لعل شہباز درگاہ پر خودکش دھماکہ، کب کیا ہوا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کی شام ہونے والے خودکش حملے میں 72 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 250 سے زیادہ ہے۔

لائیو کوریج

  1. lal qalandar

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  2. lal qalandar

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  3. ’34 افراد کو نواب شاہ منتقل کیا گیا‘

    کمشنر حیدرآباد قاضی شاہد پرویز نے بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے میں زخمی ہونے والے 34 افراد کو نواب شاہ منتقل کیا گیا ہے۔ 

    انھوں نے کہا ہے کہ نواب شاہ منتقل کیے جانے والے زخمیوں میں سے چار کی حالت زیادہ تشویشناک ہے اور انھیں کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت نواب شاہ میں سی ون تھرٹی جہاز اور نیوی کے ہیلی کاپٹر موجود ہیں جنھیں زخمیوں کو کراچی منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    قاضی شاہد پرویزکے مطابق 20 زخمیوں کو حیدر آباد منتقل کیا گیا ہے جبکہ اس وقت سیہون کے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 55 ہے جبکہ معمولی زخمیوں کو ضروری مرہم پٹی کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ کراچی سے ایک خصوصی فورنزک ٹیم سیہون پہنچ رہی ہیں جو جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کرے گا۔ 

    انھوں نے کہا ہے کہ ابتدائئ تحقیقات کے مطابق یہ بظاہر یہ خودکش حملہ تھا تاہم فورنسک ٹیم کی مدد سے حاصل کردہ شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات میں مدد ملے گی۔

  4. حکومت سندھ کا تین روزہ سوگ کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سانحہ سیہون شریف کے باعث تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ 

  5. بریکنگ, ’افغان پاکستان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند‘

    پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان افغانستان سرحد فوری طور پر سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔‘

    border

    ،تصویر کا ذریعہAFP

  6. بریکنگ, ’43 مرد، نو خواتین اور 20 بچے شامل‘

    ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی نے تصدیق کی ہے کہ سیہون شریف بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔ 

    ان کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں43 مرد، نو خواتین اور 20 بچے شامل ہیں۔ 

    فیصل ایدھی نے بتایا کہ دھماکے کے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ایدھی کی ایمبولینسز جائے حادثہ پر پہنچی۔ 

    ان کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان کی یہ تعداد ایدھی سروس کے اہلکاروں نے بتائی ہے جبکہ دیگر سروسز کی جانب سے بھی لاشوں کو اکھٹا کیا گیا تھا۔ 

  7. ’نواب شاہ ہوائی اڈے سے ریسکیو کارروائی کا آغاز‘

    فوج اور رینجرز کی میڈیکل ٹیمیں دھماکے کی جگہ پر ہیں۔ نواب شاہ ہوائی اڈے سے امدادی کارروائیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ زخمیوں کو حیدرآباد اور کراچی لے جایا جا رہا ہے اور ایمبولینس بھجوا دی گئی ہی۔‘

  8. ’دشمن قوتیں افغانستان کی پناہ گاہیں استعمال کر رہی ہیں‘

    ’حالیہ دہشت گردی کے حملے دشمن قوتوں کے ایما پر کیے جا رہے ہیں جن کی پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں۔ ہم دفاع کریں گے اور جواب دیں گے۔‘

  9. بحریہ کے تمام ہسپتال ہائی الرٹ پر

    پاکستانی بحریہ کے تمام ہسپتالوں کو کراچی میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ یہ ہسپتال رات کے وقت پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پہچنے والے زخمیوں کے لیے تیار ہیں۔

  10. بریکنگ, ’اب کسی سے بھی رعایت نہیں ہوگی‘

     آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیہون میں حملے کے بعد کہا ہے کہ ’قوم کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیا جائے گا۔‘ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں کہا کہ ’قوم کے خون کے ہر قطرے کا فوری طور پر بدلہ لیا جائے گا اور اب کسی سے بھی رعایت نہیں ہوگی'۔

    bajwa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

    سیہون میں لعل شہباز قلندر کے علاوہ ماضی میں ملک کے دیگر علاقوں میں واقع مزار ایسے ہی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

    عبداللہ شاہ غازی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں آٹھ اکتوبر 2010 کو دو خودکش حملوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے
  12. درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر سہیون شریف تمام مذاہب کے لیے قابلِ احترام ہے، پاکستان ہندو کونسل کا مقامی ہندوؤں سے فوری طور پر زخمیوں کو خون دینے کی اپیل: سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

  13. فورینزک ٹیمیں روانہ

    سندھ کے اے آئی جی فورینزک جاوید اکبر نے کہا ہے کہ انسپیکٹر جنرل پولیس کے حکم پر موبائل فورینزک سٹیشن سیہون کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں جبکہ حیدر آباد سے بھی فورینزک ماہرین کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ رہی ہے۔ 

  14. بریکنگ, دولت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کر لی

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ’اعماق نیوز ایجنسی‘ میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ 

  15. ہلاک ہونے والوں میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل

     سیہون کے ہسپتال میں موجود دادو کے ایس ایس پی شبیر سیٹھار نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ اب تک 70 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

  16. پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔

    ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    یہ دھماکہ جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

    اے ایس پی سیہون کے مطابق سنہری دروازے سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے موقعے خود کو اڑا لیا۔ 

    karachi

    ،تصویر کا ذریعہAP

    ،تصویر کا کیپشنکراچی میں سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
  17. ’مزار پر امدادی کارروائیاں مکمل، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں‘

    سیہون کے ایس ایچ او غلام رسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لعل شہباز قلندر کا مزار پر اس وقت امدادی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں اور مزار کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت حیدر آباد سے ایک خصوصی ٹیم مزار پر پہنچی ہے اور وہ شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد شروع زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی سرگرمیاں ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہیں۔