چین کے نائب وزیر اعظم تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
حکومتِ پاکستان کی دعوت پر چینی صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندے، چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن ہی لائفنگ اتوار کو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
لائیو کوریج
پاکستان میں نگراں حکومت کا تصور کب آیا اور اب اسے ’بااختیار‘ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کی خبریں کے حوالے سے جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
باجوڑ خودکش حملے کی تحقیقات شروع: ’لواحقین کی نظروں کا سامنا نہیں کر سکتا۔۔۔ ایک استاد اپنے شاگرد کو نہ بچا سکا‘
باجوڑ حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 41 ہوگئی: ریسکیو حکام
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ریسکیو 1122 کے ترجمان کا کہنا ہے کہ باجوڑ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 41 ہوگئی ہے۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد پشاور لائے گئے تین زخمی دم توڑ چکے ہیں۔ جبکہ ایک زخمی نے تیمرگرہ ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس کے مطابق ’نامعلوم 8 شہدا کی شناخت بھی ہو گئی ہے۔‘
ریسکیو حکام نے کہا ہے کہ ’جسد خاکی آبائی علاقوں میں منتقل کیے جائیں گے۔ تیمرگرہ سے 5 شدید زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ اضافی ایمبولینسز خار اور تیمرگرہ ہسپتال میں کھڑی کی گئیں ہیں جو بوقت ضرورت استعمال کی جاسکیں گی۔‘
باجوڑ دھماکے میں 37 ہلاک، ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا: پولیس

،تصویر کا ذریعہTariq Zaman
خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ضلع باجوڑ میں جے یو آئی ایم کے جلسے میں دھماکے سے کم از کم 37 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ابتدائی تفتیش سے بظاہر لگتا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔
اپنے بیان میں کے پی پولیس کے ڈی پی او نذیر خان نے کہا کہ ’جمعیت علمائے اسلام (ف) ورکرز کنونشن میں دھماکہ ہوا جس میں تقریباً 37 افراد شہید جبکہ 90 کے قریب زخمی ہوئے ہیں جنھیں باجوڑ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے علاوہ پشاور اور قریبی ہسپتالوں کو بھی ریفر کیا گیا ہے۔
’پولیس جوان اور دیگر تنظیمیں امدادی کارروائیوں کا حصہ رہیں۔ دھماکے کی نوعیت اور اصل نقصان کے بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ جائے وقوعہ سے لاشیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں پر علاج معالجے اور دیگر ضروری اقدامات جاری ہیں۔‘
اس کا کہنا ہے کہ ’تقریباً 15 کے قریب زخمیوں کو (ہیلی کاپٹر کے ذریعے) ایئر لفٹ کر کے پشاور لے جایا گیا ہے۔ ہسپتال میں زیادہ رش کی وجہ سے پولیس اور دیگر شعبہ جات کی ٹیموں کو شدید رکاوٹ کا سامنا رہا۔‘
کے پی پولیس کے مطابق تفتیشی ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ نذیر خان نے کہا ہے کہ ’ابتدائی تفتیش سے دھماکہ خود کش لگتا ہے۔‘
خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس دھماکے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
بریکنگ, باجوڑ دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک، 90 زخمی, بلال احمد، نامہ نگار بی بی سی پشاور

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہو گئے ہیں۔
باجوڑ کی ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کے مطابق باجوڑ کی تحصیل خار میں ہونے والے دھماکے میں اب تک 30 افراد ہلاک اور 90 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ڈپٹی کمشنر باجوڑ انوار الحق نے فون پر بی بی سی کے بلال احمد سے بات چیت کرتے ہوئے دھماکے میں 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ 90 کے قریب افراد زخمی ہیں۔
ڈی سی باجوڑ کے مطابق 13شدید زخمی افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔ انوار الحق کے مطابق چونکہ زخمی زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
دھماکے میں جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیااللہ جان بھی ہلاک ہو گئے جبکہ ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو دیگر قریبی اضلاع کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق یہ دھماکہ خار کے علاقے دوبئی موڑ کے قریب جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام شنڈئی موڑ ہیڈ کوارٹر خار میں جاری ورکرز کنونشن میں ہوا۔
حکام کے مطابق دھماکے کے بعد ضلع میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام طبی عملے کو ہپستال پہنچنے کا کہا گیا ہے۔
