ضلع کرم میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں اساتذہ سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک

پولیس ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کرم میں نامعلوم افراد کی جانب سے چلتی گاڑی پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد مسلح افراد نے ایک ہائی سکول میں گھس کر اساتذہ سمیت کم از کم سات افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق طوری بنگش قبائل سے تعلق رکھنے والے اساتذہ سکول میں امتحانی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    اس کے بعد کی خبروں کے لیے اس لائیو پیج پر تشریف لائیں۔

  2. سنا ہے مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم سپورٹ کے لیے موجود ہیں بصورتِ دیگر ہمارا فیصلہ موجود ہے: چیف جسٹس بندیال

  3. اپر کرم میں ہلاک سات افراد کی میتیں ورثا کے حوالے

    Kurram

    ،تصویر کا ذریعہBasharat

    اپر کرم میں آج فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سے سات افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

    ڈی ایم ایس کرم ہسپتال ڈاکٹر قیصر نے بی بی سی کے بلال احمد سکو بتایا کہ’ سات افراد کی لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال کو موصول ہوئی ہیں جنھیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر کے مطابق ’تمام افراد کی ہلاکت بلٹ انجری سے ہوئی ہے۔‘

  4. حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان صرف جس بات پر اتفاق نہیں ہوا وہ تاریخوں پر تھا: وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ

    Azam tarar

    ،تصویر کا ذریعہSENATE.GOV.PK

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی وجہ سے برف پگھلی ہے تاہم جس پر دونوں کمیٹیوں کا اتفاق نہیں ہو سکا وہ الیکشن کی تاریخ تھی۔

    جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اینکر حامد میر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ چار ججز کا فیصلہ کو مانتی ہے اور بعد میں آنے والے تین رکنی بینچ کو نہیں مانتی۔‘

    انھوں نے کہا ’ ہم نے یہ بھی بتایا کہ ہم نہیں چاہتے نگران حکومت کے دور میں کوئی بڑا معاشی دھماکا ہو۔ فائنل دن مذاکرات میں بات اس ٹائم لائن کے اردگرد چل رہی تھی کہ سمتبر کے آخر یا اکتوبر کے شروع میں انتخابات ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ تاہم پی ٹی آئی کمیٹی کا کہنا تھا اسمبلیاں 14 مئی سے پہلے ختم کرنے کی یقین دہانی کروائیں ۔ لیڈر شپ کا حکم ہے کہ 14 مئی پر کھڑے رہیں۔‘

    اعظم نزیر تارڑ کے مطابق ’مذاکرات اس نوٹ کے ساتھ ختم ہوئے تاکہ اگر آگے بات چیت ہو تو یہیں سے آغاز ہو سکے۔‘

    وفاقی وزیر کا دعویٰ تھا کہ ’ انھوں نے لچک دکھائی تھی اور اسی وجہ سے باہر آ کے جب میڈیا سے بات کی تو زبان ترش نہیں تھی اور جذبات پر بھی قابو تھا اور محتاط گفتگو کی تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا چکی ہے اور کل صبح حکومتی کمیٹی کا جواب بھی عدالت میں جمع ہو جائے گا۔

  5. سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاکستان بار کونسل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری نے پاکستان بار کونسل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکرٹری مقتدر اختر شبیر نے پاکستان بار کے شوکاز نوٹس کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے جس میں پاکستان بار کا شوکاز نوٹس کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

    درخواست کے مطابق ’ وفاقی وزیر قانون پاکستان بار کونسل کے ممبر ہیں، سپریم کورٹ بار پاکستان بار کونسل کا جھکاو حکومت کی جانب ہے۔ عابد زبیری اور دیگر کو شوکاز نوٹس سیاسی بنیادوں پر جاری کیا ہے۔‘

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان بار کا شوکاز نوٹس غیر قانونی، دائرہ اختیار سے تجاوز اور آرٹیکل 9 کے خلاف ہے،عدالت پاکستان بار کونسل کو سپریم کورٹ بار کے معاملات میں دخل اندازی سے بھی روکے۔‘

    سپریم کورٹ بار نے درخواست میں پاکستان بار کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کو فریق بنایا ہے۔ سپریم کورٹ بار نے درخواست ایڈووکیٹ حامد خان کی وساطت سے دائر کی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکرٹری کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کر کے کام سے روک دیا ہے اور سیکرٹری خزانہ حفظہ بخاری کو سیکرٹری سپریم کورٹ بار کا اضافی چارج تفویض کر دیا ہے۔

    واضح رہے پاکستان بار نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور سیکریٹری کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

  6. ’کیرئیر میں ڈبل سنچری نہیں بنائی، لگتا ہے کہ مقدمات میں یہ ہندسہ عبور کر لوں گا‘

  7. اساتذہ کے قتل کے خلاف پارا چنار میں احتجاج، ملزمان کی گرفتاری تک تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان

    para chanaar

    ،تصویر کا ذریعہBasharat

    پارہ چنار میں اساتذہ کے قتل کے خلاف اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔

    احتجاج کے دوران اساتذہ نے پریس کلب کے سامنے ٹائروں کو آگ لگا کر روڈ بلاک کردی ہے۔

    اساتذہ نے واقعہ کی مکمل تحقیقات، واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری تک احتجاج اور تمام تعلیمی سرگرمیاں بطور احتجاج معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اساتذہ کے مطابق ’کرم ضلع میں اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا جب تک اساتذہ کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔‘

    ضلع کرم پولیس کے مطابق ’اب سے تھوڑی دیر پہلے سکول میں قتل ہونے والے اساتذہ اور مزدوروں کی لاشیں حاصل کرلی گئی ہیں۔ ن لاشوں کوپوسٹ مارٹم کے لیے ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پارہ چنار پہنچایا جارہا ہے۔‘

    دوسری جانب اساتذہ کے قتل کے واقعے پر مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔

    صدر عارف علوی نے اپنی ٹویٹ میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے ’علم دشمنوں کی جانب سے اساتذہ پر حملہ قابل مذمت ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    واضح رہے ضلع کرم میں آج فائرنگ کے دو واقعات میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں ذیادہ تر اساتذہ ہیں۔

  8. سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے بعد نابینا حافظ جی کا چوری شدہ موبائل واپس

  9. سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی عمل کو سراہتے ہیں: سپریم کورٹ کا حکم نامہ جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ، اسلام آباد

    muzakraat

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    ملک میں ایک ہی دن انتخابات کرانے سے متعلق سپریم کورٹ نے 27 اپریل کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا۔

    حکم نامے کے مطابق ’اٹارنی جنرل نے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان باہمی روابط سے آگاہ کیا،اٹارنی جنرل کے مطابق عید کی چھٹیوں کے بعد فریقین درمیان عام انتخابات پر مذاکرات سے متعلق رابطہ ہوا۔‘

    حکم نامے کےمطابق’اٹارنی جنرل نے فریقین کی مذاکراتی ٹیموں کی تشکیل سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا اور کہا کہ مذاکرات کی سہولت کاری چیئرمین سینیٹ کریں گے۔‘

    حکم نامے کے مطابق ’عدالتی اسرار پر فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو چیئرمین سینیٹ کو ملوث کرنے پر آگاہ کیا۔ فاروق ایچ نائیک کے مطابق مذاکرات سینیٹ سیکرٹریٹ میں ہوں گے۔‘

    حکمنامے میں لکھا ہے کہ’سپریم کورٹ سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکراتی عمل کو سراہتی ہے۔‘

    عدالتی حکم نامے کے مطابق’ سیاسی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک دن کرانے پر متفق ہوتی ہیں تو یہ قابلِ ستائش عمل ہے۔‘

    اپنے حکم نامے میں عدالت نےواضح کیا ہے کہ’مذاکراتی عمل کے لیے عدالت کا کوئی کردار نہیں، سپریم کورٹ نے مذاکراتی عمل کے لیے کوئی ڈائریکشن نہیں دی، یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکمنامہ برقرار رہے گا۔‘

  10. اپر کرم میں دو مختلف واقعات میں اساتذہ سمیت آٹھ افراد قتل, محمد زبیر/صحافی

    kurram

    ،تصویر کا ذریعہBasharat

    ضلع کرم میں فائرنگ کے واقعے کے بعد نامعلوم افراد نے ایک سکول میں گھس کر سات افراد کو قتل کر دیا جن میں سکول ٹیچرز بھی شامل ہیں۔

    ضلع کرم کے پولیس ترجمان کے مطابق ’اپر کرم کے علاقے میں شلوزان نامی روڈ روڈٖ پر نامعلوم افراد کی ایک کار پر فائرنگ کی وجہ سے بورڈ کے امتحانات کے لیے جانے والے شریف نامی استاد موقع پر ہلاک ہو گئے۔‘

    پولیس ترجمان کے مطابق ’اس واقعے کے بعد کچھ نامعلوم افراد تری منگل ہائی سکول میں داخل ہوئے۔ جہاں پر بورڈ کے امتحانات میں فرائض انجام دینے والے کم از کم چار اساتذہ اور سکول کے اندر کام کرنے والے تین دیگر افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔‘

    ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق طوری قبائل سے بتایا جا رہا ہے۔

    کرم پولیس کے مطابق ’یہ دو مختلف واقعات ہیں۔ پہلے واقعے میں شریف نامی استاد قتل ہوئے ہیں۔ اس کے حوالے سے ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واقعہ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ہوا ہے جبکہ دوسرے واقعے کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔‘

    انجمن حسینیہ کے سیکریٹری عنایت حسین اور تحریک حسینی کے صدر علامہ سید تجمل حسین نے اپنے الگ الگ بیانات میں واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے ضلع کرم کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے اس قسم عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    وفاقی وزیر ساجد طوری کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب اپر کرم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کرم میں اس وقت بیشتر مقامات پر احتجاج جاری ہے جب کہ کرم کے تمام داخلی راستے بند کردیے گئے ہیں، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل سروس بھی بند کردی گئی ہے۔

    kurram

    ،تصویر کا ذریعہBasharat

    دوسری جانب اس واقعہ پر علی منگلہ قلعہ میں موجود تحریک حسینیہ کے ممبر حاجی عابد حسین نے بی بی سی کے بلال احمد سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم یہاں ہلاک افراد کی لاشیں لینے آئے ہیں لیکن ابھی تک میتیں ہمارے حوالے نہیں کی گئیں۔

    ان کے مطابق ’جو پہلے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اس کی ہم نے مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان کے قاتلوں کوگرفتار کیا جائے۔

    حاجی عابد حسین کے مطابق ’پہلے ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کو ہم نے پہلے ہی حکومت کے حوالے کردیا تھا۔ ہم ہر قسم کے فسادات کے خلاف ہیں علاقے میں اس دونوں واقعات پر غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ حکومت کو چاہئے کو حالات کو قابو میں رکھیں۔‘

    ادھر کرم ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر سیف الاسلام نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلا واقعہ دن 11 بجے کے بعد پیش آیا جب مسلح افراد نے اپر کرم کے علاقے میں ایک شخص کو روڈ پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔‘

    ڈپٹی کمشنر سیف الاسلام کے مطابق ’اس واقعے کے کچھ دیر بعد تُری منگل کے علاقے میں بعض افراد نے مقامی سکول کا گھیراؤ کیا اور سکول میں موجود چار اساتذہ اور دو اٹینڈنٹس کو ہلاک دیا۔‘

    خیال رہے کہ سکول میں میٹرک امتحانات جاری تھے اور مقامی صحافیوں کے مطابق واقعے کے وقت طلبا سکول میں نہیں تھے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق’ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہے جبکہ تین پولیس اہلکار بھی سکول سے ہلاک ہونے والوں کی باڈیز ریکور کرنے کے دوران زخمی ہو چکے ہیں۔‘

  11. ضلع اپر کرم میں سکول ٹیچرز پر حملے میں ہلاکتوں کی اطلاعات

    ہسپتال کرم

    ،تصویر کا ذریعہBASHARAT

    خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کرم میں سکول ٹیچر پر حملے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صبح کے وقت مقامی سکول ٹیچر کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا جس کے جواب میں سکول میں گھس کر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد اساتذہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ڈی ایم ایس کرم پارا چنار ڈاکٹر قیصر کے مطابق ابھی تک ہسپتال میں کوئی ڈیڈ باڈی منتقل نہیں کی گئی تاہم ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر اپر کرم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس حوالے سے سرکاری طور پر کسی بھی چیز کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ سرحدی علاقے میں ہوا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ تری مینگل نام کا یہ علاقہ پہلے ہی فرقہ وارانہ تشدد کی زد میں ہے۔

  12. ایس سی او: کیا انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور بلاول زرداری کے درمیان الگ کوئی میٹنگ ہو گی؟

  13. ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کروانے کا کیس سماعت کے لیے مقرر

    SC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کروانے کے کیس سماعت کے لیے مقرر ہو گیا ہے جس کی سماعت کل ہو گی۔

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس کی سماعت کرے گا۔ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے عدالت میں اک ہی دن میں انتخاب سے متعلق حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں رپورٹ جمع کراوا رکھی ہے۔

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کرانے سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن نظر ثانی درخواست کو نمبر الاٹ کردیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے 4 اپریل کے فیصلے پر نظر ثانی کےلئے درخواست دی تھی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت انتخاب کی تاریخ دینے کی مجاز نہیں ۔14 مئی کو انتخاب کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

    اپیل میں کہا گیا تھا کہ انتخابات کے لیے نہ فنڈ ملے نہ ہی سیکیورٹی جبکہ تاحال بیلٹ پیپرز بھی پرنٹ نہیں ہوسکے۔

  14. عمران خان کی سات مقدمات میں حفاظتی ضمانت 10 میں روز تک، دو مقدمات میں نو مئی تک توسیع

    pti

    ،تصویر کا ذریعہFace Book/PTI

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ سماعت کی۔

    عمران خان کی سات مقدمات میں عدالت نے 10 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے اور اس دوران انھیں ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیاہے۔

    دوسری جانب عسکری اداروں کے خلاف بغاوت اور مسلم لیگ ن کے رہنما محسن شاہ نواز رانجھا کی مدعیت میں درج اقدام قتل کے مقدمات میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی ضمانت میں نو مئی تک توسیع کر دی ہے۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو ویڈیو لنک پر حاضری سے متعلق دستاویزات جمع کروانے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔

  15. جسٹس مظاہر نقوی کے ذرائع آمدن آڈٹ کروانے کا معاملہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سپرد

    NA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں جسٹس مظاہر نقوی کے ذرائع آمدن آڈٹ کروانے کا معاملہ پبلک اکاونٹس کمیٹی بھیج دیا۔

    وفاقی وزیر ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ پر بہت سی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ ایک جج مظاہرعلی اکبر نقوی کے حوالے سے بارز نے ریفرنس تک دائر کردیئے ہیں اس ریفرنس پر سپریم کورٹ میں کچھ نہیں ہورہا۔‘

    ایاز صادق نےجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے ریفرنس کا معاملہ پی اے سی میں بھیجنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ’پی اے سی میں جسٹس مظاہر نقوی کے ذرائع آمدن سمیت دیگر تفصیلات کا آڈٹ کروالیا جائے۔ اس سے مظاہر علی اکبر نقوی پر ہی سے انگلیاں نہیں ہٹیں گی باقی ججز پر بھی انگلیاں نہیں اٹھیں گی۔‘

    ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے معاملہ پی اے سی کے سپرد کرتے ہوئے 15روز میں آڈٹ کروا کر رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کر دی۔

  16. بریکنگ, شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ، چھ فوجی اہلکار ہلاک

    Army

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے قبائل ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے دیردونی میں دہشت گردوں اور پاکستان کی فوج کے اہلکاروں میں فائرنگ کے تبادلے میں چھ فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں دہشتگروں کی ممکنہ موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا جس میں دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں چھ اہلکار ہلاک جبکہ تین دہشت گرد مارے گئے اور دو زخمی ہوئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں ٹانک سے تعلق رکھنے والے حوالدار سلیم خان،کوہاٹ سے نائیک جاوید اقبال، بنوں کے سپاہی نذیر خان، مردان سے تعلق رکھنے والے سپاہی حضرت بلال، ضلع اورکزئی کے سپاہی سید رجب حسین اور ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سپاہی بسم اللہ جان شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

  17. بریکنگ, ’امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں غلامی نہیں‘: عمران خان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں غلامی نہیں چاہتے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی سربراہ نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ 27سال ہو گئے، ہم ہر ملک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ہم سب سے دوستی چاہتے ہیں کسی سے غلامی نہیں چاہتے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نے انڈیا کے ساتھ کیوں تعلقات توڑے تھے۔ اس کا مطلب ہے پانچ اگست کو جو ہوا اس کو انھوں تسلیم کر لیا۔

    یاد رہے کہ پانچ اگست 2019 کو انڈیا کے اپنے زیر انتظام کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کر دیا تھا۔

    عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنے جان کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کو نام بتایا ہے جس سے جان کو خطرہ ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر اس کا نام لوں گا اخبار میں اس کا نام نہیں چھپے گا، اسی لیے میں اس کو ڈرٹی ہیری کہتا ہوں۔

  18. شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس: وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی انڈیا آمد

  19. انڈیا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت ہمارے عزم اور کثیر الجہتی کی عکاس ہے، وزیر اعظم

    پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے انڈیا میں ہونے والے اجلاس میں ہمارا شرکت کرنا تنظیم کے لیے اہمیت، ہمارے عزم اور کثیر الجہتی کا عکاس ہے۔

    ہم خطے میں امن و استحکام کی مشترکہ اقدار کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ ہم وہاں باہمی فائدے کے تعاون، رابطوں اور تجارت کے لیے اکٹھے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. انڈیا میں ایس سی او اجلاس: بلاول بھٹو کے دورے میں باہمی تعلقات پر پیشرفت کی توقع کیوں نہیں؟