چوہدری پرویز الٰہی ق لیگ کے 10 رہنماؤں سمیت پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل

پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت 10 سابق اراکینِ صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے یہ اعلان بھی کیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کا مرکزی صدر بنانے کی سینیئر قیادت نے منظوری دے دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, چوہدری پرویز الٰہی کا ق لیگ کے 10 ساتھیوں سمیت پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت 10 سابق اراکینِ صوبائی اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔

    اس بات کا اعلان پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی جانب سے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جس کی تصدیق ساتھ کھڑے چوہدری پرویز الٰہی نے کی۔

    فواد چوہدری نے یہ اعلان بھی کیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی کا مرکزی صدر بنانے کی بھی سینیئر قیادت نے منظوری دی ہے اور پارٹی کے آئین کے مطابق اس حوالے سے پیش رفت ہو گی۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’پرویز الٰہی اور ق لیگ کے کردار کو پی ٹی آئی سراہتی ہے اور ان کی قربانیاں بے پناہ ہیں۔‘

  2. بریکنگ, نیب نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نو مارچ کو طلب کر لیا, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    قومی احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں نو مارچ کو طلب کر لیا ہے۔

    نیب کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق عمران خان کو نیب میں پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    عمران خان کے بنی گالہ کے پتے پر نیب حکام کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیب حکام کی طرف سے ایسے افراد کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جو توشہ خانہ سے تحائف کم قیمت پر خرید کر انھیں فروخت کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو بطور وزیرِاعظم غیر ملکی دوروں کے دوران ان ملکوں کے سربراہانِ مملکت سے جو تحائف ملے ہیں ان کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے نو مارچ کو پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔

    اس نوٹس میں ان تحائف کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو کہ عمران خان کو بطور وزیر مختلف سربراہان مملکت نے تحفے میں دیے تھے۔

    اس میں چھ گھڑیاں بھی شامل ہیں جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے عمران کو تحفے میں دی گئی وہ گھڑی (کعبہ ایڈشن) بھی شامل ہے جس کے بارے میں مقامی میڈیا پر یہ خبریں بھی چلتی رہی ہیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر یہ گھڑی پانچ کروڑ روپے میں فروخت کی تھی جبکہ مارکیٹ میں اس کی قمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    دیگر اشیا میں سونے کا پین، کف لنکس اور ایک بغیر سلہ ہوا سوٹ بھی شامل ہے۔

    اس کے علاوہ عمران خان کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس آئی فون کے بارے میں بھی بتائیں جو انھیں قطر کی مسلح افواج کے سربراہ نے تحفے میں دیا تھا۔ نیب حکام کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات 22 نومبر سے شروع کی گئی تھیں اور اس میں متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔

    توشہ خانہ

    ،تصویر کا ذریعہNAB

  3. جھوٹا مقدمہ نہیں بنا سکتا، مطمئن ہوں کسی کے دباؤ میں نہیں آیا، چیئرمین نیب کا الوداعی خطاب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    نیب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے ادارے کے افسران سے الواداعی خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بطور چیئرمین مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اپنے خطاب میں آفتاب سلطان نے کہا کہ ’میں کسی خلاف جھوٹا مقدمہ نہیں کر سکتا اور ناہی کسی ریفرنس کو اس لیے فارغ کر سکتا ہوں کہ ملزم کسی بااثر شخصیت کا رشتہ دار ہے۔‘

    آفتاب سلطان نے کہا کہ ان کو خوشی ہے اور وہ ’مطمئن ہیں کہ وہ اصولوں پر قائم رہے اور کسی کے دباو میں نہیں آئے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انھوں نے قانون کے مطابق کام کرنے کی کوشش کی اور کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آئین تمام مسائل کا حل فراہم کرتا ہے اور آئین کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے ملک میں سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہوا۔‘

    آفتاب سلطان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی عمل اور الیکشن ملک کی ضرورت ہیں۔‘

    آفتاب سلطان نے نیب کے افسران پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو امید ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی پاسداری کریں گے۔

  4. انتخابات کی تاریخ: الیکشن کمیشن نے مشاورت کے لیے اٹارنی جنرل کو کل بلا لیا

    الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس آج چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہوا، جس میں معزز ممبران الیکشن کمیشن بھی شریک ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن آئین اور قانون کے مطابق بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

    بیان کے مطابق الیکشن کمیشن ہر وقت آئین اور قانون کے تحت 90 دن میں الیکشن کروانے کے لیے تیار رہتا ہے مگر آئین اور قانون میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ الیکشن کی تاریخ کمیشن دے گا مگر مجاز اتھارٹی کی طرف سے تاریخ مقرر کرنے کے بعد کمیشن فوراً الیکشن شیڈول دے کر الیکشن کروانے کا پابند ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان کی طرف سے الیکشن کی تاریخ مقرر کرنے کے بعد آج کمیشن کے اجلاس میں اس پر تفیصلاً غور کیا گیا اور اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر قانونی ماہرین سے مزید رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

    الیشکن کمشین نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو 22 فرور ی 2023 کو دعوت دی ہے اور مشاورت کے لیے دوآئینی و قانونی ماہرین کا انتخاب بھی کیا جا رہا ہے۔

  5. نیب میں دیگر اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتا تھا، آفتاب سلطان

    نیب کے مستعفی ہونے والے چیئرمین آفتاب سلطان نے کہا ہے کہ وہ نیب میں دیگر اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

    مستعفی ہونے کے بعد نیب افسران سے خطاب کرتے ہوئے آفتاب سلطان نے کہا کہ ایک ایک پلاٹ والے کے لیے کہا جاتا ہے اسے اندر کر دیں جبکہ اربوں روپے والے باہر ہیں۔

    آفتاب سلطان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں نہ کچھ لے کر آیا تھا اور نہ ہی کچھ لے کر جا رہا ہوں۔‘

    انھوں نےکہا کہ نیب افسران صرف قانون کی سنیں، کسی کی مداخلت برداشت نہ کریں اور ڈٹ کر آزادی سے کام کریں۔

  6. بریکنگ, چیئرمین نیب آفتاب سلطان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے

    آفتاب سلطان

    ،تصویر کا ذریعہtwitter

    چیئرمین نیب آفتاب سلطان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ استعفے میں انھوں نے ذاتی وجوہات کا ذکر کیا ہے۔

    آفتاب سلطان ڈی جی انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور موجودہ حکومت نے نیب کے سابق چئیرمین جاوید اقبال کے بعد انھیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم آفس کے اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا استعفی منظور کر لیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ نے انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ اور ریٹائرڈ پولیس افسر آفتاب سلطان کی بطور چیئرمین نیب تین سال کے لیے جولائی 2022 میں تقرری کی تھی۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ان کی بطور چیئرمین نیب تعیناتی کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ انتہائی آزاد، دیانتدار اور شفاف افسر رہے ہیں۔‘

    تاہم تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شفقت محمود نے شہباز شریف پر ’اپنے وفادار‘ کو نیب چیئرمین تعینات کرنے کا الزام لگایا تھا۔

    آفتاب سلطان سابق بیوروکریٹ چوہدری قمر زمان کے بعد ایسے دوسرے سابق بیوروکریٹ رہے جنھیں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

    آفتاب سلطان کو سابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

  7. افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات دور ہونے تک پاکستان ہائی رسک سیکیورٹی کے دور میں رہے گا: وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    bilawal

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ جب تک افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات دورنہیں ہوتے اس وقت تک پاکستان ہائی رسک سیکیورٹی کے دور میں رہے گا۔

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر سی این بی سی کو خصوصی انٹرویو میں بلاول بھٹو نے سابق حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ’تحریک انصاف کی حکومت بغیر کسی پیشگی شرط کے دہشت گردوں سے مذاکرات کر رہی تھی جس سے پاکستان کا مؤقف پس پشت چلا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اور عسکری قیادت نے اس پالیسی کو مکمل طور پر روک دیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان ملک کے اندر کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو گا۔

    بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ ’ہماری اپوزیشن چاہتی ہے کہ فوج انھیں ایک بار پھراقتدار میں واپس لانے میں مدد کرے‘۔

  8. چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں وکلا سمیت ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا ہے جو پیر کے روز عدالت میں پیشی کے موقع پر باہر نکلے۔

    ’میں تمام لوگوں اور خاص طور پر وکلا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جو کل بر وقت بڑی تعداد میں باہر نکلے اور اپنی پرجوش حمایت ظاہر کی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    واضح رہے کہ عمران خان پیر کی شام عدالت کے طلب کرنے پر جب لاہور ہائی کورٹ پہنچے تھے تو ان کے ہمراہ تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن بھی موجود تھے جس کے باعث ان کی عدالت تک رسائی تاخیر کا شکار ہوئی۔

  9. صدر کےاعلان کی کوئی حیثیت نہیں،تجویز ہے کہ قومی اور صوبائی تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت ہوں:رانا ثنا اللہ

    election

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کی کچھ حیثیت نہیں۔ آئین میں بالکل واضح ہے کہ صدر وزیر اعظم کے احکامات پر عمل کے پابند ہیں اور وہ خود سے اختیار نہیں رکھتے۔

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات چیت کرتے ہوئے را نا ثنا اللہ نے کہا کہ ’صدرخود سے انتخاب کی تاریخ نہیں دے سکتے۔الیکشن کی تاریخ پر اس طرح اجلاس بلانا اور اس پر فیصلہ کی اہمیت ردی کے ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’صدر کے اس اعلان کو نہ ہی کہیں چیلینج کرنے کی ضرورت اور نہ ہی عمل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    ranasana

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ الیکشن کروانا چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری ہے اور ان کا کام ہے کہ وہ شفاف انتخابات کروائیں۔

    ’آئین کے مطابق جنرل الیکشن نگران حکومت کی زیر نگرانی ہوتے ہیں۔ ہماری یہ رائے ہے کہ اگر الیکشن کمیشن متفق ہو تو وہ تمام صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے جنرل الیکشن ایک ہی وقت میں کروائے تاکہ نگران حکومت کی زیر نگرانی شفاف انتخابات ہو سکیں۔‘

    رانا ثنا اللہ نے عمران خان کے اوپر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی بہانہ بازی کا مقصد یہ ہے کہ وہ توشہ خانہ اور ٹیرین کیس میں عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے۔ ان کے مطابق ’عمران خان اب نا اہل بھی ہوں گے اور انھیں کرپشن کیس میں سزا بھی ہو گی۔‘

    واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔

  10. عمران خان کی لاہور ہائی کورٹ میں پیشی، تین مارچ تک حفاظتی ضمانت منظور

    عمران خان

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ سے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کی حفاظتی ضمانت کی پہلی درخواست ان کے دستخط اور منظوری کے بغیر فائل کی گئی تھی۔

    سوموار کو لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں 3 مارچ تک عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کی۔

    اس سے قبل عمران خان لاہور ہائی کورٹ پہنچے تو ان کے ہمراہ تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن بھی موجود تھے جس کے باعث ان کی عدالت تک رسائی تاخیر کا شکار ہوئی۔ کمرہ عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواست اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق کی وضاحت کے لیے عمران خان کی پیشی کے لیے سماعت ہوئی تو جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کو بیٹھا رہنے دیں۔ جسٹس طارق سلیم نے سوال کیا کہ خان صاحب، آپ کی درخواست پر دستخط مختلف ہیں۔ اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ پہلی ضمانت میرے دستخط اور منظوری کے بغیر فائل ہوئی تھی جس پر میں ’رگریٹ‘ کرتا ہوں۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ کو احتیاط کرنی چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلی درخواست کے بارے میں جب پتہ چلا تو میں نے درخواست واپس لینے کا کہا۔

    عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی، جس کے بعد جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے تھانہ سنگجانی میں درج مقدمہ میں 3 مارچ تک عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کی۔

  11. حفاظتی ضمانت سے متعلق کیس: عمران خان لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے

    عمران خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان حفاظتی ضمانت کیس میں تاخیر کے بعد لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم حفاظتی ضمانت کے لیے خود عدالت میں حاظر ہوں۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق کے معاملے میں چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی کے لیے سماعت کی۔

    لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کو آج 2 بجے طلب کیا تھا۔ جب کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا کہ 2 بجےکا وقت تھا، کہاں ہیں عمران خان؟ عمران خان کے وکلا نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں، کچھ دیر میں پہنچ جائیں گے، سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔ جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نےکہا کہ سکیورٹی کا مسئلہ میں نے حل نہیں کرنا، سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر رہے ہیں، عدالت میں رش بھی کم کریں۔

    وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست ان کے دستخط سے فائل نہیں ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کو لاہور ہائی کورٹ کی دو عدالتوں میں دو مختلف مقدمات میں پیش ہونا ہے۔ اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹیریٹ میں عمران خان کے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی اور ایک رکن قومی اسمبلی پر پی ٹی آئی کے کارکنان کی طرف سے حملہ کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج ہے۔ اس مقدمے میں عمران خان نے جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی۔ اسی مقدمے میں گزشتہ پیشی پر عمران خان کے وکلا کی طرف سے جمع کروائے جانے والے دستاویزات پر عمران خان کے دستخط میں مطابقت نہیں پائی گئی تھی جس پر جج کا کہنا تھا کہ اس پر انھیں توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عمران خان عدالت کے سامنے وضاحت دیں گے کیا یہ ستخط ان کے تھے یا نہیں۔

    دوسرے مقدمے بھی عمران خان نے اسلام آباد کے تھانہ سنجرانی میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ اس سے قبل 16 فروری کو ان کے طرف سے دائر اسی درخواست کو عدالت نے ان کے خود پیش نہ ہونے پر عدم پیروی پر درخواست خارج کر دی گئی تھی۔ یہ درخواست عمران خان کے وکلا نے آج دوبارہ لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ
  12. صدر نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا

    عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دے دی ہے۔

    صدر مملکت نے الیکشن ایکٹ 2017 ء کے سیکشن 57 ایک کے تحت 9 اپریل بروز اتوار پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کیلئے انتخابات کا اعلان کیا ہے۔

    دریں اثناء سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کی طرف سے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کی تاریخ دینا آئین کے مطابق نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ صدر اور گورنر کا عہدہ ایک علامتی عہدہ ہے اور صدر مملکت اس وقت ہی تاریخ دے سکتے ہیں جب وزیر اعظم ان کو ایڈوائس دیں یا ان کو ایسا کرنے کے لیے کہیں۔

    انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہی جائے گا۔

    احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر اور سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا بھی کہنا ہے کہ صدر کے پاس تاریخ دینے کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی آئینی حیثیت ہے البتہ اس کی سیاسی حثیت ہوسکتی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ صدر غیر جانبدار نہیں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آئین میں صدر کے پاس کوئی صوبدیدی اختیار نہیں ہے۔

    عرفان قادر کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے آئین کے جس ارٹیکل کا حوالہ دیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کمیشن کے ساتھ بامقصد مشاورت کرنے کے پابند ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ صدر کی طرف سے تاریخ کا اعلان کرنا کافی نہیں ہے، کیونکہ انتخابات تو الیکشن کمیشن نے ہی کروانے ہیں۔

    دوسری جانب صدر مملکت کی طرف سے تاریخ کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کا اجلاس منگل کے روز طلب کیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. عمران خان نے اسلام آباد میں درج مقدمے میں دوبارہ حفاظتی ضمانت دائر کر دی

    پی ٹی آئی رہنما عمران خان نے اظہر صدیق ایڈوکیٹ کے زریعے تھانہ سنگ جانی اسلام آباد میں درج مقدمے میں دوبارہ حفاظتی ضمانت دائر کر دی ہے۔

    عمران خان کے خلاف تھانہ سنگ جانی میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی 15 روز کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکیں۔

  14. بریکنگ, درخواست ضمانت کیس: لاہور ہائی کورٹ کی عمران خان کو پانچ بجے تک پیش ہونے کی آخری مہلت

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حفاظتی ضمانت کی درخواست سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو شام پانچ بجے تک پیش ہونے کی آخری مہلت دے دی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے 16 فروری کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر حلف نامے اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق کی وضاحت کے لیے عمران خان کو آج پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    گذشتہ سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے آج دوپہر دو بجے تک عمران خان کو پیش ہونے کی مہلت دی تھی ، جسٹس طارق سلیم عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

    آج سماعت کے آغاز پر عمران خان لاہور ہائی کورٹ کی مہلت کے باوجود مقررہ وقت تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ دو بجے کے لیے کیس مقرر تھا۔

    وکیل انتظار پنجوتہ نے کہا کہ عمران خان کے وکیل خواجہ طارق رحیم راستے میں ہیں آ رہے ہیں، شاید رش میں پھنس گئے ہیں، کچھ دیر میں وکیل پہنچ جائیں گے جس پر عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔

    گذشتہ سماعت پر عدالت عالیہ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان کی لیگل ٹیم کے ساتھ مل کر سکیورٹی کے معاملات ر طے کرنے کی ہدایت کی تھی، عدالت نے دستخطوں میں فرق سے متعلق بھی عمران خان سے وضاحت طلب کر رکھی ہے جب کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن حملہ کیس میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  15. عمران خان کےخلاف پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں دہشت گردی کی دفعات خارج

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کے خلاف پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیسز میں دہشت گردی کی دفعات حذف کردیں۔

    فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج جواد عباس حسن نے فیصلہ سنایا جس کے بعد عدالت نے دہشت گردی کی دفعات نکال کر کیس سیشن کورٹ کو بھیج دیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے شریک ملزم نے دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

  16. معاملات مزید ابتری کا شکار ہوچکے ہیں، غیر مصدقہ آڈیو ویڈیو لیکس سے متعلق دائر درخواست کی فوری سماعت کی جائے: عمران خان کی چیف جسٹس سے استدعا

    imran khan

    ،تصویر کا ذریعہImran khan/facebook

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا غیر مصدقہ آڈیو اور ویڈیو لیکس سے متعلق سپریم کورٹ میں دائردرخواست کی فوری سماعت کی استدعا کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کو معاملے کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی خط لکھا ہے۔

    عمران خان کے خط کے متن کے مطابق ’گزشتہ کئی مہینوں سے مشکوک اورغیرمصدقہ آڈیوز اور ویڈیوز کےمنظرِ عام پرآنےکا سلسلہ جاری ہے۔ جن میں مختلف موجودہ اورسابق سرکاری شخصیات اور عام افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو سامنے لائی جا رہی ہے۔‘

    عمران خان کے مطابق ’منظرِعام پر آنے والی آڈیوز اور ویڈیوزغیرمصدقہ مواد پر مشتمل ہوتی ہیں جنھیں تراش خراش اور کاٹ چھانٹ کرکے ڈیپ فیک سمیت دیگر جعلی طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے۔‘

    خط کے متن کے مطابق ’چند ماہ پہلے بعض ایسی آڈیوز منظرِعام پر آئیں جن کے مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وزیراعظم کے دفتر’ اور وزیر اعظم ہاوس سے متعلق تھیں۔ جن سے تاثر ملتا ہے کہ ان مقامات کی خفیہ نگرانی یا یہاں ہونے والی بات چیت کی خفیہ ریکارڈنگز ایک معمول تھا۔‘

    تحریک انصاف

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    خط کے مطابق ’ایوانِ وزیراعظم بلاشبہ ریاست کا حساس ترین ایوان ہے جہاں قومی حساسیت کے حامل معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جاتا ہے۔ایوانِ وزیراعظم کی سیکیورٹی پر نقب سے عوام کی سلامتی، تحفظ اور مفادات و حیات پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں‘

