یہ صفحہ مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق تازہ ترین خبروں پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے اور نو فروری کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری ہے، جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز پر ڈالر مزید تین روپے 33 پیسے سستا ہو کر 270 روپے کی سطح پر آگیا ہے۔
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق تازہ ترین خبروں پر بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے اور نو فروری کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کے الزام سے متعلق کیس میں گرفتار سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر بعد از گرفتاری کے مقدمے کی سماعت کی۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت میں جمعرات کو مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل سردار عبدالرازق نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی آر کے مطابق شیخ رشید پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان تصادم کروانا چاہتے ہیں، ان الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی، ایف آئی آر سے قبل پولیس کی جانب سے نوٹس بھیجا گیا جس کا میڈیا کے ذریعے علم ہوا۔
شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس کو معطل کیا پھر بھی ایف آئی آر درج کی گئی، درخواست گزار نے کہا شیخ رشید نے جس سازش کا ذکر کیا ہے اس پر شیخ رشید سے تحقیقات کروائی جائے ، جو دفعات ایف آئی آر میں لگائی گئی وہ دفعات وفاقی یا صوبائی حکومت لگا سکتی ہے، کوئی شہری درج نہیں کروا سکتا۔
شیخ رشید کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے مذہبی گروپوں ،لسانی گروپوں یا کسی قومیت پر کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس پر یہ دفعات لگ سکیں۔ شیخ رشید عمران خان سے ملاقات کر کے آئے اور انھوں نے عمران خان کے بیان کا ذکر کیا۔ عمران خان نے بیان دیا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اور پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کی جانب سے صرف ہتک عزت کا دعویٰ کیا گیا۔
شیخ رشید کے وکیل سردار عبد الرازق نے عدالتسے درخواست ضمانت منظور کرنے کی استدعا کر دی۔
اس پر پراسکیوٹر عدنان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس معطل کیا، مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ کے دوران تفتیش کرنا قانون کے مطابق ہے۔ شیخ رشید کے وکلا نے کیس سے ملزم کو خارج کرنے کے مطابق دلائل دیے ہیں۔
جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ وکیلِ ملزم کی جانب سے کیس سے خارج کرنے کے مطابق ہی دلائل دیے جاتے ہیں۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے کوئی عام جرم نہیں کیا، اس میں سزا سات سال تک ہے۔ملک کی موجودہ صورتحال میں ایسا بیان دینا ملک میں اشتعال پھیلانا ہے۔
پراسیکوٹر عدنان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے اپنےجُرم کو کئی بار دہرایا، بار بار ایک ہی بیان دیا۔ مقامی عدالت کے جج نے پراسکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دفعات کے مطابق شیخ رشید کے بیان کا اثر پوری قوم پر ہے ایسا ہی ہے؟ آصف علی زرداری کہہ رہے ہیں کہ بیان شیخ رشید نے نہیں عمران خان نے دیا۔
جج نے شیخ رشید کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے شیخ رشید کو معلومات کے حوالے سے تفتیش کرنے کے لیے بلایا؟ جس پر شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازاق نے کہا کہ انفارمیشن پولیس ریکارڈ میں موجود ہے جو شیخ رشید نے شئیر کر دی ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ ’پولیس نے نوٹس بھیجا اور نوٹس میں نہ آپ کو ملزم کہا گیا نہ ہی ایف آئی آر کا ذکر کیا گیا۔ آپ پولیس کے سامنے پیش ہونے کے بجائے ہائیکورٹ چلے گئے۔‘
جج نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر صرف پولیس ریکارڈ کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔کیا شواہد تھے جس پر شیخ رشید نے بیان دیا؟ شیخ رشید تو کہتے ہیں شواہد موجود نہیں ہیں۔‘
اس موقع پر جج نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ’شیخ رشید کی جس کے ساتھ میٹنگ ہوئی ان کو شامل تفتیش کیا؟ کیا پولیس نے عمران خان کو تفتیش میں شامل کیا؟ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ شیخ رشید نے کہا کہ ثبوت نہیں ہیں، اس لیے عمران خان کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔
اس موقع پر مدعی وکیل کی جانب سے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا کر دی گئی۔
جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے چالان بنا لیا ہے، عمران خان پر جھوٹے الزامات پر تفتیش ہو گی۔عمران خان پر سازش کے لیے تفتیش نہیں بنتی۔
عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل دوسرے روز ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری ہے، جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز پر ڈالر مزید تین روپے 33 پیسے سستا ہو کر 270 روپے کی سطح پر آگیا۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں تین روپے 33 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد ڈالر 270 روپے کا ہو گیا ہے، جو گذشتہ روز 273 روپے 33 پیسے پر بند ہوا تھا۔
گذشتہ چار روز کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں چھ روپے 58 پیسے کی کمی آئی ہے۔
ملتان سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق ایم این اے عامر ڈوگر کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
بدھ کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پی ٹی آئی اور پی ایم ایل این کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی اور جھگڑا ہوا جس کے بعد الیکشن کمیشن کی شکایت پر کئی افراد کو گرفتار کیا گیا۔
عامر ڈوگر کو ان کے ڈیرے سے 12 کارکنوں سمیت گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس نے این اے 155 میں لیگی امیدوار شیخ طارق رشید اور ملک انور کو حراست میں لے لیا ہے۔
پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ این اے 155 کے لیے عامر ڈوگر نے کاغذات جمع کروانے تھے، وہاں کوئی واقعہ ہوا ہے جس کو بنیاد بنا کر اُنھیں ’گرفتار‘ کیا گیا ہے۔
مگر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ اس ’گرفتاری‘ کی مذمت کرتے ہیں اور اُنھیں فی الفور رہا کرنا چاہیے۔
جب اینکرپرسن نے اُن سے پوچھا کہ کیا عامر ڈوگر نے خود گرفتاری دی تو شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا کیونکہ میری کسی کے ساتھ بات نہیں ہوئی اور میرے سامنے اس کے حقائق نہیں ہیں۔‘
اب سے کچھ دیر قبل کچھ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
تاہم اب پاکستان تحریکِ انصاف کے ترجمان ریاض فتیانہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا اور پارٹی کل ایوان میں جائے گی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کو ایک دن کے راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
سماعت کے دوران شیخ رشید نے کہا کہ ’میں قرآن پر حلف دیتا ہوں، یہ جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے۔ پولیس ساٹھ سال میرے ساتھ رہے ہیں۔ یہ سیاسی ہمدردیاں بندلنا چاہتے ہیں۔ آپ میری بیٹیوں کی جگہ ہیں، یہ فوج ہماری ہے۔ فوج سے کبھی نہیں لڑوں گا۔
’یہ رات کو مجھے کسی اہم شخصیت سے ملوانے لے جانا چاہتے تھے۔ میں قرآن پر حلف دیتا ہوں میں نے کسی پولیس والے کی وردی نہیں پھاڑی۔ میں نے موبائل کا پاسورڈ دے دیا ہے۔ میں جان دے دوں گا، ہمدردیاں تبدیل نہیں کروں گا۔‘
شیخ رشید نے کہا کہ ’مری پولیس نے گھنٹوں مجھ سے تفتیش کی ہے۔ تمام کام آبپارہ پولیس نے کیا۔ مری، لسبیلہ اور کراچی پولیس معصوم ہے۔ میرے پیسے، موبائل اور گھڑیاں پولیس نے نکال لیں۔ میرے موبائل میں کسی بھارتی یا را کے ایجنٹ کا نمبر نہیں۔‘
جج نے مری پولیس سے استفسار کیا کہ ’کیا پہلے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی؟‘
تفتیشی افسر تھانہ مری نے بتایا ’پہلی بار کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہیں کی۔‘
وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ ’پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا۔ جس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہو وہ تفتیش نہیں کرسکتا۔۔۔ کل مری پولیس سفری ریمانڈ لے سکتی تھی کیوں نہیں لیا گیا۔ اسلحہ لے گئے جس کا لائسنس موجود تھا۔ انھوں نے کیا چیز برآمد کرنی ہے۔‘
’متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ چھٹی پر ہیں۔ کل بھی راہداری ریمانڈ کی استدعا ہوسکتی تھی۔ کیا ہوم سیکرٹری لاہو، ڈی سی راولپنڈی یا متعلقہ انتظامیہ کو گرفتاری سے آگاہ کیا گیا؟ شیخ رشید کے گھر سے سب کچھ برآمد کرلیا۔ پھر راہداری ریمانڈ کیوں چاہیے؟ پہلے انھوں نے سفری ریمانڈ مانگا جو مسترد ہوا، اب اسی بنیادوں پر سفری ریمانڈ نہیں لیا جا سکتا۔‘
پراسیکوٹر عدنان نے بتایا کہ ’آپ کی عدالت سے صرف راہداری ریمانڈ کے حوالے سے معاملہ آیا ہے۔ شیخ رشید جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں۔ شیخ رشید کو مری کی عدالت میں پیش کرنا ہے۔‘
شیخ رشید کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’میری تھانہ مری میں درج مقدمے میں پیشی ہو چکی ہے۔ مجھ سے جیل میں تھانہ مری میں درج مقدمے میں تفتیش ہو چکی ہے۔‘
متعلقہ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شیخ رشید کو ایک دن کے راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے کر دیا۔

پاکستان کے صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی فوری طور پر تاریخ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کو لکھے جانے والے ایک خط میں صدر عارف علوی نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرے اور پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابی شیڈول جاری کرے۔‘
انھوں نے لکھا ہے کہ ’الیکشن کمیشن انتخابات کا اعلان کرے تاکہ صوبائی اور مستقبل کے عام انتخابات کے حوالے سے خطرناک قیاس آرائیوں پر مبنی پروپیگنڈے کو ختم کیا جا سکے۔‘
صدر مملکت نے اپنے خط میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اگر الیکشن کمیشن اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہا تو بالآخر کمیشن ہی کو آئین کی خلاف ورزی کا ذمہ دار اور جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘
صدر نے لکھا ہے کہ ’آئین کی تمہید میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ریاست اپنی طاقت اور اختیار کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی‘ اور ’آئین میں جمہوری اصولوں اور اقدار کی پابندی اور پیروی کے بارے میں کوئی ابہام نہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’دنیا کی پرانی جمہوریتوں نے جنگوں کے دوران بھی انتخابات میں کبھی تاخیر نہیں کی۔‘ انھوں نے مثال دی کہ ’امریکہ نے 1812 میں برطانیہ کے ساتھ جنگ کے باوجود انتخابات کرائے جبکہ امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1864 میں خانہ جنگی کے دوران بھی انتخابات کو معطل کرنے کا نہیں سوچا۔‘
صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’انتخابات ملتوی یا ان میں تاخیر کرنے کا جواز فراہم کرنے والے حالات ملک میں نہیں اور حالیہ عالمی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ انتخابات کے التوا نے جمہوریت کو طویل مدتی نقصان پہنچایا۔‘
تحریک انصاف کے 43 ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ایم این ایز کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کر دیا ہے۔
ایم این ایز کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ استعفے منظور کرنے سے قبل قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے ۔
جسٹس شاہد کریم نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ بتائیں کس قانون کو فالو نہیں کیا گیا۔ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے استعفے منظور کرنے کے طریقہ کار بارے عدالت کو آگاہ کیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ۔
جسٹس شاہد کریم نے نے تحریک انصاف کے 43 مستعفی ایم این ایز کی درخواست پر سماعت کی۔
ریاض فتیانہ سمیت 43 ارکان نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں سپیکر کے 22 جنوری اور الیکشن کمیشن کے 25 جنوری کے نوٹیفکیشن چیلنج کیے گئے ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ممبران اسمبلی نے استعفیٰ منظور ہونے سے قبل ہی واپس لے لیے تھے اور استعفے واپس لینے کے بعد سپیکر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ استعفے منظور کریں۔
درخواست کے مطابق ممبران اسمبلی کے استعفیٰ منظور کرنا خلاف قانون اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ممبران قومی اسمبلی کے استعفے عدالت عظمی کے طے کردہ قوانین کے برعکس منظور کیے گیے۔
درخواست گزار کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلیے استعفے منظور کیے ۔ استعفی منظور کرنے سے پہلے سپیکر نے ممبران کو بلا کر موقف نہیں پوچھا۔
استدعا کی گئی کہ عدالت سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے استعفی منظور کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے۔ عدالت سپیکر اور الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سابق فوجی صدر اور سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی نماز جنازہ کراچی کے ملیر کینٹ میں واقع پولو گراؤنڈ میں ادا کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کے علاوہ پرویز مشرف کے جنازے میں موجودہ اور ریٹائرڈ آرمی افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

،تصویر کا ذریعہISPR
سابق آرمی چیفس اشفاق پرویز کیانی، قمر جاوید باجوہ بھی اس جنازے میں شریک تھے۔

،تصویر کا ذریعہISPR
خیال رہے کہ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کی آخری رسومات فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔ سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کے الزام سے متعلق کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیر نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔
خیال رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو دو فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا جب کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے خلاف کراچی اور حب میں درج مقدمات پر کارروائی سے روک دیا تھا۔
شیخ رشید کے وکیل سردار عبد الرازق، انتظار پنجوتھہ اور تفتیشی افسر انسپکٹر عاشق عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت تفتیشی افسر کی جانب سے ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔
شیخ رشید کے وکلا کی جانب سے وکالت نامہ بھی جمع کروا دیا گیا، مقدمے کے مدعی کے وکیل سلمان منیر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
جج نے شیخ رشید کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق شیخ رشید عمران خان کے قتل کی سازش کا حصہ نہیں؟ جس پر سردارعبدرازق نے جواب دیا کہ شیخ رشید نے عمران خان کے بیان کا حوالہ دیا اورکہا کہ عمران خان جو کہہ رہے ٹھیک کہہ رہے۔

،تصویر کا ذریعہDGPR
گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے لاہور میں گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی سے ملاقات کی ہے جس میں سرکاری بیان کے مطابق ’باہمی دلچسپی کے امور اور امن و امان کی صورتحال پر گفتگو‘ کی گئی ہے۔
ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں گورنر پنجاب نے پنجاب کے الیکشن آئندہ عام انتخابات کے ساتھ کروانے کا عندیہ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بار بار الیکشن پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ معلوم ہے کہ چھ ماہ بعد ملک بھر میں عام انتخابات آ رہے ہیں۔ پھر دو صوبوں میں جلد الیکشن کی ضد کیوں کی جا رہی ہے۔
’ملک میں معاشی مسائل ہیں۔ معلوم ہے کہ الیکشن پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’20 حلقوں میں ایک ہی شخص کھڑا ہوگا اور پھر سب سے استعفی دے دے گا۔ پھر ان حلقوں میں الیکشن کروائے جائیں گے تو اس راہ کو بند ہونا چاہیے۔‘
سرکاری سطح پر جاری کردہ بیان کے مطابق اس ملاقات میں ’دونوں صوبوں کے درمیان بالخصوص تعلیم کے شعبے میں رابطے کو مزید بڑھانے پر زور دیا گیا۔ دونوں ہم منصب نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔‘
گورنر پنجاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘
گورنر پنجاب نے اپنے ہم منصب کو یونیورسٹیوں کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کل صبح انقرہ روانہ ہوں گے، وہ صدر اردوان سے زلزلے کی تباہی، جانی نقصان پر افسوس اور تعزیت، ترکیہ کے عوام سے یکجہتی کریں گے۔
’وزیراعظم کے دورہ ترکیہ کی وجہ سے جمعرات 9 فروری کو بلائی گئی اے پی سی مؤخر کی جا رہی ہے۔ اتحادیوں کی مشاورت سے نئی تاریخ کا اعلان ہوگا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہEPA
توشہ خانہ ریفرنس میں فوجداری کارروائی کے کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جج نے استفسار کیا کہ ’کیا مچلکے جمع کروا دیے؟‘ جس پر وکیل گوہر علی خان نے بتایا ’جی عمران خان کے ضمانتی مچلکے جمع کروا دیے۔‘
جج نے ریمارکس دیے کہ ’ایسے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر ہوتی رہی تو فرد جرم کیسے عائد ہوگی؟‘
وکیل علی بخاری نے اعتراض کیا کہ ’ہمیں مصدقہ کاپیاں فراہم نہیں کی گئیں۔ واٹس ایپ کی سکرین شارٹس لگا کر کاپیاں فراہم نہیں کی جاتیں۔‘
وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پی ٹی آئی وکلا کو مصدقہ کاپیاں فراہم کی ہیں۔ عدالت کے سامنے پی ٹی آئی وکلا کو مصدقہ کاپیاں فراہم کی ہیں۔‘
جج نے ہدایت دی کہ تمام ثبوتوں کی تصدیق شدہ کاپیاں عدالت اور پی ٹی آئی کو فراہم کریں۔
وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’ہم آج ہی کمپلینٹ اور ثبوتوں کی مصدقہ کاپیاں فراہم کردیں گے۔‘
وکیل الیکشن کمیشن نے اعتراض کیا کہ ’عمران خان ابھی تک عدالت کیوں نہیں آئے؟ کنٹینرز پر عمران خان کو ناچتے ہوئے تو ہم نے دیکھا ہے۔‘
وکیل علی بخاری نے کہا کہ ’ایسے بیانات نہ دینے جائیں جس سے لگے کہ منشیوں والا کام کیا جا رہا ہے۔ قانون کی بات کی جائے یہ نہ ہو کہ ہمیں بھی بولنا پڑے۔‘
’15 فروری کو سپیشل جج سینٹرل رخشندہ شاہین کی عدالت میں عمران خان کی پیشی ہے، اس کے بعد کی تاریخ دے دیں۔‘
جج نے استفسار کیا کہ ’کیا عمران خان نے 15 فروری کو جج رخشندہ شاہین کی عدالت میں آنا ہے؟ مجھے ایک تاریخ بتا دیں کہ عمران خان کب عدالت آئیں گے؟‘
وکیل نے جواب دیا ’عمران خان کی صحت نے اجازت دی تو آئیں گے۔ ڈاکٹرز کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں۔‘
وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے وکیل اپنے ساتھ مراثی لاتے ہیں۔‘
اس پر پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن کے نمائندوں کے درمیان بحث ہوئی۔ پی ٹی آئی وکلا نے کہا ’ان کو کہیں اپنے الفاظ واپس لیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل منشی ہیں۔ ہمارے ساتھ سیاسی میدان میں مقابلہ کریں، پھر جواب دیتے ہیں۔‘
عدالت نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے وکلا کو تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کرنے تک سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔
عدالت نے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
پنجاب پولیس نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے گجرات ہاؤس کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس اس وقت گھر کے اندر تلاشی لے رہی ہے جبکہ خود پرویز الٰہی گھر پر موجود نہیں ہیں۔
ان کے مطابق سندھ پولیس نے پرویز الٰہی کے سابق پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی کو مٹیاری سندھ سے گرفتار کر لیا ہے۔ان کے مطابق محمد خان بھٹی کے گھر سے بھی پولیس کمپیوٹر اور دیگر اشیا اٹھا کر لے گئی۔
لاہور ہائی کورٹ نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسمنٹ سمیت دیگر سرچارجز کی وصولی غیر قانونی قرار دے دی۔ عدالت نے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے خلاف دائر درخواستیں منظور کرلی ہیں۔
جسٹس علی باقر نجفی نے مختلف نوعیت کی 3659 درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ زرعی اور گھریلو صارفین کے بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمبٹ خلاف قانون ہے۔
عدالت نے فیول ایذجسٹمنٹ کی وصولی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سولر اور نیوکلئیر سمیت دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کے مطابق اوور چارجنگ کرنے والوں کے خلاف نیپراکو کارروائی کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری پر عمران خان کے مبینہ قتل کے الزام میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشیداحمد کے خلاف ملک بھر میں مقدمات درج کرنے سے روک دیا ہے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کی عدالت سے جاری سماعت کے تحریری حکم نامے میں عدالت کاکہنا ہے کہ شیخ رشید کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمے سے جیسے الزام میں مزید کوئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔
شیخ رشید کے خلاف اسی الزام کے تحت نئی ایف آئی آر عدالتی اجازت سے مشروط ہوگی۔
سندھ اور بلوچستان میں درج مقدمات شیخ رشیداحمد کی حد تک معطل کیے جاتے ہیں۔ شیخ رشید کی درخواست پر حکم امتناع آئندہ سماعت 16 فروری تک رہے گا۔
عدالت نے کیماڑی اور لسبیلہ میں مقدمات کے شکایت کنندگان کو بھی جواب کیلئے نوٹس جاری کردیے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عمرشبیرکی عدالت نے اسی مقدمے میں شیخ رشید احمد کی درخواست ضمانت میں ریکارڈپیش نہ ہونے پر سماعت ملتوی کردی ہے۔
عدالت نے کراچی پولیس کی جانب سے راہداری ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تھانہ مری پولیس کی جانب سے شیخ رشید احمد کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا منظورکرلی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ تبدیل کر دی گئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیر کو ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف کی دہشتگردی کے مسئلے پر بلائی گئی اے پی سی سات فروری کے بجائے نو فروری جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو گی جس میں ملک کی تمام قومی و سیاسی قیادت کو مدعو کیا گیا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
یاد رہے 30 جنوری کو پشاور کی پولیس لائنز کی مسجد میں دہشت گردی کے واقعے میں 101 افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردی سمیت اہم قومی اہمیت کے مسائل و معاملات پر غور و فکر اور اتفاق رائے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اس اے پی سی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ دعوت نامہ نہیں ملا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے آل پارٹیز کے معاملے پر ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ اے پی سی کے حوالے سے تاحال تحریک انصاف کو کوئی دعوت نامہ نہیں ملا، باقاعدہ دعوت نامہ ملا تو اس کانفرنس میں شرکت پر مشاورت کریں گے۔‘
سابق صدر آصف زرداری پر قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قید سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت آج ہو گی۔
درخواست ضمانت پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کریں گے۔ عدالت نے فریقین سے ضمانت کی درخواست پر آج دلائل طلب کر رکھے ہیں۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر گذشتہ سماعت نوٹسز جاری کیے تھے۔ گذشتہ سماعت پر عدالت نے شیخ رشید کی مقدمہ خارج کرنے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔
شیخ رشید 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