چین کے نائب وزیر اعظم تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومتِ پاکستان کی دعوت پر چینی صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندے، چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے پولٹ بیورو کے رکن ہی لائفنگ اتوار کو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چینی نائب وزیر اعظم اپنے دورہ کے دوران سی پیک کی 10ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی دہائی منانے والی تقریب میں بطور مہمان خصوصی بھی شرکت کریں گے۔
چینی نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ نے چین کے بین الاقوامی اقتصادی تعلقات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نفاذ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جن میں سے سی پیک ایک اہم منصوبہ ہے۔
نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے چیئرمین (2017-2023) کے طور پر انھوں نے پاکستان میں سی پیک کے متعدد منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مذاکرات کا حصہ ہے۔ چینی نائب وزیر اعظم کا یہ دورہ پاکستان اور چین کی طرف سے اپنی ’آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ کو مزید گہرا کرنے سے منسلک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے مسائل پر حمایت کی توثیق، اقتصادی اور مالی تعاون کو بڑھانا، سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
بریکنگ, وزیر اعظم، وزیر داخلہ، نگران وزیر اعلیٰ سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی باجوڑ دھماکے کی مذمت، واقعے کی رپورٹ طلب

،تصویر کا ذریعہTariq Zaman
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے باجوڑ کی تحصیل خار میں جمعیت علماءاسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے نقصان پر شدید رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم نے اس واقعے پر جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، قائدین اور کارکنوں اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے مذہب اور ملک کی بات کرنے والوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دہشت گرد پاکستان کے دشمن ہیں، پاکستان کے دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے‘
وزیر اعظم نے اس واقعے سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور خیبرپختونخوا کی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTariq Zaman
جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اس دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ انھوں نے عزم دوہرایا کہ ’ہم مٹھی بھر دہشت گرد عناصر کو جلد ختم کر کے دم لیں گے۔‘
وزیر داخلہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک دشمن عناصر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، واقعے کے مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
جبکہ نگران وزیر اعلیٰ کے پی کے اور گورنر کے پی کے نے بھی اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال شاہ نے باجوڑ میں سیاسی اجتماع میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
جبکہ نگران وزیر اعلی نے واقعہ کا نوٹس لے کر فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اس واقعے پر پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے رہنماؤں نے بھی جے یو آئی ورکرز کنونشن میں دھماکے کی شدید مذمت کی۔

،تصویر کا ذریعہTariq Zaman
’حادثہ واپسی کے روز ہوا‘ بابو سر ٹاپ کے قریب وین کھائی میں گرنے سے ایک خاندان کے سات افراد ہلاک
بریکنگ, باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں دھماکہ، کم از کم 20 افراد ہلاک، 50 زخمی

،تصویر کا ذریعہTariq Zaman
خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے ہیں۔
باجوڑ کی ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کے مطابق باجوڑ کی تحصیل خار میں ہونے والے دھماکے میں اب تک 20 افراد ہلاک اور 50 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں اور ہلاکتوں کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دھماکے میں جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیااللہ جان بھی ہلاک ہو گئے جبکہ ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو دیگر قریبی اضلاع کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق یہ دھماکہ خار کے علاقے دوبئی موڑ کے قریب جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام شنڈئی موڑ ہیڈ کوارٹر خار میں جاری ورکرز کنونشن میں ہوا۔
جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے جمعیت علما اسلام کے جلسے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہRescue 1122
ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علما اسلام ایک پر امن جماعت ہے۔ ہم نے ہمیشہ پرامن سیاسی جہدوجہد کا راستہ اپنایا ہے۔
جس وقت دھماکا ہوا اس وقت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کی بڑی تعداد کنونشن میں موجود تھی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جبکہ نگران وزیر اعلیٰ کے پی محمد اعظم خان، گورنر کے اور جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ میں ورکرز کنونشن میں دھماکے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
نگران وزیر اعلی نے پولیس حکام سے واقعے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں جبکہ انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
راجہ ریاض بھی نہ ہوتا تو آپ کیا کر لیتے؟ وسعت اللہ خان کا کالم
بریکنگ, پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 14 ارب ڈالر، اگر آئی ایم ایف پروگرام نہ ہوتا تو پلان بی تیار تھا: اسحاق ڈار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے تمام بین الاقوامی ادائیگیاں وقت پر کی اور اگر آئی ایم ایف پروگرام نہ ہوتا تو پلان بی تیار تھا۔
اتوار کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس سطح کے قریب پہنچ چکے ہیں جو اس حکومت کے آنے سے قبل تھے۔
انھوں نے کہا کہ ناقدین نے بہت سی باتیں کی کہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا اور اپنی بین الاقوامی ادائیگیاں نہیں کر سکے گا لیکن ہماری حکومت نے یہ سبب ممکن بنایا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر کے قریب ہیں اور اس مزید بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے رواں برس موڈیز کی جانب سے ریٹنگ اور پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا اور تمام ادائیگیاں وقت پر ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ چین کے مشکور ہیں کہ انھوں نے ادائیگیوں کو رول اوور کیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے چین کی کمرشل بینکوں کو وقت سے پہلے بنا کسی پینالٹی کے ادائیگی کی اور جون کے آخری ہفتے میں پاکستان کے پاس پیسے واپس آ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ستمبر میں ورلڈ بینک کا ساڑھے چار سو ملین ڈالر کا سستا قرضہ پاکستان کو مل جائے گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی ائیر لائن کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے سول ایوی ایشن کے بل میں ترمیم کرنا تھی جسے منظور کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سابقہ وزیر کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کے بعد پی آئی اے کو سالانہ 71 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور اسے برطانیہ میں گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ اب سول ایوی ایشن کے بل کی منظوری کے بعد اگلے ماہ برطانوی وفد پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی بین الاقوامی معیار پر انسپیکشن کرنے آ رہا ہے جس کے بعد اکتوبر تک برطانیہ میں پی آئی اے کی سروس بحال ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس سے 71 ارب روپے نقصان میں سے 59 ارب روپے برطانیہ کی پروازوں سے بحال ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 47 سے دوبارہ 24ویں معیشت تک واپس لانا ہے اور اسے جی ٹوئنٹی میں شامل کرنا ہے۔
توشہ خانہ کے انضباط اور مینجمنٹ کا بل 2023 سینیٹ سے منظور, فرحت جاوید،بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ایوان بالا کے اجلاس میں توشہ خانہ کے انضباط اور مینجمنٹ کا بل 2023 منظور کرلیا گیا۔
اس بل کے تحت اب تحائف توشہ خانے میں جمع نہ کرانے پر پانچ گنا جرمانہ ہوگا۔ صدر،وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے علاوہ مسلح افواج اور عدلیہ کے اراکین کو بھی تحائف جمع کرانے ہوں گے۔
توشہ خانے میں تحائف جمع نہ کروانے والے سرکاری عہدیدار یا نجی شخص کو سزا ہوگی۔ بک کے مطابق توشہ خانہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے یا خلاف ورزی کی کوشش اور خلاف ورزی میں معاونت پر سزا ہوگی۔
واضح رہے کہ اس بل کی قومی اسمبلی پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔
بل کا اطلاق سرکاری عہدے داران اور نجی افراد پر ہوگاجو سرکاری وفد میں شامل ہوں گے تاہم بی پی ایس ایک تا بی پی ایس چار کے نقد تحفہ لینے والے ملازمین مستثنیٰ ہوں گے۔
بل کے تحت سرکاری عہدیدار یا نجی شخص کو ملنے والا تحفہ مقررہ وقت اورطریقہ کار کے تحت جمع کرانا ہوگا۔ وفاقی حکومت اس قانون کی منظوری کے بعد توشہ خانہ کے حوالے سے قواعد بنا سکے گی۔
سینیٹ اجلاس سے پرتشدد اور انتہاپسندی کی روک تھام کا بل ’ڈراپ‘: ’یہ شکنجہ ہمارے گلے پڑے گا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے ایوان بالا کے اجلاس میں پر تشدد اور انتہاپسندی کی روک تھام کا بل پیش کیا گیا جس پرمتعدد سیاسی جماعتوں کی جانب سے مخالفت سامنے آنے پر چیئرمین سینیٹ نے بل ’ڈراپ‘ کر دیا۔
