سنا ہے مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم سپورٹ کے لیے موجود ہیں بصورتِ دیگر ہمارا فیصلہ موجود ہے: چیف جسٹس بندیال
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ہمیں اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم ان کی سپورٹ کے لیے موجود ہیں اور دوسری صورت میں ہمارا فیصلہ موجود ہے۔‘
لائیو کوریج
لوگوں کو اشتعال دلانے سے گریز کریں، پراپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں: اسلام آباد پولیس

،تصویر کا ذریعہEPA
اسلام آباد پولیس نے اپنے اوپرہونے والی تنقید کے جواب میں واضح کیا ہے کہ ’اسلام آباد پولیس اور افسران کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔‘
ٹوئٹرپر اپنے بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے ’پولیس اپنے تمام امور قانون کے مطابق سر انجام دیتی ہے اور پولیس پر بے بنیاد الزام تراشی تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔‘
اسلام آباد پولیس نے بیان میں کہا کہ ’پراپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف اسلام آباد پولیس قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریں, 1X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اسلام آباد پولیس کے مطابق ’گذارش ہے کہ لوگوں کو اکسانے اور اشتعال دلانے سے گریز کریں۔ کسی بھی قسم کا پراپیگنڈہ اور بے بنیاد الزامات اسلام آباد پولیس کو فرائض کی انجام دہی سے نہیں روک سکتا۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کا یہ بیان چیئرمین عمران خان کی اس ٹویٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی پُرامن ریلی کے باوجود اسلام آباد پولیس نے کارکنان کو تختۂ مشق بنایا ہے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریں, 2X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
واضح رہے تحریک انصاف کی جانب سے سنیچر کو اسلام آباد میں عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق 38 پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تھانہ مارگلہ کے پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے کے مطابق پی ٹی آئی کی ریلی کارِ سرکار میں مزاحمت اور نقص امن کا سبب بنی۔
عمران خان کے جلسوں کا شیڈول جاری
پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی مہم کے لیے جلسوں کے شیڈیول جاری کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ٹوئٹر اکاونٹ سے جاری اعلان کے مطابق ’چیئرمین عمران خان بدھ کو مریدکے میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے جبکہ جمعرات کو گکھڑ منڈی، جمعے کو لالہ موسیٰ ، سنیچر کو گوجر خان میں جلسہ کریں گے۔
اعلان کے مطابق اتوارکو اٹک میں عمران خان بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
واضح رہے چیئرمین عمران خان نے گزشتہ روز پنجاب کے انتخابات کی انتخابی مہم کے لیے بھرپور جلسوں کے آغاز کااعلان کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کا حکم نامہ جاری کیا ہوا ہے۔
سنا ہے سیاسی مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم سپورٹ کے لیے موجود ہیں بصورتِ دیگر ہمارا فیصلہ موجود ہے: چیف جسٹس

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ہمیں اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہم ان کی سپورٹ کے لیے موجود ہیں اور دوسری صورت میں ہمارا فیصلہ موجود ہے۔‘
لاہور میں منعقد ایک تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ ’آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے اور سیاسی جماعتوں کو احساس ہے کہ آئین کی پاسداری کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عدالتوں کے فیصلوں کی اخلاقی حیثیت ہوتی ہے۔عدالتیں ایگزیکٹیو آرڈر پاس نہیں کر سکتیں۔ عدالتی فیصلہ چیلینج نہیں کیا جاتا تو یہ حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔‘
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا ’آئین کے مطابق چلنے کی ضرورت ہے اوراس کے لیے کسی کو بہانے بنانے کی ضرورت نہیں۔‘
اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’بنیادی انسانی حقوق پر فیصلے کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے۔ عدالتی فیصلہ چیلینج نہیں کیا جاتا تو یہ حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔‘
وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: عمران خان بڑا خطرہ ہے یا آئی ایم ایف؟
اسلام آباد میں ریلی نکالنے پر اسد عمر سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج

،تصویر کا ذریعہEPA
تحریک انصاف کی جانب سے سنیچر کو اسلام آباد میں عدلیہ سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلی پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے کے مطابق ریلی میں اسد عمر اور علی نواز اعوان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان شامل تھے جنھوں نے حکومت وقت کے خلاف نعرے بازی کی اور ’لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسایا۔‘
یہ مقدمہ اسد عمر، راجہ خرم نواز سمیت 180 کارکنان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق 38 پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تھانہ مارگلہ کے پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے کے مطابق پی ٹی آئی کی ریلی کارِ سرکار میں مزاحمت اور نقص امن کا سبب بنی۔
سندھ کے 24 اضلاع کی 63 نشستوں پر ضمنی بلدیاتی الیکشن کے لیے پولنگ جاری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے 24 اضلاع کی 63 نشستوں پر ضمنی بلدیاتی الیکشن کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔
کراچی کے سات اضلاع میں سے 11 یوسیز اور 15 وارڈز کی 26 نشستوں پر جبکہ دیگر 17 اضلاع میں 37 نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے۔
اس موقع پر کراچی میں پولیس کے سات ہزار سے زیادہ اہلکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دیں گے جبکہ 24 اضلاع میں 292 پولنگ سٹیشن انتہائی حساس اور 157 حساس قرار دیے گئے ہیں۔
جیل اور زیرِ حراست تشدد کے ذریعے نظریات کا خون نہیں کیا جا سکتا: عمران خان
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
منکی پاکس: اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے نے سعودی عرب سے آنے والے ڈپورٹیز کے لیے علیحدہ کاؤنٹر بنا دیا
منکی پاکس کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے امیگریشن نے خصوصی اقدامات کرتے ہوئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی عرب سے آنے والے ڈپورٹیز کے لیے الگ کاؤنٹر بنا دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امیگریشن کاؤنٹر نمبر پانچ پر صرف سعودی عرب سے آنے والے ڈیپورٹیز کی امیگریشن کی جائے گی۔
ایف آئی اے امیگریشن سٹاف کے لیے منکی پاکس کی روک تھام کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ کا انعقاد بھی کیا گیا۔
آرمی چیف اور افغان وزیر خارجہ کی ملاقات: دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ضروری ہے، جنرل عاصم منیر

،تصویر کا ذریعہISPR
آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قائم مقام افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ملاقات کی ہے جس میں علاقائی سلامتی، بارڈر مینیجمنٹ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں موجودہ سکیورٹی ماحول میں بہتری کے لیے میکنزم بہتر بنانے پر گفتگو کی گئی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ضروری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق افغان وزیر خارجہ نے افغان عوام کے لیے پاکستان کی روایتی حمایت کو سراہا۔
امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، سی پیک سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال

،تصویر کا ذریعہISPR
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کی مکمل حمایت کے لیے پرعزم ہیں اور چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے چینی وزیر خارجہ نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی اور اس دوران باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس ملاقات میں دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات اور سی پیک منصوبے کی مکمل حمایت کے لیے پرعزم ہے، آرمی چیف نے علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کی حمایت پر چین کے کردار کو بھی سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک میں طویل مدتی سٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ چینی وزیر خارجہ نے سی پیک منصوبوں پر پیش رفت پر اظہار اطمینان اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
چینی وزیر خارجہ نے سی پیک منصوبوں میں چینی باشندوں کی سکیورٹی کے لیے مسلح افواج کے کردار کی بھی تعریف کی۔
عمران خان کا 14 مئی تک پنجاب بھر میں انتخابی جلسوں کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاہور میں اپنے خطاب میں 14 مئی تک پنجاب میں اٹک تک جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لاہورمیں ریلی سے خطاب کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’ساری قوم کا فیصلہ ہے کہ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں جو آئین کے ساتھ کھڑی ہے۔‘
انھوں نے کہا ’پنجاب کا انتخاب اناونس ہو چکا ہے اس کی انتخابی مہم کر رہا ہوں۔ اگلے ہفتے سے جلسے شروع کروں گا اور 14 مئی تک اٹک تک جلسے کروں گا۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا اور پنجاب میں نگران حکومتوں کی مدت پوری ہو چکی اور وہ غیرقانونی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے لیے ہم نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔‘
انھوں نے حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ ملک میں ایک سال میں تین گنا مہنگائی ہو گئی ہے اور آج ایک سال میں خریدار کی قوت 100 روپے میں سے میں سے 62 روپے ہو گئی ہے۔‘
عمران خان نے انڈین وزیر خارجہ کی جانب سے بلاول بھٹو پر تنقید کی مذمت کی اور کہا کہ انڈیا کے فارن منسٹر کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میں کوئی تہذیب نہیں کہ آپ کے ملک میں مہمان آتا ہے تو مہمان کو بلا کر ذلیل کرنا زیب نہیں دیتا۔
آئین اور قانون کی حکمرانی کا ساتھ نبھانے والوں کا مشکور ہوں۔ عمران خان
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی و آئین اور قانون کی پاسداری اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے حامیوں کا شکرہ ادا کیا۔
ایک ٹویٹ مںی ان کا کہنا تھا ’ایک ہی ہفتے کے دوران دو مرتبہ اتنی کثیر تعداد میں باہر نکلنے پر میں اہلِ لاہور کا مشکور ہوں۔ میں ان تمام لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جو آئین اور قانون کی حکمرانی کا ساتھ نبھانے کیلئے آج پاکستان بھر میں نکلے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’افغانستان میں امن و استحکام خطے کی ترقی، روابط اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے‘

