ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال، گھروں اور ہسپتال میں پانی داخل
ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارشوں سے شہر میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایبٹ آباد مانسہرہ روڈ پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ ایوب میڈیکل ہسپتال سمیت کئی کالونیوں اور آبادیوں میں پانی داخل ہوا ہے۔
لائیو کوریج
سندھ اسمبلی کی پہلی خاتون ’قائد حزب اختلاف‘ کا ٹیوشن پڑھانے سے اپوزیشن لیڈر بننے تک کا سفر
بریکنگ, مون سون: ایبٹ آباد شہر میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورتحال، گھروں اور ہسپتال میں پانی داخل, محمد زبیر، صحافی

ایبٹ آباد میں موسلا دھار بارشوں سے شہر میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ ایبٹ آباد کی مرکزی مانسہرہ روڈ پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ کئی کالونیوں اور آبادیوں میں پانی داخل ہوا ہے۔
ریسیکو 1122کے مطابق ایوب میڈیکل کمپلیکس، بلال ٹاؤن،حسن ٹاؤن اور مانسہرہ روڈ، جھنگی، جب پل اور پی ایم اے روڈ میں شدید بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال ہے۔

سیلابی پانی متعدد گھروں کے اندر داخل ہوچکا ہے۔
ریسیکو 1122 کی ٹیم ہسپتال کے نیوروسرجری وارڈ سے بھی پانی نکالنے کی اور مریضوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
ریسیکو 1122 کے مطابق مختلف مقامات پر پانی میں پھنسی گاڑیوں سے لوگوں، عورتوں اور بچوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔
کاکول روڈ کے رہائشی عبدالمالک کا کہنا ہے کہ ’ہمارے گھروں میں پانی داخل ہوچکا ہے۔ گھر کا سارا سامان تباہ ہوچکا ہے۔ میں اپنے بچوں کو لے کر چھت پر چلا گیا ہوں کہ بچے محفوظ رہیں۔‘
منڈیاں ایبٹ آباد کے رہائشی محمد احمد کا کہنا ہے کہ ہماری پوری کی پوری گاڑیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔
احسن ٹاون سے محمد مقبول کا کہنا تھا کہ ’کئی گھروں کے اندر پانی ہے۔ پانی اپنے ساتھ سب کچھ تباہ کرچکا ہے۔‘

’ابہام کا شکار‘ اراکین پارلیمان اور لیگی وزیر قانون کی یقین دہانیاں: الیکشن ایکٹ میں کون سی ترامیم کی گئی ہیں اور ان پر کیا تنقید ہوئی؟
الیکشن ایکٹ میں ترامیم کے بعد نگراں حکومت کن معاملات میں بااختیار ہو گی؟, آسیہ انصر، بی بی سی
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والے الیکشن ترمیمی بل 2023 کے قانون بن جانے کے بعد آنے والی نگران حکومت پہلی بار اس قانون کے تحت اضافی اختیارات استعمال کرنے کی مجاز ہو گی۔
الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 230 کی شق 1 اور شق دو میں ترمیم کے تحت اب نگران حکومت کے پاس پالیسی فیصلہ لینے کا اختیار ہو گا۔ یاد رہے کہ الیکشن ایکٹ کا آرٹیکل 230 نگراں حکومتوں کے اختیارات سے متعلق ہے۔
ترمیم کے تحت نگران حکومت ایسے اقدامات کرنے کی مجاز ہو گی جو بین الااقوامی اداروں اور غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ اہم معاہدوں سے متعلق ہوں۔
اس سے قبل نگران حکومتیں روز مرہ معاملات کو نمٹنانے کے لیے فیصلے لینے کے لیے بااختیار تھیں اور الیکشن ایکٹ انھیں اہم جاری معاملات پر پالیسی فیصلے لینے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔
تاہم ترمیم کے بعد اب نگران حکومت روزہ مرہ کے ساتھ ہنگامی نوعیت کے معاملات کو دیکھنے کے لیے باختیار ہو گی اور ملکی معیشت کے بہتر مفاد سے متعلق ضروری فیصلے کر سکے گی۔
واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 230 کی شق 1 اور شق دو نگران حکومت کے اختیارات کا تعین کرتی ہیں۔
ان ترامیم سے قبل الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل میں نگران حکومت کے حوالے سے واضح کیا گیا تھا کہ نگران حکومت انتہائی ضروری فیصلوں کے علاوہ کسی قسم کی پالیسی فیصلہ سازی نہیں کر سکے گی اور نہ ہی کسی بین الاقوامی اداروں یا ایجنسیوں سے کسی قسم کے معاہدے کر سکے گی۔
ترامیم سے قبل آرٹیکل 230 میں بتایا گیا تھا کہ نگران حکومت غیر متنازع اور عوامی دلچسپی کے ضروری نوعیت کے روزمرہ کے امور تک خود کو محدود رکھے گی اور ان فیصلوں کو بعد میں منتخب حکومت واپس لے سکے گی۔