    انھوں نے دعوی کیا کہ ’قومی شواہد موجود ہیں کہ ان غیرمصدقہ و جعلی آڈیوز/ویڈیوز کے ذریعے تنقیدی آوازوں کو دبایا جانا مقصود ہے، مجھ سمیت کئی سابق سرکاری شخصیات اور عام افراد ان جعلی، غیرمصدقہ اور کانٹ چھانٹ سے تیار کردہ لیکس کا نشانہ بن چکے ہیں۔‘

    خط میں کہا گیا ہے کہ ’دیگر بہت سے افراد کے ساتھ سینیٹر اعظم سواتی کے پرائیویسی کے بنیادی آئینی حق کو بری طرح پامال کیا گیا۔‘

    ان کے مطابق ’ اکتوبر 2022 میں ان آڈیو لیکس پر معزز عدالت کے روبرو ایک آئینی درخواست دائر کی۔ بدقسمتی سے اب تک میری یہ درخواست سماعت کیلئے مقرر نہ کی جا سکی اور اب معاملات بہتری کی بجائے مزید ابتری کے شکار ہوچکے ہیں۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ’اس مواد کی حفاظت کا کیا انتظام ہے؟ گزشتہ چند ماہ سے جاری اس سلسلے کو روکنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے، استدعا ہے کہ ان غیرمصدقہ و غیر مجاز آڈیو لیکس کے معاملے پر میری آئینی درخواست فوراً سماعت کیلئے مقرر کی جائے۔

  17. ’عمران خان کو عدالتوں میں جانے پر کوئی اعتراض نہیں‘

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ ’عمران خان ہر عدالت میں ہر پیشی پر جاتے رہے ہیں۔ عمران خان پر تمام مقدمات جھوٹے بنائے گئے ہیں۔ عمران خان کو عدالتوں میں جانے پر کوئی اعتراض نہیں‘

    اسد عمر کے مطابق ’عمران خان پر باقاعدہ منصوبے کے تحت حملہ کیا گیا۔ اب عمران خان کو سیکیورٹی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق عمران خان ذیادہ دھکم پیل برداشت نہیں کر سکتے۔‘

    اس موقع پر رہنما پی ٹی آئی شبلی فراز نے کہا عمران خان عدالت میں جانے کے لیے بالکل تیار ہیں۔آ ان کے مطابق ایک خاص مقام تک پہنچنے کے لیے عمران خان کی گاڑی کو آگے جانے کا اجازت نہیں دی گئی،اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے حکام سے بات چیت جاری ہے۔ ہائی کورٹ حکام سے گزارش ہے کہ ہماری استدعا منظور کی جائے۔‘

  18. عمران خان کی حفاظتی درخواست ضمانت پر سماعت آج ہو گی

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست سے متعلق کیس پر سماعت آج ہو رہی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ نے 16 فروری کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں حفاظتی ضمانت کی درخواست پر حلف نامے اور وکالت نامے پر دستخط میں فرق کی وضاحت کے لیے عمران خان کو آج پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے پیر کی دوپہر دو بجے تک چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو پیش ہونے کی مہلت دے رکھی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست سے متعلق کیس کی سماعت کریں گے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ سماعت پر عدالت عالیہ نے آئی جی پنجاب کو عمران خان کی لیگل ٹیم کے ساتھ مل کر سکیورٹی کے معاملات طے کرنے کی ہدایت کی تھی، عدالت نے دستخطوں میں فرق سے متعلق بھی عمران خان سے وضاحت طلب کر رکھی ہے جب کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن حملہ کیس میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    عمران خان کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ عمران خان کی گاڑی کو ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں ملی، شبلی فراز نے گاڑی کو احاطہ عدالت میں لانے کے لیے انتظامی سطح پر ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، عمران خان کی ہائیکورٹ میں پیشی بارے لیگل ٹیم عمران خان سے دوبارہ مشاورت کرے گی۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) سے عبوری ضمانت خارج ہونےکے بعد عمران خان نے حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت اسلام آباد کے تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  19. صدر سے ملاقات کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے مشاورتی اجلاس طلب کر لیا

    ECP

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب اور خبیر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کے حوالے سے ایوان صدر جانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کے اجلاس میں صدر مملکت کی طرف سے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دینے سے متعلق آج بلائے گئے اجلاس کے بارے میں مشاورت ہو گی۔

    الیکشن کمیشن صدر کے ساتھ مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم صدر کے ساتھ ملاقات کا حتمی فیصلہ ابھی ہونا ہے، صدر نے الیکشن کمیشن کو پیر کے روز ایوان صدر مشاورت کے لیے دعوت دی تھی۔

    واضح رہے الیکشن کمیشن نے ایوان صدر کو خط کا جواب دیتے ہوئے صوبوں کے انتخابات سے متعلق صدر کو مشاورتی عمل کا حصہ بنانے سے معذرت کی تھی، خط میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 105 کے تحت تحلیل شدہ اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ گورنر دے سکتا ہے۔

  20. آڈیو لیکس فیئر ٹرائل ایکٹ کی خلاف ورزی اور جے آئی ٹی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہhttps://www.youtube.com/@PTIOfficialPK

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آڈیو لیکس کو جے آئی ٹی تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیئر ٹرائل ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شہریوں اور سیاستدانوں کے فون کو ٹیپ کیا جاتا ہے اور یہ کام صرف تین قسم کے ایجنسیاں کر سکتی ہیں، وہ اسے پاکستان کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ کسی کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

    یاد رہے کہ حال ہی میں پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد کی ایک مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر سے بات کر رہی تھی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ فیئر ٹرائل ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور عدلیہ اس معاملے کا نوٹس لے۔

    انھوں نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ کوئی ایجنسی یا پولیس کسی کا فون ٹیپ نہیں کر سکتی جب تک یہ وزیر داخلہ سے نہ کہیں اور پھر وزیر داخلہ عدالت میں جائیں اور عدالت کا جج انھیں اجازت دے کہ یہ ملک کی ضرورت ہے یا اس سے دہشت گردی سے بچ سکتے ہیں یا کسی قومی مفاد کی حفاظت ہوسکتی ہے، تو پھر وہ فون ٹیپ کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ وہ کسی کا فون ٹیپ نہیں کر سکتے۔

    تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ یہ آڈیو لیک اس لیے کی گئی کہ جب جے آئی ٹی بنے تو اس کے کنوینر اس وقت کے سی سی پی او ڈوگر صاحب تھے اور ڈوگر صاحب نے حکومت کے سامنے اس بات کا انکشاف کردیا تھا کہ اس حملے میں تین لوگ ملوث ہیں، یعنی یہ قاتلانہ حملہ ایک طے شدہ منصوبہ تھا اور ایک شخص نہیں بلکہ اس میں کم از کم تین لوگ ملوث تھے اور انھوں نے اس کا ثبوت عدالت میں دے دیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں ثبوت جانے کے بعد افسروں کو بلیک میل کیا گیا، بلیک میل ہو کر کچھ افسروں نے استعفیٰ دے دیا لیکن سی سی پی او اپنے موقف پر ڈٹے رہے، یہ ساری باتیں میرے علم میں اس وقت آئیں جب ہم گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت گئے۔

    انھوں نے سوال کیا کہ فیئر ٹرائل ایکٹ کے تحت یہ ہمارے فون کیسے ٹیپ کر سکتے تھے، کیا انھوں نے اجازت لی تھی، کیا وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کسی جج کے پاس گئے تھے اور ان سے اجازت لی تھی، میں اس بارے میں جاننا چاہتی ہوں اور میں عدالت جا رہی ہوں اور عدالت میں جا کر سوالوں کے جواب دوں گی کہ یہ آئی ایس آئی، آئی بی اور پولیس میں سے کس نے ٹیپ کیا اور کس طرح سے ریلیز کیا کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ میرے بنیادی انسانی حقوق پر بہت بڑا حملہ ہوا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان تحقیقات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہی لوگ میرے اوپر حملوں میں ملوث تھے، عدلیہ سے درخواست ہے کہ میری پٹیشن سنی جائے اور ڈاکٹر یاسمین راشد فیئر ٹرائل ایکٹ کی خلاف ورزی پر کل عدالت جا کر کیس کریں گی۔