بریکنگ,
سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے کے بارے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی۔ اب یہ صفحہ اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ معلومات کے لیے یہاں کلک کریں
پاناما دستاویزات کے بارے میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سمیت چھ افراد کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے کے بارے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی۔ اب یہ صفحہ اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ معلومات کے لیے یہاں کلک کریں
سپریم کورٹ آف پاکستان کے احاطے میں نامہ نگار عبداللہ فاروقی سے بات کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اور ماہر قانون شاہ خاور نے بتایا کہ ’اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فیصلے میں دو ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا ہے کیونکہ اکثریت کا فیصلہ غالب آتا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بجائے خود کوئی فیصلہ صادر کرنے کے یہ مناسب سمجھا کہ جے آئی ٹی بنائی جائے کیونکہ اِس معاملے میں اب بھی کئی پہلو تشنہ ہیں جن پر تحقیقات اور شہادتیں ریکارڈ کرنے کی ضرورت ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے پیراگراف 14 میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے موکل کی جانب سے دی گئی درخواستوں میں مریم نواز کے خلاف کسی فیصلے کا مطالبہ نہیں کیا ہے لیکن انھی درخواستوں میں وہ بضد رہے کہ مریم نواز اپنے والد کے زیر کفالت تھیں اور ابھی بھی ہیں۔
پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ ججز نے جو بات کی ہے قانون اور آئین کے مطابق اس پر عمل کیا جائے گا۔

تجزیہ نگار طلعت حسین نے نامہ نگار شمائلہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ کوئی قانونی کیس تو تھا نہیں بنیادی طور پر پی ٹی آئی ایک سیاسی کیس لڑ رہی تھی۔ آج توقع ان کی یہ تھی کہ وزیرِ اعظم فیصلے کے بعد وزیرِ اعظم رہیں گے۔ اب وہ جوں کے توں وزیرِ اعظم موجود ہیں۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نواز لیگ سیاسی طور پر جیت نظر آتی ہے’۔
’قانونی طور پر عدالت نے ایک انویسٹی گیشن کا دائرہ کار طے کیا ہے۔ اُس انویسٹی گیشن کے ذریعے ہم حتمی طور پر ثابت کریں گے کہ پیسے نواز شریف کے خاندان نے کیسے باہر بھیجے اور جائیداد کیسے بنائیں۔ وہ ایک لمبا عمل ہے۔ اُس میں سے کیا نکلے گا، یہ تو بعد کی بات ہے۔ فی الحال اگر نواز لیگ خوشیاں منا رہی ہے تو حق بجانب ہے‘۔

آصف فاروقی کے مطابق پاناما مقدمے میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے عدالت عظمیٰ کے دو جج صاحبان نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو بد دیانتی اور خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا ہے۔
جسٹس دوست محمد کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے مالی معاملات اور لندن کی جائیداد کے بارے میں اس عدالت کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔
دونوں جج صاحبان نے الگ الگ فیصلوں میں اسی بنا پر نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہAFP
پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نےوزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس میں آصف علی زرداری نے سوال کیا کہ جو سپریم کورٹ نہیں کر سکی کیا وہ 19 گریڈ کے افسر کریں گے؟
انھوں نے کہا ’یہ نااہل حکومت ہے اور نہ اس سے ملک چلتا ہے۔ انھیں کوئی پرواہ نہیں اور اپنے مزے کے علاوہ کچھ خیال نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ کس بات کی مٹھائی بانٹی جا رہی ہے۔
آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ پی پی پی کا موقف رہا ہے کہ ججوں سے انصاف نہیں ملا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ میاں نواز شریف کا صحیح چہرہ سب کے سامنے آ گیا ہے اور وہ اتنے صاف ہیں نہیں جتنا بنتے ہیں۔ ’آپ دودھ والے سے پوچھیں، آپ مج والے سے پوچھیں تو وہ ایک ہی بات کریں گے گلی گلی میں شور ہے نواز شریف چور ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اعتزاز احسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ججوں کا فیصلہ تین ججوں سے زیادہ اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو ججوں نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے جبکہ باقی تین ججوں نے اس رائے کی تردید نہیں کی۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ دو ججز کی رائے سپریم کورٹ کی رائے سمجھی جا سکتی ہے جبکہ تین ججوں نے مایوس کیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا جے آئی ٹی بنانا نواز شریف کو راہِ فرار دینے کے مترادف ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات مکمل ہونے تک اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخ بنی ہے اور ایسا فیصلہ کسی وزیراعظم کے خلاف نہیں آیا جب کہ دو ججوں نے کہا ہے کہ آپ نے جھوٹ بولا ہے
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے پاس وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات مکمل ہونے تک نواز شریف اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور اگر وہ 60 دن بعد بری ہو جاتے ہیں تو دوبارہ اپنے عہدے پر آ جائیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ خود نواز شریف نے بھی یوسف رضا گیلانی کو ایسا ہی مشورہ دیا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم سے جے آئی ٹی کی تحقیقات ایسے ہی ہیں جیسے عزیر بلوچ سے تفتیش کی گئی تھی۔
عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مٹھائیاں کس چیز کی بانٹیں جا رہی ہیں کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے انھیں نااہل قرار دیا ہے اور تین ججوں نے ان کے خلاف تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز ایک بار پھر سرخرو ہوئی اور جھوٹے الزامات لگانے والی پارٹی عدالت سے شرمندہ ہو کر نکلی‘۔
مریم اورنگ زیب کے مطابق ’ہمارے مخالفین نے جھوٹے الزامات کا سہارا لیا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔‘
پاناما کیس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے سیکریٹری اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف جے آئی ٹی بنانا ان پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔
انھوں نے کہا ’سپریم کورٹ نے فیصلہ نھیں سنایا۔ ابھی تو کیس مزید چلے گا۔ اخلاقی طور پر میاں نواز شریف کو اب مزید وزیراعظم نھیں رہنا چاہیے۔ لیگی وزرا مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں، شرم کی بات ہے۔‘
مولابخش چانڈیو نے مزید کہا کہ ’پگڑی گر گئی پر عزت بچ گئی والی بات ھوئی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم اب ماتحت اداروں کے نمائندوں کے سامنے پیش ہوں گے۔‘
پاناما کیس کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے کہا ہے کہ ان کا یہ موقف کہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں دیگر کے لیے عدلیہ کا معیار الگ ہے۔ ایک مضبوط عدالتی کمیشن مشترکہ تحقیقاتی ٹی سے بہتر ہوتا۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا دفاع ناقابلِ قبول ہے۔ تین ججز کہہ رہے ہیں کہ تفتیش کریں اور دو ججز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو نااہل قرار دیں۔ اب انھیں بتانا ہوگا کہ وزیراعظم نے کالا دھن کیسے جمع کیا۔‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم دو ماہ میں تحقیقات مکمل کرے اور رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے۔ سپریم کورٹ اس رپورٹ کی روشنی میں ایک علیحدہ بینچ تشکیل دے گی۔