آرٹیکل 230 نگران حکومت کو ہر فرد اور سیاسی جماعت کے ساتھ غیر جانبدار رہنے کا پابند بھی کرتا ہے۔
بریکنگ, نگراں حکومت کو اضافی اختیار دینے سے متعلق بل پارلیمان سے کثرت رائے سے منظور, سحر بلوچ، بی بی سی ارود ڈاٹ کام،اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی پارلیمان نے بدھ کے روز اپنے ایک مشترکہ اجلاس میں نگراں حکومت کو چند اضافی اختیارات دینے پر مبنی الیکشن ترمیمی بِل 2023 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔
الیکشن ترمیمی بِل 2023 درحقیقت الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم پر مبنی ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کی 54 شقوں کی مرحلہ اور منظوری دی گئی۔
نگران حکومت کے اختیارات سے متعلق الیکشن ایکٹ کی شق 230 کثرت رائے سے منظورکی گئی جبکہ اس شق پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی، جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق اور تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے اعتراض اٹھایا۔
الیکشن ایکٹ کی شق 230 کے تحت نگران حکومت کو اضافی اختیارات حاصل ہوں گے، مجوزہ ترمیم میں مزید ترمیم کرتے ہوئے طے کیا گیا کہ نگران حکومت پہلے سے جاری پروگرام اور منصوبوں سے متعلق اختیار استعمال کر سکے گی اور فیصلے لے سکے گی۔
الیکشن ایکٹ میں جو دیگر ترامیم کی گئی ہیں ان کے تحت پریزائڈنگ افسر انتخابی نتائج ایک مخصوص وقت میں اور فوری طور پر الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسر کو بھیجنے کا پابند ہو گا۔
ترمیم کے تحت پریزائیڈنگ افسر الیکشن کی رات 2 بجے تک نتائج دینے کا پابند ہو گا، اور اس میں تاخیر کی صورت میں تحریری طور پر ٹھوس وجہ بتانے کا پابند ہو گا۔
ترمیمی بل کے مطابق حلقہ بندیاں آبادی کے تناسب سے کی جائیں گی۔
بل کے تحت پولنگ ڈے سے پانچ روز قبل پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیاجا سکے گا جبکہ امیدوار قومی اسمبلی کی نشست ایک کروڑ تک جبکہ صوبائی نشست کی انتخابی مہم پر 40 لاکھ تک خرچ کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کی شق وار منظوری کے دوران ایوان کو بتایا کہ انتخابی اصلاحات بل میں کوئی نئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو معاہدے وفاقی حکومت نے پہلے سے طے کر لیے ہیں ان پر نگران حکومت کو کام کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سینیٹر رضا ربانی نے بھی آرٹیکل 230 پر اعتراض اٹھایا تھا۔
دوسری جانب اس بل پر شق وار منظوری کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے اعتراض اٹھایا کہ ’ہم غلامی میں اتنے آگے چلے گئے ہیں کہ آئی ایم ایف کے لیے اپنے الیکشن کے قوانین بھی بدل رہے ہیں۔‘
اس سے قبل پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نگران حکومت کو اضافی اختیار دینا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ نگران حکومت کو اختیار دینے والے خواجہ آصف خود نگران حکومت کے اختیارات کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے۔ اگر اس شق میں ترمیم ختم نہ کی گئی تو سپریم کورٹ اڑا دے گی۔‘
اس بل کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سات اگست دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
بریکنگ, الیکشن ترمیمی بل 2023: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شق وار منظوری کا عمل جاری, سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
انتخانی اصلاحات سے متعلق ترمیم کا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کر دیا گیا ہے جہاں اس کی شق وار منظوری کا عمل جاری ہے۔
اس مشترکہ اجلاس کی سربراہی سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کر رہے ہیں۔
بل کی شق وار منظوری سے قبل پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ وہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 230 سے اتفاق نہیں کرتے۔
