عمران خان نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی
سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر سے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ عمران خان نے کہا وہ اگلے ہفتے خود بھی اس مارچ کا حصہ بن جائیں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔
لائیو کوریج
اسلام آباد پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی الرٹ کردی
اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی الرٹ کردی۔
داخلی و خارجی دس راستوں پر متوقع امن عامہ کی صورتحال میں باڈی کیمروں کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔ باڈی کیمروں سے امن عامہ کی صورتحال کے دوران ریکارڈنگ کی جائے گی۔
باڈی کیمروں کی ریکارڈنگ سے غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث عناصر کی نشاندہی ہو سکے گی۔ امن عامہ کی صورتحال کے دوران باڈی کیمروں کا استعمال اسلام آباد میں پہلی بار ہوگا۔
جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات سے لیس پولیس، ایف سی اور رینجرز کے جوان ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
لانگ مارچ کا مقصد آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع کیا جائے، اس پر سیاست کی جائے: وزیرخارجہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سنیچر کو عمران خان کے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس احتجاج کا مقصد حقیقی آزادی یا جمہوریت ہے، تو پھر لانگ مارچ کے اعلان کرنے کا اسی ہفتے کا انتخاب کیوں کیا۔
ان کے مطابق اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آرمی چیف کے تقرر کے آئینی اور قانونی عمل کو متنازع کیا جائے، اس پر سیاست کی جائے، اور ایک بار پھر اس ملک کی قسمت کے ساتھ کھیلا جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کا مقصد حقیقی آزادی ہے اور پاکستان کو ایک بار پھر آمریت کی طرف لے کر جانا نہیں ہے تو آپ نے روالپنڈی میں خطاب کرنے کا انتخاب کیوں کیا ہے؟
بریکنگ, عمران نے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی

،تصویر کا ذریعہPTI
سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان بھر سے اپنے کارکنان کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی ہے۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا وہ اگلے ہفتے خود بھی اس مارچ کا حصہ بن جائیں گے۔
انھوں نے عوام سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں 26 تاریخ کو راولپنڈی پہنچنا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’میں خود بھی راولپنڈی میں اس مارچ سے خطاب کروں گا اور وہاں اگلا لائحہ عمل دوں گا۔ انھوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کے حصول تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔ انھوں جلد صاف اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ طاقت ور حلقوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے پاس طاقت ہے آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس دلدل سے نکلنے کے لیے صاف اور شفاف انتخابات کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے، اعتماد کھو بیٹھی ہے۔ ان کے مطابق سات ماہ میں جو روڈ میپ نظر آیا وہ صرف اپنی چوری بچانے کا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ساری قوم وہاں آئے گی اور ہم ایک چیز کا مطالبہ کریں گے، صاف اور شفاف انتخابات اور ہماری حقیقی آزادی کی تحریک اس کے بعد بھی چلتی رہے گی۔
اسٹیبلشمنٹ سے سوال ہے کہ ان دو خاندانوں کو ہم پر دوبارہ کیوں مسلط کر دیا: عمران خان کا خطاب
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کا ان سے جو ملک کو کسی طرف بھی لے کر جا سکتے ہیں سے یہ سوال ہے کہ ان دو ماضی کے حکمران خاندانوں کو ہمارے اوپر پھر کیوں مسلط کر دیا ہے، جنھیں بدعنوانی کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔ ان کے مطابق ان کے اس سوال کا انھیں ابھی تک جواب نہیں ملا ہے۔
انھوں نے لانگ مارچ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے لانگ مارچ کے شرکا سے کا کہ
