈاکیومنٹ جمع کروائے گئے،سچائی انھیں ثابت کرنا تھی۔
جس پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ یہ ڈاکیومنٹ ہم نے نہیں بلکہ مقدمے کے ایک فریق حسین نواز نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔
جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ڈاکیومنٹ ہے کیا ہمیں بھی تو دکھائیں۔ نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ یہ آڈٹ رپورٹ ایک سورس ڈاکیومنٹ تھا۔
کیا فوٹو کاپی بطور ثبوت پیش کرنے پر آپ نے اعتراض کیا تھا؟ چیف جسٹس کا امجد پرویز سے سوال۔ اس کے جواب میں امجد پرویز نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس دائر ہی تب ہو سکتا ہے جب آمدن اور اثاثے کی مالیت کا تقابل موجود ہو۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر اعتراض کیا تھا تو اس پر عدالت نے کیا فیصلہ دیا تھا؟
امجد پرویز کا کہنا تھا کہ واجد ضیا نے جرح میں بتایا تھا کہ یہ سورس ڈاکومنٹ ہے۔
سماعت کے دوران نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت میں اقامہ کی دستاویز پر بحث شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا العزیزیہ کمپنی کی طرف سے نواز شریف کو قابل ادا تنخواہوں سے متعلق دستاویز مصدقہ ہے؟
انھوں نے پوچھا کہ کیا جس شخص نے اُس قابل وصول تنخواہ کی دستاویز تیار کی اُس نے کسی عدالت میں آ کر اِس کی تصدیق کی؟
اس پر امجد پرویز نے کہا کہ قابل وصول تنخواہ کی دستاویز تیار کرنے والے چارٹرڈ اکاؤنٹ نے کبھی عدالت میں پیش ہو کر تصدیق ہی نہیں کی۔ سب فوٹو کاپی دستاویز ہے اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیس میں عدالت نے فوٹو کاپی دستاویز کو بطور ثبوت ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
امجد پرویز نے کہا کہ اس دستاویز کی کوڑ کباڑ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت 12 دسمبرتک ملتوی کر دی۔
العزیزیہ ریفرنس کیس: ’نیب کا الزام ہے کہ نواز شریف بے نامی دار ہیں‘، عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہے کہ نیب کا الزام ہے کہ نواز شریف بے نامی دار ہیں۔ انھوں نے استفسار کیا کہ کچھ ٹرانزیکشنز ہیں، ان سے متعلق عدالت کو بتائیں۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مان بھی لیا جائے کہ پراپرٹی نواز شریف کی ہے پھر بھی چار عناصر پراسکیوشن کو پورے کرنے ہیں۔ اس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ چاروں عناصر مسنگ ہیں، نواز شریف پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے۔جے آئی ٹی کسی کاغذ پر یقین نہیں رکھتی، العزیزیہ کمپنی 2001 میں رجسٹر ہوئی۔دوسری ہل میٹل 2005 میں رجسٹر ہوئی، ہل میٹل کے مالک حسین نواز شریف ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کمپنی سے نواز شریف کا تعلق ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، امجد پرویز کا کہنا تھا کہ نیب کا سارا کیس نواز شریف کی ان کمپنیوں کی ملکیت ثابت کرنے کا تھا۔ ان کمپنیوں کے شیئر ہولڈرز حسین نواز شریف، عباس شریف اور ایک خاتون تھی۔
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ نواز شریف کا موقف یہ تھا العزیزیہ میرے والد میاں شریف نے بنائی تھی جس کے ساتھ ان کا کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا۔
امجد پرویز کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کا سربراہ جرح میں یہ تسلیم کرتا ہے العزیزیہ سے نواز شریف کے تعلق بارے ان کو کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملا، نواز شریف کی فیملی نے 1976 میں دبئی میں گلف سٹیل ملز لگائی۔ یہ گلف کی سب سے بڑی سٹیل ملز تھی جو دبئی میں لگائی گئی یہ بعد کی بات ہے کہ وہ بعد میں منافع میں رہی یا نہیں۔
العزیزیہ ریفرنس کیس:جج ویڈیو سیکنڈل کیس سے متعلق درخواست کی پیروی نہ کرنے کی استدعا منظور, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران عدالت نے جج ویڈیو سیکنڈل کیس سے متعلق درخواست کی پیروی نہ کرنے کی نواز شریف کی استدعا منظور کر لی ہے۔
سماعت کے دوران نواز شریف نے درخواست کی پیروی نہ کرنے کی استدعا کی تھی۔
جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے میرٹ پر سماعت کا آغاز کر دیا ہے اور نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے اپنے باپ یعنی نواز شریف کو باہر سے بینکنگ چینل کے ذریعے رقم بھجوائی، ہل میٹل سٹیبلشمنٹ بنانے کے چار سال بعد یہ رقم بھجوائی گئی۔
امجد پرویز نے کہا کہ سنہ 2017 میں حسین نواز کے اکاؤنٹ سے جو رقم آئی وہ ٹیکس ریٹرن میں بھی ظاہر کی گئیں، نیب نے نواز شریف کے خلاف سعودی عرب کی آڈٹ فرم کی فوٹو کاپی پر انحصار کیا ہے۔
العزیزیہ ریفرنس کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا میرٹ پر نواز شریف کی اپیل سننے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت جاری ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا ہے کہ آپ صاف بتائیں؟ کون سا آپشن لیں گے؟
