الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے دوران فوج کی معاونت طلب کر لی

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2024 کے عام انتخابات میں سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کے پیش نظر فوج کے دستوں کی تعیناتی کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے۔

لائیو کوریج

  1. لسبیلہ کے قریب زائرین کے ٹرک کو حادثہ: 17 افراد ہلاک، 50 سے زائد زخمی

    ٹرک حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/PTV

    وزیر اعلیٰ سندہ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے قریب زائرین کے ٹرک کو حادثے کے نتیجے میں 17 افراد ہوئے ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے ٹراما سینٹر کراچی میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’اس حادثے کے شکار ہونے والے 52 زخمیوں کو یہاں منتقل کیا گیا جس میں سے 40 کو ڈسچارج کر دیا گیا جبکہ پانچ کو سر پر شدید چوٹ آئی ہے جو وینٹی لیٹر پر ہیں۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ کے علاقے ٹھٹھہ سے زائرین کا ٹرک بلوچستان میں واقع درگاہ شاہ نورانی کی زیارت کو جا رہا تھا کہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے میں شدید زخمیوں کو امدادی کارروائیوں کے دوران سول ہسپتال کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ زیر علاج افراد میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’پوری کوشش ہے کہ ان زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’حادثے سے متعلق ابھی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں اس کی تحقیقات بلوچستان کی حکومت کرے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سارے کے سارے بہت غریب لوگ تھے اور پتھر توڑنے والے (کرشنگ) مزدورتھے۔ اس وقت ہمارے قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران ہلاک ہونے والوں کے گاؤں میں موجود ہیں۔‘

  2. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ آج کی اہم خبروں کے جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں

  3. الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے دوران فوج کی معاونت طلب کر لی

    پولنگ سٹیشز پر پاکستانی فوج کے دستوں کی تعیناتی کے لیے خط

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2024 کے عام انتخابات میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستانی فوج کے دستوں کی تعیناتی کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا ہے۔

    اس خط میں لکھا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے لیے پانچ لاکھ 91 ہزار 106 سکیورٹی اہلکار درکار ہیں مگر صوبوں اور وفاق میں 277558 پولیس اہلکاروں کی کمی ہے۔ اس وجہ سے پاکستانی فوج اور نیم فوجی دستوں کو غیر متحرک انداز میں پولنگ کے روز تعینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    اس خط میں ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فوج اور سول آرمڈ فورسز کی بطور سٹیٹک اور کوئیک رسپانس فورس تعیناتی یقینی بنائی جائے اور 7 دسمبر سے پہلے کمیشن کو آگاہ کیا جائے۔

  4. غلط خبر نشر کرنے پر اے آر وائی نیوز کو صحافی عاصمہ شیرازی سے معافی مانگنے اور ہرجانے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا فیصلے کے خلاف سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی کی اپیل کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

    غلط خبر نشر کرنے پر اے آر وائی نیوز کو سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی سے معافی مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    چودہ صفحات پر مبنی فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صحافی عاصمہ شیرازی سے متعلق غلط خبر نشر کرنے پر اے آر وائی نیوز معافی نامہ نشر کرے۔

    اے آر وائی نیوز کو صحافی عاصمہ شیرازی کو 50 ہزار روپے ہرجانہ دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

    عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ ’عاصمہ شیرازی چاہیں تو اے آر وائی نیوز پر ہتک عزت کا دعویٰ بھی دائر کر سکتی ہیں۔

    آر وائی نیوز نے سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کے خلاف دو روز تک غلط خبر نشر کی تھی، اے آر وائی نیوز نے سپریم کورٹ کی خبر کے ساتھ غلط طور پر عاصمہ شیرازی کی تصویر بار بار نشر کی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ’پیمرا قانون کے تحت چینلز کی ذمہ داری ہے کہ خبر کو درست انداز میں نشر کیا جائے، پیمرا قانون کے مطابق کسی کے خلاف غلط، ہراسیت پر مبنی، ہتک آمیز خبر نہیں چلائی جا سکتی۔‘

  5. پاکستان سے 4 لاکھ سے زائد غیر ملکی تارکین وطن واپس جاچکے ہیں: جان محمد اچکزئی

    غیر ملکی تارکین وطن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان محمد اچکزئی نے کہا ہے کہ اب تک پاکستان سے 4لاکھ سے زائد غیر ملکی تارکین وطن واپس جا چکے ہیں جو کہ موجودہ حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے پاکستان کو تمام مسائل سے نکالنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں 17 لاکھ غیر ملکی تارکین وطن ہیں حکومت ان سب کو نکالنا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے‘۔

    نگران وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اسے اپنے اندرونی اور بیرونی پالیسی بنانے میں مکمل آزادی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اپنے آپ کو ذمہ دار ریاست کے طورپر پیش کرے اور پوری دنیا اس وقت افغانستان کو دیکھ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغان حکومت اپنے آپ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرائے اور وہ کسی کو بھی افغان سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔

    جان اچکزئی نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’وہ حافظ گل بہادرکو فوری طور پر پاکستان کے حوالے کرے اور اسی طرح جو باقی شدت پسند وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں ان کو بھی پاکستان کے حوالے کیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جن غیر ملکیوں نے پاکستان کے جعلی شناختی کارڈ بنائے ہیں ان سب کے خلاف کاروائی ہوگی‘۔

    انھوں نے بتایا کہ صرف بلوچستان سے ڈھائی لاکھ غیر ملکیوں نے جعلی شناختی کارڈ بنائے ہیں۔

  6. منظور پشتین بلوچستان میں ’غیرقانونی داخلے‘ پر سرحدی شہر چمن سے گرفتار

    منظور پشتین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظورپشتین کو بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے حراست میں لیا گیا۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ منظور پشتین غیر قانونی طور پر بلوچستان میں داخل ہوئے تھے، انھیں بلوچستان بدر کیا جائے گا-

    پشتون تحفظ موومنٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ چمن میں منظورپشتین کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تاہم وہ فائرنگ میں محفوظ رہے۔

    منظور پشتین افغانستان سے متصّل سرحدی شہر چمن کے دورے پر گئے تھے اور وہاں انھوں نے جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا تھا۔

    منظور پشتین نے چمن سے تربت جانے کا اعلان کیا تھا جہاں انھوں نے سی ٹی ڈی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔

    پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما زبیر آغا نے بتایا کہ جب منظور پشتین دھرنے میں شرکت کے بعد تربت جانے کے لیے چمن سے روانہ ہوئے تو باب دوستی کے قریب پہنچنے پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کو متعدد گولیاں لگیں لیکن منظور پشتین اور گاڑی میں بیٹھے دوسرے لوگ محفوظ رہے۔

    انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے بعد منظور پشتین اور ان کے قافلے میں شامل گاڑیوں کو محاصرے میں لیا گیا اور بعد میں منظور پشتین کو گرفتار کرلیا گیا۔

    جب اس سلسلے میں بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ منظور پشتین کے بلوچستان میں داخلے پر پابندی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ منظورپشتین اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں داخل ہوکر چمن گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ پابندی کی خلاف وررزی پر منظور پشتین کو چمن سے حراست میں لیا گیا اور انھیں بلوچستان بدر کیا جائے گا-

    نگراں وزیراطلاعات نے منظور پشتین کی گاڑی پر فائرنگ کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ منظور پشتین کا گارڈز نے کی تھی۔

  7. اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت: ’پانچ اگست اور چار دسمبر کے عمران خان میں کوئی فرق نہیں‘

  8. رجسٹرار کو آئینی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، اظہارِ وجوہ کا نوٹس واپس لیا جائے: جسٹس نقوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    جسٹس مظاہر علی نقوی نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے دیے گئے نوٹس کے جواب میں استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف جاری اظہارِ وجوہ کا نوٹس واپس لیا جائے اور ان کی آئینی درخواستیں تین رکنی کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں۔

    جسٹس نقوی نے اپنے جواب کی نقول چیف جسٹس، جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن کو بھی بھجوائی ہیں۔ اس جواب میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انھوں نے سپریم کورٹ میں 20 اور 30 نومبر 2023 کو دو آئینی درخواستیں دائر کی تھیں جن کی جلد سماعت کے لیے متفرق درخواست بھی دائر کی لیکن مقدمہ نہیں لگا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ اسسٹنٹ رجسٹرار نے پوچھا میں اپنی درخواست کی پیروی چاہتا ہوں یا نہیں۔ رجسٹرار کو اختیار نہیں کہ آئینی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کرے۔‘

    جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئینی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر نہ ہونا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قانون کے مطابق ججوں کی تین رکنی کمیٹی ہی درخواست کا جائزہ لے سکتی ہے۔‘

    جسٹس نقوی کا کہنا ہے کہ ان کے وکیل نے کبھی نہیں کہا تھا الزامات واضح ہونے کے بعد قانونی اعتراض نہیں کریں گے۔ ’میری سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت والے اعتراض پر چیف جسٹس نے وضاحت کی تھی اور ان کی وضاحت کے بعد صرف اس اعتراض سے دستبرداری اختیار کی تھی۔‘

    جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعتراض واپس یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ جوڈیشل کونسل غلطی تسلیم کرتے ہوئے اظہارِ وجوہ کا نوٹس واپس لے گی۔

    جسٹس نقوی نے کہا ہے کہ وہ 20 نومبر کو دائر کی گئی پہلی آئینی درخواست کی بھرپور پیروی کریں گے۔

