پاکستان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آڈیو لیکس کو جے آئی ٹی تحقیقات کو سبوتاژ
کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیئر ٹرائل ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
سابق
وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے
کہا کہ پاکستان کے شہریوں اور سیاستدانوں کے فون کو ٹیپ کیا جاتا ہے اور یہ کام
صرف تین قسم کے ایجنسیاں کر سکتی ہیں، وہ اسے پاکستان کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ کسی
کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یاد
رہے کہ حال ہی میں پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد کی ایک مبینہ آڈیو
سامنے آئی ہے جس میں وہ سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر سے بات کر رہی
تھی۔
سابق
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ فیئر ٹرائل ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور عدلیہ
اس معاملے کا نوٹس لے۔
انھوں
نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ کوئی ایجنسی یا پولیس کسی کا فون ٹیپ نہیں کر سکتی
جب تک یہ وزیر داخلہ سے نہ کہیں اور پھر وزیر داخلہ عدالت میں جائیں اور عدالت کا
جج انھیں اجازت دے کہ یہ ملک کی ضرورت ہے یا اس سے دہشت گردی سے بچ سکتے ہیں یا کسی
قومی مفاد کی حفاظت ہوسکتی ہے، تو پھر وہ فون ٹیپ کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ وہ کسی
کا فون ٹیپ نہیں کر سکتے۔
تحریک
انصاف کی رہنما یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ یہ آڈیو لیک اس لیے کی گئی کہ جب جے
آئی ٹی بنے تو اس کے کنوینر اس وقت کے سی سی پی او ڈوگر صاحب تھے اور ڈوگر صاحب
نے حکومت کے سامنے اس بات کا انکشاف کردیا تھا کہ اس حملے میں تین لوگ ملوث ہیں، یعنی
یہ قاتلانہ حملہ ایک طے شدہ منصوبہ تھا اور ایک شخص نہیں بلکہ اس میں کم از کم تین
لوگ ملوث تھے اور انھوں نے اس کا ثبوت عدالت میں دے دیا تھا۔
ان
کا کہنا تھا کہ عدالت میں ثبوت جانے کے بعد افسروں کو بلیک میل کیا گیا، بلیک میل
ہو کر کچھ افسروں نے استعفیٰ دے دیا لیکن سی سی پی او اپنے موقف پر ڈٹے رہے، یہ
ساری باتیں میرے علم میں اس وقت آئیں جب ہم گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی
عدالت گئے۔
انھوں
نے سوال کیا کہ فیئر ٹرائل ایکٹ کے تحت یہ ہمارے فون کیسے ٹیپ کر سکتے تھے، کیا انھوں
نے اجازت لی تھی، کیا وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کسی جج کے پاس گئے تھے اور ان سے
اجازت لی تھی، میں اس بارے میں جاننا چاہتی ہوں اور میں عدالت جا رہی ہوں اور
عدالت میں جا کر سوالوں کے جواب دوں گی کہ یہ آئی ایس آئی، آئی بی اور پولیس میں
سے کس نے ٹیپ کیا اور کس طرح سے ریلیز کیا کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ میرے بنیادی
انسانی حقوق پر بہت بڑا حملہ ہوا ہے۔
چیئرمین
پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے
ہیں وہی لوگ میرے اوپر حملوں میں ملوث تھے، عدلیہ سے درخواست ہے کہ میری پٹیشن سنی
جائے اور ڈاکٹر یاسمین راشد فیئر ٹرائل ایکٹ کی خلاف ورزی پر کل عدالت جا کر کیس
کریں گی۔