یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد کی اپ ڈیٹس کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس پر سماعت آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی لارجر بینچ کرے گا۔
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد کی اپ ڈیٹس کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہATA TARRAR
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی (عمران خان) سے کوئی بات نہیں ہو سکتی ہے۔ نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان میں تحریک انصاف سے بات ہو سکتی ہے اور معاملات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔
سابق صدر عارف علوی کی مذاکرات سے متعلق آفر پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسے شخص سے کوئی بات نہیں ہو سکتی جو اپنی سیاست، اپنی جماعت اور اپنے لیڈر کو پاکستان سے آگے رکھے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’اصل بحران پاکستان میں نہیں، پی ٹی آئی کے اندر ہے۔‘ ان کے مطابق ’انھوں نے شیر افضل کو سائیڈ لائن کر دیا ہے، ایک سیکشن کہہ رہا ہے کہ پاکستان کو توڑنا ہے، خان نہیں تو پاکستان نہیں اور دوسری طرف یہ ’اولیو برانچ‘ یعنی بیٹھ کر مذاکرات کرنے کی آفر دے رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف تضادات اور پارٹی میں آپس کی محاذ آرائی کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کو عائد کردہ الزامات کے جوابات عدالتوں کو دینے ہیں۔
تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق سوال انھوں نے کہا کہ ابھی حکومت نے اس معاملے پر کوئی مشاورت نہیں کی ہے تاہم ایف آئی اے کی بڑی سنجیدہ انکوائری چل رہی ہے اور پھر اس کو دیکھ کر ہی اس پر غور کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس پر آج چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی لارجر بینچ کرے گا۔
جسٹس مسرت ہلالی علالت کے باعث بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام 13 ججز اس بینچ کا حصہ ہوں گے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گذشتہ سماعت پر حکومتی اتحاد کو دی گئی اضافی نشستیں معطل کر دی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہJUI-F
جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمداللہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج جو لوگ برسراقتدار ہیں وہ آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کو تسلیم نہیں کرتے مگر جب وہ اقتدار میں نہیں تھے تو وہ 2018 کے عام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے تھے۔
ان کے مطابق جے یو آئی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو 2018 اور 2024 کے عام انتخابات کے نتائج مسترد کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے وفود آئے اور اب بھی اگر وہ آئیں گے تو ان کو خوش آمدید کہیں گے مگر ایک فیصلہ اٹل ہے کہ جے یو آئی کسی صورت کسی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور نہ اس حکومت کو سپورٹ کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ جے یو آئی کا مطالبہ ہے کہ از سر نو انتخابات کرائے جائیں۔

،تصویر کا ذریعہIHC
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم، فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کل یعنی تین جون کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں لارجر بینچ پیر کو سماعت کرے گا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان بھی بینچ میں شامل ہوں گے۔ اس مقدمے میں عدالت نے ایف آئی اے، پی ٹی اے اور آئی بی سے رپورٹس طلب کر رکھی ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی سمیت لارجر بینچ کے تمام ججز اور جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججوں میں سے ہیں جنھوں نے ملک کے انٹیلی جنس ادارے کی طرف سے عدالتی امور میں مداخلت کی تحریری شکایت بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کر رکھی ہے۔
رجسٹرار آفس نے پہلے چھ جون اب کل تین جون کے لیے کیس مقرر کر دیا ہے۔
اس سے قبل 23 مئی کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر توہین عدالت کیس کی کازلسٹ جسٹس محسن اختر کیانی کی رخصت کے باعث منسوخ کردی گئی تھی۔ 14 مئی کو سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے تھے کہ اس کیس میں ہمیں انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) سمیت تمام خفیہ اداروں کے کردار کو دیکھنا ہے۔
6 مئی کو جسٹس بابر ستار نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں انھیں نشانہ بنانے والی سوشل میڈیا مہم کے بارے میں بتایا تھا۔ خط میں انھوں نے انکشاف کیا کہ آڈیو لیکس کیس میں مجھے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔
28 اپریل کو جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلامیہ جاری کیا تھا۔
اعلامیے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ، بچوں کی امریکی شہریت، امریکی جائیدادوں اور فیملی بزنس پر وضاحت دی تھی۔
اعلامیے کے مطابق جسٹس بابر ستار نے آکسفورڈ لا کالج اور ہارورڈ لا کالج سے تعلیم حاصل کی، انھوں نے امریکا میں پریکٹس کی اور سنہ 2005 میں جسٹس بابر ستار امریکی نوکری چھوڑ کر پاکستان آگئے اور تب سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کے پاس اس وقت پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں۔
جسٹس بابر ستار کے گرین کارڈ کا اس وقت کے چیف جسٹس کو علم تھا۔ جسٹس بابر ستار کے جج بننے کے بعد ان کے بچوں نے پاکستان میں سکونت اختیار کی۔
اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس بابر ستار کی پاکستان اور امریکا میں جائیداد ٹیکس ریٹرنز میں موجود ہے۔
مزید کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف ہتک آمیز اور بے بنیاد مہم چلائی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کی خفیہ معلومات پوسٹ اور ری پوسٹ کی جا رہی ہیں۔ جسٹس بابر ستار، اُن کی اہلیہ اور بچوں کے سفری دستاویزات سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ گوادر میں باڑ لگانے کے حوالے سے ریاست کے خلاف عوام کو ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اپنے ایک بیان میں وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ گوادر کے حوالے سے جو بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے وہاں کے عوام کے منشا اور مفاد میں کیے جائیں گے اور گوادر پر سب سے پہلے گوادر کے لوگوں کا ہی حق ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ باڑ لگانے کے حوالے سے ’نہ کوئی فیصلہ ہوا ہے، نہ ہی کوئی اجلاس۔ یہ محض ایک پروپگینڈا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ گوادر شہر کے گرد باڑ لگانے کی بے بنیاد افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ’غلط بیانیے کے ذریعے ریاست اور نوجوانوں میں خلیج پیدا کی جا رہی ہے۔‘
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ دشمن قوتوں کو گوادر اور سی پیک کی ترقی ’ہضم نہیں ہو رہی ہے اس لیے شور مچایا جا رہا ہے۔‘
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیلوں کی 30 مئی کی عدالتی کارروائی کے جاری کردہ تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان تھا کہ جب ایک سیاسی جماعت کا سربراہ جو اس عدالت کا وکیل بھی نہیں کسی مقدمے میں عدالت سے مخاطب ہو گا تو وہ سیاسی نوعیت کے معاملات پر بھی بات کرے گا اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پوائنٹ سکورنگ بھی کرے گا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید تحریر کیا کہ عمران خان احمد خان نیازی نے بعد میں عدالت میں نیب ترامیم والے مقدمے پر خطاب کرتے ہوئے یہ ثابت بھی کیا وہ کیسے اس مقدمے سے ہٹ کر غیر متعلقہ موضوعات پر چلے گئے اور جیل سے متعلق شکایات شروع کر دیں۔ فیصلے کے مطابق عدالت کسی ایسے مقدمے کو نہیں سن سکتی جو اس کے سامنے نہ ہو اور جس سے پھر کسی کے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہو سکے۔
حکمنامے کے مطابق پانچ رکنی لارجر بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سپریم کورٹ ہر مقدمے کو براہ راست نشر نہیں کر سکتی، خصوصا ایسے مقدمات لائیو نہیں دکھائے جاسکتے جن میں سیاسی یا ذاتی مقاصد وابستہ ہوں۔
فیصلے کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دی گئی تھی۔ تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’عوامی مفاد کا مقدمہ نہ ہونے کے باعث لائیو نشریات کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔‘
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کی مرکزی کیس میں ایک دن بھی عدالتی نمائندگی نہیں تھی، اچانک انٹرا کورٹ اپیلوں میں کے پی حکومت کی لائیو دکھانے کی درخواست سمجھ سے بالاتر ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست میں ایک جواز یہ پیش کیا گیا دیگر کیسز کے مقابلے میں اس کیس کی عدالتی کارروائی براہ راست نشر نہ کرنا امتیازی سلوک ہے۔
عدالت کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کا جواز حقائق سے منافی ہے کیونکہ بہت کم مقدمات کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی۔ فیصلے مطابق کچھ مقدمات کی براہ راست نشریات دکھائی گئی لیکن بعد میں انصاف کی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نشریات روک دی گئی۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ 18ستمبر 2023 کی فل کورٹ میٹنگ میں عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ اب تک 40 مقدمات کی سماعت عدالتی کارروائی کو براہ راست دکھایا گیا۔ عدالت کے مطابق لائیو عدالتی کارروائی کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کے لیے میکانزم طے کرنے کے لیے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی۔
ججز کمیٹی نے 16 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں براہ راست سٹریمنگ کے لیے رولز بنانے کی تجویز دی۔ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل کمیٹی تا حال لائیو سٹریمنگ دکھانے کے رولز طے نہیں کر سکی۔
عدالت کے مطابق لائیو سٹریمنگ کی کارروائی میں اس سے پہلے نہ عمران خان اور نہ ہی خیبر پختونخوا کی حکومت شریک ہوئی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کی منظوری دے دی گئی ہے۔
نئے فیصلے کے مطابق 30 کلومیٹر سے زائد سفر پر دس روپے تک کمی کی جائے گی۔ کرایہ نامہ تمام گاڑیوں کی فرنٹ سکرین پر چسپاں کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹ یونین کے وفد کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
ٹرانسپورٹ یونین کی جانب سے کرایوں میں کمی پر تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔ کرایوں میں کمی نہ کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو کل سے گاڑیوں کے کرائے چیک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہDC OFFIC ISLD

بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی علاقے ماشکیل سے لانگ مارچ کے شرکا چھ سو کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کر کے کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے باہر دھرنا شروع کیا۔
یہ پیدل لانگ مارچ 15سے زائد افراد نے ماشکیل سے شروع کیا تھا، جن میں سے پاؤں سے معذور ایک شخص بھی شامل تھا۔
مارچ کے شرکا چاغی، نوشکی اور مستونگ کے اضلاع سے ہوتے ہوئے کوئٹہ پہنچے۔ مارچ کے قائدین میں شامل جیئند بلوچ نے بتایا کہ اس وقت ماشکیل میں غذائی اشیا کی قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی عروج پر ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہاں مہنگائی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ کوئٹہ میں مرغی کی فی کلو گوشت ساڑھے چار سے چار سو 80 روپے تک ہے لیکن ماشکیل میں لوگ مرغی کی فی کلو گوشت ہزار سے 11 سو روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ماشکیل کا آسان راستہ جب چاغی سے بند ہوا تو وہاں کھانے پینے کی اشیا کی قلت میں مزید اضافہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ 'دوردراز ہونے کے ناطے ماشکیل میں کوئٹہ، پنجاب اور کراچی سے آنے والی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں ویسے مہنگی تھیں لیکن راستے کی بندش سے ان میں مزید اضافہ ہوا۔‘
انھوں نے بتایا کہ راستے کی بندش کے بعد جب غذائی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی تو ماشکیل کے عوام نے یہ مطالبہ کیا کہ ایران سے مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو کھولا جائے تا کہ لوگ وہاں سے سستے داموں غذائی اشیا اور دیگر بنیادی اشیا حاصل کرسکیں لیکن اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق ’اس کراسنگ پوائنٹ سے قانونی کاروبار ہوتا تھا۔ لوگ باقاعدہ ٹیکس ادا کرتے تھے لیکن کورونا کے باعث اسے بند کیا گیا مگر کورونا کے خاتمے کے بعد اس کو نہیں کھولا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد راستے کی بندش سے جب غذائی قلت کا مسئلہ شدید ہوا تو لوگوں نے ایک ماہ تک ہڑتال اور احتجاج کے دوسرے ذرائع استعمال کیے مگر ان کی بات نہیں مانی گئی، جس کے باعث ہم لانگ مارچ پر مجبور ہوئے تاکہ شاید کوئٹہ میں ہماری بات سنی جائے۔
جیئند بلوچ نے مارچ کے بعض شرکا کے پیروں پر پڑنے والے چھالوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں ہماری بات مانی جاتی تو شدید گرمی میں یہ اذیت ناک پیدل لانگ مارچ نہ کرنا پڑتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images/Gohar Ali Khan/X
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی، ایف آئی اے، نے سابق وزیراعظم عمران خان کے اکاؤنٹ سے شیخ مجیب الرحمان کی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سیکریٹری جنرل عمر ایوب اور مرکزی ترجمان رؤف حسن کو طلب کرلیا ہے۔
