یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
26 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
وفاقی وزارت قانون نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سائفر گمشدگی کیس میں کل (منگل) ہونے والی سماعت اٹک جیل میں کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف طے شدہ پروگرام کے مطابق 21 اکتوبر کو وطن واپس آ رہے ہیں۔
بی بی سی اردو کی خصوصی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
26 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے متعدد رہنماؤں اور پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی آج رہا ہونے والی خواتین رہنما جن میں صنم جاوید بھی شامل تھیں انھیں رہائی کے بعد پولیس کی جانب سے جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے اس بارے میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے جس میں ان کے مطابق پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کہہ رہی ہیں کہ ہمیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس بارے میں پولیس کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں علی نواز اعوان، فرخ حبیب سمیت دیگر کی جانب سے خواتین رہنماؤں کی دوبارہ گرفتاری کی سوشل میڈیا پر شدید مذمت کے گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ایچ آر سی پی نے کہا ہے کہ نگراں وزیراعظم انوارالحق کا یہ بیان انتہائی غیر مناسب ہے جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد سابق وزیراعظم عمران خان یا جیل کاٹنے والے پارٹی کے سیکڑوں ارکان کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق ’پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان بدعنوانی کے ایک مقدمے میں جیل میں بند ہیں جبکہ پارٹی کے کئی رہنما 9 مئی کے فسادات کے بعد سے زیرِ حراست ہیں۔ چونکہ عدالتوں نے اِن تمام مقدمات میں قید لوگوں کو ابھی مجرم ثابت نہیں کیا، لہذا، کاکڑ صاحب کے دعوے غیر جمہوری اور غیر معقول ہیں‘۔
خیال رہے کہ امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جیل کاٹنے والے پی ٹی آئی ارکان توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
ان کے مطابق تحریک انصاف کے ایسے ہزاروں کارکنان جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں گے‘۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں عمران خان سمیت کسی سیاست دان سے ذاتی انتقام پر عمل پیرا نہیں، اگر کوئی قانون شکنی پر گرفت میں آیا ہے تو قانون کی بالادستی یقینی بنائیں گے، انتخابات فوج یا نگران حکومت نے نہیں الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں۔
انوارالحق کاکڑ کے مطابق عمران خان یا کسی بھی سیاست دان کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی پر قانون پر عمل یقینی بنایا جایا گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وفاقی وزارت قانون نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے خلاف سائفر گمشدگی کیس میں کل (منگل) ہونے والی سماعت اٹک جیل میں کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
سائفر کیس کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین منگل کے روز سماعت اٹک جیل میں سماعت کریں گے۔ وزارت قانون کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ وزارت کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کیس کی سماعت اٹک جیل ہی میں کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یاد رہے کہ پیر کی صبح اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد یہ اطلاعات زیر گردش تھیں کہ سابق وزیر اعظم کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اٹک جیل کی انتظامیہ نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بدستور اٹک جیل ہی میں مقید ہیں۔
جیل حکام کا مزید کہنا تھا کہ انھیں اس ضمن میں ابھی تک کوئی تحری حکمنامہ موصول نہیں ہوا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف طے شدہ پروگرام کے مطابق 21 اکتوبر کو وطن واپس آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق ’پوری قوم نواز شریف کا فقیدالمثال استقبال کرے گی‘۔ انھوں نے کہا کہ تمام پارٹی رہنماؤں کے لیے ہدایت ہے کہ 21 اکتوبر سے قبل بیرون ملک سفر نہ کریں اور اپنی تمام تر توجہ عوامی موبلائیزیشن پر دیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ’نواز شریف سے لندن میں ملاقات کے لیے تشریف لانے والے پارٹی رہنما بھی اپنے پروگرام منسوخ کریں اور قائد مسلم لیگ ن کے عظیم الشان استقبال کے لیے اپنے حلقوں میں وقت دیں۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدت کے دوران نکاح سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ چئیر مین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت پیش ہوئے اور عدالت سے اس کیس پر سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔
انھوں نے کہا کہ چئیر مین تحریک انصاف کو عدالت پیش کرنے کی دوبارہ ہدایت کی جائے۔
اب اٹک کا معاملہ نہیں اڈیالہ جیل کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چئیر مین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت ریاست کی کسٹڈی میں ہیں۔ جج نے وکیل شیر افضل سے پوچھا کہ ’آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو عدالت پیش کرنا ضروری ہے‘۔
