ڈیزل کی قیمت میں سات روپے فی لیٹر کمی، پیٹرول کی پرانی قیمت برقرار

جمعرات کی رات کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزارت خزانہ نے اوگرا کی سفارت پر پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا ہے جو اگلے 15 دن کے لیے نافذ ہوں گی۔ اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تاہم ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر سات روپے کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. العزیزیہ ریفرنس: نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت 7 دسمبر کو، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان، ملک ریاض سمیت دیگر کیخلاف ریفرنس دائر

  2. سرحد پار کرنے کے لیے پاسپورٹ کی شرط: ’چمن کے لوگوں کو خیرات نہیں اپنے خون پسینے کی کمائی چاہیے‘

  3. ڈیزل کی قیمت میں سات روپے فی لیٹر کمی، پیٹرول کی پرانی قیمت برقرار

    پاکستان کی وزارت خزانہ نے یکم دسمبر سے ڈیزل کی قیمت میں سات روپے کمی کا اعلان کیا ہے۔

    جمعرات کی رات کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزارت خزانہ نے اوگرا کی سفارت پر پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا ہے جو اگلے 15 دن کے لیے نافذ ہوں گی۔

    اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تاہم ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر سات روپے کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ڈیزل کی نئی قیمت 289 روپے 71 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 82 پیسے فی لٹر کمی کی منظوری دی گئی، جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 4 روپے 52 پیسے فی لٹر کمی کی منظوری دے دی گئی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. ’آنے والے ویک اینڈ پر لاک ڈاؤن نہیں ہوگا‘ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب کے نگران وزیرِ اعلیٰ محسن نقوی نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’پنجاب میں سموگ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ماہرین اور سرکاری حکام کے ساتھ آج ایک اہم اجلاس ہوا۔‘

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں بہتری کے ساتھ، آنے والے ہفتے کے اختتام پر کسی بھی قسم کی پابندی یا لاک ڈاؤن کی کوئی منصوبہ بندی نہیں۔‘

    تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’تعلیمی اداروں میں موسمِ سرما کی تعطیلات 18 دسمبر 2023 سے یکم جنوری 2024 تک ہوں گی۔‘

  5. ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ مکافات عمل ہے‘ رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر رانا ثناء اللہ نے ماڈل ٹاون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کو 7 سال بعد ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں انصاف ملا ہے، اللہ نے انھیں سرخرو کیا ہے۔‘

    مسلم لیگ ن کے صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے آج پارلیمانی بورڈز کی میٹنگز سے متعلق لائحہ عمل طے کر لیا ہے، جس کے مطابق میاں نواز شریف ہر ڈویژن کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں ہر اُمیدوار سے خود ملاقات کریں گے۔‘

    مُلک میں آئندہ عام انتخابات اور اس کی تیاری سے متعلق مسلم لیگ ن کے صدر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’ہر ڈویژن کی میٹنگ کے بعد پارٹی اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا کریں گے۔‘

    العزیزیہ رہفرنس سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’العزیزیہ ریفرنس فراڈ ہے جس میں جج ملک ارشد مرحوم کیخلاف فیصلہ آ چکا ہے، العزیزیہ کا فیصلہ برقرار نہیں رہنا چاہیئے، ازخود نوٹس کے تحت العزیزیہ رہفرنس مکمل ختم ہو جانا چاہیئے۔‘

    اُن کا عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ مکافات عمل ہے، جس فیصلے کے تحت نواز شریف کو پارٹی صدارت سے الگ کیا گیا آج وہی فیصلہ چیئرمین پی ٹی آئی کے آڑے آ رہا ہے، یہ اللہ کا انصاف ہے۔‘

