لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز آج وزیر آباد سے ہو گا، عمران خان کا ایک اور فوجی افسر پر بھی قتل کی منصوبہ بندی کا الزام

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کے حقیقی آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز آج وزیر آباد سے ہو گا۔ وزیرآباد پنجاب کا وہ شہر ہے جہاں تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اس دوسرے افسر کا نام بھی لیں گے جو (حملے والے دن) مبینہ طور پر میجر جنرل فیصل کے ساتھ کنٹرول روم میں بیٹھ کر اس منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کر رہے تھے۔

لائیو کوریج

  1. تحریک انصاف کے حقیقی آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز آج وزیر آباد سے ہو گا: عمران خان

    Long March

    ،تصویر کا ذریعہPTI screengrab

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ جمعرات یعنی آج سے ان کے حقیقی آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز وزیر آباد سے ہو گا۔ وزیرآباد پنجاب کا وہ شہر ہے جہاں تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر فائرنگ کی گئی تھی۔

    PTI Long March

    عمران خان کے مطابق ان سمیت 13 افراد کو گولیاں لگیں جبکہ ان کے ایک کارکن معظم اس فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کے مطابق پاکستان بننے کے بعد یہ تحریک بہت اہم ہے۔ انھوں نے عوام سے اس مارچ میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔

  2. عمران خان: میجر جنرل فیصل کے ساتھ بیٹھے دوسرے افسر کا نام بھی لوں گا

    چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اس دوسرے افسر کا نام بھی لیں گے جو (حملے والے دن) مبینہ طور پر میجر جنرل فیصل کے ساتھ کنٹرول روم میں بیٹھ کر اس منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ عمران خان وزیر آباد میں خود پر حملے کا الزام وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور آئی ایس آئی کے میجر جنرل فیصل نصیر پر عائد کر چکے ہیں۔

    اُنھوں نے اپنی ٹویٹ میں اپنے گذشتہ جلسوں کی ویڈیو کلپس شیئر کیں جن میں وہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سمیت کچھ لوگوں پر انھیں قتل کروانے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتے نظر آتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. اب مزید توسیع نہیں ہو گی، نومبر کے تیسرے ہفتے میں عمران خان راولپنڈی پہنچیں گے: فواد چوہدری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے منحرف ارکان کی الیکشن کمیشن کے فیصلےکے خلاف اپیل پر سماعت

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی الیکشن کمیشن کے فیصلےکے خلاف اپیل پر سماعت کی ہے۔

    منحرف اراکین کی جانب سے بدھ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ عمر اسلم کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

    اس درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد نئے ارکان منتخب ہو چکے ہیں۔

    ایڈووکیٹ عمر اسلم کا کہنا تھا کہ ’منحرف اراکین نے مجھے رات وکیل کیا ہے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کو تیاری کے لیے وقت دے دیتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملےمیں چند دلچسپ سوالات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نئے منتخب ہونے والے اراکین کو بھی پارٹی بنائیں۔

    عدالت نے منحرف رکن محسن عطا خان کھوسہ کو اپنی اپیل واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے عدالت نے مقدمہ کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی۔

  5. عمران خان کی زیرصدارت پارٹی اجلاس لاہور میں طلب

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اس وقت زمان پارک میں موجود ہیں اور ان کی رہائش گاہ پر ہی آج پھر پارٹی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

    پارٹی کی جانب سے فراہم کی جانے والی اطلاعات کے مطابق پارٹی کی مرکزی قیادت آج عمران خان سے ملاقات کرے گی اور اس ملاقات میں کل کے دوبارہ شروع ہونے والے لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی۔

    عمران خان پارٹی رہنماؤں کے علاوہ اراکین صوبائی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے اور ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے آئندہ کا لائحہ عملآج فائنل کیا جائے گا۔

  6. تحریک انصاف کے کارکنوں کا احتجاج جاری: راولپنڈی کی مری روڈ اور لاہور موٹروے ٹریفک کے لیے بند

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکن راولپنڈی کے علاقے شمس آباد کے قریب سڑک کے دونوں اطراف میں ٹینٹ لگا کر بیٹھے ہیں اور دونوں اطراف سے ٹریفک کو بند کر دیا ہے۔

    مری روڈ پر ٹریفک کی بندش کا آج تیسرا روز ہے تاہم جس جگہ یہ ٹینٹ لگائے گئے ہیں وہاں سے ایک راستہ سروسروڈ کی طرف جاتا ہے جہاں سے چھوٹی گاڑیاں اور موٹر سائیکل سوار گزر رہے ہیں۔

    عام تعطیل کی وجہ سے مری روڈ پر ٹریفک معمول سے کم ہے مگر پھر بھی یہ شہر کی مرکزی شاہراہ ہے، اسی لیے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق اس وقت مری روڈ پر مظاہرین کی تعداد 30 کے قریب ہے اور ان کی حفاظت اور امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے پنجاب پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر موجود ہیں۔

    اسی طرح موٹر وے ایم ٹو جو کہ اسلام آباد سے لاہور کی طرف جا رہی ہے اس کو بھی دونوں اطراف سے بند کیا گیا ہے اور راولپنڈی پولیس کے مطابق وہاں پر مظاہرین کی تعداد پچیس سے تیس کے درمیان ہے۔ جس جگہ سے مظاہرین نے ایم ون ٹو کو بند کیا ہوا ہے وہاں سے اسلام آباد کا ٹول پلازہ پانچ سو میٹر کی دوری پر ہے اور جہاں پر مظاہرین بیٹھے ہیں وہاں سے ایک کچا راستہ نکلتا ہے جو کہ اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب سے نکلتا ہے۔

    لاہور جانے والی چھوٹی گاڑیاں یہ راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات مظاہرین اس کچے راستے کو بھی بند کر دیتے ہیں۔

  7. امریکہ کی عمران خان پر فائرنگ کی مذمت

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ سابق وزیر اعظم عمران خان پر فائرنگ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

    نیڈ پرائس نے کہا کہ ’ہم عمران خان پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم اس شخص کے خاندان سے ہمدردی ظاہر کرتے ہیں جو ہلاک ہوا۔ ہم عمران خان سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحتیابی کی امید کرتے ہیں۔‘

  8. ’شہباز شریف لندن روانہ‘

    وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کاپ 27 کانفرنس میں شرکت کے بعد نجی پرواز سے نجی دورے پر لندن روانہ‘ ہوئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. عمران خان حملے کی ایف آئی آر کے اندراج پر سپریم کورٹ کی ہدایات کو جسٹس یحییٰ آفریدی نے غیر متعلقہ قرار دے دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان پر قاتلانہ حملہ کی ایف آئی آر کے عدم اندراج سے متعلق عدالتی آبزرویشنز کو غیر متعلقہ اور دائرہ کار سے باہر قرار دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا ء بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے سوموارکے روز وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے خلاف دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست کے کیس کی سماعت کی تھی۔

    اس سماعت کے بعد دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ منگل کو رات گئے جاری کیا گیا۔

    اس تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ عمران خان کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا موکل 3 نومبر کو قاتلانہ حملے کے بعد حال ہی میں ہسپتال سے ڈسچارج ہوا ہے۔

    حکمنامہ کے مطابق عدالت کے استفسار پر انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب نے بتایا کہ تاحال اس واقعہ کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

    عدالت نے اپنے حکمنامہ میں یہ آبزرویشن دی کہ آئی جی کا فرض ہے کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں اور قابل دست اندازی پولیس کیس میں ایف آئی آر کا اندراج ایک لازمی قانونی تقاضہ ہے۔

    عدالت نے عمران خان کے وکیل کو جواب داخل کرانے کے لیے چند دن کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اگلے عدالتی ہفتہ تک ملتوی کر دی تھی۔

    تاہم بنچ کے رکن مسٹر جسٹس یحییٰ آفریدی نے دو لائنوں پر مشتمل ایک علیحدہ اختلافی نوٹ لکھا ہے۔

    اس نوٹ میں جسٹس آفریدی نے قرار دیا ہے کہ انھیں فیصلے کے پیرا نمبر 2 میں دی گئی ہدایات سے متعلق اس عدالت کے دائرہ اختیار کے حوالے سے سنگین ترین تحفظات ہیں کیونکہ وہ موجود کیس سے متعلق نہیں ہیں۔

  10. تحریک انصاف کے سنجیدہ لوگوں نے رابطہ کیا تھا: احسن اقبال

    احسن اقبال

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے سنجیدہ لوگوں کی جانب سے حکومت سے رابطے کیے گئے ہیں۔

    جیو نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کے سنجیدہ عناطر قومی اسمبلی میں بھی مذاکرات کرتے تھے مگر پھر یہ باتیں ہوتی تھیں کہ عمران خان کو کون سمجھائے گا۔

    عمران خان کی ’انا اور زد کے سامنے کوئی پی ٹی آئی کا بندہ نہیں بول سکتا۔ ان کے مطالبے غیر مناسب ہوتے ہیں۔‘

  11. ’بے بنیاد احتجاج کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ’صوبائی حکومتوں کی شہ اور سرپرستی میں ہونے والے اس بے بنیاد احتجاج کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’لوگوں کے راستے بند کرنے اور کروانے والے درحقیقت اپنی ہی راہیں بند کر رہے ہیں لیکن انھیں اس کی خبر نہیں۔‘

  12. بریکنگ, میں ایک سال تک انتخابات کے لیے انتظار کرسکتا ہوں لیکن ملکی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی: عمران خان

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ میں ایک سال تک انتخابات کے لیے انتظار کرسکتا ہوں لیکن ملکی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

    ترک ٹی وی چینل ٹی آر ٹی کے پروگرام نیوز میکر کو دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ان پر کیے گئے حملے کے بعد نفسیاتی طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے علم تھا کہ چار طاقتور لوگوں نے بند کمرے میں مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بعدازاں منصوبہ تبدیل کیا کہ وہ مجھے مذہبی انتہا پسندی کا شکار کر کے قتل کر دیں۔‘

    انھوں نے اینکر پرسن ایندرے سینکے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’ایک جعلی ویڈیو بنائی گئی اور اسے ملک کے چند صحافیوں نے شیئر کیا تاکہ مجھ پر توہین مذہب کا الزام لگایا جائے اور کسی مذہبی جنونی کے ہاتھوں مجھے قتل کروایا جا سکے۔‘

    اینکر پرسن ایندرے سینکے کی جانب سے سوال کیا آپ ایک سال کے لیے الیکشن کا انتظار کر سکتے ہیں کے جواب میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ ماہ میں ملک دیوالیہ ہو گیا۔ ملکی معیشت دن بہ دن گر رہی ہے اور اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ جلد از جلد انتخابات کروا کر عوامی حکومت کو لایا جائے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک پی ٹی آئی کی سیاست کا تعلق ہے تو میں ایک سال تک الیکشن کا انتظار کر سکتا ہوں کیونکہ ہم ہر دن عوام کی مزید حمایت حاصل کر رہے ہیں لیکن ملکی حالات ایسے نہیں کہ اتنا وقت دیا جا سکے۔ مجھے خدشہ ہے کہ ہم بیرونی قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ ہو جائیں گے۔ تو پاکستان کی خاطر اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ جلد از جلد انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری بیرون ملک ترسیلات زر گر رہی ہے، ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی، ہماری برآمدات کا حجم کم ہو گیا ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہے اور جب تک کسی ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوتا معاشی استحکام نہیں آ سکتا۔ سیاسی استحکام صرف انتخابات کے ذریعے ہی آ سکتا ہے۔‘

    لانگ مارچ کے دوران حملے کی ایف آئی درج نہ ہونے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے آزادانہ تحقیقات کروانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی سب سی بڑی جماعت کا سربراہ ہوں، سابق وزیر اعظم ہوں، پنجاب میں میری جماعت کی حکومت ہے لیکن تین دن سے میرے پر حملے کی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی کیونکہ پولیس نے ان تین افراد کے نام شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تو میرا یہ حق ہے کہ مجھ انصاف ملے اور پتہ چلا کہ پنجاب حکومت کو کون چلا رہا ہے؟

    انھوں نے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ چیف جسٹس اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کروائیں کیونکہ یہ ملک میں قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اس سارے معاملے کو مذہبی جنونیت کا رنگ دیا جا رہا ہے اور اس منصوبے کا میں نے چھ ہفتے پہلے ہی ایک عوامی جلسے میں بتا دیا تھا۔ مجھ پر کتنی جانب سے فائرنگ کی گئی اس بارے میں آج رات کو اس واقعے کی فارنزک رپورٹ آ جائے گی اور اگر اس میں ردوبدل نہ کیا گیا تو پتا چل جائے گا کہ فائرنگ کتنی طرف سے ہوئی تھی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ سوشل میڈیا سے عوام میں سیاسی شعور اجاگر کر دیا ہے اور اب یہ جن بوتل میں واپس نہیں جا سکتا۔ انھوں نے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز پر پابندیاں لگائی۔ ارشد شریف کو قتل کروایا۔‘

    اس کا صرف حل یہ ہے کہ پرامن انقلاب لایا جائے اور الیکشن کے ذریعے عوامی حکومت کو آنے دیا جائے ورنہ اس کا دوسرا طریقہ وہ ہے جو سب سے لیے خطرناک ہے اور پھر معاملات سب کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔‘

  13. وزیر اعظم کا عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے چیف جسٹس کو خط, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو خط لکھ دیا ہے۔

    وزیر اعظم کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا ہے کہ عمران خان پر فائرنگ کے واقعے کے حقائق جاننے کے لیے سپریم کورٹ کے تمام دستیاب جج صاحبان پر مشتمل جوڈیشل کمشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ کمیشن پانچ سوالات پر خاص طور پر غور کر سکتا ہے کہ لانگ مارچ کے قافلے کی حفاظت کی ذمہ داری کون سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تھی؟ لانگ مارچ قافلے کی حفاظت کے لیے کیا مروجہ حفاظتی اقدامات اور سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز لاگو کیے گئے اور کیا ان پر عمل کیا گیا؟ حادثے کے اپنے حقائق کیا ہیں؟ ایک سے زیادہ شوٹرز کی موجودگی کی اطلاع، جوابی فائرنگ، مجموعی طور پر نشانہ بننے والوں کی تعداد، ان کے زخموں کی نوعیت سے متعلق حقائق کیا ہیں؟ وزیراعظم کے خط کے متن میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامی حکام نے مروجہ تفتیشی طریقہ کار کو اختیار کیا؟ وقوع کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامی حکام نے شہادتیں جمع کرنے اور صورتحال سے نمٹنے کے مروجہ طریقہ کار کو اختیار کیا؟

    اگر ایسا نہیں ہوا تو ضابطے کی کیا خامیاں اور کمزوریاں سامنے آئیں؟ ضابطے کی ان کوتاہیوں کا ذمہ دار کن انتظامی حکام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومت کے عہدیداروں کو ٹھہرایا گیا؟ کیا وقوعہ کی تحقیقات کے عمل میں دانستہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

    وزیراعظم کے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ اگر رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں تو یہ عناصر کون ہیں؟ اور ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ قاتلانہ سازش تھی جس کا مقصد واقعی پی ٹی آئی چئیرمن کو قتل کرنا تھا یا یہ محض ایک فرد کا اقدام تھا؟

    ان دونوں صورتوں میں سے کسی ایک کے بھی ذمہ دار عناصر کون ہیں؟ وزیراعظم کے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے مفاد میں اس درخواست پر عمل پر وفاقی حکومت مشکور ہو گی۔ اس مقصد کے حصول میں وفاقی حکومت کمشن کو مکمل معاونت فراہم کرے گی۔

    چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا کہ 72 گھنٹے گزرنے پر ایف آئی آر نہ ہوئی، پی ٹی آئی کے ماتحت پنجاب حکومت نے بدقسمتی سے تحققیات میں ان قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جن پر ایسے واقعات میں عمل کیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر ہے کہ کرائم سین (جائے وقوعہ)کو محفوظ نہیں کیا گیا۔

    وزیراعظم کے خط میں کہا گیا کہ جس کنٹینر پر یہ واقع ہوا، لوگ زخمی ہوئے، اسے بھی فارنزک کے لیے تحویل میں نہیں لیا گیا۔پی ٹی آئی چیئرمین کی میڈیکو لیگل رپورٹ بھی نہیں ہوئی۔عمران خان کو ایک پرائیویٹ ہسپتال لے جایا گیا جو قانون کے مطابق میڈیکو لیگل کا پروسیجر نہیں۔ وزیر اعظم کے خط میں کہا گیا ہے کہ وقوعہ کے بعد جو طریقہ کار اپنایا گیا اس سے شک ہے کہ پنجاب حکومت اور اس کے ذمہ دار شواہد مسخ کر سکتے ہیں۔ تحقیقات اور شہادتیں جمع کرنے کے مروجہ طریقہ کار نہ اپنانا بدنیتی کا مظاہرہ ہے۔

    letter

    وفاقی حکومت اس بارے میں پہلے ہی خط لکھ کر صوبائی انتظامیہ کو اپنے سنگین تحفظات سے آگاہ کر چکی ہے۔پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کی سرپرستی میں شرپسند نجی و سرکاری عمارتوں، گورنر ہاؤس پنجاب اور دیگر مقامات پر پرتشدد حملے کررہے ہیں۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ریاستی اداروں خاص طور پر مسلح افواج کے خلاف کردار کشی اور بے بنیاد الزامات کی غلیظ مہم چلائی جا رہی ہے۔ مسلح افواج پر وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر سازش کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

    وزیر آباد میں عمران خان کے جلوس میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے سے ملک ہیجانی کیفیت اور امن وامان کے بحران کا شکار ہے، پی ٹی آئی لیڈرز نفرت پر مبنی تقاریر کر رہے ہیں، پرتشدد ہنگامہ آرائی سے ریاست اور شہریوں کے جان و مال کو خطرات ہیں۔ پاکستان اور عالمی میڈیا میں اس کی کوریج ہو رہی ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ درست حقائق کے تعین اور عوامی اعتماد کی خاطر وفاقی حکومت کی رائے میں سپریم کورٹ کا کمشن بننا ضروری ہے۔ اور سپریم کورٹ کا کمیشن ذمہ داروں کا تعین کرے، اصل حقائق سامنے لائے۔ سپریم کورٹ نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    ان حالات میں وفاقی حکومت کی درخواست ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام دستیاب جج صاحبان پر مشتمل جوڈیشل کمشن بنایا جائے۔

  14. مصطفٰی نواز کھوکھر کا بطور سینیٹر استعفیٰ دینےکا اعلان

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفٰی نواز کھوکھر نے بطور سینیٹراستعفیٰ دینےکا اعلان کر دیا ہے۔

    ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک بیان میں مصطفٰی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کو کل اپنا استعفیٰ پیش کروں گا۔

    مصطفٰی نواز کھوکھر نے ٹویٹ کیا کہ ’آج پارٹی کے سینیئر رہنما سے ملاقات ہوئی، انھوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت میرے سیاسی مؤقف سے خوش نہیں تھی اور سینیٹ کی نشست سے میرا استعفیٰ چاہتی ہے، اس لیے میں بخوشی سینیٹ سے استعفیٰ دینے پر راضی ہو گیا۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایک سیاسی کارکن کے طور پر میں عوامی مفاد کے معاملات پر اپنی رائےکا اظہار کرنا اپنا حق سمجھتا ہوں، سندھ سے سینیٹ کی نشست دینے پرپارٹی قیادت کا مشکور ہوں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. بریکنگ, وزیر اعظم کا ارشد شریف کی موت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے چیف جسٹس کو خط

    shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سینیئر صحافی ارشد شریف کی کینیا میں ہلاکت کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو خط لکھ دیا ہے۔

    وزیر اعظم سے لکھے جانے والے خط میں ارشد شریف کی موت کے حقائق جاننے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام دستیاب جج صاحبان پر مشتمل کمیشن بنایا جائے۔

    خط کے متن کے مطابق کمیشن پانچ سوالات پر خاص طور پر غور کر سکتا ہے کہ ارشد شریف کی بیرون ملک روانگی میں کس نے سہولت کاری کی؟ کوئی وفاقی یا صوبائی ایجنسی، ارشد شریف کو ملنے والی جان کو خطرے کی کسی دھمکی سے آگاہ تھے؟ اگر ارشد شریف کی جان کو خطرہ کی اطلاع تھی تو اس سے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ وہ کیا حالات اور وجوہات تھیں جس کی بنا پر ارشد شریف متحدہ عرب امارات سے کینیا گئے؟ فائرنگ کے واقعات کی اصل حقیقت کیا ہے جن میں ارشد شریف کی موت ہوئی؟کیا ارشد شریف کی موت واقعی غلط شناخت کا معاملہ ہے یا پھر یہ کسی مجرمانہ کھیل کا نتیجہ ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے کمیشن کی تشکیل ضروری ہے، وفاقی حکومت کمیشن کو بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’ارشد شریف کی والدہ نے آپ سے استدعا کی ہے، ہم اس استدعا کی مکمل حمایت کرتے ہیں، ارشد شریف کی ہلاکت پر وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں پر شکوک وشبہات ظاہر کیے گئے، عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ کا کمیشن بنایا جانا ضروری ہے، غیرجانبدار باڈی نے تحقیقات نہ کیں تو طویل المدت بنیادوں پر نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

    یاد رہے کہ سینیئر صحافی ارشد شریف کو 23 اکتوبر کو کینیا میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

  16. وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی لانگ مارچ کو فول پروف سیکورٹی دینے کے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت

    Pervaiz

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Govt

    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔شاہ محمود قریشی، اسد عمر، مونس الٰہی،عمر ایوب، حسین الٰہی نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں جمعرات سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے لانگ مارچ کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہلانگ مارچ کے شرکا کو وزیرآباد سے راولپنڈی تک ہر شہر میں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے اورلانگ مارچ کے روٹ میں آنیوالی عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کیے جائیں۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر آباد سے راولپنڈی تک لانگ مارچ کے روٹ پر 15ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ پولیس کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال انداز میں فرائض سرانجام دے اور لانگ مارچ کی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جائے اور لانگ مارچ کے گرد دو درجاتی سکیورٹی حصار بنایا جائے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت اورلانگ مارچ کے شرکاء کی فول پروف سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔کنٹینر پربلٹ پروف روسٹرم اوربلٹ پروف شیشے کا استعمال یقینی بنایا جائے اور نیا بلٹ پروف کنٹینر تیار کیا جائے۔

    شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی قربانیوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔میں نے اپنی تقریر میں محکمہ پولیس پر تنقید نہیں کی بلکہ فرد واحد پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عمران خان نے گوجرانوالہ میں بہترین سکیورٹی انتظامات پر پولیس کا دوبار شکریہ ادا کیا۔ عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا،ایف آئی آر میں تاخیر پر عوام میں تشویش پیدا ہوئی اورسوالات اٹھے۔میری تقریر کو غلط رنگ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ درج ہونے والی ایف آئی آر کو ہر ایک نے مسترد کر دیاہے۔کچھ عناصر ہمارے لانگ مارچ سے خوفزدہ ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ یہ مارچ ہو۔

    اسد عمر نے کہا کہ جمعرات سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے دوران بہترین کو آرڈینیشن کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔پولیس حکام نے لانگ مارچ کی سکیورٹی کے بارے میں مجوزہ پلان پیش کیا۔ میاں محمودالرشید، عمر سرفراز چیمہ، چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کیپٹن ریٹائرڈ اسد اللہ خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب، سی سی پی او لاہور، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی جی پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر، کمشنر گجرات ڈویژن، ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب، آر پی او گجرات، گجرات، سیالکوٹ، وزیر آباد، حافظ آباد کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ کمشنر راولپنڈی ڈویژن، آر پی او راولپنڈی، سی پی او راولپنڈی، جہلم کے ڈپٹی کمشنرز اورڈی پی اوزنے ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

  17. میری فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں صرف احتساب کے معاملے پر مسئلہ ہوا: عمران خان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج سے کوئی لڑائی نہیں ہے صرف احتساب کے معاملے پر مسئلہ ہوا۔

    لاہور میں سنیئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر آباد حملے کے واقعے پر درج کی گئی ایف آئی آر کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

    صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فوج مثبت انداز میں بہترین کردار ادا کر سکتی ہے۔ میری فوج کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں صرف احتساب کے معاملے پر مسئلہ ہوا، اگر ملک کا نظام چلانا ہے تو مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کو اختیار بھی دینا ہو گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کبھی اتحادی حکومت نہیں بننی چاہیے وگرنہ بلیک میل ہوتے رہیں گے۔ دو تہائی اکثریت ہو تو وزیر اعظم مضبوط ہوتا ہے۔

    وزیر آباد حملے پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ مجھے قتل کریں گے اس لیے ویڈیو ریکارڈر کروا دی ہے۔

    مجھے معلوم تھا کہ وزیر آباد یا گجرات میں حملہ کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے مارنے کا منصوبہ بنایا گیا اور جب ہم مضبوط ہونے لگے تو دوسرا منصوبہ تیار کیا گیا کہ مجھے مذہبی انتہا پسندی جیسے سلمان تاثیر کا قتل ہوا، کا نشانہ بنایا جائے۔ جلسے میں بھی اعلان کیا تھا کہ سلمان تاثیر جیسے قتل کا پلان ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے پر درج ایف آئی آر کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور جن لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے اگر وہ بے قصور ہوئے تو تفتیشسے نکل جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی ملزم نوید کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری لگا دی ہے۔ ملزم نوید کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

    انھوں نے تحریک لبیک کے رہنما سعد رضوی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خود کو بڑے اچھے انداز سے ملزم نوید سے الگ کر لیا۔

    آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تو سیع ہو گی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ بلین ڈالر سوال ہے۔

  18. بریکنگ, ارشد شریف کی ہلاکت کا واقعے بادی النظر میں قتل لگ رہا ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں: وزیر داخلہ

    Arshad Sharif

    ،تصویر کا ذریعہFacebook

    پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کا واقعہ بظاہر قتل لگ رہا ہے اور اس بارے میں مزید تحقیق کر رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کینیا سے واپس آنے والی ٹیم سے بریفنگ لی ہے اور یہ واقعہ بادی النظر میں قتل لگتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کے لیے کینیا سے ٹیم واپس آگئی ہے، قتل کیس کی تحقیقاتی ٹیم کو دبئی جانے کا بھی کہا ہے، اب تک کی معلومات بظاہر یہ ہیں کہ ارشد شریف مرحوم کو قتل کیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ارشد شریف کا معاملہ غلط شناخت کا نہیں لگتا کیونکہ کینیا کی پولیس کا مؤقف ثابت نہیں ہوتا کہ ارشد شریف کو غلط شناخت پر قتل کیا گیا، اس لیے اب تک جو سامنے آیا ہے ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کا معاملہ نہیں تھا،انہیں ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا، اگر یہ قتل ہے تو بظاہر دو بندے وقار اور خرم اس سے باہر نہیں۔

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ارشد شریف پرفائرکرنے والوں کو یہ معلوم تھا کہ ارشد کون ہے اور کس سائیڈ بیٹھا ہے، بادی النظر میں ارشد شریف کا قتل ملی بھگت لگتی ہے، کینیا کے حکام سے میری ملاقات ہوئی یا وزارت خارجہ کوکہیں گےکہ کینیا کے سفیریا حکام کو کہیں کہ ڈیٹا فراہم کریں، کینیا کے حکام سے ڈیٹا طلب کیا ہے۔

    رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ کینیا کی پولیس پیسے لے کر بھی کام کردیتی ہے، ان کے بارے میں یہ باتیں مشہور ہیں تاہم سپریم کورٹ کو ارشد شریف کے بارے میں خط لکھ دیا ہے۔

  19. بریکنگ, صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، ورنہ اس کے آئینی نتائج ہوں گے: وزیر داخلہ

    Rana Sanaullah

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عوام کے آمد و رفت کے ذریعے کھلے رکھنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں ورنہ اس کے نتائج ہوں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین روز سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فتنہ، فسادی احتجاج ہو رہا ہے اور کروڑوں افراد اپنے ضروری کاموں کے لیے سفر نہیں کر پا رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام کے آمد و رفت کے ذریعے کھلے رکھنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور دونوں صوبوں کی حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ میں دونوں صوبائی حکومتوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں ورنہ اس کے نتائج ہوں گے۔

    وفاقی حکومت دونوں صوبائی حکومتوں کو مراسلے لکھ رہے ہیں کہ اپنی اپنی حدود میں قومی شاہراؤں اور موٹرویز ے راستوں کو کھلوائیں اور مٹھی بھر شر پسند افراد کو وہاں سے ہٹائیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر کوئی قومی اداروں، قومی یکجہتی یا ریاست کے مفاد کیخلاف کام کرے گا تویہ چیزیں معاف نہیں ہوسکتیں، یہ کوئی لانگ مارچ نہیں آرہا، دو صوبے وفاق پر حملہ کررہے ہیں، یہ احتجاج دو حکومتیں کروا رہی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ عوام نے اس کا احتجاج مسترد کر دیا ہے اور عوام کو پہنچنے والی تکلیف پر میں بطور وفاقی وزیر داخلہ عوام سے معافی مانگتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں شرپسند افراد کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے پاس رپورٹس اکٹھی ہو رہی ہیں اور اس پر کارروائی ہو گی۔

    Protest