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک متفرق درخواست بھی دائر کی ہے جس میں اپنے اس جواب کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    درخواست میں بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے نوٹس کی کوئی آئینی وقانونی حیثیت نہیں ہے اور انھیں یہ اختیار نہیں کہ وہ پوچھیں کہ مقدمے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

  9. فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    ‏فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔

    درخواست سول سوسائٹی کے ارکان نے وکیل فیصل صدیقی کے توسط سے دائر کی۔ درخواست میں سیکرٹری دفاع کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری دفاع نے تاحال سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درامد نہیں کیا،سیکرٹری دفاع جان بوجھ کر اور بددیانتی سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کررہے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے فوج کے زیر حراست ملزمان کو سول اداروں کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ زیر حراست ملزمان کو سیکریٹری دفاع کے احکامات کے بعد سول اداروں کے حوالے کیا جانا تھا۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی پر سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

  10. بریکنگ, سائفر کیس:عمران خان اور شاہ محمود پر فرد جرم 12 دسمبر کو عائد ہو گی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان سائفر کیس

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود کے خلاف سائفر کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے دونوں ملزمان پر 12 دسمبر کو فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پیر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران حان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف اس مقدمے کی سماعت ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کیں جبکہ سماعت کے دوران عمران خان اپنےُ وکلا سے مختلف امور پر صلاح مشورہ بھی کرتے رہے۔

    عمران خان کے وکیل کے تاخیر سے آنے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا جس پر عمران خان کے وکیل عثمان گل نے جواب دیا کہ وہ دھند کے باعث تاخیر سے پہنچے۔

    شاہ محمود اور عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہg

    ،تصویر کا کیپشناس سے قبل خصوصی عدالت نے 23 اکتوبر کو بھی اس مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف فردِ جرم عائد کی تھی

    خیال رہے کہ اس سے قبل سائفر کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے 23 اکتوبر کو بھی اس مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف فردِ جرم عائد کی تھی۔

    اس فیصلے کے بعد عمران خان کی جانب سے فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کی گئی اور 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں جیل میں مقدمے کی سماعت کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے جیل ٹرائل کا عمل غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

    واضح رہے کہ یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی عدالت میں چلایا جا رہا ہے۔

    ’اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 23 نومبر کو خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ملزمان کو فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم اڈیالہ جیل کے حکام نے سکیورٹی کے خدشات کی بنیاد پر عمران خان کو پیش کرنے سے معذرت کی تھی۔

    اس موقع پر عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ مقدمے کا 'اوپن ٹرائل' اڈیالہ جیل میں ہی ہو گا جس کے بعد یکم دسمبر کو وفاقی وزارت داخلہ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

  11. بریکنگ, سائفر کیس میں جنرل باجوہ کو عدالت میں بلاؤں گا: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    جنرل باجوہ اور عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ وہ اس مقدمے میں فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی سفارت خانے کے نمائندے کو بطور گواہ طلب کرنا چاہتے ہیں۔

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پیر کو مقدمے کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا نہ تو ان سے کسی نے ملاقات کی اور نہ ہی مذاکرات کیے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ گذشتہ چند دن کے دوران عمران خان سے اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی ملاقات کی خبریں سوشل میڈیا پر گرم تھیں۔ اس بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے کوئی ملا ہے اور نہ مذاکرات کیے ہیں۔'

    عمران خان نے اپنے اس بیان کو دہرایا کہ ملک میں فروری 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں ان کی جماعت کی کامیاب ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں واضح کر رہا ہوں کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی جیتے گی۔'

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حالات دیکھ کر مجھے یہ خدشہ ہے کہ یہ الیکشن سے بھاگ جائیں گے‘۔

    اس سوال پر بظاہر حالات ایسے ہیں کہ انھیں طویل عرصے تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے عمران خان نے کہا کہ 'میں اپنی جان دینے کو تیار ہوں۔'

  12. بریکنگ, جو لوگ عمران خان سے محبت کرتے ہیں وہ باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں: شاہ محمود قریشی

    اڈیالہ جیل
    ،تصویر کا کیپشندوران سماعت میڈیا کے چند نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت ملی، باقی اڈیالہ جیل کے باہر منتظر رہے

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں ہوئی۔

    دوران سماعت میڈیا کے پانچ نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت ملی۔

    سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں میڈیا کے نمائندوں نے جب شاہ محمود قریشی سے پوچھا کہ آپ کو پارٹی کا چئیرمین کیوں نہیں بنایا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ عہدوں کے لئے عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ عمران خان سے محبت کرتے ہیں وہ باہر نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔‘

  13. عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اڈیالہ جیل

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کریں گے۔

    آج کی سماعت میں ملزمان میں سائفرکیس کی چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی جبکہ ان پر فرد جرم آئندہ سماعت پر عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی گزشتہ سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی جس میں میڈیا نمائندوں کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

