یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر کلک کریں۔
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی نقصانات سے نجات دلانے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر کلک کریں۔
بلوچستان حکومت کے نگراں وزیراطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
ان کے مطابق ’حکومت بلوچستان کی ہدایت پر ریسکیو ٹیموں کو مستونگ روانہ کر دیا گیا ہے اور شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جارہا ہے۔
نگارں وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے دھماکے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔
وزیراطلاعات کے مطابق غیر ملکی آشیرباد سے دشمن بلوچستان میں مذہبی رواداری اور امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ’مستونگ میں دھماکہ ناقابل برداشت ہے۔‘
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر مستونگ بازار میں ایک دھماکے سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر مستونگ عطا المنعم کے مطابق دھماکہ مدینہ مسجد کے قریب ہوا، جہاں میلاد کی مناسبت سے لوگ جمع ہورہے تھے۔
مدینہ مسجد سے جمع ہونے کے بعد لوگوں نے جلوس میں شرکت کرنا تھی۔ عطا المنعم کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGOB
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے محکمہ تعلیم میں جعلی نوٹیفیکیشن پر15خواتین لیکچرارز کی تقرری کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
اس سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کی روشنی میں اب تک چارافراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ محکمے کے کالجز اینڈ ٹیکنیکل سیکشن میں یہ جعلی تقرریاں بلوچستان پبلک سروس کمیشن سے ان خواتین کی کامیابی سے متعلق 16 اگست 2021 کو ایک جعلی پریس ریلیز کی بنیاد پر کی گئی تھیں۔
مارچ 2022 میں اس پریس ریلیزکی بنیاد پرمحکمہ تعلیم کی جانب سے اسلامیات، سوشیالوجی ، کامرس اور براہوی زبان کے مضامین کے لیے 15خواتین کی لیکچرر کے طورپر تقرریاں کی گئیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ پبلک سروس کمیشن کی نشاندہی پرمحکمہ تعلیم کی تحقیقات میں یہ تعیناتیاں جعلی ثابت ہوئی تھیں۔
اہلکار نے بتایا کہ محکمہ تعلیم نے سکینڈل کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے یہ معاملہ محکمہ اینٹی کرپشن کے حوالے کردیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جعلی نوٹیفیکیشن پردو خواتین نے لیکچررز کے طورپرجوائننگ بھی دی تاہم باقی جن 13خواتین کی تقرری ہوئی تھی انھوں نے تاحال جوائننگ نہیں دیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ پرنسپل گرلز کالج چمن ملائیکہ امیرکی معاونت سے جوائننگ دینے والی خواتین میں بخت امیراورعارفہ شامل تھِیں جنھوں نے سرکاری خزانے سے 16 لاکھ 6 ہزار 199 روپے تنخواہ کی مد میں وصول کیے۔
محکمہ تعلیم کے اہلکار کا کہنا تھا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی اس کے مطابق بخت امیر نامی خاتون گرلز کالج چمن کی پرنسپل کی بہن ہیں۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے اس حوالے سے چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جن میں جمیل سومرو، ملائیکہ امیر، بخت امیر اورعارفہ شامل ہیں ۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش معاشی نقصانات سے نجات دلانے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جمعرات کو لاہور کا دورہ کیا اور صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اپیکس کمیٹی اجلاس میں صوبہ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ محسن نقوی بھی شریک ہوئے، آرمی چیف کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال سمیت بجلی،گیس چوری، ذخیرہ اندوزی اور غیر ملکی کرنسی کی سمگلنگ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
فورم کو اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات اور صوبے کے کچے کے علاقے میں آپریشنز کی پیش رفت کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جبکہ فورم نے غیرقانونی غیرملکی شہریوں کی وطن واپسی کا بھی جائزہ لیا۔
آرمی چیف نے اجلاس میں زور دیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ پاکستان کو مختلف طریقوں سے ہونے والی چوریوں کی وجہ سے درپیش معاشی نقصانات سے نجات مل سکے۔
فورم کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل(ایس آئی ایف سی) اور گرین پنجاب کے اقدامات پر جاری پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور آرمی چیف نے تاریخی اقدامات کے اثرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاستی ادارے، سرکاری محکمے اور عوام صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہیں۔

،تصویر کا ذریعہscreen grab
سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف پاکستان تشریف لا رہے ہیں اور لاہور کے مینار پاکستان سے وہ پوری قوم سے خطاب کریں گے۔
گوجرانوالہ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان کا بیانیہ ایک ہی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ 21 اکتوبر کو پاکستان کی ترقی کا سفر شروع ہونا ہے
رانا ثنا اللہ نے عمران خان اور تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا نفرت اور رعونیت کا رویہ تھا اور وہ اپنے تکبر کا ہی شکار ہوئے ہیں۔ اور اب کہا جا رہا ہے کہ ان کو انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لینے دیا جائے گا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جنھوں نے دفاعی علاقوں میں جا کر گھروں کو آگ لگائی اور ہمارے ہیروز کے مجسموں کی بے حرمتی کی توجو ٹولہ نو مئی میں ملوث رہا اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ قانون دنیا میں کہیں نہیں کہ جس کو الیکشن لڑنا ہو اس کا حساب بعد میں کہا جائے۔ جس نے جرم کیا ہے اسے حساب بھی دینا ہو گا۔
عالمی میڈیا واچ ڈاگ ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ ( آر ایس ایف) نے پاکستان کے پریس کلبوں، صحافتی تنظیموں فریڈم نیٹ ورک اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر پاکستانی سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کے لیے اپنے منشور میں اظہار رائے کی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کریں۔
آر ایس ایف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہعام انتخابات سے قبل پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات میں اضافہ سامنے آ رہا ہے اور اس حوالے سے صورتحال پہلے سے ذیادہ ابتر ہو گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس حوالے سے پاکستانی سیاسی جماعتوں سے ایک اہم اپیل کا آغاز کیا ہے جس میں آزادی صحافت کے حق میں ٹھوس اقدامات کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا کے خلاف جرائم میں حاصل استثنیٰ بہت زیادہ ہے جبکہ صحافیوں کے تحفظ کے معاملے پر اقوام متحدہ کے پلان آف ایکشن کے پائلٹ پروجیکٹ میں شامل پانچ ممالک میں پاکستان بھی شامل تھا۔
بیان کے مطابق فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں صحافیوں کے قتل کے 96 فیصد واقعات میں کوئی سزا نہیں ملی۔ میڈیا پریکٹیشنرز اور معاونین کے خلاف جرائم کے لیے استثنیٰ تشویشناک حد تک موجود ہے جوپیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
آر ایس ایف کے مطابق اسی طرح پاکستان کے شہریوں کو ان کے معلومات تک رسائی کے اس حق سے محروم کر دیا جاتا ہے جس کی ملک کے 1973 کے آئین میں درج دو بنیادی حقوق کے آرٹیکل 19 اور 19 A کے ذریعے ضمانت دی گئی ہے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کا نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنےپر معافی نامہ کدھر ہے؟ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم درخواست واپس لے رہے ہیں، یا تو آپ کہیں دھرنے والوں کے ساتھ معاہدے پر جس کے دستخط تھے ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’یا تو بتائیں نا کہ ہم نے فیصلے کی فلاں فلاں باتوں پر عمل کر لیا۔ یا پھر ایسے ہی اگلی افرا تفری تک رہنے دینا چاہتے ہیں۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’12 مئی کو پاکستانی سیاست میں نئی چیز کنٹینرز متعارف ہوئی۔ ایم کیو ایم آج یہاں ہمارے سامنے آئی ہی نہیں، ایم کیو ایم کے ایک وزیر تھے آج ان کی طرف سے کوئی نہیں آیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس دھرنے کے بعد کئی اور ایسے ہی واقعات سامنے آئے۔ اگر اس وقت اس فیصلہ پر عمل ہوتا تو بعد میں سنگین واقعات نہ ہوتے۔
’ہم فیصلے میں دی گئی 17 ہدایات پر عمل سے صحیح سمت میں چلیں گے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ لوگوں نے فیصلے کو آج سچ مان لیا اب آپ کا امتحان ہے کہ آپ ساتھ دیتے ہیں یا نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیض آباد دھرنا کیس پر نظرِ ثانی اپیل پر سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں سے 27 اکتوبر تک تحریری جواب جمع کروانے کا کہہ دیا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اب کیوں درخواست واپس لینا چاہتے ہیں جب پہلے کہا گیا تھا کہ فیصلے میں غلطیاں ہیں۔ اب واپس لینے کی وجوہات تو بتائیں۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کے ’نظر ثانی اپیل جب دائر کی گئی اس وقت حکومت اور تھی۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ نے تحریر درخواست کیوں دائر نہیں کی؟‘ تو اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’میں اپنا بیان دے رہا ہوں۔‘
اس کے بعد پیمرا کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل حافظ احسان نے کہا کہ ’میں بھی اپنی نظرثانی اپیل واپس لے رہا ہوں۔‘ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’کس کی ہدایات پر واپس لے رہے ہیں۔ یوٹیوب چینلز پر تبصرے کیے جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے بھی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا آپکو درخواست واپس لینے کا اختیار ہے؟ اگر آپ فریق بننا چاہتے ہیں تو عدالت آپ کو اجازت دے گی۔‘
بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ ’نہیں ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’پہلے کہا گیا تھا فیصلہ غلطیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اب کیا فیصلے میں غلطیاں ختم ہو گئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کہا جاتا ہے کہ ہمیں سنا نہیں گیا، اب ہم سننےکے لیے بیٹھے ہیں آ کر بتائیں۔ ہم پیمرا کی درخواست زیرالتو رکھیں گے، کل کوئی یہ نہ کہے ہمیں سنا نہیں گیا۔‘
درخواست گزار اعجاز الحق کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تو صرف آئی ایس آئی کی رپورٹ پر کہا تھا کچھ سیاستدانوں نے غیر ذمہ دارانہ بیان دے۔
’ہم نے کسی کا نام نہیں لیا آپ نے خود سے اخذ کر لیا آپ کا ذکر ہے۔‘
’آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آپ نے دھرنے کی حمایت نہیں کی؟‘ چیف جسٹس کا اعجازالحق کے وکیل سے استفسار
چیف جسٹس کا اس دوران مزید کہنا تھا کہ ’کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ درست نہیں تھی۔ کوئی بیان حلفی دے دیں کہ آپ کا موقف درست ہے۔
’اٹارنی جنرل صاحب آپ سمیت سب پر جرمانہ کیوں نہ کیا جائے۔ عدالتی وقت ضائع کیا گیا ملک کو بھی پریشان کیے رکھا۔ اب آپ سب آ کر کہہ رہے ہیں کہ درخواستیں واپس لینی ہیں۔ ہم تو بیٹھے ہوئے تھے کہ شاید ہم سے فیصلے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو۔‘
اس دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’کیا سارے اداروں نے یہ طے کر لیا ہے کہ جو فیصلے میں لکھا گیا وہ ٹھیک ہے۔ بنیادی حقوق کے تحفظ سے ہی ملک ترقی کر سکتا ہے۔
’ہم یہ درخواستیں زیر التوا رکھ لیتے ہیں، کسی نے کچھ کہنا ہے تو تحریری طور پر کہے۔‘
’چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’تحریک لبیک نے کوئی نظر ثانی دائر نہیں کی فیصلہ تسلیم کیا۔ مرحوم خادم رضوی کی اس بات پر تعریف بنتی ہے غلطیاں سب سے ہوتی ہیں غلطیاں تسلیم کرنا بڑی بات ہے۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’پیمرا کو کہا گیا تھا کہ نظرثانی دائر کرے یا بورڈ میٹنگ میں فیصلہ ہوا۔ پاکستان میں یہی چلتا ہے کہ حکم اوپر سے آیا ہے۔‘
سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے جس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے کچھ باتوں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں، یہ ریگولر بینچ ہے خصوصی بینچ نہیں۔
’نظرثانی درخواستیں فوری مقرر ہوتی ہیں، مگر یہ چار سال مقرر نہ ہوئیں۔ فیصلہ دینے والے ایک جج ریٹائر ہو چکے ہیں اس لیے اس بینچ کے سامنے نہیں لگا۔
وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے سماعت شروع ہونے پر کہا کہ ہم درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ سماعت سے قبل پاکستان تحریک انصاف اور الیکشن کمیشن سمیت انٹیلیجنس بیورو اور پیمرا نے درخواستیں واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ’درخواست کیوں واپس لے رہے ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟‘ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’نہیں کوئی خاص وجہ نہیں ہے صرف نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت آج ہو گی تاہم سماعت سے پہلے ہی پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور انٹیلیجنس بیورو نے نظرِ ثانی کی درخواست واپس لینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
پیمرا کی جانب سے متفرق درخواست میں کہا گیا تھا کہ پیمرا نظر ثانی درخواست کی پیروی نہیں کرناچاہتا لہٰذا یہ استدعا کی جاتی ہے کہ پیمرا کی متفرق درخواست منظور کی جائے اور فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔
فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت 28 ستمبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کرے گا۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق اپنے فیصلے میں خفیہ اداروں جن میں فوج کے انٹر سروسز انٹیلیجنس، ملٹری انٹیلیجنس اور سویلین خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے بارے میں لکھا ہے کہ انھیں اظہار رائے کی آزادی کو نہیں دبانا چاہیے۔
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسے عناصر پر نظررکھیں جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں اور جو ملک میں تشدد کو ہوا دے رہے ہوں۔
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مثبت اور مطلوبہ نتائج اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب یہ خفیہ ایجنسیاں آئین میں دیے گئے اختیارات کے مطابق کام کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے تحت ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 266 ہو گئی ہے۔
اس سے قبل 2018 کے انتخابات میں حلقہ بندیوں کے مطابق قومی اسمبلی کے کل حلقے 272 تھے جن پر انتخابات کا انعقاد کیا جانا تھا۔
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کے مطابق قومی اسمبلی کی وفاقی دارالحکومت سے تین، پنجاب سے 141، سندھ سے 61، خیبرپختونخوا 45 اور بلوچستان میں 16 نشستیں ہیں ۔
یاد رہے 2018 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی خیبرپختونخوا سے 39 نشستیں تھیں جبکہ اس وقت قومی اسمبلی میں فاٹا کی 12 نشستیں تھیں۔
2018 میں قومی اسمبلی کے لیے وفاقی دارالحکومت کی تین، پنجاب کی 141، سندھ کی 61 اور بلوچستان کی 16 نشستیں تھیں جن میں نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں آئی۔
الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست میں صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق پنجاب اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 297 اور سندھ اسمبلی کی کل جنرل نشستوں کی تعداد 130 برقرار ہے۔
اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں کل عمومی نشستوں کی تعداد 115 جبکہ
بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 51 ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقوں میں بھی خیبر پختونخوا کے حلقوں کی تعداد بڑھ کر 115 ہو گئی ہے جبکہ 2018 میں یہاں 99 حلقے بنائے گئے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں قومی اسمبلی کی کل 60 مخصوص نشستیں ہی برقرار گی۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات متعلقہ حلقہ کا ووٹر کرسکتا ہے جو سیکریٹری الیکشن کمیشن کے نام میمورنڈم کی صورت میں دائر کیے جا سکتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق یہ اعتراضات 27 اکتوبر2023 تک اسلام آباد میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر میں جمع کروائی جا سکتی ہیں۔
الیکشن کمیشن فریقین کا موقف سننے کے بعد 28 اکتوبر سے 26 نومبر تک ان اعتراضات پر فیصلے صادر کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آنکھوں کے انفیکشن ’پنک آئی‘ یعنی آشوب چشم کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبہ بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو جمعرات (کل) سے اتوار تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں آشوب چشم انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ پنجاب میں آشوب چشم کی وبا سے بچوں کا محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں جمعرات کو عام تعطیل ہو گی۔ جس کے بعد عید میلاد النبی اور بعد ازاں ہفتہ اوراتوار کی چھٹیوں کے باعث بچوں کو وبا سے بچاؤ میں مدد ملے گی۔
سیکریٹری سکولز کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق پنجاب کے سکولوں پر ہو گا اور چار چھٹیوں کے بعد پیر کو تمام سرکاری اور نجی سکولز دوبارہ کھل جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ستمبر کے مہینے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کے تسلسل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اب تک اس کی قدر میں 5.4 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں کسی بھی دوسری کرنسی کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اسے اب تک موجودہ مہینے میں بیسٹ پرفارمنگ کرنسی قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پانچ ستمبر کو ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی جب انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 307.10 کی سطح پر بند ہوئی تھی اور اس کے بعد اس کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان میں اگست کے مہینے میں روپے کی قدرمیں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم ستمبر کے شروع میں حکومت کی جانب سے کرنسی کی سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا گیا جس کے بعد امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوئی۔
بدھ کے روز ایک ڈالر کی قیمت 288.75 کی سطح پر بند ہوئی اور اس طرح ڈالر کی قیمت میں اب تک مجموعی طور پر 18.35 روپے کی کمی واقع ہوئی۔
پاکستان میں مالیاتی امور سے منسلک ادارے عارف حبیب لمٹیڈ کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور امریکی مالیاتی امور پر کام کرنے والے ادارے بلومبرگ کے اعداد و شمار پر جاری رپورٹ کے مطابق ستمبر کے مہینے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 5.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ستمبر کے مہینے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں انڈین روپے کی قدر میں 0.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کولمبیا کی کرنسی نے ڈالر کے مقابلے میں 0.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا اور ماریشس کی کرنسی میں یہ اضافہ 0.5 فیصد اور ہانگ کانگ کی کرنسی کی قدر میں 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چین کی کرنسی کی قیمت میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ سری لنکا کی کرنسی کی قیمت میں 1.1 فیصد کی کمی اور بنگلہ دیش کی کرنسی کی قدر میں 1.4 فیصد کی کمی ہوئی۔
مالیاتی امور کے ماہر طاہر عباس نے سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاون کو ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ڈالر کی غیر قانونی ڈیمانڈ کا خاتمہ ہوا جو اس کی قیمت کو بڑھا رہی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ ڈالر کے ان فلوز بھی اپنے وقت پر پاکستان میں آئیں گے تو اس کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوگی۔
طاہر عباس نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں کمی کا فائدہ عام آدمی کو ہوگا کیونکہ اس سے تیل کی مصنوعات کی قیمت میں کمی واقع ہوگی جو اجناس کی قیمت کو نیچے لا سکتی ہیں۔
انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ڈالر کی قیمت میں یہ کمی نہ ہوتی تو بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔
پاکستان کی تازہ ترین صورتحال پر بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج پر خوش آمدید۔
اس سے پہلے کی معلومات کے لیے ہمارے گذشتہ لائیو پیج پر کلک کریں۔