قومی اسمبلی کے 266، صوبائی اسمبلیوں کے 593 حلقے: نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری

الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے تحت ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 266 ہو گئی ہے۔ دوسری جانب آشوب چشم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پنجاب بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں جمعرات (کل) سے اتوار تک تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے لیے ہمارے نئے لائیو پیج پر کلک کریں۔

  2. نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری، قومی اسمبلی کے 266 اور صوبائی اسمبلیوں کے کُل 593 حلقے بنائے گئے ہیں: الیکشن کمیشن, آسیہ انصر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد

    الیکشن کمیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    الیکشن کمیشن نے ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے تحت ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق قومی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کی تعداد 266 ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل 2018 کے انتخابات میں حلقہ بندیوں کے مطابق قومی اسمبلی کے کل حلقے 272 تھے جن پر انتخابات کا انعقاد کیا جانا تھا۔

    الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کے مطابق قومی اسمبلی کی وفاقی دارالحکومت سے تین، پنجاب سے 141، سندھ سے 61، خیبرپختونخوا 45 اور بلوچستان میں 16 نشستیں ہیں ۔

    یاد رہے 2018 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی خیبرپختونخوا سے 39 نشستیں تھیں جبکہ اس وقت قومی اسمبلی میں فاٹا کی 12 نشستیں تھیں۔

    2018 میں قومی اسمبلی کے لیے وفاقی دارالحکومت کی تین، پنجاب کی 141، سندھ کی 61 اور بلوچستان کی 16 نشستیں تھیں جن میں نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست میں کوئی تبدیلی عمل میں نہیں آئی۔

    الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست میں صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق پنجاب اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 297 اور سندھ اسمبلی کی کل جنرل نشستوں کی تعداد 130 برقرار ہے۔

    اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں کل عمومی نشستوں کی تعداد 115 جبکہ

    بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 51 ہے۔

    قومی اسمبلی کے حلقوں میں بھی خیبر پختونخوا کے حلقوں کی تعداد بڑھ کر 115 ہو گئی ہے جبکہ 2018 میں یہاں 99 حلقے بنائے گئے تھے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں قومی اسمبلی کی کل 60 مخصوص نشستیں ہی برقرار گی۔

    الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات متعلقہ حلقہ کا ووٹر کرسکتا ہے جو سیکریٹری الیکشن کمیشن کے نام میمورنڈم کی صورت میں دائر کیے جا سکتے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق یہ اعتراضات 27 اکتوبر2023 تک اسلام آباد میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر میں جمع کروائی جا سکتی ہیں۔

    الیکشن کمیشن فریقین کا موقف سننے کے بعد 28 اکتوبر سے 26 نومبر تک ان اعتراضات پر فیصلے صادر کرے گا۔

  3. بریکنگ, الیکشن کمیشن:حلقہ بندیوں کی ابتدائی رپورٹ جاری،اعتراضات 27 اکتوبر تک دائر کیے جا سکتے ہیں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت ابتدائی حلقہ بندیوں کی رپورٹ شائع کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق ابتدائی حلقہ بندیوں کی اشاعت 30 دن یعنی 27 ستمبر سے 26 اکتوبر 2023 تک جاری رہے گی۔

    الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات متعلقہ حلقہ کا ووٹر کر سکتا ہے جو سیکریٹری الیکشن کمیشن کے نام میمورنڈم کی صورت میں دائر کیے جا سکتے ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق یہ اعتراضات 27 اکتوبر2023 تک اسلام آباد میں واقع الیکشن کمیشن کے دفتر میں جمع کروائی جا سکتی ہیں۔

    الیکشن کمیشن فریقین کا موقف سننے کے بعد 28 اکتوبر سے 26 نومبر تک ان اعتراضات پر فیصلے صادر کرے گا۔

    الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان ابتدائی حلقہ بندیوں پر اعتراضات میمورنڈم کی صورت میں بنام سیکریٹری الیکشن کمیشن پیشں کرنا ہوں گے جس پر متعلقہ ووٹر کے دستخط ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق وہ خود یا اس کا نمائندہ الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ میں قائم سینٹرمیں اسے جمع کرائے گا تاہم بذریعہ کوریئر ، ڈاک اور فیکس وغیرہ بھیجے گئے اعتراضات قابل قبول نہیں ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق ابتدائی حلقہ بندیاں اور ان کے نقشہ جات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ www.ecp.gov.pk پر بھی موجود ہیں ۔

    اعلامیے کے مطابق ضلع کے نقشہ جات الیکشن کمیشن سے قیمت ادا کرکے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  4. ستمبر میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی بن گئی, تنویر ملک، صحافی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ستمبر کے مہینے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کے تسلسل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اب تک اس کی قدر میں 5.4 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں کسی بھی دوسری کرنسی کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اسے اب تک موجودہ مہینے میں بیسٹ پرفارمنگ کرنسی قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پانچ ستمبر کو ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند سطح پر پہنچ گئی تھی جب انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت 307.10 کی سطح پر بند ہوئی تھی اور اس کے بعد اس کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    پاکستان میں اگست کے مہینے میں روپے کی قدرمیں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی تھی تاہم ستمبر کے شروع میں حکومت کی جانب سے کرنسی کی سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا گیا جس کے بعد امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوئی۔

    بدھ کے روز ایک ڈالر کی قیمت 288.75 کی سطح پر بند ہوئی اور اس طرح ڈالر کی قیمت میں اب تک مجموعی طور پر 18.35 روپے کی کمی واقع ہوئی۔

    پاکستان میں مالیاتی امور سے منسلک ادارے عارف حبیب لمٹیڈ کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور امریکی مالیاتی امور پر کام کرنے والے ادارے بلومبرگ کے اعداد و شمار پر جاری رپورٹ کے مطابق ستمبر کے مہینے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 5.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ستمبر کے مہینے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں انڈین روپے کی قدر میں 0.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    کولمبیا کی کرنسی نے ڈالر کے مقابلے میں 0.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا اور ماریشس کی کرنسی میں یہ اضافہ 0.5 فیصد اور ہانگ کانگ کی کرنسی کی قدر میں 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    چین کی کرنسی کی قیمت میں 0.7 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ سری لنکا کی کرنسی کی قیمت میں 1.1 فیصد کی کمی اور بنگلہ دیش کی کرنسی کی قدر میں 1.4 فیصد کی کمی ہوئی۔

    مالیاتی امور کے ماہر طاہر عباس نے سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاون کو ڈالر کی قیمت میں کمی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ڈالر کی غیر قانونی ڈیمانڈ کا خاتمہ ہوا جو اس کی قیمت کو بڑھا رہی تھیں۔

    انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ ڈالر کے ان فلوز بھی اپنے وقت پر پاکستان میں آئیں گے تو اس کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوگی۔

    طاہر عباس نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں کمی کا فائدہ عام آدمی کو ہوگا کیونکہ اس سے تیل کی مصنوعات کی قیمت میں کمی واقع ہوگی جو اجناس کی قیمت کو نیچے لا سکتی ہیں۔

    انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ڈالر کی قیمت میں یہ کمی نہ ہوتی تو بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔

  5. آشوب چشم کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

    آشوب چشم کی علامات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق آشوب چشم قابل علاج مرض ہے اور چند احتیاطی تدابیر اپنا کر اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق آشوب چشم کی علامات میں انکھوں میں سرخی، جلن، خارش، چبھن، سوزش اور متاثرہ آنکھ سے پانی نکنا شامل ہیں۔ اگر آپ کو ان میں سے کسی بھی علامت کا سامنا ہو تو آنکھوں کو رگڑنے سے گریز کریں اور پہلی فرصت میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ انفیکشن پھیلنے کا کم سے کم خطرہ ہو۔

    حکومت پنجاب نے آشوب چشم کی وبا کے پیش نظر چند حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، جن کے مطابق:

    • آشوب چشم کے مریض دھوپ میں ہرگز نہ جائیں
    • گھر کا کوئی فرد آشوب چشم میں مبتلا ہو جائے تو متاثرہ شخص کے زیر استعمال کپڑے، تولیہ اور چادریں علیحدہ رکھیں
    • مریض کے استعمال شدہ ٹشو پیپرز اور روئی کو جلا دیں یا زمین میں دبا دیں
    • متاثرہ افراد سکول، دفاتر، پرہجوم مقامات اور گھر سے باہر جانے سے گریز کریں اور مکمل علاج کروائیں
    • آشوب چشم سے متاثرہ افراد صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی آنکھوں کے ڈراپس (قطرے) استعمال کریں
    • آنکھوں کو چھونے سے پرہیز کریں اور اگر آنکھوں کو ہاتھ لگ جائے تو فوری صابن سے دھو لیں
    • اگر باہرنکلنا انتہائی ضروری ہو تو باہر جاتے وقت کالا چشمہ پہنیں اور سر کو ڈھانپ لیںدوسری جانب محکمہ صحت نے آشوب چشم کے وبا کے پیش نظر ماحول کو صاف رکھنے اور ذاتی صفائی کی عادات برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے جس کے مطابق وبا کے دنوں میں ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔
    • آنکھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے انھیں تیز دھوپ ، دھوئیں اور گرد و غبار سے محفوظ رکھا جائے
    • ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھونے کی عادت ڈالیں
    • ماحول کو صاف رکھ کر انھیں مکھیوں اور مچھروں کی پناہ گاہیں نہ بننے دیں
    • صاف اور خشک کپڑے پہنیں، ذاتی صفائی کا خیال رکھیں اور روزآنہ نہانے کی عادت اپنائیں

    محکمہ صحت کے اعلامیے کے مطابق آشوب چشم کا مرض آٹھ سے 10 روز میں خود ٹھیک ہو جاتا ہے، اس لیے تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے۔

  6. ’پنک آئی‘ کے پھیلاؤ کا خطرہ: پنجاب بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی ادارے چار روز کے لیے بند

    سکول بند

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں آنکھوں کے انفیکشن ’پنک آئی‘ یعنی آشوب چشم کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبہ بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو جمعرات (کل) سے اتوار تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں آشوب چشم انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    صوبہ پنجاب کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ پنجاب میں آشوب چشم کی وبا سے بچوں کا محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں جمعرات کو عام تعطیل ہو گی۔ جس کے بعد عید میلاد النبی اور بعد ازاں ہفتہ اوراتوار کی چھٹیوں کے باعث بچوں کو وبا سے بچاؤ میں مدد ملے گی۔

    سیکریٹری سکولز کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق پنجاب کے سکولوں پر ہو گا اور چار چھٹیوں کے بعد پیر کو تمام سرکاری اور نجی سکولز دوبارہ کھل جائیں گے۔

  7. صحافی خالد جمیل کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تاحال ریکارڈ جمع نہ کروانے پر عدالت کا اظہار برہمی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    صحافی خالد جمیل کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کی سماعت میں عدالت کی ہدایات کے باوجود وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تاحال ریکارڈ جمع نہیں کروایا جس پرعدالت نے ایف آئی کو کل تک مہلت دے دی۔

    صحافی خالد جمیل کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت سپشل جج سنٹرل اسلام آباد میں شاہ رخ ارجمند نے کی۔

    خالد جمیل کے وکیل نوید ملک عثمان وڑائچ نوید ملک عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ عدالت کی ہدایات کے باوجود ایف آئی اے نے ریکارڈ جمع نہیں کروایا۔

    وکیل نوید ملک کے مطابق جب درخواست دائر کی گئی تو تفتیشی افسر عدالت موجود تھا۔ اگر مزید جیل میں رکھنا چاہتے ہیں تو یہ بھی بتا دیں ، ایف آئی اے کے اس رویے پر عدالت ایکشن لے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے صحافی خالد جمیل کو ایف آئی سے نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر غلط، گمراہ کن اور بے بنیاد معلومات شیئر کرکے ریاست مخالف بیانیہ کی غلط تشریح کی، جس سے عوام میں خوف کا بھی خدشہ ہے اور وہ کسی کو بھی ریاست یا ریاستی ادارے کے خلاف جرم کرنے پر اکسا سکتے ہیں۔

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ خالد جمیل نے ریاستی اداروں کے خلاف ریاست مخالف، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز پروپیگنڈا کیا، تاہم ایف آئی اے نے مبینہ جرم میں ملوث دیگر افراد کے نام نہیں بتائے۔

    دوران سماعت جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے بہت سارے کیسز میں ریکارڈ نہیں لاتی، ایف آئی آر پرفیصلہ کر دیتا ہوں۔ جس پر وکیل نوید ملک نے استدعا کی کہ ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست 10 منٹ کے دلائل ہیں، سن کر فیصلہ کر دیں۔

    جج شاہ رح ارجمند نے ریمارکس دیے کہ ’ایف آئی اے کو ایک موقع دے دیتے ہیں ورنہ ایف آئی آر پر فیصلہ کر دیں گے۔‘

    بعد ازاں عدالت نے درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    صحافی خالد جمیل

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

  8. قرآن کے مصدقہ ترجمے کی اشاعت کا معاملہ: لگتا ہے وفاق اس میں سنجیدہ نہیں، لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ قرآن پاک کے مصدقہ ترجمے کی اشاعت کے معاملے پر وفاقی حکومت سنجیدہ نہیں ہیں۔

    بدھ کو قرآن پاک کے مصدقہ ترجمے کی اشاعت سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق درخواستوں پر سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے کی۔

    دوران سماعت عدالت نے وفاقی اور پنجاب حکومت کے وکلا کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب کو طلب کریں گے وہ عمل درآمد کے متعلق بیان ریکارڈ کرائیں۔

    جسٹس شجاعت علی خان نے ریمارکس دیے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس حکم پر عمل درآمد کرائیں گے، جو جتنے مرضی روڑے اٹکائے، عدالتی حکم پر عمل درآمد کرائیں گے۔

    ایڈیشنل آئی جی پنجاب پولیس شہزاد سلطان سمیت دیگر افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ پیش کی۔

    حکومت کی طرف سے مفصل تحریری جواب جمع نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا’یہاں سیر کرنے آئے ہیں آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آج سماعت ہے، آٹھ ماہ ہو گئے ہیں جواب کے لیے مہلت مانگی جا رہی ہے۔‘

    جسٹس شجاعت علی خان نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت پر پرنسپل سیکرٹری اور دیگر افسران نے یقین دہانی کروائی تھی، موجودہ نگران حکومت کیا کر رہی ہے، کیا ان کے علم میں نہیں، ایسا لگتا ہےکہ وفاقی حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں لیکن ایسا نہیں ہو گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ہم وزیراعظم کو طلب کر کے پوچھ لیتے ہیں وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد چاہتے ہیں یا نہیں۔

    عدالت نے ایڈیشنل آئی جی پنجاب کی کارکردگی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا ہمیں بتائیں،کیا مسئلہ ہے، میں اس میں بہت پریشان ہوں۔

    ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے بتایا کہ کچھ ملزمان کو گرفتار کر کے چالان کیے، جس پر عدالت نے کہا آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو معاملہ دیکھنا چاہیے، کیا 2026 یا 27 کی تاریخ ڈال دیں، افسران کو بتانا چاہیے کہ وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  9. بریکنگ, کندھ کوٹ میں راکٹ لانچر کا گولہ پھٹنے سے پانچ بچوں سمیت نوافراد ہلاک

    File Photo

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع کشمور کی پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مکان میں راکٹ پھٹنے سے نوافراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

    سندھ کے ضلع کشمور کی پولیس کے مطابق یہ واقعہ تحصیل کندھ کوٹ میں کچے کے علاقے میں پیش آیا اور مرنے والوں میں پانچ بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے نو افراد شامل ہیں۔

    ایس ایس پی کشمور روحیل کھوسہ نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ دھماکہ علی نواز سبزوئی نامی شخص کے مکان کے اندر ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    سندھ کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) مقبول باقر نے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق نگران وزیراعلیٰ نے دریافت کیا ہے کہ راکٹ لانچر زنگی سبزوئی گوٹھ میں کیسے پہنچا اور آیا اس گوٹھ میں ڈاکوؤں کے سہولت کار موجود ہیں؟

  10. اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کا آڈیو لیک کیس سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے ساتھ یکجا کر دیا

    بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہPTI Official

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا آڈیو لیک کیس سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔

    بدھ کو بشریٰ بی بی کی آڈیو لیکس طلبی نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کی عدالت میں ہوئی۔

    وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے ایف آئی اے کو بشریٰ بی بی کا وائس سیمپل لینے کے لیے کہا، ایف آئی اے نے پولیس کی درخواست پر بشریٰ بی بی کو سمن جاری کیا۔

    عدالت نے بشریٰ بی بی کا کیس سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے کیس کے ساتھ یکجا کر دیا، عدالت نے بشریٰ بی بی کا کیس آڈیو لیکس کے خلاف ان کی مرکزی درخواست کے ساتھ یکجا کیا۔

    عدالت نے ایف آئی اے کے سمن معطلی کے حکم میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

  11. بریکنگ, فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کے خلاف پیمرا نے بھی نظر ثانی اپیل واپس لینے کی متفرق درخواست دائر کر دی

    فیض اباد دھرنا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس میں 28 ستمبر کو ہونے والی سماعت سے قبل ہی پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست واپس لینے کی درخواست دائر کر دی ہے۔

    پیمرا کی جانب سے متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا فیصلہ کیخلاف نظر ثانی زیر التواء ہیں۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست پر 28 ستمبر کو سماعت مقرر ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیمرا نظر ثانی درخواست کی پیروی نہیں کرناچاہتا لہذا یہ استدعا کی جاتی ہے کہ پیمرا کی متفرق درخوستمنظور کی جائے اور فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ روز انٹیلیجنس بیورو نے بھی نظرثانی کی درخواست واپس لینے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت 28 ستمبر کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کرے گا۔