جس پر نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بہت سی باتیں میں عدالت کے سامنے نہیں کرنا چاہتا۔
جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں راستہ دکھایا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے دیکھنا ہے اگر اضافی دستاویزات دیکھ کر ٹرائل کو متاثر کرتا ہے یا نہیں؟
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے مرحوم جج ارشد ملک کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی ہے۔ نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ جج ارشد ملک دنیا میں نہیں رہے اس لیے درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔
اس موقع پر نیب پراسیکوٹر نے عدالت سے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک راستہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ دوسرا ہائی کورٹ کو خود فیصلہ کرنے کا دیا تھا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالت میرٹ پر خود فیصلے کرے یا دوبارہ فیصلے کے لیے ریمانڈ کر دے یہی دو راستے ہیں۔
اس موقع پر وکیل نواز شریف نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ پہلے ہی بہت زیادتیاں ہو چکی ہیں۔ ہماری استدعا ہے کہ یہی عدالت میرٹ پر نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ کر دے۔ اس سے قبل بھی دو اپیلوں پر فیصلہ اسی عدالت میں ہو چکا ہے۔
اس موقع پر نیب پراسیکوٹر نے العزیزیہ ریفرنس فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی۔ نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ عدالت فیصلہ کالعدم قرار دے کر ریمانڈ بیک کر دے۔
اس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے ہمیں منظور ہو گا۔ عدالت اگر نیب کورٹ کہہ دے کہ وہ دوبارہ سن کر فیصلہ کر دے۔ عدالت نیب کورٹ کو پندرہ بیس دن دے دے۔
جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے میرٹ پر نواز شریف کی اپیل سننے کا فیصلہ کیا ہے۔
العزیزیہ کیس: نواز شریف جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل سے متعلق ’درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے‘, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت جاری ہے۔
سماعت کے دوران نواز شریف کے وکلا کی جانب سے دلائل کے دوران نیب پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی ایک درخواست جج ارشد ملک ویڈیو سیکنڈل سے متعلق زیر التوا ہے۔ نیب پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کے وکلا میرٹ پر دلائل دے رہے ہیں لیکن ان کی وہ درخواست زیر التوا ہے۔
جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب پراسیکوٹر کو بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ ان کو کہنے دیں۔
جج ویڈیو اسیکنڈل سے متعلق اپنی درخواست کی پیروی نہیں کریں گے ، نواز شریف کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کر دیا۔ نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک فوت ہو چکے ہیں، ہم اس درخواست کی پیروی نہیں کر رہے۔
اس پر بنچ میں شامل جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر جج کا کنڈکٹ اس کیس کے فیصلے کے وقت ٹھیک نہیں تھا، بدیانت تھا تو اس کے اثرات ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں بتائیں ان کو بطور جج کیوں برطرفرکھا گیا تھا؟ ان پر چارج کیا تھا؟
انھوں نے نواز شریف کےوکلا سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس درخواستکی پیروی کریں گے تو ہم اس کو دیکھیں گے کیونکہ ارشد ملک اب نہیں ہیں لیکن باقی لوگ ابھی موجود ہیں۔
جس پر نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرٹ پر ہمارا کیس پہلے سے بہتر ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کا فیصلہ ہے کہ آپ اس درخواست کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ جس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ’مجھے ہدایت دی گئی ہے، جج ارشد ملک ویڈیو سیکنڈل سے متعلق درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’ہم یہاں اسکرین لگا دیں گے اور ویڈیو چلا دیں گے، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ یہ دو دھاری تلوار بھی ثابت ہوسکتی ہے۔‘
اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اب ہمارے پاس دو آپشن ہیں یا کیس خود سنیں یا ریمانڈ کر دیں۔
جبکہ جسٹس گل حسن نے کہا کہ اگر کیس واپس چلا بھی جاتا ہے تو نیب وہی رویہ اختیار کرتا ہے جو یہاں کیا تو سوال پھر بھی باقی رہیں گے۔
اس پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں ضرور تکلیف ہو گی دوبارہ جائیں گے دوبارہ دلائل دیں گے۔
یاد رہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دسمبر 2018 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے ان کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انھیں کہتے ہوئے سنا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ارشد ملک کو ان کے مس کنڈکٹ کی وجہ سے احتساب عدالت کے جج کے طور پر کام کرنے سے روکتے ہوئے اُنھیں لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔
ارشد ملک ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد میں تعینات ہوئے اور وہ لاہور ہائی کورٹ کے ہی ماتحت تھے۔
مذکورہ جج کی ویڈیو منظر عام آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اُنھیں واپس لاہور ہائی کورٹ بھیجنے کی بجائے وفاقی وزارت قانون میں بطور او ایس ڈی رکھ لیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد ارشد ملک نے ایک بیانِ حلفی دیا تھا جس میں انھوں نے نواز شریف کے بیٹے سے ملاقات کا اعتراف کیا تھا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر فیصلے میں کہا تھا کہ ارشد ملک نے جو بیان حلفی جمع کروایا تھا وہ دراصل ان کا اعترافِ جرم تھا۔
العزیزیہ سٹیل ملز 2001 میں سعودی عرب میں بنائی گئی جب نواز شریف پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے، وکلا کے دلائل, شہزاد ملک، بی بی سی نامہ نگار
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت کر رہا ہے۔
سماعت کے آغاز پر نواز شریف کے وکلا اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز جبکہ ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب نعیم طارق سنگھیڑہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
نواز شریف کے وکیل نے سماعت کے دوران دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 24 دسمبر 2018 کے فیصلے خلاف یکم جنوری 2019 کو اپیل فائل ہوئی۔ جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ بھی پانامہ کیس سے متعلق تھی؟ اس پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کا کہنا تھا کہ تین ریفرنسز تھے جن میں دو میں بریت ہو چکی ایک یہ ہے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نیب نے اپیل واپس لے لی تھی۔
نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب نے سپریم کورٹ کے احکامات پر ریفرنسز دائر کیے جن میں ایک جیسا الزام تھا۔ہم نے درخواست دی تھی کہ ایک الزام پر صرف ایک ہی ریفرنس دائر ہونا چاہئے تھ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو بری کر دیا تھا۔
اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اس ریفرنس میں الزام کیا تھا؟ جس پر وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ یہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس تھا۔ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اس کیس میں 22 گواہ ہیں جن میں 13 وہ ہیں جنھوں نے ریکارڈ پیش کیا جبکہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے۔
امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ العزیزیہ سٹیل ملز 2001 میں سعودی عرب میں بنائی گئی جب نواز شریف پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے۔ یہ تسلیم شدہ ہے کہ العزیزیہ کوبیچ کر ہل میٹل 2005/2006 میں بنائی گئی۔
انھوں نے کہا کہ لیگل میوچل اسسٹنٹ یعنی ایم ایل ایز سعودی عرب کو لکھے گئے لیکن وہاں سے ان کو کوئی جواب نہیں آیا ۔
نواز شریف کے وکیل نے نواز شریف کے موقف کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے مؤکل(نواز شریف ) کا موقف ہی یہی ہے کہ ان کے والد نے العزیزیہ سٹیل مل بنائی تھی۔ میرا موقف رہا ہے اس سٹیل مل کے ساتھ کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔‘
امجد پرویز کا کہنا تھا کہ العزیزیہ 2001 اور ہل میٹل 2005 میں جب بنائی گئی تو نواز شریف پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے۔ جبکہ نواز شریف کے والد میاں شریف اپنی زندگی میں ہر طرح کے اخراجات خود کرتے تھے۔ میرا کیس اس لیے مضبوط ہے میں دونوں ملز بنانے کے وقت میرے مؤکل پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے۔
منظور پشتین سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انسدادِ دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
جمعرات کو تھانہ ترنول میں درج مقدمہ میں پولیس نے منظور پشتین کو انسداد دہشت گردی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں پیش کیا۔
پولیس کی جانب سے منظور پشتین کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جبکہ وکیل صفائی نےکہا کہ جسمانی ریمانڈ نہیں بنتا۔ انھوں نے کہا کہ جلسہ کرنا ہمارا حق ہے، بلوچستان میں منظور پشتین کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، انھیں بلوچستان سے اغوا کیا گیا اور تین دن بعد آج عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے منظور پشتین کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
یاد رہے کہ رواں ماہ چار دسمبر کو منظور پشتین کو بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے حراست میں لیا گیا تھا۔ سرکاری حکام نے کہا تھا کہ منظور پشتین غیر قانونی طور پر بلوچستان میں داخل ہوئے تھےاور انھیں بلوچستان بدر کرنے کے لیے حراست میں لیا گیا۔
جبکہ انھیں حراست میں لیے جانے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیاگیا تھا کہ چمن میں منظور پشتین کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تاہم وہ فائرنگ میں محفوظ رہے۔
منظور پشتین افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے دورے پر گئے تھے اور انھوں نے چمن سے تربت جانے کا اعلان کیا تھا جہاں انھوں نے سی ٹی ڈی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما زبیر آغا نے بتایا تھا کہ جب منظور پشتین دھرنے میں شرکت کے بعد تربت جانے کے لیے چمن سے روانہ ہوئے تو باب دوستی کے قریب پہنچنے پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کو متعدد گولیاں لگیں لیکن منظور پشتین اور گاڑی میں بیٹھے دوسرے افراد محفوظ رہے۔ انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے بعد منظور پشتین اور ان کے قافلے میں شامل گاڑیوں کو محاصرے میں لیا گیا اور بعد میں منظور پشتین کو گرفتار کر لیا گیا۔
جب اس سلسلے میں بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ منظور پشتین کے بلوچستان میں داخلے پر پابندی تھی۔ منظورپشتین اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں داخل ہوکر چمن گئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ پابندی کی خلاف وررزی پر منظور پشتین کو چمن سے حراست میں لیا گیا اور انھیں بلوچستان بدر کیا جائے گا۔ نگراں وزیراطلاعات نے منظور پشتین کی گاڑی پر فائرنگ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ منظور پشتین کے گارڈز نے کی تھی۔
بریکنگ, العزیزیہ ریفرنس میں پیشی، نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت کے سلسلے میں پیشی کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف اپیل آج سماعت کے لیے مقرر ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت کر رہا ہے۔
26 اکتوبر کو سلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی درخواست پر ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کر دی تھیں۔
واضح رہے کہ نواز شریف نے گزشتہ ماہ 21 اکتوبر کو وطن واپسی کے بعد 23 اکتوبر کو سزا کے خلاف اپیلوں کی بحالی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی۔
یاد رہے کہ 29 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں منظور کر لی تھیں اور احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نواز شریف کو بری کر دیا تھا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے دسمبر 2018 میں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کردیا تھا تاہم 10 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل، تمام جائیدادیں ضبط کرنے اور جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔
احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نواز شریف نے 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور بعد ازاں عدالت عالیہ نے العزیزیہ ریفرنس مشروط طور ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیاتھا۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جولائی 2018 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ کیا تھا اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) کے قائد نے مذکورہ فیصلے کے خلاف بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو بظاہر العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔
شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔ البتہ نیب کے وکلا کا کہنا تھا کہ شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔
ان کا دعویٰ تھا کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایا لگایا۔
حسین نواز کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔ ان کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔
اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کا اصل مالک نواز شریف خود تھے۔
نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی تھا کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ تھے، نہ کہ ان کے بیٹے۔
واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی ایون فیلڈ ریفنرس میں شریک ملزم مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بری کر چکی ہے۔
نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز ریفرنس میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سات برس کے لیے قید کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے بعد انھیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں صحت کی خرابی کے بعد نومبر 2019 میں علاج کی غرض سے لندن چلے گئے تھے۔ نواز شریف کی لندن روانگی سے قبل شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئےاس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ چار ہفتوں یا ان کے ڈاکٹر کی جانب سےان کی صحت یابی کی تصدیق کے بعد وہ پاکستان واپس آجائیں گے۔
بعد ازاں گزشتہ سال اگست میں نواز شریف نے برطانوی محکمہ داخلہ کی جانب سے ’طبی بنیادوں پر‘ ان کے ملک میں قیام میں توسیع کی اجازت دینے سے انکار پر امیگریشن ٹربیونل میں درخواست دی تھی۔
بلوچستان کے ضلع صحبت پور میں دھماکہ، ایک شخص ہلاک اور دو پولیس اہلکاروں سمیت تین زخمی
بلوچستان کے ضلع صحبت پور میں بم دھماکے کے ایک واقعے میں ایک شخص ہلاک اور دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ صحبت پور سٹی پولیس سٹیشن کی حدود میں پیش آیا ہے۔ سٹی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او غلام علی نے فون پر بتایا کہ ’نامعلوم افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کارکنوں کے زیرِ استعمال ایک مکان کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ’دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے مکان کے اندر موجود دو مزدور اور دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبیّ امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیاجہاں صدام حسین نامی مزدور زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس اہلکار تعمیراتی کمپنی کی سکیورٹی پر مامور تھے اور یہ کمپنی علاقے میں ایک سڑک کی تعمیر کر رہی تھی۔‘
صحبت پورکی سرحدیں بلوچستان کے شورش سے متاثرہ ڈیرہ بگٹی سے لگتی ہیں۔ ماضی میں بھی صحبت پور کے سرحدی علاقوں میں بدامنی کے اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں ۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ماضی کے مقابلے میں اب ایسے واقعات میں کمی آئی ہے۔
’عدالت آپ کی درخواست پر کیا پورے ملک کی انتخابی فہرستیں نکال کر بیٹھ جائے‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے غیر ملکیوں کے ووٹرز لسٹ میں اندراج سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ انتخابی فہرستیں درست کرنا ہائی کورٹ کا کام نہیں ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اس درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا انھوں نے الیکشن ایکٹ پڑھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے اس ضمن میں سپریم کورٹ کے کچھ فیصلوں کا حوالہ دینا چاہا تو بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے الیکشن کمیشن کو اس ضمن میں کوئی درخواست دی ہے جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے الیکشن کمیشن کے علاوہ وزارت داخلہ اور نادرا کو بھی درخواست دی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ ’کیا آپ نے اس کا ذکر اپنی درخواست میں کیا ہے؟‘ جس کا انھوں نے نفی میں جواب دیا اس پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی سرزنش کی اور کہا کہ ’عدالت آپ کی درخواست پر کیا پورے ملک کی انتخابی فہرستیں نکال کر بیٹھ جائے۔‘
درخواست گزار کے وکیل کے پاس جب ان سوالوں کا جواب نہیں تھا تو انھوں نے عدالت سے تیاری کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی جو منظور کر لی گئی۔
غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں: جنرل عاصم منیر

،تصویر کا ذریعہISPR
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، ایسے غیر قانونی غیر ملکیوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملکوں میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر پشاور نے اُن کا استقبال کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے انسدادِ دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور جوانوں سے بھی ملاقات کی اور ان کی بے مثال کارکردگی کو سراہا، اس موقع پر جنرل عاصم منیر کو سکیورٹی کی مجموعی صورتحال، انسداد دہشتگردی کیخلاف کارروائیوں، غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی سمیت نئے ضم شدہ اضلاع میں سماجی و اقتصادی ترقی کی پیش رفت پربھی بریفنگ دی گئی۔
فروری سے زیادہ سردی دسمبر میں ہوتی ہے لہٰذا الیکشن آٹھ فروری کو ہیں اس پر کوئی دوسری رائے نہیں: نگران وزیرِ اطلاعات
نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس سے پہلے سردی کی بات کرتے تھے، دسمبر میں بھی انتخابات ہوئے ہیں اور فروری سے زیادہ سردی دسمبر میں ہوتی ہے لہٰذا الیکشن آٹھ فروری کو ہیں اس پر کوئی دوسری رائے نہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے مرتضٰی سولنگی نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کے مسائل ہیں لیکن ملک میں اس سے زیادہ خراب صورتحال رہی ہے اور الیکشن ہوئے ہیں۔‘