واضح رہے کہ انتخابات ترمیمی بِل 2023 نگران حکومت کے اختیارات میں اضافے سے متعلق ہے۔ ان اختیارات میں مسلم لیگ نواز کی حکومت چند ترامیم اور اضافی اختیارات شامل کرنا چاہتی ہے۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے اس کا جواز یہ دیا جا رہا ہے کہ ستمبر میں پاکستان کو چند بین الااقوامی معاہدوں کی تکمیل کرنی ہے جن میں پرائیوٹائزیشن، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور دیگر ممالک کے ساتھ سہ فریقی معاہدے شامل ہیں۔
مسلم لیگ ن ان ترامیم کے تحت نگراں حکومت کو اضافی اختیارات دینا چاہتی ہے تاکہ ستمبر میں ہونے والے معاہدوں کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی نگران حکومت عمل کرسکے۔
رضا ربانی نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی اداروں اور قومی اثاثوں کو بیچنے کا کام نگران حکومت کیسے کر سکتی ہے؟
رضا ربانی کے مطابق سب سے بڑا اعتراض اس پر یہ ہے کہ نگراں حکومت کا کام روزمرہ کے کام چلانا ہے۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ اس قسم کے اختیارات کبھی منتخب حکومت کو نہیں دیے تو نگراں حکومت کو کیسے دے رہے ہیں جن کو صرف 60 یا 90 دن تک حکومت سنبھالنی ہے؟
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے الیکشن ایکٹ اور نگران حکومت کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تین ترامیم کو الیکشن ایکٹ کے حوالے سے زیر بحث لایا گیا تھا۔
علی ظفر کے مطابق پولنگ سٹیشن میں سی سی ٹی وی لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، نئی ترمیم ہماری جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا دے گی۔
بیرسٹر علی ظفر نے تجویز دی کہ ستمبر کے معاہدوں کی تاریخ آگے کر دی جائے یا پھر ترامیم میں نرمی کی جائے، ورنہ سپریم کورٹ اسے 10 دن میں اڑا دے گی۔
بریکنگ, وفاقی کابینہ نے ای سیفٹی بل اور پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023 کی اصولی منظوری دے دی, سحر بلوچ، بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
وفاقی کابینہ نے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور انفارمیشن سسٹم کے ناجائز وغیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لیے ای سیفٹی بل 2023 کی اصولی منظوری دے دی۔
بل کی منظوری کے بعد آن لائن ہراسمنٹ ، سائبر بُلنگ، بلیک میلنگ جیسے جرائم کو موثر طریقے سے روکے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس کے تحت پاکستان میں تمام قسم کی آن لائن سروسز، آن لائن خریداری، مختلف کمپنیوں کو دیے جانے والے کوائف اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ کرنے اور اِس کے بغیر اجازت استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اس قانون کے تحت ایک جامع فریم ورک بنایا جا ئے گا۔
اصولی منظوری وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سفارش پر دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی سفارش پر پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023 کی بھی اصولی منظوری دے دی۔
اس بل کے تحت حکومت مختلف ادارے اور کمپنیاں، صارف کے ذاتی کوائف اور ڈیٹا کی حفاظت یقینی بنائیں گی اور اُن کی اجازت کے بغیر کسی بھی کمپنی، فرد یا حکومتی ادارے کو صارف کی اجازت کے بغیر اُس کے کوائف/ ڈیٹا دینے پر پابندی لگائے گی۔
قانون کے تحت صارفین کے نجی کوائف اور ڈیٹا کو محفو ظ کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے نیشنل کمیشن فار پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (NCPDP) کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ایک دیوانی عدالت کی حیثیت رکھے گا۔
مسلسل آٹھ کاروباری دنوں میں اضافے کے بعد ڈالر کی قیمت میں ڈیڑھ روپے کی کمی, تنویر ملک ، صحافی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بدھ کے روز کمی ریکارڈ کی گئی جب انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قیمت میں 1.48 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور اس کی قیمت 287.04 روپے تک نیچے آگئی۔
ڈالر کی قیمت میں کمی مسلسل آٹھ روز تک اس کی قیمت میں اضافے کے بعد ریکارڈ کی گئی ہے۔
اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت 1.50 روپے کمی کے بعد 292 روپے کی سطح تک گر گئی۔
کرنسی ڈیلروں کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کے مزید 60 کروڑ ڈالر کے قرضے کی خبروں اور سٹیٹ بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کو ڈالر امپورٹ کرنے کی اجازت نے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر کو مضبوط کیا۔
بریکنگ, توشہ خانہ کیس:عمران خان کل ذاتی حیثیت میں پیش ہوں ورنہ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے: عدالت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کر لی ہے۔
ضلعی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے کل (جمعرات 27 جولائی کو) ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی عدم حاضری کی صورت میں ان کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے۔
ضلعی عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے اس سے قبل عمران خان کے وکیل کو ہدایات کی تھیں کہ عمران خان کو بدھ کی دوپہر دو بجے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
دو بجے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل علی گوہر کی جانب سے عمران خان کی آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست کو عدالت نے منظور کر لیا تاہم ان کی جانب سے کی گئی 31 جولائی کو سماعت کرنے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کی پیشی کو ہر صورت حاضری یقینی بنانے حکم دے دیا۔
عمران خان اور بشری بی بی کی عدت کے دوران نکاح سے متعلق درخواست پر دلائل 31 جولائی کو ہوں گے: ضلعی عدالت اسلام آباد
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی مبینہ طور پر عدت کے دوران نکاح سے متعلق درخواست پر اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے دلائل کے لیے 31 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی۔
ضلعی عدالت میں کیس کی سماعت سول جج قدرت اللہ نے کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی جانب سے آج کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی۔
شیر افضل مروت ایڈوکیٹ نے کہا کہ عمران خان کو احتساب عدالت میں پیش ہونا ہے جبکہ سیکیورٹی کے بھی مسائل درپیش ہیں، اس لیے ان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کی جائے۔
عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کی حذضری سے اسثتنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 31 جولائی تک ملتوی کردی۔
بریکنگ, کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ: رکن صوبائی اسمبلی اسلم ابڑو کے بھائی اکرم ابڑو اور بھتیجا شہر یار ہلاک، دو افراد زخمی, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں رکن صوبائی اسمبلی اسلم ابڑو کے بھائی اکرم ابڑو اور بھتیجا شہر یار ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ڈفینس فیز سیون قیوم آباد کے قریب پیش آیا ہے۔
ایس ایس پی جنوبی اسد رضا کے مطابق موٹر سائیکل سوار افراد نے ویگو پر فائرنگ کی جس میں چار افراد زخمی ہوئے بعد میں اکرم ابڑو اور اور ان کا بھتیجا زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئے۔
ایس ایس پی ساوتھ اسد رضا کےمطابق ’ابتدائی تحقیقات کےمطابق یہ واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے۔‘
پولیس نے ابھی تک قتل کی وجہ بیان نہیں کی اور نہ ہی واقعے کا مقدمہ درج ہوا ہے۔
اکرم ابڑو کا تعلق جیکب آباد سے ہے ان کا بھائی اسلم ابڑو 2018 کے میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے بعد میں سینیٹ کے انتخابات میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور پی پی میں شمولیت اختیار کرلی۔
مقتول اکرم ابڑو جیکب آباد کی سرگرم شخصیت رہے ہیں وہ شہری اتحاد کے صدر اور بزنس مین ہیں اس کے علاوہ سندھ بار کاؤنسل کے رکن بھی تھ۔
ان کی رشتے داری بلوچستان میں بھی ہے جاموٹ قومی موومنٹ کے رہنما محمد مراد ابڑو ان کے بھانجے تھے۔
واضح رہے کہ اکرم ابڑو نے سیاست کا آغاز ممتاز بھٹو کی سندھ نشینل فرنٹ سے کیا اس کے بعد مسلم لیگ ن میں چلے گئے جب ان کے بھائی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو وہ ان کے ساتھ رہے بعد میں دونوں بھائی پیپلز پارٹی میں آگئے۔
بلوچستان کے دو ترجمانوں اور وزیراعلی کے کوارڈینیٹرز کی تعیناتی غیر قانونی قرار, محمد کاظم، بی بی سی اردو، ڈاٹ کام

،تصویر کا ذریعہHIGH COURT OF BALOCHISTAN
بلوچستان ہائیکورٹ نے حکومت بلوچستان کے دو ترجمانوں اور وزیراعلی کے کوارڈینیٹرز کی تعیناتی غیر قانونی قرار دے دی ہے۔
ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عامر رانا پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ ایک آئینی درخواست پر دیا ۔ آئینی درخواست عبدالصادق خلجی ایڈووکیٹ نے دائر کیا تھا۔
عبدالصادق خلجی ایڈوکیٹ نے وزیراعلیٰ کے کوڈانیٹرز اور 2 ترجمانوں کی تعیناتی کو چیلنج کیا تھا گ
انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ تقرریاں غیرقانونی طریقے سے کی گئیں ہیںگ
بینچ نے بدھ کو اس سلسلے میں پہلے سے محفوظ فیصلہ کو سناتے ہوئے دونوں ترجمانوں اور 26 کوآرڈینیٹرز کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت نے حکومتی ترجمان فرح عظیم شاہ اور بابر یوسفزئی کو فوری طور پر کام سےروک دیا ۔
اسی طرح وزیر اعلیٰ کے تمام کوارڈینٹرز کو بھی فوری طور پر کام سے روک دیا گیا ۔ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ منتخب نمائندے اور اراکین اسمبلی پہلے سے حکومتی ترجمانی اور کوارڈنیشن کے لیے موجود ہیں۔منتخب نمائندوں کے ہوتے ہوئے کوارڈنیٹرز اور ترجمانوں کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ نے سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی کو ترجمانوں اور کو آرڈینیٹر سے دفاتر اور دیگر حکومتی سہولیات فوری طور پر واپس لینے کا حکم دیا۔
بریکنگ, کراچی میں فائرنگ: رکن صوبائی اسمبلی اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجا ہلاک
کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں رکن صوبائی اسمبلی اسلم ابڑو کے بھائی اور بھتیجا ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد کی ضلعی عدالت کا توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو دو بجے پیش ہونے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہface book
توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے عمران خان کے وکلا کو اپنے موکل کو دو بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
ایڈشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاورکی عدالت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کی سماعت ہوئی جس میں عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔
عمران خان کے وکیل نے عدالت سے کی حاضری سے استثنی اور اس مقدمے کی عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ سے عدالتی کارروائی روکنے سے متعلق کوئی حکم امتناع ہوا ہے ؟
جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے بتایا کہ عمران خان کی سپریم کورٹ نے مسترد کی ہے۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ٹرائل کورٹ کی سماعت کو روکا نہیں جا سکتا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ٹرائل کو روکنے کا کوئی جواز نہیں، ٹرائل کو آگے بڑھایا جائے۔ عدالت نے ملزم عمران خان کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کا سوالیہ نامہ خود لینے کو تیار ہیں۔
گوہرعلی خان نے سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی جس پر الیکشن کمیشن کے وکلاء نے عمران خان کی حاضری سے استثنی اور سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی مخالفت کردی۔
عدالت نے عمران خان کے وکلا کو اپنے موکل کو دو بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
احتساب عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں 31 جولائی تک توسیع کر دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل اورتوشہ خانہ کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں 31 جولائی تک توسیع کر دی ہے۔
دوران سماعت عمران خان اور بشری بی بی کے معاون وکیل نے بشری بی بی کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کرتے ہوئے استدعا کی کہ سینیئر وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں مصروف تھے جس کے بعد انھیں پھر ہائی کورٹ جانا ہے ۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر نے عدالت کے روبرو اعتراض میں کہا کہ یہ ہر تاریخ میں یہی کہتے ہیں۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ عبوری ضمانت کا کیس ہے، انھیں کل کی تاریخ دے دیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کل ہائیکورٹ میں پیش ہونا ہے جس کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات آ گئی ہیں۔ اور اس سے آگے چھٹیاں ہیں ، چھٹیوں کے بعد کی تاریخ دے دیں۔
بیرسٹر گوہر کی استدعا پر عدالت نے عبوری ضمانت میں 31 جولائی تک توسیع کردی اور حکم دیا کہ 31 جولائی کو عبوری ضمانت پر حتمی دلائل ہوگے۔
سپریم کورٹ: عمران خان کی توشہ خانہ ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد ہونے کا تحریری حکمنامہ جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہReuters
سپریم کورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد ہونے کے حوالے سے آج کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
حکم نامے کےمطابق ’وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ہماری اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو درخواستیں زیر التواء ہیں۔‘
حکم نامے کے مطابق وکیل درخواست گزار اور ڈی جی لاء الیکشن کمیشن دونوں نے اتفاق کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے دونوں درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے۔
حکمنامے کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے توشہ خانہ ٹرائل کورٹ کے جج پر اعتراض کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے اوردرخواست گزار نے ہائیکورٹ کے مقدمہ ٹرائل کورٹ میں منتقل کرنے کے فیصلے کو بھی چیلنج کررکھا ہے۔
حکمنامے میں لکھا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے۔ ’ہم چئیرمین پی ٹی آئی عمرانن خان کی درخواست نمٹاتے ہیں۔‘
ڈالر کی دستیابی کو بڑھانے کے لیے سٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو ملک میں ڈالر امپورٹ کرنے کی اجازت دے دی, تنویر ملک، صحافی

،تصویر کا ذریعہAFP
سٹیٹ بینک نے ملک بھر کی تمام ایکسچینج کمپنیز کو ملک میں نقد ڈالر لانے کی اجازت دے دی۔
ایکسچینج کمپنیز ڈالر کارگو سروس کے ذریعے نقد ڈالر امپورٹ کرسکتی ہیں۔
سٹیٹ بینک کے سرکلر کے مطابق ایکسچینج کمپنیز کرنسی ایکسپورٹ کی مد میں 50 فیصد نقد ڈالر منگواسکتی ہیں۔ سٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیز کو 31 دسمبر 2023 تک نقد ڈالر منگوانے کی اجازت دی ہے۔
ایکسچیبج کمپنیز ٹیلی گرافک ٹراسفر کے علاوہ شمپنٹ کے 50 فیصد حصے کے مطابق نقد ڈالر منگوانے کی مجاز ہوں گی۔
ایکسچیبج کمپنیز کا ڈالر امپورٹ کرنا انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے فرق کو کم کرے گا۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق اسٹیٹ بینک کا ایکسچینج کمپنیوں کو نقد ڈالر امپورٹ کرنے کا سرکلر ڈالر کی قلت کو دور کرے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ: توہین الیکشن کمیشن کیس میں فواد چوہدری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی درخواست نمٹا دی گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں فواد چوہدری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی درخواست نمٹا دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی۔ فواد چوہدری کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ عدالتی حکم پر فواد چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ توہین الیکشن کمیشن کیس میں فواد چوہدری کی عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔
دوسری جانب توہین کمیشن کیس میں فواد چوہدری کی معافی پر کمیشن کے آرڈر کی کاپی فیصل چوہدری کو فراہم کردی گئی۔
اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کی زبانی معافی کو قبول نہیں کیا اور ان کو تحریری معافی نامہ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے بعد عدالت عالیہ نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں فواد چوہدری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی درخواست نمٹا دی۔
اسلام آباد: بلا اجازت ریڑھی لگانے پر قید بامشقت پانے والے شخص کی جلد رہائی کا حکم