،تصویر کا ذریعہAPP
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں امن و استحکام خطے کی ترقی، روابط اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔‘
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ہم پرامن، مستحکم، خوشحال اور متحد افغانستان کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔‘
پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ’دونوں ممالک ماضی کی طرح آنے والی دہائیوں میں بھی ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘
بلاول بھٹو نے چین کی جانب سے پاکستان کے معاشی بحران میں چینی قیادت کی فراخدلانہ اور بروقت امداد پر بھی شکریہ ادا کیا جبکہ بلاول بھٹو نےانڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے معاملے پر چین کے اصولی اور منصفانہ موقف اور ون چین کی پالیسی کو بھی سراہا۔
اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور قومی ترقی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
چین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی قیادت کی جانب سے روابط اور بات چیت سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔‘
واضح رہے کہ چین کے وزیر خارجہ سہہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان میں موجود ہیں۔
ایس سی او اجلاس: گوا کی تلخی دیر تک محسوس ہو گی
الیکشن سے متعلق مذاکرات میں ہم نے لچک دکھائی لیکن حکومت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا: شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریکِ انصاف پاکستان میں عدلیہ کی آزادی و آئین اور قانون کی پاسداری اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکال رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ تحریکِ انصاف آئین کے دفاع کے لیے چیف جسٹس کے ساتھ ہیں۔ ’انھوں نے ذاتی حملوں کے باعث انصاف کے پلڑے کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ ‘
شاہ محمود قریشی نے کہا پورے پاکستان میں لوگ اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ریلیوں میں شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالت کی اجازت کے باوجود اسلام آباد میں دفع 144 کے تحت ریلیوں پر پابندی ہے لیکن ہم اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے الیکشن سے متعلق مذاکرات میں قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئی تھی۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’وہ چاہتے تھے کہ ایک دن انتخابات ہوں، ہم نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کیا۔ انھوں نے کہا انتخابات نگران حکومت کے تحت کروائے جائیں، ہم نے یہ بھی مان لیا، انھوں نے خدشہ رہتا ہے کہ لوگ نتائج تسلیم نہیں کرتے، ہم نے کہا اس کی بھی گنجائش پیدا کر لیتے ہیں۔ پھر انھوں نے کہا اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ہم نے کہا ہم لکھ کر سپریم کورٹ کو پیش کر دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ اس کی عملداری کو یقینی بنائےگا۔ اس سب کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب نواز شریف نے فیصلہ سنا دیا کہ ہم تو چار تین کے فیصلہ پر اڑے ہیں تو ہم کس سے مذاکرات کریں۔‘
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’ہم لچک دکھائیں وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کریں۔ وہ عدالت کے فیصلہ کو تسلیم ہی نہ کریں۔ ہم نے کوشش کی لیکن جو نیتجہ نہیں نکلا تو ہم نے اپنا موقف چیف جسٹس کو پیش کر دیا۔‘
’چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اگر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو 14 مئی کا فیصلہ موجود ہے۔ ہم یہی کہتے ہیں انتخابات کروائے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ‘
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ’حکومتی اتحاد صرف انتخابات سے فرار چاہتے ہیں۔ ‘
تحریک انصاف نے ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی شرکت کو متنازع بنایا: شہباز شریف
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ایک ٹویٹ میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ایس سی او اجلاس میں پاکستان کی شرکت کو تحریک انصاف نے متنازع بنایا۔
’عمران خان ماضی میں بھی ملک کے اہم خارجہ مفاد کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔ انھوں نے یہی کیا جب وہ اقتدار میں تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لیے ’بین ریاستی تعلقات ایک کھلونا ہے۔‘
انسداد دہشتگردی کے مقدمات میں عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کے لیے طلبی کے نوٹس جاری
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی دفعات تحت درج کردہ چار مقدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 10 اور 11 مئی کو شامل تفتیش ہونے کے لیے طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے میں عمران خان کو 11 مئی دو بجے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انھیں تھانہ گولڑہ میں درج مقدمے میں بھی 11 مئی کو طلب کیا گیا۔
تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں عمران خان کو 10 مئی دن دو بجے طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا۔ تھانہ رمنا میں درج ایک دوسرے مقدمے میں بھی انھیں 10مئی دو بجے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔
’میں حقائق بیان کر رہا ہوں، آپ ہائپر ہو رہے ہیں۔۔۔‘ بلاول بھٹو کا دورۂ انڈیا جو ’ہینڈ شیک‘ کے گرد گھومتا رہا
پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں ریلی نکالنے کی اجازت نہ مل سکی، لاہور میں مشروط اجازت
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو آج وفاقی دارالحکومت میں ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
ایک بیان میں اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینی وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور ریلی سے وی آئی پی نقل و حرکت اور سکیورٹی میں خلل پیدا ہوگا۔ جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جڑواں شہروں میں دہشتگردی کی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ماضی میں تحریک انصاف نے شرائط کی خلاف ورزی کی جس سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچا۔
دوسری طرف رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح ہدایات کے باوجود کے ریلی نکالنا آئینی حق ہے، انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
’یہ پر امن ریلی آئین اور سپریم کورٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالی جا رہی ہے۔ یعنی انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے عدالتوں کو صاف پیغام کے ہم آپ کا حکم نہیں مانتے۔‘
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
لاہور میں ریلی کی مشروط اجازت
ادھر لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو زمان پارک سے لکشمی چوک ریلی کی مشروط اجازت دی ہے جس کے مطابق عدلیہ اور اداروں کے خلاف تقاریرکی اجازت نہیں ہوگی جبکہ عوامی املاک کو نقصان پہنچا تو پی ٹی آئی انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔
اس کے علاوہ ریلی کے دوران کاروباری مراکز بند کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور کارکن ڈنڈے یا اسلحہ ساتھ نہیں لائیں گے۔
