آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امریکہ پاکستان سے افغانستان کے مسئلے پر تعاون چاہتا ہے‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں بلخصوص امریکہ نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی جانے والی کوشش کو تسلیم کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. افغانستان میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ پاکستان سے تعاون چاہتا ہے: عمران خان

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں قیام امن اور خطے میں استحکام لے لیے سیاسی کوششوں میں پاکستان کی جانب سے مثبت کردار جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ جمعرات کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر غور کیا گیا۔

    سرکاری ریڈیو کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کے قیام اور مصالحت کے لیے مثبت کردار ادا کرتا آیا ہے اور ہماری لیے باعث اطمینان ہے کہ عالمی طاقتیں بلخصوص امریکہ نے اس معاملے میں پاکستان کی کوشش کو تسلیم کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی اسلام آباد میں ان سے وزیر خارجہ سے کافی تعمیری ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور مصحالتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ پاکستان سے تعاون چاہتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ان کی افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کے موقف کی تائید کرتا ہے جس میں طالبان سیمت تمام فریقین کو بات چیت میں شامل کرنا ہے۔ وزیراعظم نے یمن میں جاری جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں امن کے قیام کے لیے پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا رہے گا اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے اسلام آباد ے حالیہ دورے میں یمن میں قیام امن کے عمل کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد مانگی ہے۔ ایک ایسے وقت جب امریکہ خود طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے اسے پاکستان کی کیا ضرورت ہے؟ وہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟

  2. ’انھوں نے تو حد پار کر دی‘

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی لاہور احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر باہر جمع مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں اس وقت پاکستان میں ٹویٹر پر شہباز شریف کے نام سے ٹاپ ٹرینڈ پر ہے جس میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہونے والے کارکنوں کا تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔

  3. سپریم کورٹ: چیئرمین ایف بی آر اور ممبر انکم ٹیکس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک تین رکنی بنچ نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پرچیئرمین ایف بی آر اور ممبر انکم ٹیکس کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس نے رمارکس دیتے ہوئے دونوں افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عدالت کی اہک ماہ کی محنت ضائع کروا دی ہے اور حکم دیا کہ تین روز کے اندر نوٹس کا جواب دیا جائے۔

    عدالتِ عظمیٰ نے یکم نومبر کو 20 لوگوں کی تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا، جن میں وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان بھی شامل ہیں۔

    چیف جسٹس نے جمعرات کو جب متعلقہ افسران سے پوچھا کہ علیمہ خان کی تفصیلات کہاں ہیں، تو ممبر ایف بی آر نے کہا کہ ان کی معلومات لاہورآفس کے پاس ہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’ڈیڑھ ماہ گزر گیا مگر ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا‘ اور منگل تک علیمہ خان کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا۔

  4. فوج کے ’ترجمان کی پریس کانفرنس‘

    پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے مطابق فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق پریس کانفرنس سہ پہر تین بجے منعقد ہو گی۔ اس پریس کانفرنس کے ایجنڈے کے بارے میں زیادہ تفصیل تو نہیں بتائی گئی لیکن ایک ایسے وقت کی جا رہی ہے جب افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اسلام آباد کے دورے پر ہیں۔

    گذشتہ ہفتے ہی پاکستان کے علاقے ناروال میں انڈیا کی سرحد کے قریب کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل باجوہ سے خالصتان تحریک سے منسلک رہنما گوپال چاولا سے ہاتھ ملانے اور وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنی تقریر میں کشمیر کا حوالہ دینے پر انڈیا نے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

    اس کے جواب میں فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ انڈیا تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جنرل باجوہ بلا امتیاز تمام مہمانوں سے ملے۔ امن کے لیے اس طرح کے اقدام کو پروپیگنڈہ کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

  5. شہباز شریف جوڈیشل ریمانڈ پر، مسلم لیگ نون کے کارکنوں کا احتجاج

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی لاہور کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر موجود مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    مقامی ٹی وی چینلز پر نشر کیے جانے والے مناظر میں پولیس اہلکار عدالت کے باہر جمع مسلم لیگ نون کے مشتعل کارکنوں کو منشتر کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس دوران چند افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    مقامی ذرائع ابلاغ نے متعدد کارکنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے اور چند گرفتاریوں کے بارے میں بھی بتایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق احستاب عدالت نے نیب حکام کی شہباز شریف کو جسمانی ریمانڈ پر حوالے کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے کا حکم دیا ہے۔

    خیال رہے کہ نیب نے اکتوبر کے شروع میں مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کیا تھا اور احتساب عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا جس میں پہلے ہی توسیع ہو چکی ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیب حکام عدالت سے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی درخواست کریں گے۔

    عدالت کے باہر مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