    میاں نواز شریف سے متعلق مُلک کی عدالتوں میں قائم مقدمات سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ماضی میں نواز شریف کے خلاف غلط فیصلے کیے گئے تھے جو عدلیہ کے ماتھے پر داغ ہیں، ان فیصلوں کو جتنی جلدی ختم کر دیا جائے، وہ عدلیہ کے لیے باعث عزت ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں العزیزیہ کیس 2 دن میں ختم ہو جائے گا، عدالتوں نے فیصلہ قانون کے مطابق کرنا ہے اور عدالتی تشریح کے مطابق نہیں کرنا، 62 ون ایف کے تحت عدالتی تشریح کے بعد پارلیمان نیا قانون بنا چکی جس کو کہیں چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔‘

  6. چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو خط, شہزاد ملک، نامہ نگار، بی بی سی اردو

    خط میں عمران خان نے چیف جسٹس سے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو سیاسی انتقام اور جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔‘

    خط میں عمران خان نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالتوں سے ضمانت ہونے کے باوجود سیاستدانوں اور بلخصوص خواتین کارکنان کی گرفتاریاں رکوائی جائیں۔‘

    خط میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی کے اُمیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں۔

    خط میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ پیمرا کو حکم دیا جائے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی انتخابی مہم کی بھی میڈیا کوریج کرنے کی اجازت دی جائے۔

  7. پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی درخواست ضمانت پر نیب کو 4 دسمبر کے لیے نوٹس جاری, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی اردو

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ PTI

    اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس میں سابق وزیر اعظم اورپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست ضمانت پر نیب کو 4 دسمبر کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے بعد از گرفتاری کی درخواست سردار لطیف کھوسہ کے توسط سے جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہدرخواست گزار سابق وزیر اعظم اور معروف کرکٹر رہ چکے ہیں اور عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں اور ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے مقدمات بنائے گئے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے تک عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی جائے۔

    عدالت نے سابق وزیر اعظم کی درخواست پر نیب کو جواب کیلئے نوٹس جاری کردیا ہے اور عدالت نے سابق وزیر اعظم کی اس درخواست پر سماعت 4 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

  8. ’صوبوں کے وسائل پر ڈاکہ مارنا والوں کی سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘ سابق صدر آصف زرداری

    آصف زرداری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے 56 واں یومِ تاسیس کے موقع پر کوئٹہ میں سابق صدر آصف زرداری نے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کو پانی فراہم کریں گے ہمارے پاس فارمولے ہیں، افسوس ہے کہ اسلام آباد کو نظر نہیں آتا کہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا، بلوچستان کی دھرتی کے نیچے ایک غم اور دکھ ہے اس پر مرہم رکھنا ہے۔‘

    سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی نے بلوچستان کے عوام کو اُنکی دھرتی کا مالک بنانا ہے، ہر چیز جو یہاں کی ہے وہ بلوچستان کی ہے، جیل میں لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ کیا کریں گے؟ میں اُنھیں کہتا تھا کہ میں خواب دیکھتا ہوں، میں نے پاکستان کے لیے خواب دیکھے ہیں، میں نے آپ کے اور اپنے بچوں کے لیے خواب دیکھے ہیں۔‘

    آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’آج بلاول کو لوگ اُس کی شناخت سے جانتے ہیں، بلاول کو یوتھ اور مستقبل کا لیڈر بنانا ہے اور اس کی سپورٹ کرنی ہے، جو میرے پاس تجربہ ہے سیاست کا جو علم ہے وہ اُس کو منتقل کرنا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے والے صوبوں کے وسائل پر ڈاکہ مارنا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے والوں کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہونے دے گی ہم اس سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گے۔‘

    سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’قوم خود بخود نہیں اُٹھتی، اسے لیڈر اُٹھاتے اور چلاتے ہیں۔‘

  9. الیکشن کمیشن کی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں انتخابات میں تاخیر کی افواہیں کیوں؟

  10. ’اس مُلک کے نوجوانوں کی نمائندگی کوئی کھلاڑی نہیں میں خود کروں گا‘ بلاول بھٹو زرداری, محمد کاظم، نامہ نگار بی بی سی، کوئٹہ