    اس سے قبل خصوصی عدالت کے جج نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کے خلاف ٹرائل جیل میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    جیل سپریٹنڈنٹ نے عدالت کو خط لکھا تھا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے انھیں اس وقت عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ آئندہ سائفر کیس کی سماعت جیل میں ہی ہوگی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں سائفر کیس کی اس سے پہلے کی سماعت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت از سرِ نو ہوگی۔

    اس مقدمے میں پراسکیوشن کے 27 گواہان ہیں۔

  14. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس پہلی مرتبہ 62000 پوانٹس کی سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے سے لے کر اب تک 700 پوائنٹس سے زیادہ ہو چکا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس پہلی بار 62000 پوائنٹس کی سطح عبور کر کے اس وقت 62400 پوائنٹس کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ کئی ہفتوں سے تیزی کا رجحان جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے سٹاک مارکیٹ انڈیکس نے 60000 پوائنٹس اور 61000 پوائٹس کی سطح عبور کی تھی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے تیزی کی مختلف وجوہات رہی ہیں جس میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کے معاہدے پر اتفاق اور عرب ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خبریں رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ اضافے کی وجہ سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ہونے والی سرمایہ کاری ہے جس میں گزشتہ ایک ہفتے میں کافی اضافہ نظر آیا۔

  15. اٹھارویں ترمیم واپس لینے کی کوئی تجویز زیرِغور نہیں: احسن اقبال

    احسن اقبال

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کا 18ویں ترمیم واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ ترمیم مکمل ہے۔

    سابق وفاقی وزیراحسن اقبال نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے پاس 18ویں ترمیم واپس لینے کی کوئی تجویز زیر بحث نہیں ہے۔

    ’یہ ترمیم مکمل ہے اور ہم آئندہ انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے کے بعد اس کی روح پر پورا اتریں گے۔‘

    احسن اقبال کے مطابق اختیارات کی منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ’ہمارا پروگرام مضبوط لوکل گورنمنٹ کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اس خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا کہ ان کی سابق اتحادی جماعت عام انتخابات کے بعد آئین میں 18ویں ترمیم کو واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

  16. پاکستان کے مستقبل کی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے: انوار الحق کاکڑ

    نگران وزیر اعظم انوار کاکڑ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کی ضروریات کے لیے پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیونگ انڈس ایک وسیع اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان کی حدود میں سندھ کے ماحولیات کو بحال کرنا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہے۔

    یہ بات انھوں نے اتوار کواقوام متحدہ کی 28ویں کانفرنس آف پارٹی(کوپ) کے پاکستان پویلین میں منعقدہ ‘لیونگ انڈس انیشی ایٹو’ کے موضوع پر تقریب سے خطاب میں کہی۔

    خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق نگراں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دنیا کا آٹھواں ملک ہے۔ انھوں نے کہا کہ لیونگ انڈس ایک وسیع اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان کی حدود میں سندھ کے ماحولیات کو بحال کرنا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی دریائے سندھ کے حوالے سے ترجیحات واضح ہیں۔ یہ اقدام شراکت داروں کے ساتھ وسیع مشاورت سے مرتب کیا گیا ہے جو 25 مختلف حکمت عملیوں کا ایک مجموعہ ہے جس میں فطرت پر مبنی حل اور ماحولیاتی نظام سے موافقت کے طریقوں پر زور دیا گیا ہے۔

  17. رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    اسد قیصر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اور رہنما تحریک انصاف اسد قیصر کو خیبر پختونخوا کے شہر مردان کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں نو مئی کے روز میڈیکل سٹور پر توڑ پھوڑ کے کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے انھیں جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    دوران سماعت پولیس کی جانب سے اسد قیصر کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر دیا جس کے بعد مردان کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    اسد قیصر کے وکیل ندیم شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسد قیصر کو کل رہائی ملنے کے بعد مردان میں درج کروائی گئی ایف آئی آر نمبر 832 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور آج مجسٹریٹ نے چارج کرتے ہوئے ان کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ ہم نے ان کی ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے امید ہے کل اس پر سماعت ہو گی۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز مردان کی مقامی عدالت نے اسد قیصر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اگر اسد قیصر کسی اور مقدمہ میں ملوث نہ ہوں تو انھیں ضمانت پر رہا کردیا جائے۔

    جس کے بعد اسد قیصر کو گذشتہ روز ضمانت کے بعد مردان میں نو مئی کے توڑ پھوڑ کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

  18. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ یہاں آپ کے لیے پاکستان کے حوالے سے آج کی تمام اہم خبریں شامل کی جائیں گی۔ گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات اور خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