یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق تازہ ترین خبروں پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے اور نو فروری کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22.2 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق 16 فروری سے ہوگا۔ پیٹرول کی نئی قیمت 272 روپے فی لیٹر ہے۔
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق تازہ ترین خبروں پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے اور نو فروری کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 22.2 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق 16 فروری سے ہوگا۔
22.2 روپے کے اضافے کے ساتھ پیٹرول کی نئی قیمت 272 روپے فی لیٹر ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 9.68 اور ہائی سپیڈ ڈیزل میں 17.2 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یوں دونوں کی نئی قیمتیں بالترتیب 280 اور 196.68 روپے ہیں۔
مٹی کے تیل کی نئی قیمت 202.73 فی لیٹر ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ کے اواخر میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 35 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے لاہور میں غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر اتر آئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے الیکشن کے لیے حکومتوں کی قربانی دی، اگر الیکشن نہ ہوئے تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ڈرے ہوئے ہیں عوام منڈیٹ والی حکومت لے آئے گی اور ان کی کوشش ہے عمران خان کو گرفتار کر کے نااہل کیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب گرفتاریاں شروع ہوں گی تو میں گرفتاری دے دوں گا۔ جب ملک میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو عدالتوں کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مریم اور ان کا سوشل میڈیا عدالتوں پر دباؤ ڈال رہا یے۔ مریم نے چیف جسٹس پر جانب دار ہونے کا الزام لگایا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صرف عوام ہی عدالتوں اور اداروں کو مضبوط رکھی سکتی ہے۔ جنرل باجوہ نے مان لیا کہ انہوں نے رجیم تبدیل کی۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے تسلیم کیا کہ جنرل باجوہ مجھے ریکارڈ کرتے تھے انھوں نے اس بات کو تسلیم کر کے حلف کی خلاف ورزی کی۔
’انھوں نے تسلیم کیا کہ نیب ان کے زیرِ اثر تھا، کوئی آرمی چیف اپنے وزیر اعظم کا فون کیسے ٹیپ کر سکتا ہے۔ بطور آرمی چیف ایسا کرنا ایک سنجیدہ جرم ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’باجوہ کہتا تھا کہ امریکہ خوش نہیں ہے اور وہ روس کی مخالفت میں بیان دے رہے تھا۔ ہمیں یہاں نیوٹرل رہنا چاہیے تھا۔‘
وزیر خزانہ نے بتایا کہ کسانوں کے لیے 2000 ارب روپے کا پیکج دے چکے ہیں جس میں سے 1000 ارب روپے تک تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کسانوں کو زرعی آلات پر سستے قرضے دیے جائیں گے اور کسانوں کو کھاد پر 30 ارب روپے دیے جا رہے ہیں جبکہ یوتھ لون کے لیے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں، 75 ہزار سولر ٹیوب ویل لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ملک کو میثاق معیشت کی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتیں مل کر یہ میثاق کرتیں تاکہ حکومت کوئی بھی ملک کی معیشت کی پالیسیاں جاری رہتی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’میری خواہش تھی لیکن میں میثاق معیشت کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔‘
اسحاق ڈار کے منی بجٹ پیش کرنے کے بعد سینیٹ میں حزب اختلاف کے شور شرابےکی وجہ سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اجلاس جمعے کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا۔
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں منی بجٹ پیش کیا ہے جسے فنانس سپلیمنٹری بل 2023 کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تحت مزید ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز صدر مملکت کی جانب سے آرڈیننس جاری کرنے پر ’انکار‘ کے فوری بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ٹیکس ترمیمی بل، فنانس بل 2023 کی منظوری دی گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقامی سطح پر تیار ہونے والی سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کے لیے ایس آر او 178 جاری کیا جس سے تمباکو کی مصنوعات پر عائد ٹیکس سے 60 ارب روپے اکٹھے ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ حکومت جنرل سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد جبکہ لگژری اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بڑھاکر 17 سے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
’اس کے علاوہ بقیہ 55 ارب روپے ہوائی جہاز کے ٹکٹس، چینی کے مشروبات پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر اور ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر کے اکٹھے کیے جائیں گے اور شادی ہالز پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو اس چیز کا احساس ہے کہ مہنگائی زیادہ ہے اس لیے ہم نے کوشش کی ہے کہ غریب عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے، اسی نتاظر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظیفے میں اضافہ کیا جا رہا ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 40 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ پانچ سال پرانے ٹریکٹرز کی درآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ان کا مزید بتایا کہ ’ایئرٹکٹ پر بیس فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے شادی کی تقریبات کے بلوں پر دس فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگا دیا گیا ہے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔
’سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی دو روپے فی کلوگرام کردی گئی ہے جبکہ گندم چاول دودھ دالوں کھلے دودھ پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کو مزید چالیس ارب روپے دیے جا رہے ہیں۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بینکنگ کورٹ کو 22 فروری تک عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ کرنے سے روک دیا ہے۔
واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین نے حکم دیا تھا کہ عمران خان آج ہی عدالتی وقت ختم ہونے سے پہلے عدالت میں پیش ہوں اور ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
عمران خان نے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کی طرف سے عبوری ضمانت عدم حاضری کی بنا پر مسترد کر دی ہے۔
فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل افتخار شیروانی کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے ضمانت کی منسوخی پر اُنھیں اس عدالتی فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنی ہو گی۔
اُنھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اگر ملزمان ضمانت کی درخواست واپس لے لیتے ہیں تو پھر پولیس اُنھیں اس مقدمے میں گرفتار کرسکتی ہے۔
گلالئی اسماعیل کے والد اور والدہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس فیصلے پر خوش ہیں۔
پروفیسر اسماعیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے 167 مرتبہ عدالتوں میں پیشی بھگتی ہے اور اُنھیں جس چیز کا سب سے زیادہ افسوس ہوا وہ یہ کہ ایسے جھوٹے گواہ عدالتوں میں پیش کیے جنھوں نے کہا کہ انھوں نے دہشتگرد کارروائیوں کے لیے پیسے دیے، اسلحہ دیا یا دیگر معاونت فراہم کی۔
واضح رہے کہ دونوں افراد پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ان پر سنہ 2013 میں پشاور کے سینٹ جان چرچ اور 2015 میں پشاور کی امامیہ مسجد پر حملے میں معاونت کا الزام لگایا گیا تھا۔
اُنھوں نے مزید کہا اُنھیں مجرم ثابت کرنے کے لیے حکومت نے لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں مگر یہ کیس اب غلط ثابت ہو گیا ہے۔
گلالئی اسماعیل کی والدہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر یہ مقدمات اس لیے قائم کیے گئے ہیں کیونکہ ان کی بیٹی انسانی حقوق کی بات کرتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ آج کے فیصلے سے نہایت خوش ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کی حکومت نے ملک میں اشیا کی خریداری پر نافذ سیلز ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے اور اب یہ شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دی گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد ان تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا جن پر سیلز ٹیکس نافذ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کے مقدمے میں عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل کو اپنے مؤکل کے ساتھ ڈھائی بجے تک مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
دوران سماعت عمران خان کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج نے 27 فروری تک عبوری ضمانت دے رکھی ہے۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ 27 فروری تک عبوری ضمانت میں توسیع دے دیں۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کوشش کی مگر سفر نہیں کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان نہ کبھی ملک اور نہ ہی عدالت سے بھاگے۔
جس پر انسداد دہشت گردی کے جج نے ریمارکس دیے کہ ’ہم وہ چیز سیٹ کریں گے جو ہمیشہ کے لیے طے ہو۔ جو ریلیف خاص آدمی کے لیے ہے وہی عام آدمی کے لیے ہو گا۔‘
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع سے قومی خزانے ہر بوجھ نہیں پڑے گا اور وہ دس ہزار روپے کے ضمنانتی مچلکے عدالت میں جمع کروانے کو تیار ہیں۔
بابر اعوان نے عمران خان سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ہے۔ جس پر عدالت نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مشاورت کر لیں وگرنہ ہم فیصلہ سنائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGulalai Ismail
پشاور میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے والدین کو دہشتگردی کے مقدمات میں بری کر دیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر محمد اسماعیل اور ان کی اہلیہ پر الزامات ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔
واضح رہے کہ دونوں افراد پر انڈیا سے رقم وصول کرنے اور اسے ’ریاست مخالف سرگرمیوں‘ اور ’دہشتگردوں کی مالی اعانت‘ کے لیے استعمال کرنے کا الزام تھا۔
ان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُن کی فراہم کردہ رقم سے سنہ 2013 میں پشاور کے سینٹ جان چرچ اور 2015 میں امامیہ مسجد پر حملہ کیا گیا۔
فردِ جرم میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزمان نے پاکستان میں مذہبی، فرقہ وارانہ اور نسلی منافرت پھیلانے کی کوشش کی۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کے مقدمے میں عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کر دی ہے۔
عدالت نے عمران خان کو آج ہی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی بینکنگ عدالت بھی عمران خان کو حاضری سے اسثتنیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے اور آج ہی پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ٹی آئی کی مبینہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت آج اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ میں ہوئی جس میں عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین نے حکم دیا ہے کہ عمران خان آج عدالتی وقت ختم ہونے سے پہلے عدالت میں پیش ہوں۔
اس سے قبل عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے عمران خان کی ایکسرے رپورٹ عدالت میں پیش کی اور کہا کہ ان کے مؤکل ہر عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں۔
سلمان صفدر نے کہا کہ وہ صرف تین ہفتے مانگ رہے ہیں کہ عمران خان سپورٹ کے بغیر کھڑے ہو سکیں۔
تاہم بعد میں یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے سابقہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی ائی کے منحرف اراکین کی اپیلیں ’غیر مؤثر‘ ہونے کی بنا پر خارج کر دیں۔
یہ درخواستیں پنجاب اسمبلی کے تحلیل ہو جانے کے باعث غیر مؤثر قرار دی گئیں۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ڈی جی الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ الیکشن کمیشن کو شاید ہائی کورٹ نے پنجاب انتخابات کے حوالے سے حکم دیا تھا۔
اُنھوں نے پوچھا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد اب الیکشن کمیشن کیا کر رہا ہے؟ اس پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے کل گورنر پنجاب سے مشاورت کی ہے مگر گورنر سے ملاقات کے منٹس ابھی وصول نہیں ہوئے۔ اُنھوں نے کہا کہ معاملے پر گورنر پنجاب شاید قانونی راستہ اپنائیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن الیکشن کی تاریخ کے لیے گورنر سے کیوں مشاورت کر رہا ہے۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شاید ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو گورنر سے مشاورت کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ کا حکم ہے تو پھر الیکشن کمیشن مشاورت کرے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پیش نہیں ہوئے اور ان کی جانب سے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی گئی۔
بینکنگ کورٹ نے عمران خان کی وڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی درخواست مسترد کر رکھی ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی، شبلی فراز اور فیصل جاوید سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
سماعت سے قبل عدالتی عملے کی سکیورٹی صورتحال کے باعث بینکنگ کورٹ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ عدالتی اہلکار کا کہنا تھا کہ جج رخشندہ شاہین کی ہدایت ہے کہ ایک ایک کر کے وکیل عدالت میں پیش ہوں۔
جج رخشندہ شاہین کا کہنا تھا کہ ’میں کورٹ میں رش نہیں چاہتی، ایک پٹیشنر اور ایک وکیل کمرہ عدالت میں موجود رہیں، آپ لوگ رش کر رہے ہیں ، آپ لوگوں کو پہلے ہی میرے سٹاف کی بات سن لینی چاہیے تھی۔‘
ممنوعہ فنڈنگ کیس کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کی گئی، بینکنگ کورٹ کی جج نے کورٹ رپورٹرز کو کمرہ عدالت سے نکلنے کا حکم دیا۔
اس موقعے پر رپورٹرز نے کہا ’ہم اس کیس کی کوریج کے لیے موجود ہیں، کیا یہ اوپن کورٹ نہیں ہے؟ کیا یہ پروسیڈنگ ان کیمرا ڈیکلیئر کی ہے جو رپورٹنگ سے روکا جا رہا ہے؟
انھوں نے کہا ’ہم تو کچہری اور خصوصی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک کیسز کی کوریج کرتے ہیں۔‘
اس پر جج رخشندہ شاہین نے کہا ’میری عدالت ہے جیسے میں چلاؤں گی ویسے چلے گی ، آپ لوگ باہر چلے جائیں‘۔
اس پر صحافیوں نے کہا ’آپ اپنی آرڈر شیٹ کا حصہ بنا دیں کہ یہ آج ان کیمرہ کارروائی تھی‘۔
یاد رہے کہ عمران خان ممنوعہ فنڈنگ کیس میں آج تک عبوری ضمانت پر ہیں۔ عدالت نے گذشتہ سماعت پر ریمارکس دیے تھے کہ عمران خان آج بھی پیش نہ ہوئے تو ضمانت خارج کر دی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کی قومی اسمبلی کا اجلاس آج آج سہ پہر ساڑھے تین بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہورہا ہے۔
اجلاس کا سات نکاتی ایجنڈے پر بحث کی جائے گی۔
فنانس ترمیمی بل 2023 بھی قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس کے دوران ایجنڈے میں شامل رہے گا۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایوان میں مالی ضمنی ترمیمی بل پیش کریں گے۔
وزیر خزانہ آج ہی مالی ضمنی بل کی مصدقہ کاپی سینیٹ میں بھی پیش کریں گے۔
اسلام آباد میں بڑھتے جرائم کا معاملہ بھی قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ایوان صدر کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ایوان صدر میں ملاقات کرکے انھیں آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ حکومت ایک آرڈیننس کے ذریعے اضافی ریونیو جمع کرنا چاہتی ہے۔
اس کے بعد صدر عارف علوی نے تجویز دی کہ اس اہم معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لینا زیادہ مناسب ہوگا۔انھوں نے بغیر کسی تاخیر کے بل کو پیش کرنے کے لیے فوری طور پر پارلیمان کا اجلاس طلب کرنے پر زور دیا تھآ۔
سابق وزیر اعظم عمران خان و دیگرکیخلاف فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمے سماعت آج ہو رہی ہے۔
بینکنگ کورٹ کی جج رخشندہ شاہین کیس کی سماعت کریں گی۔
عدالت عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ عدالت نے عمران خان آج عبوری ضمانت کیس میں پیشی کا آخری موقع دے رکھا ہے۔
عمران خان کے وکلا نے بینکوں سے ریکارڈ نکوانے کیلئے وقت مانگا تھا۔ عمران خان ایف آئی کے سامنے بھی تاحال شامل تفتیش نہیں ہوئے۔
احتجاج اور کارسرکار میں مداخلت کا کیس
انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج اور کارسرکار میں مداخلت کا کیس کی سماعت بھی آج ہوگی۔
سماعت کے دوران عمران خان کی عبوری ضمانت پر سماعت کی جائے گی۔
کیس پر سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کریں گے۔
عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو آج طلب کر رکھا ہے۔
عدالت میں عمران خان کی مستقل ضمانت پر فیصلہ آج متوقع ہے۔ اے ٹی سی نے بھی آج عمران خان کو پیش ہونے کا آخری موقع دے رکھا ہے۔
عمران خان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت تھانہ سنجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر سابق آرمی چیف ’جنرل باجوہ سپر کنگ تھے تو عمران خان سپر کرپٹ ہیں۔‘
منگل کو ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے ’اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہر طاقت استعمال کی اور آج وہ ٹی وی پر بیٹھ کر تماشا لگاتے ہیں، وہ جسے تاحیات ایکسٹینشن دے رہے تھے آج ان کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کہا کرتے تھے کہ جنرل باجوہ جیسا سپہ سالار پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں آیا، وہ معیشت، فارن پالیسی میں میری مدد کر رہے تھے۔ آج عمران خان کہتے ہیں کہ تمام چیزوں کے ذمہ دار جنرل باجوہ تھے، عمران خان اب اقرار کر رہے ہیں کہ کوئی امریکی سازش نہیں ہوئی تھی۔ عمران خان اب کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔
’عمران خان ان لوگوں کی توہین کر رہے ہیں جو ان کی باتوں کو سچ سمجھتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے، عمران خان کہانیاں گھڑتے ہیں، آج ہم نہیں عمران خان خود کہہ رہے ہیں کہ کسی قسم کی کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، اگر عمران خان کو پتہ تھا کہ جنرل باجوہ ان کی حکومت گرا رہے ہیں تو تحریک عدم اعتماد کی رات انہیں تاحیات توسیع دینے کی آفر کیوں کی؟‘
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ ’اگر انھیں پتہ تھا کہ سارے کام باجوہ صاحب کر رہے ہیں اور الزامات آپ پر لگ رہے ہیں تو آپ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر کس کی ملازمت کر رہے تھے؟ آج آپ کا خالی بیان دے دینا کافی نہیں، آپ پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہLHC
لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر لی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن شہری منیر احمد کی درخواست پر بدھ کو سماعت کریں گے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو گورنر سے مشاورت کے بعد الیکشن کی تاریخ دینے کا حکم دیا تھا تاہم عدالتی احکامات کے باوجود الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تاریخ نہیں دی۔

،تصویر کا ذریعہGovernor House
لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری حکم کے تحت سیکریٹری الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کے درمیان مشاورتی میٹنگ میں گورنر پنجاب نے کہا کہ کیوںکہ پنجاب اسمبلی انھوں نے تحلیل نہیں کی لہٰذا وہ آئین کے تحت الیکشن کی تاریخ دینے کے مجاز نہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں ان کی تجویز الیکشن کمیشن پر لاگو نہیں ہو گی اور وہ کوئی ماورائے آئین و قانون اقدام نہیں اٹھانا چاہتے۔‘
اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ’عدالت عالیہ کا فیصلہ تشریح طلب ہے جس کے لیے ہم قانونی راستہ اختیار کر رہے ہیں تاکہ آئین و قانون کی ضروری تشریح کی جائے لہٰذا انھوں نے سرِدست صوبائی اسمبلی پنجاب کے انتخابات کی تاریخ نہیں دی۔‘