وکیل کی استدعا پر عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے اس درخواست پر سماعت دو اکتوبر تک ملتوی کردی۔
مسلم لیگ ق نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا کردی۔ چودہری شجاعت کی پارٹی نے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ قانون سے عدلیہ کے اختیار میں کمی نہیں اضافہ ہوا ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے ق لیگ کے تحریری جواب میں کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے سپریم کورٹ عدلیہ کی آزادی کو فروغ ملا ہے۔
پارلیمنٹ کا بنا قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی ہے، یہ قانون عدلیہ کے اختیار کے خلاف نہیں ہے۔ اس قانون میں چیف جسٹس پاکستان کے اختیار کو دو سنیئر ججز کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ قانون سے عدلیہ کے اختیار میں کمی نہیں اضافہ ہوا ہے۔
پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون کے خلاف درخواستوں کو مسترد کیا جائے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیں کہ اب مقدمات میں التوا ملے گا اور مقدمات میں تاریخ لینے والا رجحان نہیں چلے گا۔
جائیداد کے تنازعے سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ میں دائر مقدمات میں التوا نہ دینے سے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے کہا سپریم کورٹ میں اب سے کیسز میں التوا دینے کا تصور ختم سمجھا جائے۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کافی زیادہ ہے یہاں تو ایک تاریخ پر نوٹس اور اگلی تاریخ پر دلائل ہو جانے چاہئیں۔
چیف جسٹس کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جائیداد تنازعے سے متعلق کیس کی سماعت کی تو وکیل نے چیف جسٹس سے آئندہ کی تاریخ دینے کی استدعا کی۔
جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اپنے ذہن سے یہ تصور نکال دیں کہ سپریم کورٹ میں جاکر تاریخ لے لیں گے۔ آپ کے توسط سے سب کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ تاریخ لینے والا رجحان اب نہیں چلےگا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ دیگر عدالتوں میں یہ ہوتا ہے کہ کسی دستاویز کو پیش کرنے کے لیے تاریخ مل جاتی ہے سپریم کورٹ میں کوئی کیس آتا ہے تواس کے سارے کاغذ پورے ہونے چاہیے۔
چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ دلائل بھی ایک زبان میں دیں، اپنی اردو بہتر کریں یا انگریزی۔
عدالت نے وکیل کی تاریخ دینے کی استدعا مسترد کر دی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نکاح کیس سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے انھیں اگلی سماعت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
سوموار کو چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے عدالت میں پیشہو کر سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔
ان کے وکیل شیر افضل مروت نے عدالت سے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے لہذا اب اٹک جیل کا معاملہ نہیں رہا اس لیے عمران خان کو عدالت پیش کرنے کی دوبارہ ہدایت کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اب ریاست کی کسٹڈی میں ہیں۔ اس پر جج نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کیا سمجھتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنا ضروری ہے۔‘
جس کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت دو اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اٹک جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
سوموار کو عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا تحریری حکنامہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے زبانی حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہو گی اڈیالہ جیل منتقلی کا آج ہی تحریری حکمنامہ جاری کردیں۔
اس سے قبل جیل سہولیات سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے تھے کہ اسلام آباد کے تمام انڈر ٹرائل قیدی اڈیالہ جیل ہوتے ہیں تو ایک انڈر ٹرائل قیدی کو اڈیالہ کے بجائے اٹک جیل میں کیوں رکھا گیا ہے؟
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو اٹک جیل رکھا گیا تھا لیکن اب وہ سزا معطل ہو چکی ہے۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال سے جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق اسلام آباد کے انڈر ٹرائل قیدی کو اڈیالہ جیل ہونا چاہیے۔
اس سے قبل عمران خان کے وکیل نے ورزش کی مشین جیل میں فراہم کرنے کی درخواست کی تو چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ اب جیل میں اے بی اور سی کلاس ختم ہو گئی ہے۔
اس پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اب جیل میں عام اور بہتر کلاس ہوتی ہے، وہ بہتر کلاس کے حقدار ہیں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’یہ بات تو طے شدہ ہے کہ عمران خان بہتر کلاس کے حقدار ہیں، وہ سابق وزیراعظم اور ایک پڑھے لکھے شخص ہیں۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’جیل رولز کے مطابق عمران خان جن چیزوں کے حقدار ہیں وہ انھیں ملنی چاہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے کوئی حق تلفی ہو۔‘
بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ایف آئی اے نے لاہور ایئر پورٹ پر دبئی جانے سے روک دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق خاور مانیکا نجی ایئر لائن کے ذریعے لاہور سے دبئی جا رہے تھے جب انھیں ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا۔
واضح رہے کہ خاور مانیکا کے خلاف اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ایف آئی اے حکام کے مطابق انھیں اینٹی کرپشن کے حوالے کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ میں زمین کے تنازع سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ میں تاریخ لینے والا رجحان اب نہیں چلے گا۔
سوموار کے دن اس کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تاریخ دینے کی استدعا مسترد کی اور چیف جسٹس نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’اپنے ذہن سے یہ تصور ہی نکال دیں کہ سپریم کورٹ میں جا کر تاریخ کے لیں گے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کے توسط سے باقیوں کیلئے بھی یہ پیغام ہے کہ تاریخ لینے والا رجحان اب نہیں چلے گا۔‘
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ ’یہاں تو ایک تاریخ پر نوٹس اور اگلی تاریخ پر دلائل ہوجانے چاہیں۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’دیگر عدالتوں میں یہ ہوتا ہے کہ کسی دستاویز کو پیش کرنے کیلئے تاریخ مل جاتی ہے، سپریم کورٹ میں کوئی کیس آتا ہے تو اس کے سارے کاغذ پورے ہوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف نکاح کیس کے معاملے پر سپریٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے ان کی عدالت طلبی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے سپریٹینڈنٹ اٹک جیل کو خط لکھا ہے جس میں عمران خان کی متعلقہ مقدمے میں عدالت طلبی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
سپریٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی سول عدالت کے جج قدرت اللہ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت پیشی کے حوالے سے حکم موصول ہوا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ملزم اس وقت اٹک جیل میں قید ہیں جبکہ عدالتی حکم کے مطابق ان کی عدالت پیشی 25 ستمبر کو مقرر ہے۔
جس پر اٹک جیل کی انتظامیہ کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ملزم عمران خان سائفر کے ایک مقدمے میں گرفتار ہیں اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انھیں متعلقہ عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نکاح کے مقدمے میں 25 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAttock Jail Official

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد سابق وزیراعظم عمران خان یا جیل کاٹنے والے پارٹی کے سیکڑوں ارکان کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جیل کاٹنے والے پی ٹی آئی ارکان توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
ان کے مطابق تحریک انصاف کے ایسے ہزاروں کارکنان جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں گے‘۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں عمران خان سمیت کسی سیاست دان سے ذاتی انتقام پر عمل پیرا نہیں، اگر کوئی قانون شکنی پر گرفت میں آیا ہے تو قانون کی بالادستی یقینی بنائیں گے، انتخابات فوج یا نگران حکومت نے نہیں الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے عام انتخابات نئے سال میں ہوں گے، پی ٹی آئی کو جیتنے سے روکنے کے لیے انتخابات میں فوج کی جانب سے دھاندلی کی بات غیرمعقول ہے۔ ان کے مطابق ’چیف الیکشن کمشنرکا تقرر چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم کیا تھا، چیف الیکشن کمشنر عمران خان کے خلاف کیوں ہوں گے‘۔
انوارالحق کاکڑ کے مطابق عمران خان یا کسی بھی سیاست دان کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی پر قانون پر عمل یقینی بنایا جائے گا۔
سابق اٹارنی جنرل رہنے والے اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو پاکستان واپس آ کر جیل نہیں جانا ہو گا بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرینڈ کرنا ہو گا۔
اشتر اوصاف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ نواز شریف کو لاہور سے اسلام آباد آنے کے لیے راہداری ریمانڈ حاصل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس فیصلے کے خلاف بھی اپیل پہلے سے دائر ہو چکی ہے اب انھیں صرف عدالت کے سامنے سرینڈر کرنا ہو گا۔
تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وکیل شعیب شاہین سابق اٹارنی جنرل کی دلیل سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نہ صرف العزیزیہ میں بلکہ ایون فیلڈ کیس میں بھی اشتہاری مجرم ہیں اور قانون کی نظر میں وہ جہاں کہیں بھی نظر آئیں تو انھیں انٹرپول کے ذریعے بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ اور بات ہے کہ حکومت نے انھیں ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری کیا ہوا ہے۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔
24 ستمبر تک کی خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