یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
24 اکتوبر کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائلز کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نو مئی کے ملزمان کے کیس واپس فوجداری عدالتوں میں بھیجے جائیں۔ دوسری جانب آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر گمشدگی کیس میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
24 اکتوبر کی خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
نگران صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات پر دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ فیصلہ ’مایوس کُن‘ ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو ویلیڈیٹ کیا تھا اور پارلیمان نے اس ضمن میں باقاعدہ منظوری بھی دی گئی تھی۔
نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے ماضی میں دیے گئے چار فیصلوں کے یکسر متصادم ہے۔ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت ہزاروں عام شہریوں کے مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اِن قوانین کی روشنی میں متعدد فیصلے بھی دے چکی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ہزاروں سویلین فوج کے اداروں اور تنصیبات پر کام کرتے ہیں اور حالیہ فیصلے کے بعد اُن افراد میں سے کوئی جتنا بھی سنگین جرم کرئے تو انھیں فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں کیا جا سکے گا۔
نگران صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ اعتزاز احسن نے یہ پٹیشن صرف اور صرف سیاسی ریلیف فراہم کرنے کے لیے دائر کی تھی تاکہ سنگین واقعات میں ملوث افراد کو چھڑوایا جا سکے۔ نگران صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کو سیاسی نکتہ نظر سے نہیں بلکہ نیشنل سکیورٹی کے نکتہ نظر سے دیکھنا چاہیے تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے سے متعلق مختصر تحریری حکمنامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے یہ متفقہ فیصلہ پیر کی سہ پہر کو سنایا ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے چھ صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالت میں نہ چلانے سے متعلق فیصلہ متفقہ ہے۔
سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے ٹرائل کی اجازت دینے والی آرمی ایکٹ میں موجود شق ٹو ون ڈی ہی کالعدم قرار دے دی ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس یحیٰی آفریدی نے صرف اس شق کی ایک دفعہ پر اپنا فیصلہ محفوظ کیا ہے مگرانھوں نے عام شہریوں کے فوجی عدالت میں مقدمات کالعدم قرار دینے کے دیگر چار ججوں کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کی طرف سے نو اور دس مئی کے واقعات میں ملوث تمام 103 گرفتار افراد کی فہرست یا اس کے علاوہ بھی اگر کوئی عام شہری ان واقعات میں کسی بھی طرح ملوث ہیں تو ان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایسے تمام افراد کے خلاف مقدمات عام فوجداری عدالتوں کے سامنے چلائے جائیں گے۔
فیصلے کے مطابق ملک کے قانون کے تحت یہ عدالتیں خصوصی طور پر بھی قائم کی جا سکتی ہیں یا پہلے سے قائم عام عدالتیں بھی ان مقدمات پر سماعت کر سکتی ہیں۔
درخواست گزار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق کالعدم قرار دی گئی شق میں عام شہریوں کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ان کے مطابق سیکشن 59 کا تعلق عام فوجداری قانون سے ہے اور فوجی عدالتوں میں فوجداری جرائم کی بھی سزا لاگو کی جاتی تھی۔
انعام الرحیم کے مطابق عدالتی فیصلے سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ اب ملک میں کسی بھی عام شہری پر کتنے ہی سنگین الزامات کیوں نہ ہوں مگر اس کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں جا سکتا۔
ان کے مطابق تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تمام کارکنان کو کالعدم قرار دی گئی ٹو ون ڈی شق کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جسے عدالت نے اب سرے سے کالعدم قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ سے دفعہ ٹو ون ڈی کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ آرمی ایکٹ میں یہ شق کیا ہے اور یہ کب سے آرمی ایکٹ کا حصہ ہے۔
جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کا قانون سابق فوجی آمر ایوب خان کے دور میں متعارف کروایا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 1965 کی پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جو مذاکرات ہوئے تھے اس کے خلاف پاکستان میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے تحت عام شہریوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں چلائے جاسکتے ہیں۔
کرنل انعام الرحیم جو کہ جج ایڈوکیٹ جنرل یعنی فوج کی جیگ برانچ میں اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے آرمی ایکٹ کے اس قانون میں صرف تین شقیں تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ٹو ون اے فوج میں حاضر سروس افسران اور جوانوں سے متعلق ہے یعنی اگر کوئی حاضر سروس اہلکار کسی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا ٹرائل اس قانون کے تحت کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے ٹو ون بی کے تحت ان سویلین کا ٹرائل کیا جاتا ہے جو وزارت دفاع میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہوں اور ان کے خلاف کوئی شکایت ہو تو ان کے خلاف اس قانون کے تحت ٹرائل ہوں گے جبکہ سیکشن ٹو ون سی میڈیا کے ان افراد کے بارے میں ہے جنھیں آپریشنل کارروائیوں کے دوران لے جایا جائے اور وہ وہاں جا کر فوج کی موومنٹ کے بارے میں خفیہ راز فاش کر دیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ نے عام شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں کے مقدمات کو فوجی عدالتوں میں نہیں چلایا جا سکتا ہے۔
عدالت نے نو اور دس مئی کے واقعات میں گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کے مقدمات فوجی عدالتوں سے فوجداری عدالتوں میں بھیجنے کا حکم بھی دیا ہے۔
جسٹس اعجاز الااحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی اکثریت سے سویلین کے خلاف ٹرائل فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف دائر درخواستوں پر یہ فیصلہ سُنایا۔
جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس مظاہرنقوی اور جسٹس عائشہ ملک اس بینچ کے دیگر ججز تھے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں آرمی ایکٹ میں موجود شق ٹو ون ڈی کو بھی آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ آرمی ایکٹ کی اس شق کے تحت عام شہریوں کا بھی فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔
عام شہریوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ سویلین کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کا اقدام آئین سے متصادم ہے اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
درحواست گزاروں میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بھی شامل تھے۔ ان درخواستوں پر مجموعی طور پر 13 سماعتیں ہوئیں، جس کے بعد عدالت نے پیر کی دوپہر ان درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
عدالت میں اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق فوجی تنصیابات پر حملوں میں ملوث 102 افراد کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
جج ابوالحسنات محمود ذوالقرنین کی طرف سے سابق وزیراعظم اور وزیرخزانہ پر ’قومی مفاد پر سمجھوتہ‘ کرنے کی فرد جرم عائد کی ہے۔
اس فرد جرم کے مطابق عمران خان نے سائفر سکیورٹی سسٹم، پاکستان کے سیکرٹ کمیونیکشن سسٹم اور بیرون ملک پاکستان کے کمیونیکیشن سسٹم کو کمپرومائز کیا۔
عمران خان اور شاہ محمود قریشی سے کہا گیا کہ وہ تعزیرات پاکستان کی شق 34 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن پانچ اور نو کے تحت جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں۔
فرم جرم میں عمران خان سے کہا گیا ہے کہ ’آپ نے بطور وزیر اعظم غیر قانونی طور پر سائفر اپنے قبضے میں رکھا اور پھر اس خفیہ دستاویز کو غلط طریقے سے استعمال کیا۔‘
فرد جرم کے مطابق سائفر پاکستان اور امریکہ کے درمیان انتہائی خفیہ دستاویز تھی، جسے آپ نے سیکرٹ دستاویز کو ممنوعہ مقام یعنی جلسہ عام میں غلط طریقے سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
عمران خان پر یہ فرد جرم بھی ہے کہ ’آپ نے سائفر کی خفیہ معلومات غیر متعلقہ افراد تک پہنچائیں۔‘
فرد جرم میں کہا گیا کہ ’آپ ریاست کے مفاد کے خلاف یہ اطلاع استعمال کرنے کے مجاز نہیں تھے۔‘
فرد جرم کے مطابق ’وزارت خارجہ نے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے سائفر آپ کو فراہم کیا، آپ نے سائفر کو اپنے پاس رکھ کر مذموم ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور یوں آپ نے سائفر اور پاکستان کے سکیورٹی سسٹم پر سمجھوتہ کیا۔‘
عمران خان پر عائد فرد جرم کے مطابق ’آپ کے عمل سے ریاست پاکستان کی سیفٹی متاثر ہوئی۔‘
اس فرد جرم میں یہ بھی کہا گیا کہ 28 مارچ 2022 کو بنی گالہ میں ایک اجلاس ہوا، جس میں شریک ملزم شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مذموم مقاصد کے لیے سائفر استعمال کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔
عمران خان پر یہ الزام بھی فرد جرم کا حصہ ہے کہ ’آپ نے جان بوجھ کر بدنیتی کی بنیاد پر سائفر اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔
فرد جرم کے مطابق ’وزارت خارجہ نے سائفر آپ کو بھیجا آپ نے واپس نہیں کیا۔ غیر مجاز ہونے کے باوجود ابھی تک سائفر آپ کے پاس غیر قانونی طور پر رکھا ہوا ہے۔‘
شاہ محمود قریشی سے متعلق فرد جرم میں کہاگیا کہ ’آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جرم میں معاونت کی، جس طرح چیئرمین پی ٹی آئی نے جرم کیا اسی طرح آپ بھی شریک جرم ٹھہرے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار آمدن سے زائد اثاثہ جات مقدمے میں بری ہو گئے ہیں۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے بریت کا فیصلہ پڑھ کرسنایا۔ اس فیصلے کے مطابق اسحاق ڈار کے تمام شریک ملزمان بھی بری ہو گئے ہیں۔ ان ملزمان میں سابق صدر نیشنل بنک سعید احمد، منصور رضا اور نعیم شامل ہیں۔
جج محمد بشیر نے فیصلے میں لکھا کہ نیب کے بیان کی روشنی میں کیس ختم کیا جارہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائلز کے خلاف کیس کا فیصلہ آج سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ کر لیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آخری سماعت میں اٹارنی جنرل روسٹرم پر تھے، اس لیے پہلے اٹارنی جنرل کو دلائل مکمل کرنے دیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کی اجازت سے گزشتہ سماعت کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں بتاؤں گا کہ موجودہ ٹرائل کے لیے کیوں آئینی ترمیم ضروری نہیں تھی اور میں آرٹیکل 175 پر بھی بات کروں گا۔
جسٹس عائشہ ملک نےریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ ارمڈ فورسز کے اندر ڈسپلن کی بات کرتا ہے۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے کہا کہ آپ آرمی ایکٹ کا دیباچہ پڑھیں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیے کہ قانون پڑھیں تو واضح ہوتا ہے یہ تو فورسز کے اندر کے لئے ہوتا ہے، آپ اس کا سویلین سے تعلق کیسے دکھائیں گے؟
جس پر اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ افسران کو اپنے فرائض سرانجام دینے کا بھی کہتا ہے، کسی کو اپنی ڈیوٹی ادا کرنے سے روکنا بھی اس قانون میں جرم بن جاتا ہے۔
چیف جسٹس کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بات فورسز میں ڈسپلن کی حد تک ہو تو یہ قانون صرف مسلح افواج کے اندر کی بات کرتا ہے۔ جب ڈیوٹی سے روکا جائے تو پھر دیگر افراد بھی اسی قانون میں آتے ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اپ کی تشریح جان لی جائے تو اپ کسی پر بھی یہ قانون لاگو کردیں گے۔ قانون انھیں کہتا ہے کہ آپ فرائض ادا نہ کر سکیں تو آئین کے بنیادی حقوق کا حصول آپ پر نہیں لگے گا۔
اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ آرمڈ فورسز سے تعلق کی اصطلاح بھی موجود ہے جس کے مطابق جو شخص ارمڈ فورسز میں ایکٹو ڈیوٹی پر ہو اس پر ایکٹ لاگو ہوتا ہے تاہم جو ڈیوٹی پر موجود نہ ہو مگر کسی حملے سے متاثر ہو جائے تو اس کا معاملہ الگ ہے ۔
اٹارنی جنرل کے مطابق بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے والے کسی آرمڈ فورسز کے ممبر پر بھی یہ ایکٹ لاگو ہے ،عام شہریوں پر کب آرمی ایکٹ لگے گا اس کا ٹیسٹ موجود ہے ۔ کسی جرم میں ملزمان کا تعلق ارمڈ فورسز سے ثابت ہو تو ایکٹ لاگو ہوگا، ملٹری کورٹس آئین کے ارٹیکل 175 کے تحت قائم عدالتیں نہیں لیکن 21 ویں آئینی ترمیم کیس میں عدالت ان معاملات کا جائزہ لے چکی ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ 9 مئی والے ملزمان پر تو قانونی شہادت کا اطلاق بھی کیا جا رہا ہے، ان ملزمان کا فیئر ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہو رہا، گزارش ہے کہ عدالت سیکشن 2 ون ڈی کو وسیع تناظر میں دیکھے۔
دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو تحریری دلائل کی بھی اجازت دے دی گئی ۔ عدالت کی جانب سے سوموار کی سہہ پہر تین بجے فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی لیگ ٹیم میں شامل عمیر نیازی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ عمران خان سائفر مقدمے میں فرد جرم کے آرڈر کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عمیر نیازی ایڈووکیٹ نے سائفر سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ ’عدالتی کارروائی کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ میرے خلاف کیا الزام ہے؟ سازش میرے خلاف ہوئی، میری حکومت گئی،جس میٹنگ کا ذکر کیا گیا اس کے منٹس بھی موجود نہیں۔‘
عمیر نیازی نے بتایا کہ ’عمران خان کا کہنا ہے کہ جس سائفر کا ذکر کیا گیا وہ سرے سے کاغذات میں موجود ہی نہیں۔‘

سابق وزیراعظم نواز شریف کی دو نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی گئیں۔
نواز شریف کی جانب سے اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دائر کی ہیں جن میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیلوں کو بحال کر کے میرٹ پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے،
واضح رہے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدم پیروی پر دونوں اپیلیں خارج کر دی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
سائفر گمشدگی کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو عدالت کی طرف سے فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
سائفر کیس میں پراسیکوٹر شاہ خاور ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ’سائفر مقدمے میں 28 گواہان ہیں جن کو مرحلہ وار بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔‘
شاہ خاور کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے بیانات بھی اڈیالہ جیل کے اندر ہی ریکارڈ ہوں گے کیونکہ اس مقدمے کی سماعت جیل کے اندر ہی ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ملزمان پر جب فرد جرم عائد ہو رہی تھی تو عمران خان نارمل دکھائی دے رہے تھے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان نے اس مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے ان کی لندن میں بچوں سے فون پر بات کروائی گئی۔‘
ان کے مطابق ’عمران خان نے عدالت سے شکایت کی کہ عدالتی حکم کے باوجود انھیں ایکساسائز کے لیے سائیکل فراہم نہیں کی گئی جس پر عدالت نے جیل سپرنٹینڈنٹ کو طلب کرکے انھیں ملزم عمران خان کو سائیکل فراہم کرنے کا حکم دیا۔‘
شاہ خاور ایڈووکیٹ کے مطابق ’دوسرے ملزم شاہ محمود قریشی نے عدالت سے چارپائی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر عدالت نے جیل حکام کو ملزم شاہ محمود قریشی کو سونے کے لیے چار پائی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔‘
شاہ خاور ایڈوکیٹ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کچھ اعتراضات عمران خان اور شاہ محمود کے وکلا کی جانب سے آئے تھے تاہم اس پر بحث کے بعد فیصلہ ہو گیا۔
’آج کا دن فرد جرم عائد کرنے کے لیے تھا تو اوپن کورٹ میں فرد جرم پڑھ کر سنا دی گئی دونوں نے سن لی۔ کیس کی اب آئندہ سماعت 27 اکتوبر کو ہے جس میں استغاثہ کے گواہان کو پیش کیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دورانفرد جرم عائد کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اورشاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
عدالت نے فرد جرم روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تاریخ فرد جرم کے لیے رکھی تھی، فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔
عدالت نے کیس کے گواہان کے بیانات 27 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں، سائفر کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔
اس سے قبل 17 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم اس وقت تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے چالان کی کاپیاں فراہم نہ کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا تھا، پی ٹی آئی کے اعتراض کے بعد فردِ جرم کی تاریخ آج مقرر کی گئی تھی۔
آج سماعت کے موقع پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔
واضح رہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی ان دنوں سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک تحریری جواب میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں نو مئی کے دن پرتشدد واقعات اور فوجی تنصیات کو نشانہ بنانے میں ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ پیر سے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ عدالت کو آگاہ کیے بغیر ٹرائل شروع نہیں ہوگا۔
اٹارنی جنرل کی یقین دہائی کو سپریم کورٹ نے 3 اگست کی سماعت کے تحریری حکمنامے میں شامل کیا تھا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں میں احتجاج اور پرتشدد واقعات ہوئے تھے۔ وفاقی حکومت کے مطابق جن سویلین شہریوں نے فوجی تنصیبات کو ہدف بنایا ان کے خلاف کارروائی فوجی عدالتوں میں کی جا رہی ہے یعنی ان افراد کا کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔
حکومتی تحریری جواب کے مطابق مجموعی طور پر 102 افراد کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان زیر حراست افراد میں جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، پی اے ایف بیس میانوالی،آئی ایس آئی اسٹیبلشمنٹ سول لائنز فیصل آباد اور آئی ایس آئی کنٹونمنٹ سیالکوٹ پر حملہ کرنے والے ملزمان شامل ہیں۔
ان تمام ملزمان کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان کے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کے ٹرائل کیے جائیں کیونکہ ٹرائل سے ہی پتا چلے گا کون بے گناہ ہے اور کسے رہائی ملنی چاہیے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ان شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سپریم کورٹ کے حکم سے مشروط ہیں۔
23 اکتوبر سے پہلے کی خبریں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کیجئے۔