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق اپنے فیصلے میں خفیہ اداروں جن میں فوج کے انٹر سروسز انٹیلیجنس، ملٹری انٹیلیجنس اور سویلین خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے بارے میں لکھا ہے کہ انھیں اظہار رائے کی آزادی کو نہیں دبانا چاہیے۔

    اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کردار تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسے عناصر پر نظررکھیں جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں اور جو ملک میں تشدد کو ہوا دے رہے ہوں۔

    اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مثبت اور مطلوبہ نتائج اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں جب یہ خفیہ ایجنسیاں آئین میں دیے گئے اختیارات کے مطابق کام کریں۔

  12. پاکستانی حکومت کی تحویل میں چلنے والے اداروں کے مالیاتی خسارے کی وجوہات کیا ہیں؟

    pia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک ہی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے چند ادارے اربوں روپے منافع جبکہ دیگر اربوں روپے خسارے میں کیوں ہیں اور وہ کیا مشترک عوامل ہیں جو کسی حکومتی ادارے کو نفع بخش یا نقصان والا ادارہ بناتے ہیں؟

  13. نو مئی کے واقعات موجودہ فوجی قیادت کے خلاف ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھے: نگراں وزیراعظم

    انوار الحق کاکڑ

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ نو مئی کے واقعات موجودہ فوجی قیادت کے خلاف ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی کوشش تھی جس کا مقصد موجود فوجی قیادت کی اتھارٹی کو ختم (ان ڈُو) کرنا یا کمپرومائز کرنا تھا۔

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اس تجزیے میں کافی حد تک حقیقت کا پہلو نظر آتا ہے کہ نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ طے شدہ منصوبہ تھا کہ موجودہ عسکری قیادت پر کیسے سمجھوتہ کیا جا سکتا تھا، آنے والے دنوں میں یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو گا تو اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ ایک منصوبہ بنایا گیا تھا۔

    نگران وزیراعظم انوار الحق نے کہا ہے کہ میری لندن میں کسی سیاسی رہنما یا سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی ملاقات ہوئی ہے نہ یہاں آنے کا مقصد سیاسی ملاقاتیں کرنا ہے، میں یہاں حکومتی اور ریاستی امور سرانجام دینے کے لیے آیا ہوں۔

    ملک میں عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گا اور بہت جلد تاریخ کے بارے میں سن لیں گے اور اس کا اعلان کردیا جائے گا۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس وقت نگران حکومت کو کون سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں تو نگران وزیر اعظم نے کہا معیشت اس کے علاوہ ہمیں کوئی چیلنج درپیش نہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا الیکشن پاک فوج کی زیر نگرانی ہوں گے تو انھوں نے واضح جواب دیا کہ انتخابات الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ہوں گے، اس میں معاونت کے لیے نگران حکومت ہوگی جو ہدایات جاری کرے گی، عسکری، نیم عسکری اداروں سمیت جہاں جہاں جس حکومتی ادارے کی ضرورت ہو گی ہم ان کو ہدایات جاری کریں گے کہ انھیں کہاں معاونت کرنی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے ہمارے پاس مقامی اور بین الاقوامی مبصرین ہوں گے، اگر بین الاقوامی اور مقامی مبصرین اور میڈیا، سول سوسائٹی نسبتاً یہ اشاریے دیتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنا کام پورا کر لیں گے۔

  14. عمران خان کے اڈیالہ جیل پہنچنے کے بعد کیا ہو گا؟

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر سابق وزیراعظم عمران خان کو اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیا الحق کے دورِ حکومت میں تعمیر ہونے والی اڈیالہ جیل کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور کون سے بڑے سیاستدان یہاں ماضی میں اسیر رہ چکے ہیں؟

    اس بارے میں مزید پڑھیے اس مضمون میں

  15. سابق وزیر اعظم عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے تحت اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر کے روز اس ضمن میں مختصر فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد منگل کی صبح تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں سابق وزیر اعظم کو اٹک جیل میں قید رکھنے کا نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے دائر کردہ درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی تھی۔ عدالت نے اپنی تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں وہ تمام سہولیات مہیا کی جائیں جس کے وہ حقدار ہیں۔

    یاد رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد انھیں لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلع اٹک کی جیل میں چار اگست کو منتقل کیا گیا تھا۔

  16. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    Live Page

    بی بی سی کی خصوصی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!

    ملک کی سیاسی صورتحال اور تازہ ترین خبروں سے متعلق بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    26 ستمبر تک کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