مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل نے گارڈ سے پستول چھین کر خود کو گولی ماری: پولیس
معروف عالم دین اور مبلغ مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی ہے۔ ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر سہیل چوہدری کے مطابق مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل نے جم میں دوران ورزش گارڈ سے پستول چھین کر خود کو گولی ماری۔
لائیو کوریج
افغان باشندوں کی پاکستان سے واپسی: ’کسی اور ملک نہیں جا سکتے، افغانستان میں خطرات ہیں اور یہاں اب کوئی رہنے نہیں دے گا‘
’سر آپ 50 منٹ لیٹ آئے۔۔۔‘ لمز کے طلبہ کا نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے شکوہ
مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے دوران ورزش خود کشی کی: پولیس

،تصویر کا ذریعہSocial Media
،تصویر کا کیپشنعاصم جمیل معروف عالم دین اور مبلغ مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی ہے۔
ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر سہیل چوہدری کے مطابق مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل نے جم میں دوران ورزش گارڈ سے پستول چھین کر خود کو گولی ماری۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی میں خودکشی کو واضح دیکھا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق عاصم جمیل نفسیاتی مسائل کا شکار تھے اور وہ کئی سالوں سے نفسیاتی ادویات کا استعمال کررہے تھے۔
مولانا طارق جمیل نے ٹوئٹر پر اپنے بیٹے کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج تلمبہ میں میرے بیٹے عاصم جمیل کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس حادثاتی موت نے ماحول کو سوگوار بنا دیا۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اس غم کے موقع پر ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں. اللہ میرے فرزند کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
فیض آباد دھرنا کیس: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
یہ تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ایڈیشنل سیکریٹری دفاع، ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر پر مشتمل ہو گی۔
یہ تفصیلات وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں فراہم کی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ 6 فروری 2019 کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے سنہ 2017 میں اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے کے معاملے پر ازخود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسے فوجی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف وزری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ عدالت نے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے علاوہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔
تاہم اس فیصلے کے خلاف اس وقت کی وفاقی حکومت سمیت متعدد اداروں نے نظرثانی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔ تاہم گذشتہ ماہ 28 ستمبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے 2019 میں دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کی نو درخواستوں پر سماعت کی تو اِس سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، انٹیلیجنس بیورو، پاکستان تحریک انصاف اور اعجاز الحق نے اس ضمن میں دائر کردہ اپنی نظرثانی کی درخواستیں واپس لے لی ہیں۔
تاہم عدالت نے اس کیس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے تمام فریقین کو تحریری جوابات جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔
اب وفاقی حکومت کی اس ضمن میں تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے۔
حکومتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کمیٹی کو فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق انکوائری کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔یہ کمیٹی ثبوت جمع کرنے سمیت تمام متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ کا جائزہ لے گی، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرے کی اور قواعد اور پالیسیوں کی روشنی میں جائزہ لے کر فیض آباد دھرنے میں ملوث تمام کرداروں کی نشان دہی کرے گی۔
وفاقی حکومت نے بتایا ہے کہ کمیٹی کو اپنی تجاویز کے ساتھ جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمیٹی نے ٹی او آرز کے تحت 26 اکتوبر کو اپنا پہلا اجلاس بھی منعقد کر لیا ہے اور اگر کمیٹی کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو وہ وزارت دفاع سے رجوع کرے گی۔
بلوچستان میں نادرا نے 70 ہزار کے لگ بھگ شناختی کارڈز غیر قانونی ہونے کے شبے میں بلاک کر دیے
بلوچستان کے نگران وزیرِ اطلاعات جان محمد اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں نادرا نے 70ہزار کے لگ بھگ شناختی کارڈز غیر قانونی ہونے کے شبے میں بلاک کر دیے ہیں۔
کوئٹہ میں غیر ملکی تارکینِ کی اپنے مُلک واپسی کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ بلاک کیے جانے والے شناختی کارڈز کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں مقیم 13 لاکھ غیر ملکیوں کی واپسی سے متعلق سکیم پر بھر پور انداز میں کام جاری ہے اور اس پر عمل کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان سے جو بھی غیر قانونی تارکینِ وطن گرفتار ہوں گے ان کے لیے کوئٹہ میں بروری کے علاقے میں واقع حاجی کیمپ میں ہولڈنگ سینٹر قائم کیا جائے گا جبکہ پشین اور چمن میں بھی غیر قانونی تارکین وطن کو رکھنے کے لیے ہولڈنگ سینٹرز بنائے جارہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ اور پنجاب سے آنے والے تارکینِ وطن کو مکمل سیکورٹی اور نگرانی میں سرحدی علاقوں تک پہنچایا جائے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’بلوچستان سے افغان تارکینِ وطن کو بھیجنے کے لیے مزید تین کراسنگ پوائنٹ قائم کیے جا رہے ہیں جن میں سے ایک قلعہ سیف اللہ میں قمر دین کاریز کا ہے جبکہ دو چاغی میں بنائے جارہے ہیں۔‘
ایک سوال پر نگران وزیرِ اطلاعات جان محمد اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں ڈھائی سے تین لاکھ غیر ملکی تارکینِ وطن موجود ہیں لیکن ان کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جو پاکستانی شہری غیر ملکی تارکینِ وطن کو پناہ دینے میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف بھی سخت کاروائی ہوگی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں جو احتجاج ہو رہا ہے وہ چمن اور افغانستان کے علاقے اسپین بولدک کے لیے رعایتیں مانگ رہے ہیں لیکن اب ریاست نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاسپورٹ کے زریعے ہی پاکستان میں داخلے کی اجازت ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر چمن میں ایسی رعایت دی گئی تو پھر تمام سرحدی علاقوں کے لوگ یہ رعایت مانگیں گے۔‘
پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف ڈیپورٹیشن پلان کی منظوری
نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کے مطابق پنجاب کابینہ نے صوبے میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں کے خلاف ڈیپورٹیشن پلان کی منظوری دی ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کابینہ سے منظور ہونے والے ڈیپورٹیشن پلان کے تحت صوبہ بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی 31 اکتوبر تک وطن واپسی سے متعلق لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس میں نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کا کہنا تھا کہ ’صوبہ پنجاب میں 36 مقامات پر ہولڈنگ ایریاز میں غیر قانونی مقیم افراد کو رکھا جا رہا ہے۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پکڑے جانے والے لوگوں کو عارضی کیمپ میں احترام کے ساتھ رکھا جائے گا۔‘
نگران وزیر اطلاعات پنجاب نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ ’غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو یکم نومبر سے پہلے پاکستان چھوڑنا ہوگا، تاہم مکمل دستاویز نا رکھنے والے غیر ملکیوں کو ڈیپورٹ کرنے کا سلسلہ یکم نومبر سے شروع ہو جائے گا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام غیر ملکیوں کے خلاف بلا تفریق آپریشن جاری رہے گا۔‘ عامر میر کے مطابق 31 کے بعد بھی جو غیر مُلکی پاکستان سے جانا چاہیں گے اُنھیں جانے کی اجازت ہو گی۔‘
نگران وزیر اطلاعات پنجاب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’پنجاب میں 33 ہزار ایسے غیر مُلکیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن کے پاس قانونی دستاویز نہیں ہیں، اور 31 اکتوبر کے بعد اگر کوئی کسی غیر ملکی کو پناہ دے گا تو اُس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے گی۔‘
عامر میر کا کہنا ہے کہ ’ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ ان کو کس بارڈر سے روانہ کرنا ہے۔‘ اُن کا دعویٰ ہے کہ ’صوبہ پنجاب میں ہونے والے 24 خودکُش دھماکوں میں سے 14 دھماکوں میں افغان خودکُش حملہ آور تھے۔‘
سیالکوٹ اور ظفروال سیکٹرز میں پاکستانی اور انڈین سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ, احتشام شامی، سیالکوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیالکوٹ اور ظفروال سیکٹرز میں پاکستانی اور انڈین سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر مارٹر گولے داغے گئے ہیں جس میں اطلاعات کے مطابق پاکستان کی حدود میں چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کے نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے سیالکوٹ کے ظفروال سیکٹر میں انڈین فورسز کی ’بلااشتعال فائرنگ‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے انڈیا کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کا ’منھ توڑ جواب دیا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ سیالکوٹ کے ظفر وال سیکٹر، ہرپال سیکٹر، معراجکے چوکی، اور چپراڑ چوکی کے علاقوں میں گذشتہ رات ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوا جو کہ دو گھنٹے 45 منٹ بعد تھما۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈین سکیورٹی فورسز نے ظفر وال سیکٹر سیالکوٹ میں ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کی جس پر پاکستانی فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق انڈین فورسز نے ’پہلے ظفر وال سیکٹر میں کواڈ کاپٹر (ڈرون) سے دراندازی کی کوشش کی جس پر پاکستانی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے در اندازی کی اس انڈین کوشش کو ناکام بنا دیا جس کے بعد انڈین فورسز نے کواڈ کاپٹر کی دراندازی اور اس میں ناکامی چھپانے کے لیے پاکستانی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔‘
دوسری جانب انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے اس بارے میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بی ایس ایف نے جمعرات کی رات تقریبا 9.15 بجے پاکستانی فوج نے سرحدی چوکیوں اور شہری علاقوں پر مارٹر گولے داغنا شروع کر دیے۔ جس کی وجہ سے انڈیا میں ارنیا شہر میں کچھ گولے گرے جس کی وجہ سے ایک خاتون زخمی ہوئیں۔
بی ایس ایف کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی جانب سے پہلے مشن گن اور بعد ازاں مارٹر گولوں کی مدد سے سرحد پر انڈیا کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم انڈین فورسز نے اس پر کاروائی کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔‘
پاکستان کی جانب فائرنگ شروع ہوتے ہی سیالکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا اور ہنگامی بنیادوں پر مساجد میں اعلانات بھی کروائے گئے۔
ریسکیو 1122 کی مختلف ٹیمیں سرحدی دیہات میں پہنچ گئیں اور فائرنگ سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ایمرجنسی کیمپ قائم کردیے گئے۔
جن دیہات میں فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا وہاں سے مقامی لوگوں کو کہا گیا کہ وہ فوری طور پر یہاں سے نقل مکانی کر جائیں۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 سیالکوٹ کے مطابق فائرنگ سے کسی جانی نقصان کی فی الحال کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عمران خان کے پاس بطور وزیر اعظم سائفر کو ڈی کلاسیفائی کرنے کا اختیار نہیں تھا: اسلام آباد ہائیکورٹ

،تصویر کا ذریعہPTI
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت اور مقدمہ اخراج کی درخواستیں مسترد کرنےکا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں مقدمے میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کا اطلاق ہوتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا، چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا۔
تفصیلی فیصلے میں درج ہے کہ عمران حان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ’عمران حان پر بطور وزیر اعظم فرض تھا کہ وہ عوام کو مُلک کے خلاف ہونے والی سازش کے بارے میں آگاہ کرتے۔‘ اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ حکومت گرانے کی سازش سے عوام کو آگاہ کرنے کی دلیل میں اس لیے وزن نہیں کیونکہ ’درخواست گُزار کے پاس بطور وزیراعظم یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ سائفر کو ڈی کلاسیفائی کرتے یا اس کا متن منظر عام پر لاتے۔‘
عدالتی فیصلے میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سائفر کو منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا اور اسے صرف اس کے اصل مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کسی خلاف ورزی کی صورت میں آفیشل سیکرٹس ایکٹ لاگو ہوسکتا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے حلف میں بھی واضح ہے کہ وہ بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی خفیہ معلومات منظر عام پر نہیں لاسکتے جب تک ایسا کرنا ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری ہو۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں۔ عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق دفتر خارجہ کی پالیسی واضح ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ پالیسی کے مطابق سائفر کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ ہے جسے غیر مجاز افراد کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا اور سائفر کو کچھ وقت کے بعد واپس فارن آفس جانا ہوتا ہے۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے اعلیٰ سطح پر کنٹرول روم قائم کرنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھینجنے کے لیے اعلیٰ سطح کنٹرول روم قائم کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں اب تک لگ بھگ 47 ہزار غیر قانونی پناہ گزینوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں واپس آنے والے افغان شہریوں کے لیے ایک اعلٰی سطحی 31 رکنی کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔ جس میں واپس آنے والے افغان شہریوں کو رہائش اور دیگر ضروریات فراہم کرنے کے انتظام کیے جائیں گے۔
پشاور میں محکمہ داخلہ کی جانب سے ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جو ایک اعلٰی سطح کے افسران کی نگرانی میں کام کرے گا۔
یہ کنٹرول روم محکمہ پولیس، فوج، وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے، نینشل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نادرا، اور پاسپورٹ امیگریشن محکمہ کے حکام کے زیر انتظام فعال رہے گا۔
کنٹرول روم سے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اس کمیشن میں گریڈ 17 سے اوپر کے افسران شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ صوبے کے تمام شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کا ڈیٹا میں حاصل کر لیا گیا ہے اور ذرائع کے مطابق ان کی تعداد اس وقت تک 47 ہزار کے لگ بھگ بتائی گئی ہے جس میں 12 ہزار مرد، 11 ہزار خواتین اور کوئی 24 ہزار تک بچے شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد پشاور میں بتائی گئی ہے۔ ادھر افغان حکام نے بھی اس بارے میں تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امارت اسلامی کے سپریم لیڈر کی جانب سے جاری حکم کے مطابق پاکستان سے افغان شہریوں کو نکالنے کے عمل کو تمام روایات کے خلاف قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک اعلٰی سطحی 31 رکنی کمیشن قائم کیا گیا ہے جس کی سربراہی مولوی عبدالسلام حنفی کریں گے۔ یہ کمیشن پاکستان اور دیگر ممالک سے نکالے گئے افغان شہریوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے لایحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔
اس کے لیے 12 کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں سے تین کمیٹیاں واپس آنے والے افغانوں کو رہائش، صحت اور ان کی شناخت کے بارے میں کام کرے گی۔
اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
افغان حکام نے دیگر ممالک کو چلے جانے والے افغان شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بھی وطن واپس آکر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
بریکنگ, اسلام آباد ہائیکورٹ سے عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد، سائفر ٹرائل کا جیل میں آغاز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے جبکہ سائفر کیس کے اخراج کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ فیصلہ سنایا ہے۔ خیال رہے کہ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 16 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
عمران خان اس وقت سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔
گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سائفر کیس کا ٹرائل روکنےکی درخواست مسترد کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنےکے خلاف درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹاتے ہوئےکہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے۔
سائفر کیس میں ٹرائل کا آغاز ہوا گیا ہے اور استغاثہ کے پانچ گواہان اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت میں پیش کیے گئے ہیں۔
ان گواہان میں نادر خان،عمران ساجد، محمد نعمان، شمعون قیصر اور فرخ عباس پیش ہوئے ہیں۔
عمران ساجد وزارت خارجہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر سائفر سیکورٹی، شمعون قیصر ڈپٹی ڈائیریکٹر سائفر آپریشن وزارت خارجہ اور محمد نعمان سائفر اسسٹنٹ شام ہیں۔
افغانستان جانے کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن میں دھرنا جاری

،تصویر کا ذریعہSocial media
افغانستان آمد و رفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں احتجاج کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیشرفت نہیں ہوسکی۔
افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان آمد و رفت کے لیے پاسپورٹ کی مجوزہ شرط کے خلاف چمن میں چار روز سے دھرنا جاری ہے۔
دھرنے کے چوتھے روز چمن میں ایک بڑا احتجاج کیا گیا۔ دھرنے کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ چمن سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو پہلے کی طرح قومی شناخت کارڈ کے ذریعے آمد و رفت کی اجازت کو برقرار رکھا جائے۔
دھرنے کے شرکا نے چمن میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹینینٹ جنرل آصف غفور اور دیگر حکام سے مذاکرات کیے جو ناکام ہوئے۔
جب بی بی سی نے دھرنے کے کنوینر مولانا عبدالمنان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے ارکان نے سرکاری حکام سے بات کی اور ان کے سامنے اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ پاسپورٹ کی شرط نہ رکھی جائے۔
ان کا کہنا تھا مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث دھرنا کمیٹی نے مطالبے کو تسلیم کرنے تک احتجاج کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان سے 132 افغان تارکین وطن کو لے کر پہلی فلائٹ برطانیہ پہنچ گئی
132 افغان تارکین وطن کی پہلی فلائٹ پاکستان سے برطانیہ میں لینڈ کر گئی ہے۔
افغانستان پر طالبان حکومت آنے کے بعد وہاں پر برطانوی حکومت کے لیے کام کرنے والے ہزاروں افراد پاکستان میں برطانیہ جانے کا انتظار کر رہے تھے۔
ان افراد میں برطانوی افواج کے لیے مترجم کا کام کرنے والے اور برٹش کاؤنسل کے اساتذہ شامل ہیں۔
سول ایویشن اتھارٹی کے مطابق برطانوی حکومت نے ابھی سے دسمبر کے اختتام تک افغان باشندوں کو برطانیہ لانے کے لیے 12 فلائٹس چارٹر کی ہیں۔
ان افراد کو ویزا لگوانے کے لیے پاکستان جانے کو کہا گیا تھا لیکن فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے انتظار کر رہے ہیں اور بہت ساروں کے ویزا کی میعاد ختم ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس مہینے کے شروع میں پاکستانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ پہلی نومبر سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنا شروع کر دیں گے۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر خوش آمدید
پاکستان کی تازہ ترین صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ اس سے پہلے کی خبروں کے لیےیہاں کلک کریں۔
مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل نے گارڈ سے پستول چھین کر خود کو گولی ماری: پولیس