    بلاول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے 56 واں یومِ تاسیس کے موقع پر کوئٹہ میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک کو نئی سوچ اور سیاست کی ضرورت ہے، ہمیں ایسی سیاست کرنا ہوگی جس میں اتحاد کا سوچیں، تقسیم کا نہیں، پرانی طرزِ سیاست تقسم، نفرت اور اتقام پی مبنی تھی۔‘

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی نئی طرزِ سیاست شروع کرنا چاہتی ہے، ایسا طرزِ سیاست کرنا چاہتے ہیں جہاں ہماری مخالف کوئی سیاسی جماعت نہیں، پیپلز پارٹی کا مقابلہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے جس کی وجہ سے عوام پس رہیں ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی یعنی میری جماعت پاکستان کے لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے جبکہ باقی جماعتیں مُلک کی اشرافیہ کی نمائندگی کرتی ہے۔‘

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسی سیاست شروع کریں جس میں ذاتی مفادات کے بجائے عوام کی خدمت کا سوچیں، پیپلز پارٹی ہمیشہ پسماندہ عام آدمی اور غریبوں کا خیال رکھا ہے، پیپلز پارٹی پیپلز چارٹر آف اکانومی دلوائے گی جس کی مدد سے عام غریب لوگوں کی بھلائی کا سوچا جائے گا۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا ’اس مُلک کی آبادی میں 70 فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے، میں اُن کا ہم عُمر ہوں میں اُن کا دکھ درد سمجھتا ہوں، ہم اس مُلک کے نوجوانوں کو یوتھ کارڈ دیں گے، جس کی مدد سے وہ تعلیم حاصل کر سکیں گی اور اُس کے بعد کاروبار کر سکیں گے، اس مُلک کے نوجوانوں کی نمائندگی کوئی کھلاڑی نہیں بلکہ میں خود کروں گا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تا کہ ’اس مُلک میں ایسے میثاقِ معشیت کی ضرورت ہے کہ جس میں اس مُلک کے غریب اور پسماندہ طبے کے بارے میں سوچا جائے اور اُن کی فلاح کے لیے کام کیا جائے۔‘

    بلاول نے کہاں ’ہم بے نظیر مزدور کارڈ بھی لے کر آئیں گے جس کی مدد سے مزدورں کی حالت بہتر بنائی جا سکے، جہاں اُن کو پینشن مل سکے۔‘

  11. جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر الزام کیا ہے؟

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمع کروائی گئی شکایات میں ان جائیدادوں کی تفصیلات بھی بتائی گئی ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر اپنی سروس کے دوران بنائی ہیں۔

    میاں داؤد ایڈووکیٹ کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروائی گئی درخواست کے ساتھ جسٹس مظاہر اکبر نقوی، ان کے بیٹوں کے نام ’مشکوک انداز میں‘ خریدی گئی جائیدادوں کی دستاویزات منسلک ہیں۔

    اس شکایت میں جسٹس مظاہر اکبر نقوی کی بیٹی کو برطانوی بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے پاؤنڈز کی رسید بھی منسلک ہے۔

    شکایت کے ساتھ منسلک دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے 2021 میں گلبرگ لاہور میں 2 کنال 4 مرلے کا پلاٹ 4 کروڑ 44 لاکھ میں خریدا جبکہ اسے 7 کروڑ 20 لاکھ کا ڈکلیئر کیا گیا۔

    ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے یہ پلاٹ 2022 میں 13 کروڑ میں اپنے مبینہ فرنٹ مین محمد صفدر کو فروخت کر دیا اور بعد ازاں اسے 4 کروڑ 96 لاکھ روپے کا ڈکلیئر کیا۔

    ان دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے سینٹ جونز پارک کینٹ میں 65 کروڑ مارکیٹ ویلیو والا 4 کنال کا پلاٹ 10 کروڑ 70 لاکھ روپے میں خریدا۔ ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ جج نے اپنے مبینہ فرنٹ مین کی مدد سے ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال کا پلاٹ صرف پانچ لاکھ روپے میں دلوایا جبکہ مارکیٹ میں اس پلاٹ کی قیمت اس وقت بیس لاکھ روپے سے زیادہ تھی۔

    سپریم جوڈیشل کونسل کس طرح کام کرتی ہے؟

    سپریم جوڈیشل کونسل پانچ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کونسل کے سربراہ ہوتے ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے دو سینیئر جج اس کے رکن ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کی پانچوں ہائی کورٹس کے دو سینیئر چیف جسٹس صاحبان بھی اس کے رکن ہوتے ہیں۔

    یہ کونسل سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی یا مبینہ طور پر بدعنوانی میں ملوث ہونے سے متعلق شکایات کا جائزہ لیتی ہے اور شکایت درست ہونے کی صورت میں اس جج کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

  12. ’سیدھی بات کریں کہ عمران خان کو باہر رکھ کر یکطرفہ الیکشن چاہتے ہیں‘ عمران خان کے وکیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں ملنے والی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر اپیل کے علاوہ اس فیصلے کو معطل کرنے سے متعلق متفرق درخواست پر دلائل دیتے ہوئے عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل پر ہونے والے اثرات کا ریاست پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اپیل اور متفرق درخواست پر سماعت کی۔

    درخواست گزار اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے سردار لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا سنائی۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اتنی جلدی تھی کہ انھوں نے سزا کے تین دن کے بعد ہی یعنی آٹھ اگست کو ان کے موکل کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جس آرڈر کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے یہ نوٹی فکیشن جاری کیا وہ معطل ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ معطل نہ ہوا تو چیئرمین پی ٹی آئی کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں ان کے موکل کو ملنے والی سزا معطل نہ ہوئی تو سیاسی جماعت متاثر ہو گی جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہیں۔ انھوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ملک میں آٹھ فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

    اس کے علاوہ انھوں نے انٹرا پارٹی الیکشن میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ 20 روز میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بغیر پاکستان تحریک انصاف کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے دلائل میں مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ہونے والی کارروائی نہ روکی گئی تو انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں۔

    عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ انتخابات کے عمل پر ہونے والے اثرات کا ریاست پر بھی اثر ہوسکتا ہے۔

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت توشہ خانہ کیس میں سزا کے ساتھ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بھی معطل کرے کیونکہ ہائیکورٹ کے پاس اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مکمل اختیار ہے۔

    عمران خان کے وکیل کے ولائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں کیس کی تیاری کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ سزا معطلی کی درخواست پر دلائل میں فیصلہ معطلی کی کوئی استدعا نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اپیل کنندہ اور وہ اس عدالت کے فیصلے پر نظرثانی چاہتے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس عدالت کے فیصلے میں کوئی غلطی نہیں تھی۔

    انھوں نے کہا کہ نظرثانی تب ہو سکتی ہے جب عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی ہو۔ اس پر عمران خان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سیدھی طرح کہیں کہ یہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو باہر رکھ کر یکطرفہ الیکشن چاہتے ہیں۔‘

    عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو جلد عدالتی نظیروں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ آج ہی اس اپیل اور متفرق درخواست پر فیصلہ کر دے جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل تفصیلات دے دیں پھر دیکھ کر آرڈر پاس کریں گے۔

    عدالت نے سماعت ملتوی کردی تاہم عدالت نے یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کی اپیل پر فیصلہ محفوظ ہوا ہے اور یہ بھی نہیں بتایا کہ اگلی سماعت کب ہوگی۔

  13. جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    جسٹس مظاہر نقوی

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے آمدن سے زیادہ اثاثوں سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس پر کونسل کی طرف سے ملنے والے اظہار وجوہ کے دوسرے نوٹس کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

    اس سے پہلے بھی سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو اس ریفرنس پر جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا، جو انھوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے دونوں نوٹسز معطل کرنے اور سپریم کوڈیشل کونسل کی کارروائی کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواست خواجہ محمد حارث اور سردار لطیف کھوسہ کی وساطت سے درخواست دائر کی ہے اور اس درخواست میں وفاق کو بذریعہ وزارت قانون فریق بنایا گیا ہے۔

    جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف دس شکایات زیر التوا ہیں اور سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو جواب دینے کے لیے دو مرتبہ اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔

    پہلا نوٹس تین دو کی اکثریت سے جبکہ دوسرا نوٹس چار ایک کی اکثریت سے جاری کیا گیا۔ جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف شکایات کو کھلی عدالت میں سنا جائے۔

    انھوں نے کا کہ 24 نومبر کا شوکاز نوٹس کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ دوسرا شوکاز نوٹس ان خلاف کارروائی میں نقائص دور کرنے کیلئے جاری کیا گیا۔

    جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ انھوں نے اپنے ابتدائی جواب میں کارروائی کے نقائص اجاگر کئے تھے۔

    سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم دراصل عدلیہ پر حملہ ہے۔ انھو ں نے کہا کہ ان کے ٹیکس ریٹرن کی تفصیل کسی کو دی نہیں جا سکتی اور غیر قانون طور پر حاصل ریکارڑ قابل قبول شہادت نہیں ہے۔

    آئینی امور کے ماہر حامد خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو ملنے والے دوسرے شو کاز نوٹس کا جواب ملنے کے بعد اس کا جائزہ لے گی اور پھر فیصلہ کرے گی کہ مذکورہ جج کے خلاف ریفرنس کو ختم کرنا ہے یا انھیں چارج شیٹ کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل پراسیکوٹر کا کردار ادا کریں گے جبکہ جسٹس مظاہر اکبر نقوی اپنے دفاع میں کوئی شواہد پیش کرنا چاہیں تو انھیں ایسا کرنے کی اجازت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں صرف ایک ہی جج کے خلاف تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچی تھی اور وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی تھے جن کے خلاف سنہ 1970 میں دائر ہونے والے ریفرنس میں 50 گواہان پیش ہوئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف ریفرنس میں انکوائری نہیں کی گئی تھی اور انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا جس کے خلاف انھوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جو کہ کافی عرصے سے زیر التوا ہے۔

  14. ٹک ٹاکر کو چوری اور قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی گئی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    Capital

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ایک ٹک ٹاکر کو چوری اور قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنا دی ہے۔

    عدالت نے مجرم محمد نیاز عرف عالیان کو قتل کے مقدمے میں سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ چوری کے مقدمے میں سات سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

    ٹک ٹاکر محمد نیاز عرف عالیان نے گذشتہ برس مئی میں ایک 28 برس کے نوجوان خرم اکبر سے گاڑی چھینی اور مزاحمت کرنے پر اسے قتل کرکے فرار ہو گیا تھا۔

    بعد ازاں پولیس نے ملزم کو پشاور سے گرفتار کیا تھا۔

    اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج طاہر سپرا نے قتل کے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجرم محمد نیاز عرف عالیان نے گرفتراری اور جسمانی ریمانڈ کے دوران نہ صرف پولیس کو جائے وقوعہ کی خود نشاندہی کی بلکہ پولیس مجرم عالیان سے تیس بور پستول بھی برآمد کر چکی ہے جو کہ واردات کے دوران استعمال ہوا تھا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس مقدمے کے حتمی چالان کے مطابق مجرم محمد نیاز عرف عالیان نے آلہ قتل کو جائے وقوعہ کے قریب جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرم محمد نیاز عرف عالیان کے زیر استعمال پستول وہی تھا جو کہ قتل کی ورادات کے دوران استعمال ہوا اور ضمن میں عدالت میں فارنزک شواہد پیش کیے گئے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس مقدمے میں پیش کیے گئے استغاثہ کے گواہان نے بھی مجرم محمد نیاز عرف عالیان کو شناخت کرلیا اور ان گواہان کا موقف تھا کہ مجرم نے مقتول محمد اکبر کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے۔

    عدالت نے مقدمے کے چالان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب مجرم کو گرفتار کیا گیا تو اس نے پولیس کو بتایا کہ جس وقت یہ وقوعہ رونما ہوا اس وقت وہ پشاور میں موجود تھا۔ تاہم عدالتی کارروائی کے دوران مجرم محمد نیاز عرف عالیان اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش کیے گئے ثبوتوں، گواہان کی روشنی میں مجرم عالیان قتل اور چوری کا مرتکب ہوئے۔

    عدالت نے اس مقدمے میں درج دفعات کے تحت مجرم کو سزا سنائیں، جن میں قتل کے مقدمے میں مجرم محمد نیاز کو سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ اس چوری کی دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے پر سات سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    سزا سناتے وقت مجرم محمد نیاز عرف عالیان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

  15. لمز کے پروفیسرز کی سپریم کورٹ سے افغان شہریوں کی ملک بدری رکوانے کی استدعا, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    Afghan

    لاہور یونیورسٹی مینجمنٹ سائنسز (لمز) کی چھ پروفیسرز نے افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جوڈیشل کمشین بنانے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چالیس سال سے پاکستان پانچ ملین افغان مہاجرین کی فراخدلی سے مہمان نوازی کررہا ہے اور سوویت یونین جنگ کے بعد تین جنگوں میں افغان مہاجرین پاکستان آئے ہیں۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نگراں حکومت نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن دی اور ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد سرکاری اعدوشمار کے مطابق اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زاید افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔

    اس درخواست میں فارن ایکٹ 1946 کے سیکشن تین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نگراں حکومت کے اس فیصلے کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے کیونکہ ایسا فیصلہ کرتے ہوئے نگراں حکومت نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، اس کے علاوہ نگراں حکومت کا یہ فیصلہ الیکشن کمیشن ایکٹ کے سیکشن 230 کی خلاف ورزی بھی ہے۔

    Afghan

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ جن افغان بچوں کی پیدائش پاکستان میں ہوئی وہ پاکستانی ہیں چاہیے ان کے والدین کا ملک میں قیام قانونی ہو یا غیر قانونی اور ایسی صورت حال میں حکومت کیسے اپنے شہریوں کو اپنے ہی ملک سے بے دخل کرسکتی ہے۔

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اخباری رپورٹس کے مطابق افغان مہاجرین کو پچاس ہزار روپے ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت فرداً فرداً ہر شخص کو نہیں جانچ پائی کہ کوئی فرد خطرہ ہے یا نہیں۔

    درخواست میں درخواست گزاروں نے یہ موقف اپنایا ہے کہ وفاقی حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام ہوئی کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ کس قانونی اتھارٹی کے تحت کیا گیا اور افغان مہاجرین کی ملک سے بیدخلی کے وفاقی حکومت کا فیصلہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

    درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ افغان مہاجرین کی شفاف انداز میں واپسی کے لیے خود مختار کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی افغان شہریوں کی پاکستان سے بے دخلی سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس کی ابتدائی سماعت چیمبر میں ہوئی تھی۔ تاہم چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس درخواست کی سماعت اوپن کورٹ میں کرنے کا حکم دیا تھا۔

  16. پاکستان کے نوجوان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں، فتح جیالوں کی ہی ہو گی: بلاول بھٹو

    Asif Zardari

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے 56 ویں یوم تاسیں پر بلاول بھٹو نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ 8 فرروی کا دن نفرت، تقسیم اور استحصالی سیاست کو فیصلہ کن شکست دینے کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے نوجوان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ فتح جیالوں کی ہی ہوگی۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ آئیندہ الیکشن میں پارٹی کی فتح مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے آزادی کی ضمانت ہو گی۔

    بلوچستان میں جلسہ عام سے قبل انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’آغاز حقوق بلوچستان اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آصف زرداری کا وژن تھے۔ آصف علی زرداری کی سوچ کو لے کر آگے بڑھیں گے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا پیپلز پارٹی صرف جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’مقبوضہ وادی کی آزادی تک کشمیر کاز کی ہر سطح پر حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یوم تاسیس شہید بھٹو اور محترمہ بینظیر کے مشن کو پورا کرنے کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ ورکرز، کسان، تاجر، محنت کش اور روشن خیال ذہن ساتھ دیں، فتح یقینی ہے۔

  17. چمن کے دھرنے میں ’اشتعال انگیز‘ تقاریر کی گئیں: نگراں وزیراطلاعات بلوچستان کا الزام

    چمن

    بلوچستان کے نگراں وزیراطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ چمن میں جاری دھرنے میں اشتعال انگیز تقاریر کی گئی ہیں۔ انھوں نے شرکا پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ یہ دھرنا پاکستان مخالف پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ’پی ٹی ایم جیسے پاکستان مخالف گروہوں نے دھرنے کو ہائی جیک کیا ہوا ہے۔‘

    Chaman

    واضح رہے کہ چمن کے ہزاروں مزدور اور تاجر قومی شناخت کے بجائے افغانستان کے ساتھ سرحد کی دونوں اطراف کاروبار اور مزدوری کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف 21 اکتوبر سے احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

    چمن کے رہائشیوں کے لیے قومی شناختی کارڈ پر روزانہ افغانستان جا کر مزدوری یا تجارت کرنا ایک معمول تھا مگر پھر حکام کی طرف سے پاسپورٹ کی شرط عائد کر دی گئی، جسے یہاں کے مقامی افراد نے قبول نہیں کیا۔

    Balochistan

    نگراں وزیراطلاعات نے کہا کہ ’عوام کے جمہوری حق کے طور پر کسی بھی مطالبے میں پاکستان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور لوگوں کو ریاست کے خلاف اکسانا شامل نہیں ہو سکتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر منتظمین پی ٹی ایم اور اس کے اشتعال انگیز بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں تو ویش منڈی (سرحد پر قائم منڈیوں) کے کاروبار کو بھول جائیں۔‘

  18. الیکشن کمیشن سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرے: مسلم لیگ ن کی درخواست

    تنقید ایک طرف مگر پاکستان مسلم لیگ ن بھی اپنے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کے مطالبات کر رہی ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ نگران حکومت کا زیادہ تر انتظامی سیٹ اپ پیپلز پارٹی دور کا ہی ہے، ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جائے۔

    سابق ڈی جی ایف آئی اے اور سندھ میں ن لیگ کے صوبائی صدر صدر بشیر میمن نے وفد کے ہمراہ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی۔ خیال رہے کہ بشیر میمن اس وقت ڈی جی ایف آئی اے تھے جب سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمات قائم کیے گئے۔ ایف آئی اے کی طرف سے بشیر میمن ان مقدمات کی پیروی کرتے اور سپریم کورٹ میں عملدرآمد رپورٹ جمع کراتے۔

    یہ درخواست چیف الیکشن کمیشنر کو دی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ نگران حکومت کا زیادہ تر انتظامی سیٹ اپ پیپلز پارٹی دور کا ہی ہے۔

    اس درخواست کے مطابق پیپلز پارٹی کے لیڈر اور وزرا کے پاس اہم محکموں اور اضلاع کا کنٹرول ہے اور پیپلز پارٹی دور میں اہم عہدوں پر تعینات افراد کا ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں تبادلہ کیا گیا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔

    اس درخواست میں مسلم لیگ ن نے کہا کہ سندھ میں مقامی حکومت مکمل آپریشنل ہے، مقامی حکومت کو نگران حکومت سے بجٹ مل رہا ہے جو انتخابی عمل پر اثر رسوخ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی کی الیکشن مہم بشمول جلسے اور ریلیوں کو مقامی حکومت کے فنڈ سے فنانس کیا جا رہا ہے۔

    درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن مداخلت کرے اور تحقیقات کرائے تاکہ سندھ میں سب کو برابری کے مواقع ملیں۔

    بشیر میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے درخواست کی ہے کہ ہمیں سندھ میں لیول پلیئنگ فیلڈ دیں۔ انھوں نے کہا کہ مقبول باقر بہترین جج رہے لیکن بیوروکریسی نے انھیں یرغمال بنایا ہوا ہے۔

  19. وسیم بادامی کا اکاؤنٹ ہیک: ’ایکس‘ اکاؤنٹ کو محفوظ کیسے بنایا جائے اور اگر یہ ہیک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