ایف آئی اے اس سے پہلے اس ویڈیو کے معاملے پر عمران خان کو نوٹس جاری کر چکی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ایف آئی اے نے نوٹس عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کے غیر قانونی استعمال پر جاری کیے ہیں۔ اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی آفیشل اکاؤنٹ سے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے تینوں رہنماؤں کو منگل کو 11 بجے انکوائری کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ایف آئی اے نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے عوام میں خوف اور بے چینی پھیلنے کا خدشہ ہے۔
نوٹس کے متن کے مطابق اشتعال انگیزی سے عوام کو ریاست اور اداروں کے خلاف قانون ہاتھ میں لینے پر بھی اکسایا جا سکتا ہے۔
27 مئی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر عمران خان کے اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو ٹویٹ کی گئی اور لکھا گیا کہ کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون، جنرل یحییٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان۔‘
عمران خان گذشتہ تقریباً ایک سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انھیں متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ ان کے خلاف مزید مقدمات کی سماعت بھی جاری ہیں۔ عمران خان جیل میں ہونے کے سبب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خود استعمال نہیں کرتے اور تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے ممبران چلاتے ہیں۔
عمران خان اور تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹس سے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ سے متعلق ہونے والی ٹویٹس پر تنقید کرنے والوں کا الزام ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے بانی ’فوج کو بدنام‘ کر رہے ہیں اور ’اشتعال انگیزبیانیے کو ہوا‘ دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سنیچر کو عمران خان کے اکاؤنٹ سے شیخ مجیب سے متعلق جاری بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھنے کا مشورہ دینا کون سی غداری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کبھی آپ کو کھیلنے کے لیے نو مئی مل جاتا ہے، اب آپ کو کھیلنے کے لیے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ مل گئی ہے۔
عارف علوی نے کراچی میں انصاف لائرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے اپنے ذہن میں ایک نظریہ بنا رکھا ہے، اس کے مطابق غدار قرار دے دیتے ہیں۔‘
عارف علوی کے مطابق حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ جو پڑھتا ہے اس پر ایف آئی آر ہو جاتی ہے جبکہ حمود الرحمان دیانتدار جج تھے ان کے بیٹے آج بھی فیڈرل شریعت کورٹ کے جج ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ کیا ضد ہے درگزر نہیں کریں گے بلکہ کہتے ہیں معافی مانگو لیکن معافی کس بات کی، ایک معافی کے لیے ملکی معیشت کو تباہ نہ کریں۔‘
ڈاکٹر عارف علوی نے عمران خـان سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر بات کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی قائم کرو، عمران خان کو رہا کرو، مینڈیٹ واپس کرو، ظلم و زیادتی بند کرو۔ عارف علوی کے مطابق ’بانی پی ٹی آئی بدلہ لینے والے نہیں ہیں، وہ قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرزکو میز پرلائے بغیر حل ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس وقت دو سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز ہیں، ایک عمران خان کیونکہ عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، فارم 47 والوں کا مینڈیٹ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ فارم 47 والوں کو لوگ مینڈیٹ دے دیں کہ وہ جوبات کریں گے اس پرہم بھی کھڑے رہیں گے تو وہ بھی بات کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق سٹیک ہولڈرمیزپر نہیں ہوں تو فیصلہ نہیں ہو گا۔
انھوں نے وکلا سے کہا کہ میں عام آدمی کے طور پر یہاں آیا ہوں، قانون کی پاسداری اس لیے کروں گا کہ میں مسلمان ہوں، قانون وہ بنتا ہے جس کی معاشرے میں عزت ہو۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسا قانون کیسے چلے گا، دہشت گرد آزاد ہے اور عام آدمی پر دہشت گردی کی دفعات اے ٹی اے لگایا جاتا ہے، دل کے اندر حیا اور شرم ہونی چاہیے۔
عارف علوی نے کہا کہ موجودہ صدر نے استثنیٰ لیا ہوا ہے، میں پیش ہوتا تھا، مجھ پر بندوق سپلائی کرنے کا مقدمہ قائم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو جتوایا گیا، کیا ایم کیو ایم جیت سکتی تھی؟ ایم کیو ایم سے اس شہر کو آزاد کرایا گیا، اب وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اس شہر پر ظلم کر رہے ہیں۔
عمران خان پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) گذشتہ دو دنوں سے تنقید کی زد میں ہے جس کی وجہ عمران خان کی ایک ٹویٹ بنی ہے جس میں انھوں نے لوگوں کو سقوطِ ڈھاکہ سے متعلق حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔
27 مئی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر عمران خان کے اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو ٹویٹ کی گئی اور لکھا گیا کہ کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون، جنرل یحییٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان۔‘
عمران خان گذشتہ تقریباً ایک سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انھیں متعدد مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں جبکہ ان کے خلاف مزید مقدمات کی سماعت بھی جاری ہیں۔ عمران خان جیل میں ہونے کے سبب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خود استعمال نہیں کرتے اور تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے ممبران چلاتے ہیں۔
عمران خان اور تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹس سے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ سے متعلق ہونے والی ٹویٹس پر تنقید کرنے والوں کا الزام ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے بانی ’فوج کو بدنام‘ کر رہے ہیں اور ’اشتعال انگیزبیانیے کو ہوا‘ دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق ویت نام کے سفیر کی اہلیہ کو سیف سٹی کیمروں اور سیلولر ٹیکنالوجی کی مدد سے اسلام آباد کے ایف نائن پارک سے بازیاب کروایا ہے۔
ترجمان کے مطابق ویتنام کے سفیر کی اہلیہ ایف نائن پارک میں واقع ایک زون میں موجود تھیں، جہاں پر فوڈ کورٹ کے ساتھ انڈور گیمز بھی کھیلی جاتی ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ویت نام کی اہلیہ کی ’لوکیشن‘ معلوم ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس کے حکام ویتنام کے سفیر کو اپنے ساتھ ایف نائن پارک لے کر گئے اور پھر ان دونوں کو بحفاظت ان کے گھر پر چھوڑ کر آئے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق سفیر کی اہلیہ کی ان سے کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس وجہ سے وہ گھر سے چلی گئیں۔

،تصویر کا ذریعہIslamabad Police
چار گھنٹوں میں اسلام آباد پولیس نے ویتنام کے سفیر کی اہلیہ کو تلاش کر لیا۔ ترجمان پولیس کے مطابق سیف سٹی کیمروں اور سیلولر ٹیکنالوجی کی مدد سے سات ٹیمیں اس پر کام کر رہی تھیں۔
خاتون کو ان کے شوہر کے ہمراہ گھر روانہ کردیا گیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے ڈی آئی جی آپریشنز اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کا سراہا اور شاباش دی۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں ویتنام کے سفیر جو کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں رہائش پذیر ہیں کی اہلیہ دن گیارہ بجے کے قریب گھر سے باہر نکلی تھیں۔ ترجمان کے مطابق سفیر کی اہلیہ اپنا پرس اور فون گھر پر ہی چھوڑ گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایک گھنٹہ انتظار کے بعد جب ویتنام کے سفیر کی اہلیہ واپس نہیں آئیں تو ویتنام کے سفیر کی پولیس ہیلپ لائن ون فائیو پر اہلیہ کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی۔
ویتنام کے سفیر نے پولیس کو بتایا کہ اہلیہ دن گیارہ بجے گھر سے باہر نکلی تھیں۔ مگر وہ ابھی تک گھر واپس نہیں پہنچیں۔ وفاقی پولیس نے شکایت ملنے پر سفیر کی اہلیہ کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈی آئی جی اور ایس ایس آپریشنز کے علاوہ ایس پی سٹی موقع پر موجود ہیں اور ڈی آئی جی آپریشنز معاملے کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ویتنام کے سفیر کی اہلیہ کی بازیابی کے لیے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے اور اس ضمن میں سیف سٹی کیمروں سے بھی مدد لی جارہی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے ویتنام کے سفیر کی اہلیہ کی تلاش کے لیے آئی جی اسلام آباد پولیس کو سفیر کی اہلیہ کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات کی ہدایت کر دی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سفیر کی اہلیہ کی جلد تلاش یقینی بنانے۔
آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی ڈی آئی جی اسلام آباد سید علی رضا کے ہمراہ ویتنام کے سفیر کی رہائش گاہ گئے۔
آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ تفتیشی ٹیم کے افسران بھی ان کے ساتھ ہیں۔
ترجمان کے مطابق ویتنام کے سفیر سے ملاقات سے قبل آئی جی اسلام آباد نے ایس ایس پی سیف سٹی، ایس ایس پی انویسٹیگیشن اور ایس ایس پی آپریشنز سے بریفننگ لی۔
ترجمان کے مطابق آئی جی نے کہا کہ اسلام آباد میں مقیم تمام سفرا کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ ترجمان کے مطابق آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے ویتنام کی سفیر کی اہلیہ کو تلاش کرنے کے لیے سات مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس تکنیکی اور انسانی وسائل بروئے کار لارہی ہے۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ تمام شواہد اور ثبوت جمع کیے جارہے ہیں۔ تمام پہلوؤں پر تفتیش عمل میں لائی جا رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 74 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 86 پیسے کمی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 273 روپے 10 پیسے سے کم ہو کر اب نئی قیمت 268 روپے 36 پیسے ہو گئی ہے۔ جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 274 روپے 8 پیسے سے کم ہو کر 270 روپے 22 پیسے ہو گئی ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ان نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق، پچھلے 15 دنوں میں بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
پچھلے ایک ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر سے زائد کی کمی کی جا چکی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 20.16 روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
مئی کے وسط میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 15 روپے 39 پیسے اور سات روپے 88 پیسے کمی کی تھی۔
اسی طرح یکم مئی کو بھی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت 5.45 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 8.42 روپے کم کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk
پاکستان میں اگلے مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 1221 ارب روپے کی منظوری جمعے کے روز دی گئی۔
پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مالی سال 25-2024 کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری پلان کوارڈینیشن کمیٹی نے دی۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان کی وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے 2800 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم مانگی گئی تاہم مالی وسائل کی عدم دستیاب کی وجہ سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 1221 ارب روپے کی عبوری منظوری دی گئی۔
اجلاس میں وزارتوں اور ڈویژنز کو تاکید کی گئی کہ وہ اہم قومی منصوبوں کو ترجیحی بنیاد پر دیکھیں جس میں خاص کر بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبے اور ایسے منصوبے شامل ہیں جن پر زیادہ اخراجات ہوں تاکہ ان کی بروقت تکمیل ہوسکے۔

،تصویر کا ذریعہVITORIA HOLDINGS LLC
پاکستان میں وفاقی حکومت کی سالانہ منصوبہ بندی کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس جمعے کو منعقد ہوا، جس میں موجودہ مالی سال کے معاشی اشاریوں کے علاوہ اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کے لیے پیش گوئی کی گئی ہے۔
کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے مطابق ملکی معاشی ترقی 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ تاہم اس معاشی ترقی کا انحصار سیاسی استحکام، ایکسچینج ریٹ اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مائیکرو اکنامک استحکام اور عالمی سطح پر تیل و اجناس کی قیمتوں میں کمی کے امکان پر ہے۔
اعلامیے کے مطابق موجودہ مالی سال میں پاکستان کی معیشت کو نمایاں چیلنج درپیش رہے جس کی وجہ گذشتہ مالی سال کی خراب معاشی صورتحال تھی۔ تاہم اس سال معاشی ترقی میں کچھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس سال اب تک اس میں 2.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق اس مالی سال میں جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی 26 فیصد ریکارڈ کی گئی جو گذشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں 28.2 فیصد تھی۔ اس مالی سال میں جنوری کے مہینے کے بعد مسلسل کمی دیکھی گئی۔ ۔ملک کے مالی خسارے میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAPP
بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا لانگو نے کہا ہے کہ گوادر میں قتل ہونے والے پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے دو قاتلوں کو ہم نے گرفتار کر لیا ہے۔
انھوں نے سی ٹی ڈی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان گرفتار لوگوں سے بندوقیں اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ان کے مطابق ان افراد نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ انھیں یہ ہدایات تھیں کہ جو بھی پنجاب سے مزدور آتا ہے اسے مارنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے حقوق کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کو دشمن قوتوں کے مطابق چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہا ’یہ دہشتگرد لوگ ہیں، ان کا ہمارے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اپنے ملک کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے۔
ان کے مطابق ان گرفتار ملزمان کا تعلق بی ایل اے سے ہے۔
رواں ماہ کو ہی بلوچستان کے ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی پولیس کے مطابق ان افراد کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال سے تھا اور یہ سربندر میں حجام کا کام کرتے تھے۔
سربندر گوادر شہر سے مشرق کی جانب 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سربندر گوادر میں ماہی گیروں کی ایک قدیم بستی ہے جس کی آبادی 20 ہزار سے زائد ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارگلہ کی پہاڑیوں پر آگ لگانے کے شک میں تین افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کا کہنا ہے کہ وہ خود اس آگ بجھانے کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق آگ کو رہائشی علاقے سے محدود رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔
عرفان میمن کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے عمل میں فائیر فائیٹرز اور ہیلی کاپٹرز حصہ لے رہے ہیں۔ ڈی سی اسلام آباد کے مطابق گرمی کی شدت اور ہوا میں تیزی کی وجہ سے آگ پھیل بھی رہی ہے۔
عرفان نواز کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق آگ لگانے والے 15 افراد کے خلاف دو روز قبل بھی مقدمات درج کروائے گئے ہیں۔ عرفان نواز میمن پہاڑیوں پر آگ لگنے کے حوالے سے آئندہ چند روز میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔
ڈی سی نواز میمن نے کہا کہ شہریوں سے درخواست ہے کہ ملوث افراد کی نشاندہی لازمی کریں۔
پاکستان بھر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران مختلف مقامات پر جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ کے پہاڑوں پر لگنے والی آگ کے بعد بدھ کے روز پنجاب کے ضلع خوشاب کی وادی سون کے جنگلات میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔
یہاں پڑھیے کہ پاکستان میں آتشزدگی کے واقعات: ’فائر زون‘ کیا ہے اور جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کی دعوت پر 4 سے 8 جون تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم بیجنگ کے علاوہ ژیان اور شینزن شہروں کا بھی دورہ کریں گے۔
بیجنگ میں قیام کے دوران وزیر اعظم صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور وزیر اعظم لی کیانگ کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔
وزیر اعظم نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ژائو لیجی اور اہم سرکاری محکموں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
بیان کے مطابق وزیراعظم کے دورے کا ایک اہم پہلو تیل و گیس، توانائی، آئی سی ٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی سرکردہ چینی کمپنیوں کے کارپوریٹ ایگزیکٹوز سے ملاقاتیں ہوں گی۔
وزیر اعظم شینزن میں دونوں ممالک کے سرکردہ تاجروں، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ چائنا پاکستان بزنس فورم سے خطاب کریں گے۔
شہباز شریف چین میں اقتصادی اور زرعی زونز کا بھی دورہ کریں گے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم کا دورہ چین، پاکستان اور چین کی دوستی کا ثبوت ہے جس کی خصوصیت اعلیٰ سطحی تبادلوں اور بات چیت سے ہوتی ہے۔
دورہ کے دوران فریقین ہمہ موسمی سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ پر بات چیت کریں گے۔ فریقین چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اپ گریڈ کرنے، تجارت اور سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے، سلامتی اور دفاع، توانائی، سپیس، سائنس اور ٹیکنالوجی اور تعلیم میں تعاون کو بڑھانے سمیت ثقافتی تعاون اور عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دے کر پاک چین دوستی کی مستقبل کی سمت طے کرکے مزید مضبوط بنانے کے لئے بات چیت کریں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آج صبح سات بجے چین کے دورہ کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں اس اہم دورے کے حوالے سے مختلف وزارتوں کی تیاری کا جائزہ لیا۔