پر تشدد اور انتہاپسندی کی روک تھام کے بل پر پاکستان تحریک انصاف، جے یو آئی سمیت حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی مخالفت سامنے آئی۔
واضح رہے کہ مجوزہ بل کے مطابق ’ پرتشدد تنظیم کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث تنظیم کو 50 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا جبکہ تنظیم تحلیل کر دی جائے گی ۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیم کو 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔‘
مجوزہ بل کےمطابق ’جرم ثابت ہونے پر فرد یا تنظیم کی پراپرٹی اور اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے، مجوزہ بل کے مطابق تشدد کی معاونت یا سازش یا اکسانے والے شخص کو بھی 10 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔‘
بل کے تحت ’جرم کرنے والے شخص کو پناہ دینے والے کو بھی قید اور جرمانہ ہو گا۔‘
مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام سے متعلق بل کی سینیٹ سے فوری منظوری کی مخالفت کر دی اور کہا کہ یہ بل بہت اہم ہے، تاہم یہ قومی اسمبلی سے نہیں آیا۔ اب ہماری زمہ داری ہے کہ اسمبلی بھیجنے کی بجائے اس بل کا تفصیلی جائزہ لیں۔
عرفان صدیقی کے مطابق ’اس بل کا اس حالت میں پاس ہونا ایک شکنجہ ہے جو ہمارے گلے پڑے گا۔‘
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر طاہر بزنجو نے بل کی مخالفت پر کہا کہ منٹوں میں بلز منظور کرنے کی بجائے بہتر نہیں ہوگا کہ یہ کمیٹیوں میں بھیجا جائے تاکہ اس پر بحث ہو سکے۔ جبکہ سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ آج اتوار کے روز ہم یہ قانون سازی کیوں کر رہے ہیں؟ اس بل کا مقصد صرف پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانا ہے۔‘
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عجلت میں قانون سازی کسی کے لیے بھی بہتر نہیں۔
واضح رہے کہ مجوزہ بل کے متن میں کہا گیا تھا کہ’ ’پرتشدد تنظیم کے لیڈر ، عہدیدارن اور ممبران کا اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ حکومت کو معلومات یا معاونت دینے والے شخص کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
مجوزہ بل میں کہا گیا کہ ’لسٹ میں شامل شخص یا تنظیم کے لیڈر اور ممبران کو گرفتار کرکے90 روز تک حراست میں رکھا جاسکے گا تاہم متاثرہ شخص کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق ہو گا۔‘
مجوزہ بل کے مطابق ’پرتشدد تنظیم کے اثاثے ، پراپرٹی اور بینک اکاونٹ منجمد کر دیے جائیں گے
بل کے مطابق کوئی مالیاتی ادارہ پرتشدد تنظیم کے لیڈر، ممبر یا عہدیدار کو مالی معاونت نہیں دے گا۔
بل میں کہا گیا ہے کہ ’پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث تنظیم کو 50 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا جبکہ تنظیم تحلیل کر دی جائے گی جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیم کو 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔‘
مجوزہ بل کےمطابق ’جرم ثابت ہونے پر فرد یا تنظیم کی پراپرٹی اور اثاثے ضبط کر لیے جائیں گے۔ معاونت یا سازش یا اکسانے والے شخص کو بھی 10 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔‘
مجوزہ بل کے تحت ’جرم کرنے والے شخص کو پناہ دینے والے کو بھی قید اور جرمانہ ہو گا۔‘
مجوزہ بل کے مطابق ’حکومت کو معلومات یا معاونت دینے والے شخص کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ لسٹ میں شامل شخص یا تنظیم کے لیڈر اور ممبران کو گرفتار کرکے90 روز تک حراست میں رکھا جاسکے گا، تاہم متاثرہ شخص کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق ہو گا۔‘
ہمایوں مہمند کے مطابق ’ اس بل کو کمیٹی میں بھیجیں اس بل کے بہت دور رس نتائج ہیں اگر اسی طرح کرنا ہے تو مارشل لاء لگائیں۔‘
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ایوان میں کہا کہ ’اتحادی پارٹیوں کو اعتماد میں ضرور لینا چاہیے یہ بل آگے جاکر کل ہمارے لیے مصیبت بنے گا۔‘
چینی نائب وزیرِ اعظم کی پاکستان آمد، اسلام آباد میں 31 جولائی اور یکم اگست کو تعطیلات کا اعلان
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پیر اور منگل کو شہر میں تعطیلات کا فیصلہ کیا ہے اور ایسا چینی نائب وزیرِ اعظم کی پاکستان آمد کے باعث کیا جا رہا ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دس سال مکمل ہونے پر پاکستان آ رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق شہر کی حدود میں 31 جولائی اور یکم اگست کو تمام پبلک، پرائیویٹ سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز بند رہیں گی۔
اسی طرح تمام پرائیویٹ آفسز اور کمپنیاں بند رہیں گی۔ اسی کے ساتھ ساتھ تمام شاپنگ سینٹرز اور دکانیں اور کمرشل بینک بھی بند رہیں گے۔
نو اگست کو اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی، تین ماہ بعد الیکشن ہوں گے، خورشید شاہ
وفاقی وزیر اور سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی خورشید شاہ نے دعوی کیا ہے کہ نو اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔
پاکستان کے اے آر وائی نیوز چینل پر میزبان ماریہ میمن سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ نو اگست کو اسمبلی تحلیل ہو گی اور تین ماہ بعد الیکشن ہوں گے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان اسمبلیاں بھی اسی تاریخ کو تحلیل کر دی جائیں گی۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نگران وزیر اعظم کے لیے پانچ نام شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں جن میں سیاسی نام بھی شامل ہیں۔
سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن پر مسلم لیگ ن نے ’بلینک چیک‘ دیا تھا: وزیردفاع خواجہ آصف

پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن پر ہم نے بلینک چیک دیا تھا، ان کی ایکسٹینشن پر ہماری کوئی سودے بازی نہ تھی اور نہ کچھ مانگا تھا۔‘
ان کے مطابق ’جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع لندن میں سینیئر قیادت کا اجتماعی فیصلہ تھا، نواز شریف کی واضح ہدایت تھی کہ ووٹ (قمر باجوہ کو) ضرور دیا جائے۔‘
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جو حکومت توڑ جوڑ کر بنائی گئی،شروع میں ہی اس میں خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ سنہ 2019 میں پنجاب حکومت ہمارے پاس آ سکتی تھی۔
وزیر دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ قید میں تھے انھیں بھی وزیراعظم بننے کی پیشکش کی گئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ ’یہ تجویز مالکان کی طرف سے آئی تھی یا نہیں؟ یہ مجھے نہیں معلوم، تجویز میں کہا گیا تھا کہ بطور وزیر اعظم آپ کا اور شاہد خاقان عباسی کا نام ہے، مگر آپ کی قیادت کو ابھی انتظار کرنا پڑے گا، جس پر میں نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اگر شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بن جائیں تو مجھے اعتراض نہیں ہو گا۔‘
پاکستان کے نصر اللہ اور انڈیا کی انجو ’میڈیا کے دباؤ سے پریشان‘
آرمی ایکٹ میں ترامیم: پی ٹی آئی کا ’انحراف کے مرتکب‘ سینیٹرز کے خلاف تادیبی کارروائی کا عندیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک ایوان بالا میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری میں ملوث اپنے سینیٹرز کے خلاف تحقیقات شروع کرے گی۔
ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی صدارت میں ایک کور کمیٹی اجلاس کے دوران سینیٹ میں ’آرمی ایکٹ کی منظوری کے عمل میں تحریک انصاف کے اراکین کے کردار کا بھرپور جائزہ لیا گیا۔‘
عمران خان نے ’آرمی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری میں تحریک انصاف کے اراکین کے کردار کی باضابطہ تحقیقات کی منظوری‘ دی ہے۔
اس بیان کے مطابق سینیٹر شبلی فراز پر مشتمل ایک رکنی کمیشن معاملے کی جامع تحقیقات کرے گا اور ’بلا تاخیر تحقیقات مکمل کر کے (رپورٹ) چیئرمین تحریک انصاف کے ملاحظے کے لیے پیش کرے گا۔
’شبلی فراز کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں پارٹی پالیسی سے انحراف کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سینیٹ نے آرمی ایکٹ میں کن ترامیم کی منظوری دی؟
سینیٹ نے موجودہ حکومت کی طرف سے آرمی ایکٹ 1952 میں کی گئی ترامیم پر مبنی بِل کو متفقہ طور پر منظور کیا جس میں تجویز دی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص سرکاری حیثیت میں حاصل کی گئی ایسی معلومات، جو ملکی مفاد اور سلامتی کے لیے نقصان دہ بن سکتی ہوں، کو ظاہر کرتا ہے یا اسے ظاہر کرنے کا سبب بنتا ہے، اسے پانچ سال تک قید بامشقت کی سزا دی جا سکے گی۔
سینیٹ سے پاس ہونے والے اس بل میں دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ جو افسر دوران سروس ایسے عہدے پر فائز رہا ہو جو آرمی ایکٹ کے تحت آتا ہو اور جسے ’حساس‘ قرار دیا گیا ہے وہ اپنی ریٹائرمنٹ، یا مستعفی ہونے، یا پھر برطرفی کے پانچ سال مکمل ہونے تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔
ایوان کی معمول کی کارروائی کے برخلاف منظوری سے قبل اس بِل کو سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی میں غور و خوص کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ تاہم جب اس بل کو منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش کیا گیا تو تحریک انصاف کے سینیٹرز سمیت کسی بھی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
سینیٹ سے منظوری کے بعد اب اس بل کو قومی اسمبلی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔
