حماس نے 210 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے، اسرائیل: غزہ پہنچنے والے 20 امدادی سامان کے ٹرکوں میں سے ’ایک تابوتوں سے بھرا ہے‘

مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد رفح کراسنگ کھول دی گئی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مصر کی سرحد سے امدادی سامان ٹرک لے کر غزہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سرحد کتنی دیر تک کھلی رہے گی۔ ابھی اسرائیل نے صرف 20 ٹرکوں کو غزہ تک جانے کی اجازت دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. باہمی مفادات یا حکمت عملی: امریکہ ہر معاملے میں اسرائیل کی حمایت اور مدد کیوں کرتا ہے؟

  2. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 22 اکتوبر کی تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے یہاں کلک کیجیے

  3. بنیامن نتن یاہو: حماس کا ’نام و نشان‘ مٹانے کا وعدہ کرنے والے ’ہوشیار‘ اسرائیلی رہنما کون ہیں؟

  4. امریکہ کا غزہ میں داخلے کے لیے رفح کراسنگ کُھلی رکھنے کا مطالبہ

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ 20 امدادی ٹرک جو اُس وقت مصر سے غزہ جانے کے منتظر تھے وہ ’سمندر میں ایک قطرہ‘ ہوں گے۔

    اب 20 ٹرکوں نے اس کراسنگ کو عبور کر لیا ہے، جس پر اسرائیل نے پہلے اتفاق کیا تھا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ نے اس کا خیر مقدم کیا ہے لیکن وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری امداد کی مسلسل نقل و حرکت کو ممکن بنانے کے لیے رفح کراسنگ کو کھلا رکھیں۔

    بلنکن نے کہا کہ ’ہم واضح کر چکے ہیں کہ حماس کو امداد شروع ہونے والے سلسلے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔‘

    اینٹونی بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ ’فلسطینی شہری حماس کی پُرتشدد کاروائیوں کے ذمہ دار نہیں ہیں اور انھیں حماس کی مذموم کارروائیوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے۔‘

  5. اسرائیلی فوج لبنان کی سرحد پر جنگ کی تیاری کر رہی ہے, اینا فوسٹر، بی بی سی نیوز اسرائیل

    اسرائیل

    لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد پر بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی اس جنگ میں ممکنہ طور پر نئے شمالی محاذ کی تیاری کر رہے ہیں۔

    سرحدی علاقے کو ایک نئی فوجی آڈے میں تبدیل کیا جا رہا ہے، توپ خانہ بھی تیار ہے اور بکتر بند گاڑیاں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔

    اسرائیل اس سرحد کو مضبوط بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، مقامی قصبوں اور دیہاتوں کو منتقل کیا جا رہا ہے اور فوجیوں کو وہاں بھیجا جا رہا ہے۔

    اسرائیلی دفاعی افواج کے فوجی نے بی بی سی کی اینا فوسٹر کو بتایا ’یہ میری پہلی جنگ نہیں ہے کیونکہ ہمارے ارد گرد اندھیرا چھا جاتا ہے تو ایک ہیلی کاپٹر سرحد پر حزب اللہ کے ٹھکانوں کو شعلوں سے روشن کرتا ہے۔‘

    ’میں نے پورے اسرائیل میں اتنی بڑی تعداد میں شدت پسندوں کے ٹھکانے کبھی نہیں دیکھے۔ سب کے حوصلے بلند ہیں، اور ہم ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

    اسرائیلی دفاعی افواج کے رُکن نے بتایا کہ ’اسرائیل میں ہر کوئی کسی ایسے شخص کو جانتا ہے جس نے اس ہفتے میں اپنی جان گنوائی۔ لیکن جب ہم یہاں ہوتے ہیں، تو ہم خوف کے بارے میں نہیں سوچتے، ہم جیتنے اور خطرے کو ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ یہ دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘

  6. لندن میں فلسطین کے حق میں مظاہرہ ’ایک لاکھ کے قریب لوگ شامل‘: میٹ پولیس

    لندن

    ،تصویر کا ذریعہHenry Nicholls/ AFP

    میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ لندن میں ’ایک لاکھ کے قریب‘ لوگوں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہرہ میں شامل ہیں

    لندن میں آج فلسطین کے حق میں جاری مظاہرے سے متعلق میٹروپولیٹن پولیس کا اندازہ ہے کہ اب ’ایک لاکھ‘ کے قریب لوگ اس میں حصہ لے رہے ہیں اور مارچ میں شامل ہیں۔

    مظاہرے کرنے والے افراد ماربل آرچ پر جمع ہوئے ہیں، جہاں شرکاء نے ’فلسطین کی آزادی‘ اور ’غزہ پر بمباری بند کرو‘ کے نعرے لگائے اور بینرز اٹھا رکھے ہیں۔

  7. 20 گھنٹے تک یرغمال رہنے والی 65 سالہ دادی جنھوں نے حماس کے حملہ آوروں کو چائے، بسکٹ پیش کیے

  8. حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کو دو ہفتے ہو چکے ہیں

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج کی اہم خبریں:

    • غزہ میں امدادی سامان لے جانے والے 20 ٹرکوں نے آج صبح رفح کی سرحد عبور کی اور انسانی امداد کے ساتھ غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے، جہاں اس امداد کی تقسیم کی نگرانی اقوام متحدہ کا عملہ کرے گا۔
    • اسرائیل نے غزہ میں یرغمال بنائے گئے یرغمالیوں کی تعداد سے متعلق ایک تازہ بیان میں کہا کہ ان کی تعداد 210 ہے۔ تاہم ان میں وہ دو امریکی شامل نہیں جنھیں راتوں رات رہا کر دیا گیا تھا۔
    • مصر کے دارالحکومت میں مشرق وسطیٰ اور یورپ کی کچھ بڑی طاقتیں اسرائیل غزہ جنگ پر بات چیت کے لیے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسرائیل، ایران اور امریکہ موجود نہیں ہیں۔
    • حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہگزشتہ دو ہفتوں میں 4,385 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس کی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کے 17 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
    • اسرائیل میں حماس کے حملوں میں تقریبا 1400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ 7 اکتوبر سے اب تک کم از کم 307 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
  9. دو امریکی یرغمالیوں کی رہائی میں قطر کا کیا کردار تھا؟, گورڈن کوریرا، نامہ نگار برائے سکیورٹی

    گزشتہ روز دو امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں خبریں سامنے آئیں جنھیں حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے دوران حراست میں لیا گیا۔

    یرغمالیوں کی بازیابی کی خبر میں قطر کے غیر معمولی کردار کو اجاگر کیا گیا، یہ ایک ایسا کردار ہے جس میں اثر و رسوخ تو ہے ہی مگر یہ کردار بہت سے خطرات بھی رکھتا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ چھوٹی سی خلیجی ریاست امریکہ کے اہم فوجی اڈے کے ساتھ ساتھ حماس دونوں کی میزبانی کرتی ہے، قطر جانتا ہے کہ مختلف اطراف میں کام کیسے کرنا ہے اور سب سے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر انداز میں کیسے لے کر چلنا ہے۔

    قطر

    اس نے نہ صرف ان یرغمالیوں کے بارے میں بلکہ شام اور عراق میں یرغمالیوں کے بحران میں اسی طرح کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، اور افغانستان کے بارے میں طالبان کے دفتر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے اسٹیجنگ پوسٹ کے طور پر کام کیا ہے۔

    خاص طور پر اسرائیل پر حماس کے حملوں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے خطرات موجود ہیں کہ اس سے امریکہ اور دیگر ممالک اس پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ ان گروپوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرے جن کی وہ میزبانی کرتا ہے۔

    لیکن امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے یہ تسلیم بھی کیا گیا ہے کہ بیک چینلز اکثر اہم ہوتے ہیں اور قطر نے اس کردار میں اپنی اہمیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

  10. غزہ میں امداد کی تقسیم کی نگرانی اقوام متحدہ کرے گی

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابو الوف کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ آج رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ پہنچنے والی امداد کی تقسیم کی ذمہ دار ہوگی۔

    رشدی کے مطابق رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہونے والے امدادی سامان سے بھرے 20 ٹرک اب سے کچھ دیر میں سردی علاقے سے قافلہ خان یونس کی جانب روانہ ہوگا۔

    رشدی کا کہنا ہے کہ ’قافلے کے ساتھ اقوام متحدہ کی گاڑیاں بھی موجود ہیں جو ٹرکوں کو جنوبی شہر کے ایک گودام تک لے جائیں گی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’وہاں پہنچنے کے بعد، اقوام متحدہ کے کارکن یہ فیصلہ کریں گے کہ اس کی تقسیم کے لیے اسے کہاں لے جایا جائے گا، امکان ہے کہ امداد کو اقوام متحدہ کے سکولوں میں بھیجا جائے گا، جہاں ہزاروں پناہ گزین ہیں، اور ساتھ ہی علاقے کے ہسپتالوں میں بھی۔

  11. بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 4385 تک پہنچ گئی

    حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کی پٹی میں کم از کم 4,385 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تعداد میں 1756 بچے بھی شامل ہیں۔

  12. غزہ کے مضافات میں تباہی کا انکشاف

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان تصاویر میں جمعرات کی رات غزہ کے مضافات الزہرہ میں فضائی حملوں کے اثرات دکھائے گئے ہیں۔

    تقریبا 25 رہائشی عمارتوں پر مشتمل ایک بڑا علاقہ تباہ ہوا۔

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے وادی غزہ کے شمال میں رہنے والے تمام شہریوں سے ایک ہفتہ قبل 24 گھنٹوں میں نقل مکانی کرنے کو کہا تھا۔ غزہ شہر کے جنوب میں واقع الزہرہ کے رہائشیوں کو اس حکم نامے میں شامل کیا گیا تھا، جس میں لاکھوں افراد خان یونس جیسے جنوبی شہروں کی طرف نقل مکانی کر گئے تھے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الزہرہ میں موجود افراد کو حملوں سے قبل اسرائیل کی جانب سے انتباہی پیغامات موصول ہوئے تھے۔

    Gaza

    بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ یہ تصاویر الزہرہ کے قریب میں لی گئی ہیں، کیونکہ بی بی سی نے ان عمارتوں کی ترتیب کا موازنہ پہلے کی سیٹلائٹ تصاویر سے کیا ہے۔

    جمعرات کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں یہ ٹاور اب بھی کھڑے دکھائی دے رہے ہیں، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انھیں جمعرات کی شام اور جمعہ کی صبح کے درمیانی وقت میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی دفاعی افواج نے جمعے کے روز کہا ہے کہ انھوں نے جمعرات کی رات غزہ کی پٹی میں شدت پسندوں تنظیموں کے 100 سے زائد آپریشنل اہداف پر حملہ کیا۔

    بی بی سی نے آئی ڈی ایف سے اس بارے میں تبصرہ کرنے کے لیے کہا ہے کہ الزہرہ میں خاص طور پر کس چیز کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

  13. ’غزہ میں داخل ہونے والے امدادی سامان سے لدے ٹرکوں میں سے ایک میں تابوت بھی ہیں‘: بی بی سی رپورٹر

    غزہ میں ہمارے نامہ نگار رشدی ابو الوف نے مصر سے آنے والے امدادی ٹرکوں کو رفح کراسنگ کے ذریعے داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے اب تک غزہ میں داخل ہونے والے 20 ٹرکوں کی گنتی کی ہے۔ یہ وہ تعداد ہے جس کے بارے میں اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس کی اجازت دے گا۔‘

    ان میں سے ایک ٹرک تابوت سے بھرا ہوا تھا۔

    فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ میں 4,137 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہلاکتوں کی اس تعداد میں 471 افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وہ منگل کے روز الاہلی عرب ہسپتال پو ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ’کئی درجن‘ ہے۔

  14. ’ہم اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے‘ فلسطینی صدر

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرق وسطیٰ اور یورپ کے متعدد رہنما اسرائیل اور غزہ کی جنگ میں کے خاتمے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جمع ہوئے ہیں۔

    اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ ’فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم کبھی بھی منتقلی کو قبول نہیں کریں گے، چیلنجز جو بھی ہوں، ہم اپنی زمین پر رہیں گے۔‘

    عباس فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ہیں جس کا مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر کنٹرول ہے لیکن حماس کے زیر انتظام غزہ کی پٹی پر اُن کا کنٹرول نہیں ہے۔

    مصر اور دیگر عرب ریاستوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ ’جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کسی بھی اور مُلک کے لیے ناقابل قبول ہوگی کیونکہ یہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے مترادف ہوگا۔‘

    اجلاس، جسے امن کے لیے سربراہی اجلاس کہا جاتا ہے، میں اردن، قطر، اٹلی، اسپین، یورپی یونین اور برطانیہ کے حکام بھی شامل ہیں۔ تاہم قابل ذکر غیر حاضر مُمالک میں اسرائیل، امریکہ اور ایران شامل ہیں۔

  15. مصر کی سرحد پر امدادی سرگرمیاں شروع ہونے پر جشن

    مصر کی سرحد پر جیسے ہی امداد سے بھرے ٹرکوں کو غزہ میں رفح کراسنگ کے دروازوں سے گزرنے کی اجازت دی گئی، تو اس موقع پر مصر کی طرف موجود لوگوں نے جشن منانا شروع کردیا رعح کراسنگ سے چند تازہ ترین تصاویر

    مصر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مصر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    مصر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  16. اسرائیل فوج کے مطابق غزہ میں یرغمالیوں کی تعداد 210 ہو گئی ہے

    اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے اب تک 210 یرغمالیوں کے اہل خانہ کو مطلع کیا ہے کہ انھیں غزہ کی پٹی میں رکھا گیا ہے۔‘

    ان میں امریکی ماں اور بیٹی جوڈتھ اور نیٹلی رانان شامل نہیں ہیں جنھیں حماس نے گزشتہ رات رہا کیا تھا۔

  17. کیا غزہ کی پٹی کیخلاف اسرائیلی کارروائیاں ’جنگی جرائم‘ ہیں؟

  18. بریکنگ, رفح کراسنگ کھول دی گئی، صرف 20 ٹرکوں کو غزہ جانے کی اجازت مل سکی

    مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد رفح کراسنگ کھول دی گئی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مصر کی سرحد سے امدادی سامان ٹرک لے کر غزہ میں داخل ہو رہے ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سرحد کتنی دیر تک کھلی رہے گی۔ ابھی اسرائیل نے صرف 20 ٹرکوں کو غزہ تک جانے کی اجازت دی ہے۔ اسرائیل نے ایندھن لے کر جانے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق پانی کے دباؤ کے لیے ایندھن کی ضرورت ہے اور اس وقت غزہ میں دیگر اشیائے ضروریہ کے علاوہ پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔

    اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ غزہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ کم از کم 100 ایسے امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کی ضرورت ہے۔

  19. حماس کو شکست دینے کے بعد اسرائیل غزہ سے قطع تعلقی کر دے گا: اسرائیل, ہینری آستیے، بی بی سی نیوز

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی مہم کا طویل مدتی مقصد علاقے سے تمام روابط منقطع کرنا ہے۔

    اسرائیل کے وزیردفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ جب ایک بار حماس کو شکست ہو جائے گی تو اسرائیل غزہ کی پٹی سے اپنی تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی کے تحفظ کا ذمہ دار بھی نہیں ہوگا۔

    اس تنازع سے پہلے اسرائیل غزہ کی تمام توانائی کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا اور اس پٹی کو ایندھن اور دیگر اشیا بھیجتا تھا۔ اسرائیل دیگر ممالک سے آنے والی اشیا کی مانیٹرنگ بھی کرتا تھا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جو اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کر رہا ہے اور مصر کے ساتھ رفح کراسنگ بھی کسی بھی طرح کی انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے بند کر رکھی ہے۔

    جمے کو وزیردفاع یوو گیلنٹ نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ اسرائیل کی مہم کا پہلا حصہ حماس کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا ہے۔

    ان کے مطابق اس کے بعد اسرائیلی افواج چھوٹے پیمانے پر فوجی آپریشن کے ذریعے حماس کے بچے کھچے مزاحمتی ٹھکانوں کا خاتمہ کرے گا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق تیسرے مرحلے میں اسرائیل غزہ میں زندگی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائے گا اور اسرائیلی شہریوں کے لیے نیا سکیورٹی پلان متعارف کرائے گا۔

  20. ہسپتال خالی کرنے کے مبینہ احکامات بہت پریشان کن ہیں: سربراہ عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے اسرائیلی فوج کی طرف سے ممکنہ حملے سے قبل القدس ہسپتال کو خالی کرنے کے احکامات کو تشویشناک قرار دیا ہے۔

    فلسطین کی ریڈ کریسنٹ نے اسرائیلی فوج کے احکامات کے بارے میں پہلے تصدیق کی تھی۔

    القدس ہسپتال میں اس وقت 400 سے زیادہ مریض اور 12000 سے زیادہ بے گھر شہریوں کا مسکن ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر تیدروس ادھانوم گیبرائسس نے ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر لکھا کہ القدس ہسپتال کو خالی کروانے جیسی خبریں بہت پریشان کن اس وجہ سے بھی ہیں کہ اس قدر مریضوں سے بھری ہسپتال کو محفوظ طریقے سے خالی کرنا ممکن بھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ عام شہریوں اور مریضوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام