یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 23 اکتوبر کی تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے غزہ پر فضائی بمباری کی شدت میں اضافہ کیا جائے گا جس سے فورسز کو ’جنگ کے اگلے مراحل میں خطرات کم کرنے کا موقع ملے گا۔‘ غزہ میں گذشتہ روز بمباری کے بعد ایک ہسپتال میں کفن میں لپٹی ہوئی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ 23 اکتوبر کی تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ کے قریب کریم سالوم کراسنگ کے مقام پر اس کے ایک ٹینک نے حادثاتی طور پر ایک مصری پوسٹ پر گولہ باری کی ہے۔
کریم سالوم کراسنگ ایک تجارتی راہداری ہے جو غزہ کے جنوب میں واقع ہے۔ اسرائیل نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے اس کراسنگ کو بند رکھا ہوا ہے۔ یہ جگہ مصری جنکشن کے قریب واقع ہے۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لرنر نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں کہا ہے کہ ہم نے کبھی یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ ہم زمینی حملہ بھی کریں گے۔
ایک ایسے وقت میں جب لاکھوں ریزر فوجی غزہ کی سرحد پر جمع ہیں اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کو ابھی تربیت دی جا رہی ہے، انھیں مسلح کیا جا رہا ہے اور اگر انھیں ہمارے لیے مددگار ثابت ہونے والا کوئی ٹاسک دیا جائے تو ایسی صورت میں وہ حماس کے ہمیشہ ہمیشہ کے خاتمے کے لیے ہمارے ہدف میں ہمارا ساتھ نبھا سکیں۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے زور دیا ہے کہ جنگ کے اگلے مرحلے سے پہلے اس وقت پوری توجہ فضائی حملوں میں اضافے پر ہی مرکوز ہے۔
آئی ڈی ایف کے سربراہ ہیزری ہالیوی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ہم غزہ میں داخل ہوں گے، ہم وہاں ایک آپریشن مشن کے لیے داخل ہوں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ محدود فوجی آپریشن ہو سکتے ہیں۔
حماس کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والوں کی رہائی تک اسرائیل پر اس کے اتحادیوں اور یرغمالیوں کے خاندان کی طرف سے دباؤ ہے کہ وہ زمینی آپریشن میں تاخیر کریں۔
یہ بات واضح طور پر اسرائیل کے پیش نظر ہے اگرچہ اسرائیلی حکام حماس پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ملک کو دو محاذوں پر جنگ کا سامنا ہے: ایک غزہ میں حماس کا خاتمہ کرنا اور دوسرا شمال میں لبنان کی سرحد پر کارروائی کرنا۔
اپنے دورے کے دوران ملک کی شمالی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ لبنان کی طاقتور ترین فوج، حزب اللہ، نے اس جنگ میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔ انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ نے ایسا کوئی فیصلہ کیا ہے تو اسرائیل انھیں پوری قوت کے ساتھ ایسا جواب دے گا کہ جس کا انھوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔
نتن یاہو نے فوجیوں کا شکریہ ادا کیا اور ان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کیا کہ اس جنگ میں انھوں نے اپنے دوست کھو دیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اپنی زندگی اور وطن کے لیے جنگ ہے۔
واضح رہے کہ لبنان کے ساتھ اسرائیل کی اس شمالی سرحد پر آئے روز اسرائیلی فوجیوں اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکام نے پہلے ہی سرحد سے بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ علاقوں کی طرف منتقل کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اتوار کو ایران کے وزیر خارجہ نے اسرائیل اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر نہیں روکتا تو مشرق وسطیٰ کے حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔
تہران میں خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ ’میں امریکہ اور اس کے ’کارندے‘ (اسرائیل) کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر انھوں نے فوری طور انسانیت کے خلاف جرائم اور غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ بند نہ کیا تو کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
’اور یوں خطہ قابو سے باہر ہو جائے گا‘۔

رفح کراسنگ کی کچھ دیر قبل کی تصاویر میں امدادی ٹرکوں میں ایندھن لے کر جانے والے ٹرک بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک غزہ تک ایندھن کی رسائی ممکن نہیں بنائی جا سکی ہے۔
رفح کراسنگ پر انسانی امداد لیے 17 ٹرکوں کی دوسری کھیپ پہنچی تھی جس کی چینکنگ ابھی کی جا رہی ہے اور انھیں ابھی غزہ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
فلسطینیوں تک امداد پہنچانے کی ذمہ دار اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے مطابق گذشتہ دو ہفتتوں میں ابھی تک غزہ کی پٹی میں ایندھن والے ٹرک داخل نہیں ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ہسپتالوں کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔
ایک ترجمان کے مطابق اگر ایندھن نہیں تو پھر پانی نہیں اور یوں ہسپتالوں اور بیکریوں کا چلنا بھی محال ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کے بغیر بہت سے ضرورت مندوں تک امداد نہیں پہنچائی جا سکتی ہے یعنی ایندھن کا انسانی امداد سے براہ راست تعلق ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں اس وقت تک 4651 شہری مارے جا چکے ہیں۔
اس دوران 14245 شہری زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 266 فلسطینی صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں مارے گئے ہیں، جن میں 117 بچے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں اور مصری میڈیا کے مطابق رفح کراسنگ پر انسانی امداد لیے 17 ٹرک پہنچ گئے ہیں، جو غزہ کے لیے روانہ ہوں گے۔
ایک ویڈیو فوٹیج میں اقوام متحدہ کی ایک گاڑی اور امدادی سامان سے لدے ٹرک نظر آ رہے ہیںجو ایک قطار میں کھڑے ہیں۔ مگر ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ گاڑیوں کا یہ قافلہ رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہو سکا ہے یا نہیں۔
گذشتہ روز دوائیاں، خوراک اور پانی لیے 20 ٹرک رفح کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ اس وقت سنگین بحران سے گزر رہا ہے اور عام شہریوں کی مدد کے لیے روزانہ 100 امدادی ٹرکوں کی اشد ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے لبنان کی سب سے طاقتور فوجی طاقت حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ایک اور جنگ چھیڑنے سے باز رہے۔
لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ نے ایسا کیا تو یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کی طرف سے جنگ شروع کرنے کی صورت میں اسرائیل لبنان پر ناقابل تصور پیمانے پر فضائی حملے شروع کر دے گا، جس سے تباہی و بربادی ہی لبنان کا مقدر ٹھہرے گی۔
اسرائیل اور امریکہ پہلے ہی ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو اس جنگ چھیڑنے سے باز رہنے کا کہہ چکے ہیں۔

اسرائیل کے سابق وزیراعظم نیفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ اسرائیل کا غزہ کے فضائی اور سمندری رستے پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ یہاں لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل غزہ کے لیے مزید امداد بھیجنے کی اجازت دے گا تو سابق اسرائیلی وزیراعظم نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ دنیا آ کر غزہ میں رہنے والوں کی مدد کر سکتی ہے اس سے ہماری کوئی تعلق نہیں بنتا۔ حماس کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والے شہریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی کارروائی جواب میں اسی طرح کی ہونی چاہیے۔
جب پروگرام کی میزبان نے کہا کہ اسرائیل تو غزہ کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے اسے حماس سے لڑنا چاہیے نہ کہ عام فلسطیینیوں سے یہ جنگ کی جائے۔ اس پر سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ جیسے آپ فرانس کی ذمہ دار نہیں ہیں، ایسے ہی ہم غزہ کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
اگر دوسرے لوگ غزہ کے لوگوں کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے اور انھیں اس پر عمل پیرا رہنا چاہیے۔

حنان اشروی فلسطین کی ایک معروف سیاسی رہنما ہیں۔ انھوں نے اسرائیل کے معاملے پر عالمی برادری پر دہرے معیارات رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہائیوں سے فسطینیوں کا ناحق خون ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق غزہ ایک ایسا مقام بن گیا ہے جہاں لوگوں کا کوئی دن بھی پرامن نہیں گزرتا۔ وہ کہتی ہیں کہ پھر جب وہ حملہ کرتے ہیں، جب وہ پھوٹ پڑتے ہیں، فوراً انھیں ہر طرح کے خوفناک القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔‘
حنان اشروی نے کہا اسرائیل کے عام شہریوں کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے چاہے وہ اسرائیلی ہوں یا فلسطینی شہری ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت فلسطینیوں کے حقوق کی نفی کی جاری ہے اور اس وقت ہمارے گھر، جائیداد اور ہماری آزادی بھی اسرائیل کے رحم و کرم پر ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ میں صرف دہرے معیارات پر روشنی ڈالنا چاہتی ہوں۔ ان کے مطابق اسرائیل ایک قابض فورس ہے، بس اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تصاویر میں نظر آنے والے ان افراد اور بچوں کے بارے میں ہمیں یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اور کیسے مارے گئے۔ یہ ہسپتال غزہ کے چھوٹے سے شہر دیرالبلح کی ہے، جسے گذشتہ ہفتے اسرائیل نے اپنی بمباری کا نشانہ بنایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ شہر شمالی غزہ سے باہر کا ہے، جہاں سے اسرائیل نے شہریوں کو گھر چھوڑ کر محفوظ علاقتوں کی طرف نکلنے کے احکامات دیے تھے۔ اسرائیل وسطی اور جنوبی غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہReuters
شام کا سرکاری میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ اسرائیل کے میزائل حملوں نے ملک کے دو اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سیریئن عرب نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ دمشق اور حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر حملہ کیا گیا۔
شامی حکومت کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف میٹرولوجی کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ دمشق کے ہوائی اڈے پر کم از کم دو ملازمین ہلاک ہو گئے۔
شام کے دمشق اور حلب کے ہوائی اڈے نہ صرف عام شہری استعمال کرتے ہیں بلکہ انھیں عسکری ضروریات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایئرپورٹس مبینہ طور پر حزب اللہ کو بھیجے جانے والے ایرانی ہتھیاروں کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹس ہیں۔
سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں ایئرپورٹس پر رن وے کو نقصان پہنچا جس سے وہ غیر فعال ہو گئے ہیں۔
دونوں ہوائی اڈوں پر گذشتہ ہفتے بھی اسرائیل نے حملہ کیا تھا۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ غزہ میں امداد کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو بھی ہسپتالوں میں بھیجنے کی اجازت دینے کی ضرورت ہے۔
آئی سی آر سی کی سارہ ڈیوس نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ ’اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ غزہ میں امداد کو مسلسل بھیجنا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ صرف امداد کی ضرورت نہیں ہے ’بلکہ طبی عملہ اور سرجیکل ٹیمیوں کو بھی غزہ کے ہسپتالوں میں بھیجنے کی ضرورت ہے۔‘
جیسا کہ اسرائیل نے اتفاق کیا تھا مصر اور غزہ کے درمیان سرحدی کراسنگ کل کھولی گئی تھی تاکہ امداد کے 20 ٹرکوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکے- لیکن سارہ ڈیوس نے کہا کہ امداد کے مسلسل بہاؤ کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا ’اس کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، لوگ امداد کے 20 ٹرکوں سے زندہ نہیں رہ سکتے، یہ واقعی اتنی سنگین صورتحال ہے۔‘
’ہم زمین پر اپنی ٹیموں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں اور وہ جو مناظر بیان کرتے ہیں وہ خوفناک ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں رات بھر کے فضائی حملوں میں کم از کم 55 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حماس کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بیان کے چند گھنٹوں میں 30 سے زیادہ مکانات تباہ ہو گئے۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں میں شدت آئے گی جبکہ اسرائیلی فوج متوقع زمینی حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہیگری نے کہا کہ ان حملوں سے سرحد کے ارد گرد موجود اسرائیلی افواج کے لیے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے غزہ خاص طور پر عزہ شہر میں رہنے والے فلسطینی شہریوں سے کہا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف چلے جائیں۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے مقبوضہ غرب اردن میں مزید فضائی حملے کیے ہیں۔ تازہ ترین حملہ میں جنین میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا جسے اسرائیلی فوج نے دہشت گردوں کا کمانڈ سینٹر قرار دیا۔
فلسطینی حکام نے اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مغربی کنارے میں مزید چار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں مزید چار فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے رات گئے مغربی کنارے کے شہر جنین میں ایک ’عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانے پر حملہ کیا جس میں ایک مسجد کے اندر حماس کے سیل کی موجودگی کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