عمران خان نے کہا کہ ’یہ دو لوگ پتا نہیں کس چیز میں نہا کر آئے کہ یہ دونوں پونے چار سال میں پھر ٹھیک ہو گئے۔ ان کی فائلیں تو ایجنسیز کے پاس پڑی ہوئی ہیں۔ وہ کیا چیز ہوئی کہ پھر ان کو ہمارے اوپر مسلط کر دیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ جو دو خاندان ہیں، جو بدعنوانی پر دو دو بار نکالے جا چکے ہیں، مشرف نے جب ان دونوں کو نکالا تو لوگوں نے مٹھائی بانٹی کیونکہ انھوں نے ملکی قرضے دگنا کر دیے تھے۔
ان کے مطابق لوگوں نے ان دو خاندانوں کے غصے میں سنہ 2018 میں مجھے ووٹ دیے۔
عمران خان: جان خطرے میں ہے لیکن پھر بھی پنڈی آنے کا پلان دے رہا ہوں

،تصویر کا ذریعہPTI
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ انھیں پتا ہے کہ ان کی جان خطرے میں ہے لیکن اس کے باوجود وہ پنڈی آنے کا پلان دینے جا رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان اپنی جماعت تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف سیاسی جماعتیں ملک کو اکھٹا رکھتی ہیں، فوج اکھٹا نہیں رکھ سکتی ہے، اگر ایسا ہو تو پھر مشرقی پاکستان جدا نہ ہوتا۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کی سب سے بڑی وفاقی جماعت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
عمران خان نے کہا کہ ’کئی جگہ پر خطوط آتے تھے کہ جلسہ نہ کریں، جان کو خطرہ ہے۔ اس کا مجھے خود پتا تھا کہ یہ پلان بنا رہے ہیں مجھے مارنے کا پلان بنا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’25 مئی کو جو ہوا وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا‘
عمران خان نے کہا کہ ’میں نے ان سات مہینوں میں دیکھا ہے وہ 26 سال میں نہیں دیکھا، اپنے لوگوں کو بدلتے دیکھا۔
عمران خان کے مطابق لاہور سے چلے تو نوجوان اور بچے نکلے، پردہ دار خواتین کو دیکھا جو مارچ کے ساتھ چل رہی تھیں اور دعائیں کر رہی تھیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہماری تحریک سات مہینے پہلے شروع ہوئی اور پورے پاکستان میں جلسے کیے، لوگوں نے جانیں دیں، 25 مئی کو جو ہوا وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا۔
اسلام آباد انتظامیہ نے تحریک انصاف کو کورال چوک سے روات تک ریلی کی اجازت دے دی

،تصویر کا ذریعہPTI
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو روات سے کورال چوک تک ’پرامن ریلی‘ نکالنے کی اجازت دے دی ہے۔
تحریک انصاف نے آج بروز سنیچر ریلی نکالنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دی تھی۔ ضلعی انتظامیہ نے ریلی کے لیے باقاعدہ این او سی جاری کر دیا ہے۔ ریلی کو پرامن بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے 35 شرائط عائد کی ہیں۔
این او سی کے مطابق اجازت صرف کورال چوک سے روات تک روٹ کے لیے دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد کے ریڈ زون اور باقی علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ رہے گا۔
این او سی کے مطابق کوئی بھی سڑک کسی طرح سے بلاک کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ مظاہرین کو سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی تنبیہ بھی کی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ریلی کے لیے اسلام آباد کیپیٹل پولیس باقاعدہ ٹریفک پلان بھی جاری کرے گی۔
آخری مرحلہ آ گیا ہے تیار رہیں: فواد چوہدری
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ لانگ مارچ کا دوسرا مرحلہ روات کے مقام سے راولپنڈی شہر داخل ہو نے کے لیے پہنچے گا جہاں عمران خان عوام کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دیں گے۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے اس شاندار مہم کی نگرانی کی آج دونوں قافلے روات کے مقام پر ملیں گے۔ ’آخری مرحلہ آ گیا ہے تیار رہیں۔‘
عمران خان آج دو بجے لانگ مارچ راولپنڈی پہنچنے کی تاریخ کا اعلان کریں گے
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان آج دن دو بجے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے راولپنڈی پہنچنے کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل پیر سے شروع ہو جائے گا: وزیردفاع خواجہ آصف

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ آرمی چیف کی تقرری کا پراسس پیر سے شروع ہو جائے گا۔
ان کے مطابق یہ عمل اگر پیر کو شروع ہوا تو پھر منگل یا بدھ کو نئے آرمی چیف کا نام سامنے آ جائے گا۔ ان کے مطابق سمری میں سے ایک نام کو چن لیا جائے گا۔
وزیردفاع نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے اس عمل کو خود عمران خان نے اس وقت متنازع بنایا جب وہ کسی ایک خاص افسر کو ہی آئی ایس آئی چیف رکھنا چاہتے تھے۔
خیال رہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری بطور وزیردفاع خواجہ آصف نے بھیجنی ہے۔
ایک دو دن میں نئے آرمی چیف کا نام سامنے آجائے گا: وزیرداخلہ رانا ثنااللہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ایک دو دن کا معاملہ رہ گیا ہے اور نئے آرمی چیف کا نام پیپر پر آجائے گا۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق حساس نوعیت کے فیصلے سے قبل اتفاق رائے ہوتا ہے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ اہم تعیناتی پر اختیار وزیراعظم کا ہے، اس پر اتفاق رائے ہے۔ ان کے مطابق تعیناتی کا معاملہ پیپر پر آنا باقی رہ گیا ہے۔
ان کے مطابق ’مشاورت سے مراد کسی کو اختیار نہیں ہوتا۔ وزیراعظم کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں، بالآخر فیصلہ انھوں نے کرنا ہوتا ہے۔
وزیرداخلہ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری سے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے ان رہنماؤں کو سیاسی فہم رکھنے والے رہنما قرار دیا ہے۔ عمران خان سے متعلق انھوں نے کہا کہ انھیں اپنی اور کسی دوسرے کی عزت کا کوئی خیال نہیں ہے۔
وزیرداخلہ کے مطابق ’لانگ مارچ میڈیا میں ہی ہے اور کہیں نظر نہیں آ رہا ہے‘۔
حکومت اور ریاست تعاون نہیں کر رہی ہے: صحافی ارشد شریف کی اہلیہ کا صدر مملکت کے نام خط

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے کینیا میں قتل ہونے والے صحافی ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور جب ان کا پاکستان میں رہنا محال کر دیا گیا تو وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
خط کے مطابق ارشد شریف کو اس وقت دبئی سے باہر نکلنا پڑا جب وہاں کے حکام نے انھیں دوبارہ ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جویریہ صدیق کے مطابق آذربائیجان نے ارشد شریف کو ویزا دے دیا تھا مگر جب انھوں نے دوبارہ کوشش کی تو یو اے ای کا انھیں ویزہ نہ مل سکا۔
جویریہ کے مطابق جب جلدی سے ان کے شوہر کو پاکستان چھوڑنا پڑا تو وہ ٹھیک سے اپنا روٹ بھی طے نہ کر سکے۔ اسی وجہ سے انھوں نے محدود آپشن کی وجہ سے کینیا کا رخ کیا، جہاں ان کا بہیمانہ قتل کر دیا گیا۔
جویریہ صدیق نے صدرمملکت سے کہا کہ ان کے شوہر بہت نڈر صحافی تھے جن کا واحد جرم طاقتور حلقوں کے سامنے سچ لکھنا اور بولنا تھا، جس کی پاداش میں انھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔
ارشد شریف کی اہلیہ نے خط میں لکھا کہ ان کے شوہر کے پوسٹ مارٹم کی جو تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں وہ ان کی اجازت کے بغیر لیک کی گئیں ہیں۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کی طرف سے انھیں کوئی مدد نہ مل سکی۔
انھوں نے صدر سے یہ اپیل بھی کی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے دوران میڈیا ٹرائل کو روکا جائے تاکہ انصاف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔
برطانیہ اور دبئی کیوں جا رہے ہیں، رسیدیں دیں معاملہ ختم کریں: وزیراطلاعات کی عمران خان کو تجویز

،تصویر کا ذریعہTwitter
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ یو کے اور یو اے ای کی عدالتوں میں جنے کی ضرورت نہیں ہے بس صرف رسیدیں دکھا دیں کہ کس کو گھڑی بیچی اور کتنے میں بیچی اور پھر بس اس کے بعد تو ویسے ہی معاملہ ختم ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ اپنے دور میں عمران خان نے سیاسی مخالفین کو جھوٹے الزامات کی بنیاد پر موت کی کال کوٹھڑیوں میں رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ’آپ کے پاس نیب نہیں تھا، آپ کے پاس نیب کی ویڈیو تھی۔‘
بول نیوز کے مالک شعیب شیخ نے پیغام بھیجا کہ دھمکیاں مل رہی ہیں، جان کو خطرہ ہے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہPTI
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے لانگ مارچ کے شرکا سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجی ٹی وی چینل بول نیوز کے مالک شعیب شیخ نے انھیں پیغام بھیجا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، انھیں دھمکیا مل رہی ہیں کیونکہ وہ تحریک انصاف کی سرگرمیوں کی کوریج کر رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کل اعلان کریں گے کہ لانگ مارچ اسلام آباد میں کب آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ’ہماری حقیقی آزادی کی مارچ میں پوری قوم شرکت کرے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’میری ایف آئی آر اس لیے درج نہیں ہوئی کہ یہ طاقت ور لوگوں کے خلاف ہے‘۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو نظام ہے، اس کے تحت جو طاقتور ہو، وہ جو مرضی کرے۔‘
ان کے مطابق پنجاب میں اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی ہم اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج نہیں کراسکے ہیں تو پھر اس سے اندازہ لگا لیں کہ عام آدمی کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
تمام تھری سٹار جنرلز برابر ہیں اور آرمی کی سربراہی کے مکمل اہل ہیں: سابق صدر آصف زرداری

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سابق صدر آصف زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم پاک آرمی میں پروموشن کے نظام پر مضبوط یقین رکھتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تمام تھری سٹار جنرلز برابر ہیں اور آرمی کی سربراہی کے مکمل اہل ہیں۔‘ سابق صدر نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ سیاسی نہیں ہونا چاہیے یہ ادارے کو نقصان پہنچائے گا۔
انھوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی قانون کے مطابق وزیراعظم کریں گے۔
امریکہ سے تاریخی تعلقات ہیں، عمران خان کا یوٹرن بہت اچھی بات ہے: وزیرخارجہ بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہBilawal Bhutto Facebook
پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکہ کی سازش والے بیانیے پر بھی سابق وزیراعظم عمران خان نے یوٹرن لے لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’نہ پہلے کبھی کوئی سازش تھی نہ آج کوئی سازش ہے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’بہت اچھی بات ہے خان صاحب نے ہمیشہ کی طرح جھوٹے بیانیے پر بھی یوٹرن لے لیا۔‘
پاکستان کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں اور اب گذشتہ چھ ماہ میں ان مزید بہتری آئی ہے جن میں صرف بات ڈو مور اود دہشتگردی کی نہیں ہے، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان اور امریکہ باہمی تعاون اور سلامتی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ تاریخ گواہ جب بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں دوری ہوتی ہے تو دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔‘
افغانستان عالمی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرے
وزیرخارجہ نے کہا کہ ’افغانستان کو تسلیم کرنے پر پاکستان کوئی سولو فلائٹ نہیں لے گا، افغانستان بھی دنیا کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرے اور دنیا بھی افغانستان کو انگیج رکھے،ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔‘
آرمی چیف کی تقرری کے ضمن میں صدر مملکت جو بھی قدم اٹھائیں گے اسے عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہوگی
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کے ضمن میں صدر مملکت اپنی آئینی ذمہ داری ادا کریں گے۔
انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’صرف یہ واضح کر دوں صدر مملکت جو بھی قدم اٹھائیں گے اسے عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہو گی۔‘
خیال رہے کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے جہاں آرمی چیف کی تقرری سے متعلق اہم ملاقاتیں کی ہیں وہیں وہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بھی ملے ہیں۔ فواد چوہدری نے اس ملاقات کا ذکر کیے بغیر صدر عارف علوی کے ساتھ عمران خان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
توہین عدالت کا معاملہ ہے، لانگ مارچ کے سلسلے میں پی ٹی آئی کو قانون کا پابند نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے دوران قانون کا پابند بنایا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کے معاملے میں ایسا آرڈر پاس نہیں کر سکتے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں عمران خان کے وکیل کو کہہ دیتے ہیں ان کے مؤکل قانون کا فالو کریں، جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس معاملے پر مؤکل کی طرف سے کوئی ہدایات نہیں۔
چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ امید کرتے ہیں آپ کے مؤکل قانون کو فالو نہیں کریں گے، جس پر عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ انُ کے مؤکل قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔
ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کہ چونکہ پی ٹی آئی لانگ مارچ لے کر آرہی ہے اور عدالت ان کو پرامن رہنے کی ہدایت کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایسا کرتے ہیں کہ سلمان اکرم راجہ سے کہہ دیتے ہیں وہ اپنے مؤکل سے کہہ دیں جو کرنا ہے قانون کے مطابق کریں۔‘
عدالت نے اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ گوجر خان پہنچ گیا
پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ گوجر خان پہنچ گیا ہے۔ گوجر خان میں جی ٹی روڈ پر آج جلسے کی تیاریاں جاری ہیں اور عمران خان کا ویڈیو خطاب دکھانے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کنٹینر بھی جلسہ گاہ پہنچ چکا ہے جبکہ وہ خود سہ پہر تین بجے جلسہ گاہ پہنچیں گے۔ لانگ مارچ کا ضلع راولپنڈی کی حدود میں آج یہ پہلا جلسہ ہو گا۔
واضح رہے کہ لانگ مارچ کا آغاز 28 اکتوبر کو لبرٹی چوک لاہور سے ہوا تھا اور ساتویں روز یعنی 3 نومبر کو اس پر وزیر آباد کے آللہ والا چوک میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
اس کے بعد لانگ مارچ سات روز تک رکا رہا تھا اور دوسرے مرحلے میں دس نومبر کو لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز وزیر آباد سے ہی کیا گیا لیکن نئی حکمت عملی کے تحت اب یہ ریلی کی شکل میں آگے نہیں بڑھ رہا بلکہ اسلام آباد جاتے ہوئے مختلف شہروں میں جلسے کیے جارہے ہیں، جن سے پارٹی کے چیئرمین عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے ہیں۔
ارشد شریف کو ’منصوبہ بندی‘ کے تحت قتل کیا گیا: کینیا انسانی حقوق کمیشن

،تصویر کا ذریعہFacebook
کینیا کے کمیشن برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صحافی ارشد شریف کو ’منصوبہ بندی‘ کے تحت قتل کیا گیا۔
کینیا کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مارٹن ماوین جینا نے مقامی نیوز چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو واضح طور پر منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔
جیو نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کینیا کے انسانی حقوق کے کمشین کے سینیئر مشیر مارٹن ماوین جینا کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ یہ ایک جرم تھا۔
یاد رہے کہ صحافی ارشد شریف کو 23 اکتوبر کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
مارٹن ماوین جینا نے کہا کہ قتل سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحافی پر نظر رکھی جارہی تھی تاکہ ان پر حملے کا صحیح موقع مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو کیسے معلوم ہوا کہ ارشد شریف اسی وقت ایک مخصوص علاقے میں موجود تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ کینیا کی پولیس نے قتل کو ’غلط شناخت‘ کے پیچھے چھپایا کیونکہ اس کے کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ کینیا کی پولیس الزام کے مطابق قصوروار ہے اور ان کی غلط شناخت کے بیانیے میں دم نہیں ہے کیونکہ جب آپ پولیس کو شکایت درج کرواتے ہیں تو آپ گاڑی کی واضح تفصیل فراہم کرتے ہیں مگر اس کیس میں کچھ الگ ہے کیونکہ جس گاڑی میں ارشد شریف سفر کر رہا تھا وہ وی ایٹ لینڈ کروزر تھی جو کہ خاص شخصیات، اراکین پارلیمان اور کابینہ کے اراکین استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صحافی ارشد شریف کے شوٹرز کو کافی عرصہ تک تربیت دی گئی تھی کیونکہ عام طور پر کسی خاص ہدف یا چلتی گاڑی میں کسی فرد کو سر میں گولی مارنا بہت مشکل ہوتا ہے، یہاں تک کہ قریب سے بھی یہ بہت مشکل ہے لیکن اگر ارشد شریف کے واقعے کو دیکھیں تو ان کو دو جگہوں پر گولی ماری گئی تو یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل تھا۔
مارٹن ماوین جینا نے مزید کہا کہ سڑکوں پر رکاوٹیں کسی مقصد کے لیے رکھی گئی تھیں کیونکہ جب کینیا میں روڈ بلاک ہوتے ہیں تو لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ ان کی شناخت پریڈ کی جائے گی لیکن اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔
