افغانستان میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ پاکستان سے تعاون چاہتا ہے: عمران خان

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں قیام امن اور خطے میں استحکام لے لیے سیاسی کوششوں میں پاکستان کی جانب سے مثبت کردار جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ جمعرات کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر غور کیا گیا۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کے قیام اور مصالحت کے لیے مثبت کردار ادا کرتا آیا ہے اور ہماری لیے باعث اطمینان ہے کہ عالمی طاقتیں بلخصوص امریکہ نے اس معاملے میں پاکستان کی کوشش کو تسلیم کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کی اسلام آباد میں ان سے وزیر خارجہ سے کافی تعمیری ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور مصحالتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکہ پاکستان سے تعاون چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ ان کی افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کے موقف کی تائید کرتا ہے جس میں طالبان سیمت تمام فریقین کو بات چیت میں شامل کرنا ہے۔ وزیراعظم نے یمن میں جاری جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں امن کے قیام کے لیے پاکستان ثالث کا کردار ادا کرتا رہے گا اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے اسلام آباد ے حالیہ دورے میں یمن میں قیام امن کے عمل کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد مانگی ہے۔ ایک ایسے وقت جب امریکہ خود طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے اسے پاکستان کی کیا ضرورت ہے؟ وہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟



