یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں کو پڑھنے کے لیے آپ یہاں کلک کریں
قومی احتساب بیورو نے 190ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر سات ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ دوسری جانب رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کو دی گئی گاڑیوں کی نیلامی کے لیے سیکریٹری کابینہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو خط ارسال کیا ہے۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں کو پڑھنے کے لیے آپ یہاں کلک کریں
العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اپیل پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں 7 دسمبر کو ہو گی۔
العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کے لیے نیب کی اپیل کی سماعت بھی ساتھ ہی ہو گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کریں گے۔
یاد رہے کہ احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر منصفانہ اور غیر قانونی بھی قرار دیا۔
اس معاملے پر عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈی جی امیگریشن ایک ہفتے میں پی سی ایل سے شیریں مزاری کا نام نکال کر رپورٹ دیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کی سفارش پر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ ایگزٹ لسٹ (پی سی ایل) لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے بابر اعوان ایڈووکیٹ کا خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی کی نشستیں کم کرنے کے حوالے سے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ’مکمل طور پر حقائق کے منافی اور عوام کے ذہنوں میں ابہام پیدا کرنے کی ناکام کوشش ہے۔‘
ترجمان الیکشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ 2018 میں ہونے والی 25ویں آئینی ترمیم کے مطابق سابقہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد فاٹا کی 12 قومی اسمبلی کی نشستوں کو ختم کر کے صوبہ خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں چھ نشستوں کا اضافہ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 39 سے 45 کر دی گئیں ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’اسی طرح خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں 16 جنرل سیٹوں کا اضافہ کر کے 99 سے 115 کر دی گئیں ہیں۔ بابر اعوان کا یہ بیان کہ الیکشن کمیشن نے کس اختیار کے تحت خیبر پختونخوا کی نشستیں کم کی ہیں انتہائی مضحیکہ خیز ہے۔
’قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں کا تعین پارلیمنٹ کا استحقاق ہے اور آئین کے مطابق مختص کی گئی سیٹوں کے مطابق الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کی ہے۔‘
قومی احتساب بیورو (نیب ) نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور دیگر سات ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا ہے۔
احتساب عدالت اسلام آباد میں دائر ریفرنس میں نیب حکام کے مطابق عمران خان کے علاوہ بشریٰ بی بی، فرح گوگی، زلفی بخاری، شہزاد اکبر، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض شامل ہیں۔
نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا۔ احتساب عدالت رجسٹرار آفس نے اس ریفرنس کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کیس میں وفاق، اپیکس کمیٹی، وزرات خارجہ اوراٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی کا معاملہ آئینی تشریح کا بھی ہے اور اٹارنی جنرل معاملے پر لارجربنچ تشکیل دینے کے نقطے پر معاونت کریں۔
جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔
درخواست گزار فرحت اللہ بابر نے موقف اپنایا کہ نگران حکومت کے پاس غیر قانونی شہریوں کی بے دخلی کا مینڈیٹ نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جن افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے وہ سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چُکے ہیں اور اس عدالت کے پاس شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 4،9 ،10 اے اور آرٹیکل 25 کے تحت بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ’چالیس سال سے جو لوگ یہاں رہ رہے ہیں کیا وہ یہاں ہی رہیں اس پر عدالت کی معاونت کریں۔‘
بینچ میں موجود جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے معاہدے پناہ گزینوں کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے ان معاہدوں کا پابند ہے۔‘
عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

،تصویر کا ذریعہSCP
رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کو دی گئی گاڑیوں کی نیلامی کے لیے سیکریٹری کابینہ اور چیف سیکرٹری پنجاب کو خط ارسال کیا ہے۔
خط میں بیان کیا گیا ہے کہ 2020 میں خریدی گئی اکسٹھ ملین کی مرسڈیز بینز نیلام کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی فراہم کی گئی بلٹ پروف لینڈ کروزر بھی نیلام کی جائے گی۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی عہدوں کے لیے لگژری گاڑیاں درآمد کرنا مناسب نہیں ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دونوں گاڑیاں استعمال نہیں کیں۔ ’گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل رقم پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کی جائے۔‘
سائفر کیس کی سماعت جیل میں کرنے کا وزارت دفاع کا نوٹیفیکیشن عدالت پہنچ گیا ہے جس کے بعد جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے دوبارہ سماعت شروع کی ہے۔
اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران جج ابولحسنات ذوالقرنین نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا ہے کہ ’آپ جیل میں اس درخواست پر دلائل دے دیں۔‘ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’میں نے کل ملزمان کی حاضری لگانی ہے، اس کے علاوہ تو کچھ نہیں ہونا۔‘
وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم نے پوچھا ’آج کی بھی تو حاضری ہے وہ کیسے کریں گے؟‘
اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’میں نے نوٹیفکیشن کی وجہ سے پراسس کو فالو کرنا ہے۔‘
وکیل علی بخاری نے عدالت سے کہا کہ ’آج شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ کیا انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہم انتطار کرتے رہیں۔ آپ لکھ دیں نوٹیفکیشن نہیں آیا۔ نقل تقسیم ہونا فرد جرم ملزم کی موجودگی کے بغیر تو نہیں ہو گا۔
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا ’عدالت نے طے کیا ہے کہ اب جیل ٹرائل ہو گا۔ اگر آج نوٹیفکیشن پیش نہیں کیا جاتا تو عدالت ملزمان کو عدالت طلب کرے گی۔ چونکہ مرکزی ملزم کا ٹرائل ہو رہا ہے شریک ملزم ان کے ساتھ ہی رہیں گے۔ ‘
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے مزید کہا کہ ’جیل کارروائی کو نوٹیفکیشنز کی وجہ سے کالعدم کیا گیا پروسیڈنگز کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔‘
آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق خصوصی عدالت میں عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین سماعت کررہے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جیل ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن آیا ہے؟ جس پر عملے نے بتایا ابھی تک نوٹیفکیشن نہیں آیا،۔
اس موقعے پر شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی رپورٹ نہیں انھیں تو پیش کریں۔انھوں نے کہا کہ عدالتی حکم پر چیئرمین پی ٹی آئیعمران خان اور شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنا چاہیے تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئیعمران خان کی بہنیں عدالت میں موجود ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو عدالت میں موجود ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ’نوٹیفکیشن آ جائے تو ہم دیکھ لیتے ہیں، نوٹیفکیشن نہیں آیا تو ہم پروڈکشن آرڈر کروائیں گے۔‘
وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم نے عدالت سے کہا کہ آپ نے پہلے آرڈر دیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پیش کیا جائے، بعد میں اگلی سماعت پر آپ نے خود ہی اپنے آرڈر کی نظر ثانی کردی جو نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کا آرڈر جیل ٹرائل کے حوالے سے قانونی طور پر درست نہیں ہے‘
وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم نے مزید کہا ’جیل ممنوعہ علاقہ ہے جہاں ویڈیو اور فوٹوگرافی منع ہے، جب میڈیا جائے گی تو انھیں مکمل اجازت ہوگی۔‘
عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ تھریٹ کے حوالے سے دیکھنا ہمارا اختیار ہے؟
اس پر وکیلنے جواب دیا ’اگر کوئی ایڈیشنل آئی جی کہہ دے تو کافی نہیں بلکہ اس سے منسلک رپورٹس بھی ہونی چاہیں‘۔
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے بتایا کہ ’اس کے ساتھ رپورٹس بھی منسلک ہیں۔‘
اس پر وکیل نے جرح کی کہ ’جیل میں لکھا ہے یہ ممنوعہ جگہ ہے موبائل استعمال نہیں کر سکتے، آپ کو نوٹیفکیشن میں عدالت ڈیکلیئر کرنے کے ساتھ اس کو غیر ممنوعہ علاقہ بھی ڈیکلیئر کرنا پڑے گا۔‘
اس پر جج نے کہا ’ بالکل ہو گا اور میڈیا کی موجودگی بھی ہو گی۔‘
اس موقعے پر وکیل علی بخاری نے کہا ’آپ کا آرڈر مکمل نہیں ہے کیونکہ یہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے خاموش ہے،اس آرڈر میں وجوہات کا ذکر موجود نہیں کیوں جیل سماعت کی جارہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں متوقع ہے۔ گذشتہ سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے جج نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کے خلاف ٹرائل جیل میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
جیل سپریٹنڈنٹ نے عدالت کو خط لکھا تھا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے انھیں اس وقت عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سائفر کیس کی سماعت جیل میں ہی ہوگی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس آرڈر کے بعد ابھی تک وزارتِ قانون کی جانب سے کوئی نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ پہلے اس کی سماعت اسلام باد کے جوڈیشنل کمپلیکس میں ہو گی جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کی سماعت آج ہی اڈیالہ جیل منتقل کی جائے یا معاملہ اگلی سماعت تک ملتوی کیا جائے۔
اگر اس دوران وزارتِ قانون کی جانب سے کوئی نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا تو سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہی ہوگی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس کی اس سے پہلے کی سماعت کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت از سرِ نو ہوگی۔
اس مقدمے میں پراسکیوشن کے 27 گواہان ہیں۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات اور خبروں کے لیے یہاں کلک کریں